جمعرات، 15 دسمبر، 2011

صلاح الدین مقبول احمد کی اردو شاعری مسدس شاہراہ دعوت کے حوالے سے



انسان اپنی محنت اور لگن کی بدولت انجینئر ڈاکٹر اور سائنسداں ہوسکتا ہے، مگر شاعر بننے کے لئے محنت اور لگن ہی کافی نہیں ہے، اس کے لئے وہبی صلاحیت درکار ہے۔ یہ اور بات ہے کہ انسان اپنے تجربات مشاہدات اورکثرت مطالعہ کی بدولت اپنی فکر کو وسیع اور بلند کرکے اپنی شاعری میں چار چاند لگا دے مگر بنیادی طور پر شاعری ایک وہبی چیز ہے جو قدرت کچھ ہی لوگوں کو دیتی ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کسی کو یہ صلاحیت دے اور وہ بجائے اس کے اظہار کرنے کے چھپانے کی کوشش کرے۔ مولانا صلاح الدین مقبول مقبول احمد کا معاملہ دوسرے شاعروں سے کئی معنوں میں الگ ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ اپنے شاعر ہونے کو پوشیدہ رکھے رہے بلکہ مدینہ منورہ میں تعلیم کے حصول کے لئے جاتے ہوئے انہوں نے ترک شاعری کے لئے دعابھی کی تھی ۔جس پر مولانا اسحاق بھٹی کا بہت ہی برمحل تبصرہ ہے کہ’’ اگر اس کا نام دعا ہے تو فرمائیے کہ بددعا کسے کہتے ہیں؟ یہ بددعاتھی جو عین نشانے پر لگی۔‘‘
مولانا صلاح الدین مقبول احمد ایک معروف عالم دین ہیں۔ ہم انہیں بچپن سے دیکھتے آئے ہیں۔ مگر وہ شاعر بھی ہیں اسکا ہمیں اندازہ نہ تھا ۔ چند دنوں قبل مولانا کے بھائی محترم مولانا عزیز الدین سنابلی سے ملاقات ہوئی دوران گفتگوانہوں نے بتایا کہ مولانا صلاح الدین صاحب کا کوئی شعری مجموعہ اردو میں شائع ہورہا ہے، تو مجھے یاد آیا کہ خلیجی جنگ کے دوران مولانا نے’’ کویت پر عراق کے مظالم ‘‘کے نام سے ایک کتاب اردو میں لکھی تھی اس کے مقدمہ میں جس طرح برمحل اشعار نقل کئے تھے وہ کوئی عمدہ شاعری کا ذوق رکھنے والا شخص ہی کرسکتا ہے۔ اس کتاب سے مجھے مولانا کے شاعرانہ مذاق کا علم ہوا۔ بہرحال مولانا صلاح الدین مقبول احمد کا شعری مجموعہ’’مسدس شاہراہ دعوت‘‘ سامنے آتے ہیں بڑی بے صبری سے میں نے پہلی ہی فرصت میں تقریبا پوری کتاب پڑھ ڈالی۔ مجھے سب سے زیادہ جس چیز نے متأثر کیا وہ ہے حسن ترتیب اور بے ساختگی۔ 
مولانا نے اپنی زندگی کے ایام تصنیف و تالیف میں گذارے جس کی جھلک ہمیں اس کتاب میں دکھتی ہے۔ اب تک شاعری کی کوئی ایسی کتاب میری نظروں کے سامنے سے نہیں گذری جس میں اسلام کے تمام بنیادی اصولوں اور تعلیمات کا اتنی خوب صورتی کے ساتھ شاعری کے پیرایہ میں بیان کیا گیا ہو۔ ہمارے وہ ناقدین ضرور اس پر چراغ پاہوں گے جن کی نظر میں شاعری صرف دل بہلانے کی چیز ہے دعوت وتبلیغ کی چیز نہیں۔ ایسا وہی شخص کرسکتا ہے جس کے سامنے کوئی خاص مقصد نہ ہو مولانا کا ایک خاص مشن ہے، ان کا چلنا پھرنا سب اسی مقصد پر قربان ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے شاعری بھی اپنی شرطوں پر کی ہے۔ مولانا اپنے مقدمہ میں رقم طراز ہیں:
’’میں نے اپنے اس مسدس میں ’’خدا ‘‘،’’عشق ‘‘،’’بادہ و ساغر ‘‘اور ’’میخانہ‘‘ جیسے غیر شرعی کلمات کے استعمال اور غیر ضروری تشبیب سے پرہیز کا ہے ، جس بندہ عاجز نے عقائد وعبادات اور تفسیر و حدیث دفاع کتاب وسنت اور اسلامی ثقافت جیسے موضوعات پر ہزاروں صفحات پر مشتمل تقریبا ۳۰ کتابوں کا ذخیرہ جمع کیا ہے ، اب اسے کے ذہن و قلم کے زیبا نہیں کہ وہ جام مے ، باددہ وساغر، اور حسیناؤں کے قدود و خدود کی تشبیب و تغزل سے ذہنی وفکری عیاشی میں مبتلا ہوں، اللہ تعالیٰ مجھے ’’ من ترک شیئاً للہ عوضہ اللہ خیراً منہ‘‘ کا مصداق بنائے۔ آمین‘‘
مولانا اسی کو شاعری کی زبان میں کچھ اس طرح کہتے ہیں:
یہ علامہ ہیں، مولانا ہیں، مفتی اور قاری ہیں
مفسر میں محدث ہیں فقیہ آہ وزاری ہیں
یہ ہیں قرآن وسنت دین ودنیا کے نمائندہ 
ہے ان کے دست میں ملت کا ماضی اور آئندہ
فرشتے ان کی راہوں میں ہمیشہ پر بچھاتے ہیں
پرندے ماہئی و حشرات ان کا گیت گاتے ہیں
جو یہ حضرات تشبیب و تغزل پہ اتر آئیں
تو پھر فرہاد و مجنوں ان سے بھی کمتر نظر آئیں
پہنچ جاتے ہیں وہ اک ہی جست میں مسجد سے میخانہ
چھلکتے ہیں پھر ان کے سامنے بھی جام و پیمانہ
انہیں اقرار ہے ان سارے ناکردہ گناہوں کا 
حسینہ کی نگاہوں اس کی راہوں اور باہوں کا
تباہی پیش خیمہ ہے اس عشق مجازی کا
کرشمہ ہے ہوائے نفس کی ذرہ نوازی کا
مولانا صلاح الدین مصلح نے ان اشعار میں واضح کردیا کہ وہ بھی اردو شاعری کے ان لوازمات سے واقف ہیں جن کے بغیر اردو شاعری کو نامکمل سمجھا جاتا رہاہے،وہ انہیں شاعری میں برتنا بھی جانتے ہیں مگر ان سے دامن بچاکر بھی اچھی اور عمدہ شاعری کی جاسکتی ہے۔ ان کا مسدس اس کا عملی نمونہ ہے۔
مولانا قوم کے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں:
توقع ملت بیضا کے میروں اور جیالوں سے
بہی خواہوں، سپوتوں ، نوجوانوں ، نونہالوں سے
کہ پاکیزہ ادب شعروسخن کو عام فرمائیں 
بہت سوئے ذرا بیدار ہوں کچھ کام فرمائیں
زمانہ منتظر ہے آپ کی دینی سیادت کا
شریعت فکر وفن ہر باب میں ملی قیادت کا
ان اشعار میں جہاں ایک طرف جذبہ کی صداقت مقصد سے والہانہ لگاؤ اور تڑپ نظر آتی ہے وہیں ان اشعار میں دریا کی سی روانی بھی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے بغیر شور وشرابے کے ایک دریا خاموشی سے بہا چلاجارہا۔ آمد ہی آمد ہے کہیں بھی آورد کا گمان نہیں ہوتا ہے۔
اس مسدس کی وجہ تالیف مولانا فرماتے ہیں:
وجہ تالیف ہے حالی کے مسدس کا کمال
راس ہے شعر کو شکوہ کی زمین اقبال
جہد ناقص میں یہ مصلح کو رہا پوار خیال 
دین خالص کی وہ سرمدی دعوت ہو بحال
رب کی توفیق سے دعوت میں توانائی ہے
شاعری کی یہ نہیں روح کی رعنائی ہے
مسدس حالی سے فکری ہم آہنگی اور اقبال کی مشہور نظم شکوہ جواب شکوہ کی زمین پر مسدس کی بنیاد رکھتے ہوئے یہ مولانا کی انکساری ہے کہ انہوں نے شاعری سے زیادہ معانی و مطالب پر توجہ دینے کی بات کہی ہے۔ 
علامہ اقبال نے بھی ایک جگہ کہا ہے کہ اللہ اس کو کبھی معاف نہ کرے جو مجھے شاعر سمجھے۔ گویا کہ اقبال بھی اپنی شاعری کے فنی محاسن سے زیا دہ اپنی شاعری کے افکار پر توجہ دینے کے قائل تھے ۔ اقبال شاعری کو بذات خود مقصد نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس کے اندر موجود پیغام کو اہمت دیتے تھے ۔ یہی بات مولانا صلاح الدین مصلح بھی کہہ رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک ایسا عالم دین جس نے اپنی پوری زندگی اسلام کی تعبیر و تشریح میں لگا دی ہو وہ جب شاعری کرے گا تو اس کے اندر بھی وہی سب کچھ ہوگا جو پڑھتا لکھتا آیا ہے۔ ایک اور چیز جو ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ خطیبانہ لہجہ اور کڑک ہے ایسا موضوع کی وجہ سے ہے۔ قرآن کلام الٰہی ہے اس پر وہ کہتے ہیں:
حکم رب حق ، کوئی اقرار یا انکار کرے 
اپنی تحقیق کو رسوا سربازار کرے 
رب کے قرآن مقدس پہ کوئی وار کرے
ایک کیا دس نہیں ، کوئی اسے سو بار کرے
حق تو تائید کا محتاج نہیں ہوتا ہے
کفر کے سامنے تاراج نہیں ہوتا ہے
مولانا کا طرز استدلال عمدہ اور جچا ہوا ہوتا ہے، وہ شاعری میں اپنے مخالفین کامسکت جواب دیتے ہیں۔ جواب دیتے ہوئے مولانا کا انداز سوال وجواب کا ہوجاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دو لوگوں کے بیچ مناظرہ ہورہا ہو۔ 
مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا بھی وجود میں آگیا ہے جو صرف قرآن کو حجت مانتا ہے، رسول اکرم کے فرامین جو احادیث کی شکل میں ہیں ان کودلیل نہیں مانتا ۔ اس فرقہ کی تردید کرتے ہوئے مولانا کہتے ہیں:
کتنا کس جنس میں واجب ہے زکاتوں کا نصاب 
کیسے معلوم ہوئے صوم کے، حج کے آداب
ان نمازوں کا طریقہ ذرا بتلائیں جناب
پیش خدمت ہے یہ لو مصحف رب الارباب
نطق سامی ہے یہ، قرآن کی تفسیر ہے یہ 
وحی معصوم کی تشریح ہے،تعبیر ہے یہ
صحیح بات یہ ہے کہ احادیث نبوی کے بغیر ان امور کی نشاندہی ناممکن ہے۔ 
مولانا کے اندر ایک شاعر ہے جسے کبھی کھل کر سامنے آنے کا موقع نہیں ملا، اگر مولانا نے اس جانب تھوڑی بھی توجہ دی ہوتی تو عالم اسلام کے نامور شاعروں میں ہوتے۔ کیا یہ کسی کرامت سے کم ہے کہ شاعری ترک کرنے کے تیس سالوں بعد کوئی آمادۂ شعر ہو اور محض دس دنوں میں اکیاسی مسدس کہہ کر کتاب کی تکمیل کردے؟ اس کتاب کولکھتے وقت مولانا کا شاعرانہ مزاج ہر جگہ انہیں شاعری کی زبان ہی میں بات کرنے پر بر انگیختہ کرتا ہے۔ مقدمہ جو عام طور پر شاعر نثر کی زبان میں لکھتے ہیں اس کے اندر بھی مولانا نے جابجا اشعار کے موتی پروئے ہیں۔ مولانا کی شاعری میں بعض جگہوں پر عربی الفاظ کے استعمال کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ قاری کو سمجھنے میں کچھ دقت محسوس ہو، مگر ایسی تمام جگہوں پر مولانا نے حاشیہ میں اس کی تشریح کردی ہے۔ دراصل اردو کا دامن دوسری زبان کے الفاظ کو لینے اور قبول کرنے میں ہمیشہ سے کسادہ رہا ہے۔ایک زمانہ تھا جب فارسی الفاظ وتراکیب کا استعمال بکثرت ہوا کرتا تھا۔ مولانا آزاد نے عربی الفاظ تراکیب سے اردو کے دامن کو وسعت دی مگر کئی وجوہات سے یہ روایت بعد کے ادوار میں نہ قائم نہ رہ سکی ۔ اور اب اردو اور فارسی کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے۔ بہرحال مولانا کو بھی اس کا احساس تھا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حاشیہ میں اس کی تشریح بھی کردی ہے۔ 
یہ کتاب صرف اسلام کی تعبیر و تشریح ہی کے لئے معاون نہیں ہے بلکہ مستقبل میں مولانا پر تحقیق کرنے والوں کے لئے ان کی زندگی اور ان کی ذہنی اپج کو سمجھنے کا بھی کام دے گی۔انشاء اللہ

جمعرات، 6 اکتوبر، 2011

محکمہ آثارقدیمہ کا مساجد کے ساتھ معاندانہ رویہ


مساجد کی سرعام بے حرمتی، نماز پڑھنا غیر قانونی،غیرقانونی مندروں کی سرپرستیتاریخی عمارتوں کی دیکھ بھال کے لئے وزارت برائے ثقافتی امور کے ماتحت محکمہ آثار قدیمہ کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا مقصد تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کی دیکھ ریکھ کرنا اور ضرورت کے مطابق ان کی مرمت کرناہے۔ مگر یہ محکمہ اپنے کام میں کس قدر چاک وچوبند ہے اس کا اندازہ اس کی نگرانی والی عمارتوں کو دیکھ کر آسانی سے لگایا جاسکتاہے۔ تاریخی عمارتوں میں گندگی، عمارتوں کی حالت خستہ اور مرمت کے لئے گھٹیا میٹریل کا استعمال اس محکمہ کا طرہ امتیاز ہے۔ شروع سے ہی اس محکمہ کا رویہ مسلم تاریخی عمارتوں کے ساتھ معاندانہ رہا ہے۔ حال ہی میں ایک آر ٹی آئی کے ذریعہ جو حقیقت کھل کر سامنے آئی وہ چوکانے والی ہے۔ راقم الحروف نے ۸ جون کو ایک آر ٹی آئی داخل کرکے دہلی کی سبھی مندروں مسجدوں اور چرچوں کی فہرست مانگی تھی جو محکمہ آثار قدیمہ کے زیر نگرانی ہیں ساتھ ہی ان عبادت گاہوں میں عبادت کی اجازت ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں محکمہ آثار قدیمہ نے ان عمارتوں کا نام اور پتہ کے سوال کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے جواب دیا ہے کہ دہلی سرکل میں ایک بھی مندر اور چرچ آثار قدیمہ کے تحت نہیں ہیں اس وجہ سے ان کے اندر پوجا کی اجازت دینے اور نہ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 
پورے دہلی میں آثار قدیمہ کی مساجدمیں سے صرف تین مساجد میں ہی نماز ہورہی ہے باقی نو مساجد میں محکمہ کے جواب کے مطابق غیر قانونی طور پر نماز ہورہی ہے۔ محکمہ ایک طرف یہ مان رہا ہے کہ یہ مساجد ہیں دوسری طرف ان میں نماز کو غیر قانونی قرار دے رہا ہے۔ آخر مسجد میں نماز پڑھنا غیر قانونی ہے تو کیا کرنا قانونی ہے؟ جوتے چپل پہن کر اس کی بے حرمتی کرنا؟ یا نوجوان جوڑوں کا کھلے عام ان مساجد میں بے حیائی کرنا؟
آر ٹی آئی کے جواب میں محکمہ نے ان مساجد میں نماز نہ پڑھنے کی وجہ یہ بیان کی ہے ’’محکمہ کے قانون کے مطابق جو عمارت جس حالت میں لی گئی ہے اس کو اسی حالت میں برقرار رکھا جائے گا، چونکہ دہلی کی تین مساجد کے علاوہ بقیہ میں محکمہ کے ماتحتی میں لیتے وقت نماز نہیں پڑھی جاتی تھی اس وجہ سے ان کے علاوہ مساجدمیں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘
’’محکمہ کی ماتحتی میں لینے سے پہلے کی حالت برقرار رکھنے ‘‘ سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ ان میں نماز نہ پڑھنے دیا جائے، بس یہی بات سامنے آتی ہے کہ اگر کوئی عمارت مسجد ہے تو وہ مسجد ہی رہے گی مندر ، آفس یا گرودوارہ میں تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ جہاں تک نماز نہ پڑھنے کی بات ہے تو ایسی بات نہیں ہے کہ ان مساجد میں کبھی نماز ہی نہیں ہوتی رہی تھی ۔ تقسیم وطن کے موقع پر بہت سارے مسلم گھرانے یا تو جان سے مار دئے گئے تھے یا مجبوراً ہجرت کرگئے ، کچھ ایسے بھی مسلمان تھے جو پاکستان تو نہیں گئے مگر ملک ہی میں کسی اور مسلم بستی میں چلے گئے ایسے میں وہ مسجدیں ویران ہوگئیں۔ مگر یہ حالت زیادہ دنوں تک نہیں رہی بعد میں جب حالات سازگار ہوئے تو روزگار کی تلاش میں مسلمانوں نے ان علاقوں کا بھی سفر کیا، کچھ مسلمان ان علاقوں میں دوبارہ بس گئے اور کچھ صرف روزگار کی خاطر ہی ان علاقوں کی طرف گئے۔ چونکہ محکمہ نے ان مساجد کو اپنی ماتحتی میں لے لیا تھا اس لئے ان مساجد میں نماز پڑھنے سے وہ محروم رہے، ان مسلمانوں کے لئے ان مساجد میں دوبارہ نماز پڑھنے کے لئے انتظامیہ سے لڑنے اور قانونی چارہ جوئی کرنے سے آسان نئی مساجد کی تعمیر کرنا زیادہ آسان لگا۔ لہذا انہوں نے نئی مساجد بنالیں۔ مگر اس کی بھی ایک حد ہے، دہلی جیسے شہر میں مساجد کے لئے جگہ نکالنا کوئی آسان کام نہیں، اس وجہ سے اب یہی ایک راستہ ہے کہ آثار قدیمہ کی مساجد میں نماز پڑھنے کے لئے قانونی چارہ جوئی کی جائے، یا حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ ان مساجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دے۔
آثار قدیمہ کے قانون کے مطابق کسی بھی تاریخی عمارت کے سو میٹر کے دائرے میں کوئی بھی تعمیری کام نہیں ہوسکتا، مگر حالت یہ ہے کہ سو میٹر تو دور ان عمارتوں کے اندر بھی غیر قانونی عمارتیں بن گئی ہیں اور ان پر محکمہ کوئی کاروائی نہیں کررہا ہے۔ تغلق آباد کے قلعہ میں جہاں مسجد میں عبادت کی اجازت نہیں وہیں ایک استھان جس کو غیر قانونی طور پر بنایا گیاہے اس میں برابر پوجا ہورہی ہے۔ تعجب یہ اس کی تعمیر میں مٹی کے اینٹوں کو استعمال میں لایا گیا ہے، سوال یہ ہے کہ اتنی تعداد میں وہ انٹیں کیسے آئیں؟جب کہ پورے قلعہ میں ایک بھی ایٹ کا استعمال نہیں ہوا ہے۔ اگر چہ ابھی وہ استھا ن کچی شکل میں ہے مگر کب تک اس قسم کے مندروں کی تاریخ جاننے والے جانتے ہیں کہ کچھ ہی سالوں میں وہاں ایک عالی شان مندر بن جائے گی جس میں پوجاپاٹ کی مکمل اجازت ہوگی۔ آج حالت یہ ہے کہ اکثر تاریخی عمارتوں میں یا اس سے ملحق کسی نہ کسی مندر کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ ان غیر قانونی مندروں میں عبادت ہوتی ہے، مگر قانونی مسجدوں میں نماز پر پابندی ہے۔ 
آرٹی آئی داخل کرتے وقت ہمارے ذہن میں یہ بات تھی کہ کچھ مندر بھی ایسے ہونگے جن میں عبادت کی اجازت نہیں ہوگی، لہذا ان کے ساتھ مل کر ہم ایک سیکولر تحریک چلائیں گے کہ مسجد ہویا مندر اس کا اصل استعمال یہ ہے کہ اس میں عبادت کی جائے، وہ کسی بھی دھرم سے متعلق ہو۔ مگر محکمہ کے جواب نے مجھے حیران کردیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پورے دہلی میں ایک بھی مند ر یا چرچ ایسا نہیں ہے جو تاریخی اہمیت کا حامل ہو؟ ایسا ممکن نہیں ہے اس لیے کہ محکمہ آثار قدیمہ قانون 1958 میں آثار قدیمہ کی تعریف جو کی گئی ہے اس کے مطابق :’’کوئی بھی ڈھانچہ، عمارت ،یادگار ، ٹیلہ، قبرستان گفا(پہاڑ کی کوہ) مجسمہ جو چٹان کو تراش کربنایا گیا ہو، نقش ونگار ، کوئی پتھر جو تاریخی،آثارشناسی سے متعلق یا فن کاری کے لئے اہمیت کا حامل ہوان سب کے ساتھ یہ سبھی چیزیں کم ازکم سو سال پرانی ہوں۔ ‘‘ 
کیا اس شرط پر کوئی چرچ اور مندر پوری ہی نہیں اترتی یامعاملہ کچھ اور ہے؟ دراصل حکومت نے صرف اور صرف مسجدوں کوہی آثار قدیمہ کی نگرانی میں اس وجہ سے دیا تاکہ آسانی سے اس میں عبادت سے روکا جاسکے۔
کسی عمارت کو آثار قدیمہ کے ماتحتی میں لینے کا طریقہ کار کیا ہے ؟اس کے بارے میں آثار قدیمہ کا ایکٹ کہتا ہے کہ ’’ کسی بھی قومی اہمیت کی عمارت کو دو مہینہ کا نوٹس دیا جاتا ہے، اس دوران اگر کچھ اوبجکشن آتے ہیں تو ان کی جانچ پڑتال کرنے کے بعد اس عمارت کو آثار قدیمہ کی نگرانی میں لے لیا جاتا ہے۔
محکمہ کی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت پورے ملک میں 3650سے زائدقومی اہمیت کے آثار محکمہ کی زیر نگرانی ہیں۔ محکمہ کی ویب سائٹ کے مطابق اس میں مندر ، مسجداور چرچ سبھی شامل ہیں۔ ابھی یہ جاننا باقی ہے ان مندروں اور چرچوں میں عبادت ہوتی ہے یا نہیں؟
پوری دہلی میں آثار قدیمہ کی مساجد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جہاں ایک طرف مسلمان جمعہ اور عیدین کی نماز وں کے لئے مساجد کی تنگی کی شکایت کررہے ہیں وہیں یہ مساجد محکمہ آثار قدیمہ کی نگرانی میں خالی پڑی ہیں۔ ایسی ہی ایک عمارت میں کچھ دنوں پہلے راقم الحروف کے جانے کا اتفاق ہوا، وہاں پر موجود گارڈ سے میں نے جاننا چاہا کہ کیا اگر کوئی یہاں نماز پڑھنا چاہے تو اس پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے؟ اس نے بتایاکہ ہمیں محکمہ کی طرف سے یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اس میں نماز نہ پڑھنے دیا جائے۔ اس سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا کچھ اس قسم کی ہدایت بھی آپ کو ملی ہے کہ اس مسجد میں جوتے پہن کر کسی کو داخل نہ ہونے دیا جائے تو اس نے کہا کہ نہیں، ہمیں ایسی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ مسجد کا اصل مقصد عبادت کرنا ہے اس کے لئے ملازمین کو خصوصی ہدایت ہے کہ اگر کوئی انفرادی طور پر بھی نمازپڑھنا چاہے تو نہیں پڑھ سکتا، اس لئے آثار قدیمہ کی طرف سے مامور ملازمین کو اس کے لئے خصوصی ہدایت ہے مگر ان کو اس طرح کی ہدایت مساجد کے ادب وحترام کے تعلق سے کیوں نہیں دی گئی؟
دہلی کی قدیم تاریخی مساجد جن کو محکمہ آثار قدیمہ نے اپنی نگرانی میں لے رکھا ہے ان کی حالت نہایت خستہ ہے، دیواریں گر رہی ہیں، لوگ آکر ان میں اپنی محبت کی نشانیاں چھوڑکر جاتے ہیں۔ کسی بھی قدیم مسجد میں آپ جائیں آپ کو اس کی دیواروں پر لڑکیوں کے نام اور بھدے فقرے کھدے ہوئے ملیں گے۔ بات صرف یہیں تک نہیں ہے، بلکہ جوڑوں کے ملاپ کے لئے یہ مسجدیں سب اچھی اور محفوظ جگہیں تصور کی جاتی ہیں۔ ہماری بات پر کسی کو یقین نہ ہو تو پرانا قلعہ کی عظیم الشان مسجد اور تغلق آباد کی مسجد میں جاکر دیکھ خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلے۔ ان مساجد میں کھلے عام وہ سب کچھ ہوتا ہے جو کبھی صرف بیڈروم میں ہوا کرتا تھا۔ 
محکمہ آثار قدیمہ کو اس پر اعتراض نہیں کہ ان مساجد کی بے حرمتی کی جائے؟ اس پر اعتراض نہیں کہ ان میں جوتا چپل پہن کر جایا جائے؟ ہاں، اگر اعتراض ہے تو صرف نماز پڑھنے پر۔ 
اب تک مسلم قوم مساجد پر لاکھوں روپئے خرچ کرتی آرہی ہے، نئی مساجد کی تعمیر پر زمین کی خریداری سے لے کر مسجد کی تعمیر پر دہلی جیسے شہر میں لاکھوں سے آگے بڑھ کر کروڑوں کا خرچ آتا ہے۔ اس کے باوجود قوم اس خرچ کو برداشت کرتی ہے، مگر ان مساجد کی باز آبادکاری کے لئے کوئی کوشش نہیں ہورہی ہے جن سے ہماری تاریخ وابستہ ہے، ہمارے بزرگوں نے جہاں نمازیں پڑھیں اور حلقۂ تدریس قائم کئے۔ کیا کوئی قوم اپنی تاریخ سے اتنی بے پرواہ ہوسکتی ہے؟ اپنے آبا واجداد کے آثار سے اس قدر لاتعلق ہوسکتی ہے؟ کوئی مردہ قوم ہی ایسا کرسکتی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کی حالت ایک مردہ قوم ہی کی ہے۔ انہیں اپنے آبا واجداد کی نشانیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ مساجد ویران ہیں مگر ان کو آباد کرنے کے لئے آواز اٹھانے والے نہیں ہیں۔ آخر یہ بے حسی کب تک رہے گی۔ 
یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، ہم اپنی آواز بلند کرکے، اپنے اندر اتحاد پیدا کرکے حکومت سے اپنی بات منوا سکتے ہیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ ہم سامنے تو آئیں۔ اگر ہم نے ان مساجد کو آزاد کرانے کے لئے تحریک نہیں چھیڑی تو یاد رکھیں کہ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

ؑ عزیر اسرائیل 
شعبہ اردو ، دہلی یونی ورسٹی
دہلی

بدھ، 5 اکتوبر، 2011

تغلق آباد کے قلعہ میں غیر قانونی مندر کی تعمیر

محکمہ ٔ اثار قدیمہ تاریخی عمارتوں کی دیکھ ریکھ میں لاپرواہی سے کام لے رہا ہے اس کا سب سے بڑا ثبوت وہ مندریں ہیں جو تقریبا ہر تاریخی عمارت کے اندر اور باہر پورے شان وشوکت کے ساتھ قائم ہیں۔ ان کی تعداد روز بروز بڑھتی ہی جارہی ہے۔ مزے کی بات یہ کہ ان تاریخی عمارتوں میں عبادت کی محکمہ اجازت نہیں دے رہا ہے لیکن ان غیر قانونی مندروں میں دھڑلے سے پوجا ہورہی ہے۔
ایسے ہی ایک مندر کا فوٹو میں یہاں پر پوسٹ کررہا ہوں جو تغلق آباد کے قلعہ میں بن رہی ہے، 
بلکہ بن بھی چکی ہے۔ 















پوجا کے سامان جو مندر کے پاس بکھرے پڑے ہيں








قلعہ ميں اندر گھستے ہي دائيں طرف سے سيدھے چلے جائيں جہاں دو چھوٹے چھوٹے پيڑ ہوں ہوي جگہ ہے جہاں يہ مندر بنائي گئي ہے?
Posted by Picasa

منگل، 20 ستمبر، 2011

فرقہ وارانہ فسادات مخالف قانون کی مخالفت کیوں؟


فرقہ وارانہ فسادات مخالف قانون کی مخالفت کیوں؟
فرقہ وارانہ فسادات کے روک تھام سے متعلق قانون کے سامنے آتے ہی اس کے خلاف ایک خاص ذہنیت رکھنے والوں کی طرف سے مخالفت کی آواز بلند ہونی شروع ہوگئی ہے۔ جلسے جلوس اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور حکومت کو متاثرکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس قانون میں موجود کچھ ’’غلط شقوں ‘‘ کی وجہ سے یہ مخالفت کی جارہی ہے، حالانکہ اس بل کے خلاف آواز بلند کرنے والے اسی وقت سے شور مچارہے ہیں جب حکومت نے اسے بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ان کو معلوم بھی نہیں تھا کہ اس بل میں کیا باتیں رکھی جائیں گی، اس کے باوجود مخالفت کی وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ فسادی ذہنیت رکھنے والوں کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اس قانون کے آنے کے بعد جب اور جہاں اقلیتوں کو نشانہ بناکر ان کے جان ومال کو نقصان پہنچانا آسان نہیں ہوگا۔ 
فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو آزادی کے بعد پورے ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات سے لے کر ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات تک جتنی انسانی جانیں گئی ہیں اور جتنی املاک کا نقصان ہوا ہے اتنا قدرتی آفات کو چھوڑ کر کسی اور وجہ سے نہیں ہوا۔ اکیلے گجرات فسادات میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق دو ہزار لوگ مارے گئے ۔ ہمارے سامنے جہیز مخالف قانون کی مثال موجود ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک جہیز کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ہزار تک بھی نہیں پہنچتی اس کے باوجود اس کے روک تھام کے لئے خصوصی قانون بنایا گیا جس میں جہیز کا مطالبہ کرنے والوں اور اس کے لئے لڑکی کو اذیت دینے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ نچلی ذات کے لوگوں کے تئیں بڑی ذات کے کچھ لوگوں میں اگرچہ نفرت کا جذبہ ہے اور وہ ان کے ساتھ اچھوتوں جیسا برتاؤ کرتا ہے اس کے باوجود ایسا سننے میں نہیں آیا کہ بڑی ذات والوں نے چھوٹی ذات والوں کی بستی پر حملہ کرکے ان کا کام تمام کردیا ہو۔ اس کے باوجود ہریجن ایکٹ بنا اور اس کا نتیجہ ہے کہ کوئی بڑی ذات کا آدمی اب ہمت نہیں کرتا کہ چھوٹی ذات والے کے لئے غلط لفظ کا استعمال کردے چہ جائے کہ اسے تنگ کرے یا اس کو جانی و مالی نقصان پہنچائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات میں دہشت گردانہ سرگرمیوں سے بھی زیادہ جان ومال کے ضائع ہونے کے باوجود اس کے روک تھام سے متعلق قانون کیوں نہ بنایا جائے؟ فرقہ وارانہ فسادات کے وقت حکومت اور لال فیتاشاہوں کو کیوں نہ جواب دہ بنایا جائے اور کچھ ایسے مؤثر قدم اٹھائے جائیں کہ فرقہ وانہ فسادات کرانے سے پہلے فرقہ پرستوں کو سو بار سوچنا پڑے۔
آج ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ فرقہ وارانہ فساد ہے۔ وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی خاص بستیوں کو چھوڑکر عام ملی جلی آبادی کی طرف کم ہی قدم بڑھاتا ہے۔ اور اگر روزی روٹی کی وجہ اگر اکثریت کی بستیوں کی طرف جانا بھی پڑے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کم ازکم رہائش کے مسلم بستیوں کا انتخاب کرے۔ ایسا وہ عدم تحفظ کے احساس کی وجہ سے کرتا ہے۔ حالانکہ کچھ لوگ اصل مسئلہ سے رخ پھیرنے کی خاطر اسے دوسرا رخ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمان قومی دھارے میں شامل ہونے سے کتراتے ہیں۔ ایسی بات بھی نہیں کہ وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں رہتے ہیں محفوظ ہیں، اب تک کے فرقہ وارانہ فسادات بتاتے ہیں کہ فرقہ پرست طاقتیں ایسے علاقوں کو اپنے خاص نظر میں رکھتی ہیں جہاں مسلمان ترقی کر رہے ہوتے ہیں، اس کے بعد فسادات کے لئے حالات سازگار کئے جاتے ہیں اور منصوبہ بند طریقے سے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ فسادات کے بعد بچے کچے مسلمانوں کو فسادات بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کرکے یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فسادات انہوں نے کرائے تھے۔ مسلمانوں کے علاوہ دوسری لسانی اور مذہبی اقلیتوں کو بھی فسادات جھیلنا پڑا ہے ۔ لندن جیسے اپنے آپ کو مہذب کہلانے والے معاشرے میں حالیہ فسادات نے یہ ثابت کردیا ہے کوئی بھی معاشرہ اس میں کبھی بھی فسادات رونما ہوسکتے ہیں۔ہندوستان کے تناظرمیں دیکھا جائے تو فرقہ وارانہ فسادات کی مار سب سے زیادہ مسلمانوں پر ہی پڑی ہے۔اس قانون میں اقلیت کی جگہ ’’گروپ‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ہر قسم کی لسانی اور مذہبی اقلیتوں کو شامل ہے۔ چنانچہ اس میں کسی بھی مذہب کے لوگ شامل ہوسکتے ہیں جو کسی خاص علاقے میں اقلیت میں ہیں ۔ اس کے باوجود اسے ہندو مخالف بل قرار دینے والے دراصل اپنے ’فسادات کرانے کی آزادی ‘ کے حق سے دست بردار ہونا نہیں چاہتے۔ تعجب ہوتا ہے کہ آج ہزاروں بے گناہوں کا قاتل مودی جس نے حکومتی اداروں کو مسلمانوں کے قتل عام کے لئے استعمال کیا کرپشن کے خلاف انا ہزارے کی آواز میں آواز ملاکر مرکزی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والے رام دیو ہوں یا اناہزارے دونوں کے یہاں انسانی جانوں سے زیادہ پیسوں کی اہمیت ہے اگر ایسی بات نہ ہوتی تو ہزاروں انسانوں کے قاتلوں سے حمایت لینے کے بجائے انہیں ان کے گناہوں کی یاد دلاتے۔
مسلمانوں کو اور دوسری اقلیتوں کو چاہیے کہ وہ اس بل کے پاس کرانے کے لئے آگے آئیں اور حکومت اور دوسری پارٹیوں پر دباو بنائیں جلسے جلوس سمینار اور مظاہروں کے ذریعہ اس بل کی حمایت کریں ۔ اگر ہم اس بل کو پاس نہیں کراسکے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اقلیتوں کے خلاف سازش رچ کر کوئی بھی بلا خوف کہیں بھی فساد کر سکتا ہے۔ 
ہمیں یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ گجرات فسادات کو چھوڑ کر تقریبا سبھی بڑے فسادات کانگریس حکومت کے دور میں ہوئے اور ان میں سب سے زیادہ نقصان مسلم اقلیت کا ہوا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کانگریس نے اس کو محسوس کیا اور متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت کے دوسرے دور میں اس قانون کو پاس کرنے کی طرف قدم بڑھایا۔ لیکن حکومت کی ذمہ داری اسی پر ختم نہیں ہوجاتی ہے، اسے ہمت کرکے اس بل کو پاس کرانا ہوگا تاکہ ملک کی اقلیتیں بھی اپنے آپ کو محفوظ سمجھ سکیں۔ایسا نہ ہو کہ خواتین ریزرویشن بل کی طرح یہ بل بھی ٹھنڈے بستے میں چلاجائے۔


ہفتہ، 3 ستمبر، 2011

انا ہزارے کی تحریک۔ میڈیا کا پیپلی لائیو شو

اگست کےنصف آخر میں دہلی میں صرف ایک ہی آواز سنائی دے رہی تھی، ۔ سڑک مارکیٹ گلی کوچے ہر جگہ بس انا، انا کا  نعرہ تھا۔ ہرجگہ سے تھک ہار کر گھر پہنچ کر جب ٹی وی آن کرکے کچھ سکون حاصل کرنا چاہتا تو وہاں بھی وہی شوروشرابا۔ اللہ بھلاکرے ان ٹی وی والوں کوکہ انہوں نے تو گویا اپنے سبھی رپورٹروں کو اسی کام پر لگادیا تھا کہ صرف اناکی خبر ارسال کرو، کسی گلی میں دو چار لوگوں نے جمع ہوکر نعرہ لگایا کہ ٹی وی پر اس محلہ اور علاقہ کا نام انا جی کے سپورٹروں میں آگیا۔ 
اگر ہم اس تحریک کی کامیابی کا نوے فیصد کریڈٹ ٹی وی اور اخبارات کو دیں تو بے جانہ ہوگا۔ جہاں تک ٹی کی رسائی تھی وہیں تک انا کی آندھی تھی، اس کے باہر سب کچھ سونا سا تھا۔ میں نے جب اپنے گاوں بلرام پور ضلع میں اس تحریک کے بارے میں جاننا چاہا تویہ جان کر تعجب ہوا کہ یہاں اکثر لوگوں نے انا کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ میڈیا نےاس تحریک کے لئے جو کچھ کیا اس کو دیکھ کر پیپلی لائف یاد آگئی جو عامر خان کی ایک بہت اچھی فلم تھی۔
  کاش میڈیا ان لوگوں پر بھی توجہ دیتا جو گیارہ گیارہ سالوں سے بھوک ہڑتال پر زندگی اور موت کے درمیان جوجھ رہے ہیں۔ وہ کہیں اور نہیں دہلی میں جنتر منتر پر ہی ہیں۔ وہ بھی انسان ہیں، اگر ان کے پاس وسائل نہیں تو یہ کام میڈیا کرسکتا ہے۔
           دوسری بات یہ کہ اس پورے معاملہ میں انا جی صرف ایک مکھوٹا تھے، وہ وہی کرتے تھے جو کیجری وال اور کرن بیدی کہتی تھیں۔ ایسے میں انا جی کو اس تحریک کا قائد کیسے کہا جاسکتا ہے۔؟
            مسلمانوں نے اگرچہ اس تحریک میں اوروں کی طرح حصہ لیا مگر اکثر مسلمان انا کے بارے میں تذبذب کا شکار رہے، اردو اخبارات ہمیشہ شک کا اظہار کرتے رہے۔ ایسا وندے ماترم ، دوسرے نعروں کی وجہ سے بھی ہوا۔ دوسری بات یہ اس تحریک میں بھی بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ پیش پیش تھے مسلمان بے چارہ دودھ کا جلا کیا کرے گا کہنے کی ضرورت نہیں۔
           انا جی پی ایم کو تو لوک بال سے باہر رکھنے پر راضی نہ ہوئے مگر ججوں کے معاملے میں راضی ہوگئے۔ آخر ایسا کیوں؟ سپریم کورٹ نے الہ باد ہائی کورٹ کے بارے میں ابھی جلد ہی کہا ہے اوپر سے نیچے تک سب کچھ سڑ چکا ہے۔ میرا اپنا تجربہ ہے کہ بعض ضلع کے جج تو باقاعدہ ریٹ طے کر رکھے ہیں۔ ایسے میں ان کو الگ کرنے پر انا راضی کیسے ہوگئے؟
          میرے خیال میں صدر،وزیر اعظم چیف اور جسٹس آف انڈیا کے علاوہ ہرایک کو اس کے دائرے میں آنا چاہئے۔ ان تینوں کو اس لئےنہیں کہ یہ بہت ہی باوقار عہدے ہیں۔ انہیں آزادانہ طورپر کام کرنے دینا ملک کے حق میں ہے۔
         
       میں اس تحریک کا حامی تو ضرور تھا مگر اندر سے خائف بھی کہ کہیں یہ آر ایس ایس کا ہی دوسرا روپ نہ ہو، اب جب کہ انا جی کی تقریبا ساری باتیں مان لی گئی ہیں مجھے یہ ڈر ستا رہا ہے کہ کہیں یہ بل ہمارے سیاسی نظام کے ضروری جز چیک اینڈ بیلنس کو بگاڈ نہ دے۔
       ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ اس تحریک کی کامیابی سے شعلے اسٹائل کی تحریکوں کا دور نہ شروع ہوجائے۔ یعنی میری باتیں سو فیصدی تسلیم کی جائیں ورنہ میں اپنی جان دے دوں گا۔ جمہوریت میں ہر کسی کو اپنی بات رکھنے کا حق ہے، مگر یہ اختیار کسی کو نہیں ہے کہ وہ حکومت کو مجبور کرے کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہی صحیح ہے باقی سب غلط ہے۔
اللہ کرے کہ خیر ہو اور ملک ترقی کرے۔


جمعرات، 1 ستمبر، 2011

عزیز سلفی کی شاعری


عزیز سلفی کی شاعری 
’پرواز‘کی اشاعت سے پہلے کم ہی لوگ مولانا عزیز الرحمان عزیز سلفی کو ایک شاعر کی حیثیت سے جانتے ہوں گے ۔ جامعہ سلفیہ بنارس کے سینئر استاد اور کئی عربی اردو دینی کتابوں کے مصنف کی حیثیت سے دنیا ان کو جانتی ہے۔ وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں یہ ہمارے لئے ایک خبر تھی ، ہمارے لئے ہی نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لئے جو عزیز سلفی کو ان کی کتابوں کے حوالے سے جانتے ہوں گے۔ 
 عزیرالرحمان عزیز سلفی نے عام شاعروں کی طرح اپنی شاعری کی ابتدا ء غزلوں سے کی عزیز سلفی کی پہلی غزل کا مطلع ہے
میں ہوکے در پہ ترے اشکبار آیا ہوں 
نگاہ لطف اٹھا سوگوار آیا ہوں
گویا کہ عزیز سلفی نے شاعری کی وادی میں قدم رکھتے ہی اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ ہم بھی ایک عاشق کا دل رکھتے ہیں، جس کے اندر کوئی محبوب بستا ہے اس کے التفات سے شہنائیاں بجتی ہیں اور منہ پھیرلینے پر زندگی خفاخفا سی لگنے لگتی ہے۔
اسی غزل کے چند اشعار اور ملاحظہ ہوں:
یہ پھول ہوکے دریدہ قبا ہیں کیوں خنداں
چمن میں، میں بھی اگر تار تار آیا ہوں
نسیم لا !ذرا تو ان کی زلف کی خوشبو
تڑپتا لوٹتا دیوانہ وار آیا ہوں
یہ میری کوشش اول ہے دیکھ اے ناصح 
کہ فکر نو کو لئے بے قرار آیا ہوں
علامہ اقبال کی اپنی شاعری کے ابتدائی ایام میں ایک مشاعرے ایک غزل پڑھی تھی جس میں ایک شعر تھا:
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے 
قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے
اس شعر پر انہیں زبردست داد ملی جس کی وجہ سے انہیں شعر گوئی کی طرف توجہ دینے کا حوصلہ ملا۔ معمولی فروگذاشتوں کو اگر نظر انداز کردیا جائے تو مولانا کی یہ پہلی غزل ایک عظیم شاعر کے آمد کی نوید تھی۔ مگر یہ اردو ادب کی بدقسمتی تھی اس آواز کو علامہ اقبال کی طرح کو ئی عزیز سلفی کو بتانے والا نہ تھا۔ ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم مولانا کو ایک عظیم شاعر کی حیثیت سے جانتے۔
عزیز سلفی کی غزلوں میں ہمیں اردو کی روایتی شاعری کے سبھی موضوعات مل جاتے ہیں۔ حسن وعشق کی سرمستیاں، محبوب سے رازونیاز، محبوب سے دور ہونے پر رنج وغم کا اظہار وغیرہ
عزیز سلفی سراپانگاری میں کمال کا ملکہ رکھتے ہیں۔ وہ اپنے محبوب کا سراپا کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
آنکھیں ہوں جیسے کوئی مے کا چھلکتا ساغر
بھول سے اوڑھنی کاندھے پہ سرک آئی ہو
زلف کی کالی گٹا تابش روئے انور 
جیسے کہ چاندنی بدلی میں نکل آئی ہو
اس کے ہر عضو سے پھوٹتا اس طرح شباب
اس کا ہر انگ ہی لیتا ہوا انگڑائی ہو
اس کے رخسار پہ پھیلی ہو حیا کی سرخی
کچھ مجھے دیکھ کے وہ اس طرح گھبرائی ہو
بڑھ کے میں چوم لوں اس کے حسیں یاقوت سے لب
اور باہوں میں مری وہ بھی سمٹ آئی ہو
کہتے ہیں کہ کسی کو اتنا نہ چاہو کہ وہ تمہاری محبتوں کا سوداگر بن جائے اور اپنی محبت کا تاوان وصولنے لگے۔عزیز سلفی نے کسی کو دل سے چاہا جس کی فرقت میں وہ آہ بھرتے رہے۔ ان کا محبوب ان پر جفائیں کرتا جاتا ہے اور عزیز سلفی اس کے لئے خیر کی دعائیں کرتے جاتے ہیں:
تم حسیں جتنے ہو اتنے ہی ستمگر ظالم
جو جفا کیش نہ ہو وہ کوئی گلفام نہیں
زخم ہر روز نیا دل پہ مرے لگتا ہے
آنکھ روئے نہ لہو ایسی کوئی شام نہیں
عزیز سلفی کومحبوب کی فرقت کا غم اس قدر ہے کہ باد صبا ان کے لئے راحت کا سامان نہیں بلکہ ان کے زخموں پرنمک پاشی کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے، چاندنی کی ٹھنڈی روشنی سے لو لگتی ہے:
یہ چاندنی کی دھوپ بھی برسارہی ہے لو
ڈستی ہے ناگ بن کے یہ خلوت ترے بغیر
موج صبا نے کی ہیں نمک پاشیاں بہت
آآ کے دل جلاتی ہے نکہت ترے بغیر
ہے خشک ہوا گھنگور گھٹا بادل کی گرج بجلی کی چمک
راتوں کو فراق یار مجھے بسمل کی طرح تڑپاتا ہے
دنیائے محبت کی ہر بات نرالی ہے
جو ظلم کا خوگر ہے وہ آکھ کا تارا ہے
اس میں عزیز سلفی کو اس بات کا احساس ہے کہ محبوب اگر بے التفاتی کرتا ہے تو اس کے یہاں بھی کچھ مجبوریاں ہوں گی۔ وہ اپنی بے وفائی پر نادم بھی ہے
ہیں جھکی جھکی نگاہیں کوئی سوگوار کیوں ہے
مرا دل مسل کے آخر کوئی شرمسار کیوں ہے
پس قتل یہ ہوئی کیوں انہیں قتل پہ ندامت
مری قبر کے سرہانے کوئی اشکبار کیوں ہے
عاشق اپنی معشوقہ سے ملنے کے لئے کیسی کیسی بچکانہ باتیں سوچتاہے ، کبھی سوچتا ہے کاش ایسا ہوجائے ویسا ہوجائے وغیرہ وغیرہ عزیزسلفی کیا سوچتے ہیں:
مجھ کو صحرائے محبت میں پھراتا ہے جنوں
اٹھتا جس سمت قدم ہو ترا گھر ہوجائے
واہ ، دعا بھی عاشقوں والی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عزیزسلفی کا محبوب کون ہے؟ ویسے ایک بات ہے کسی انسان کو عالم ڈاکٹر،انجینئر بنانے میں کسی عورت کا ہاتھ ہو یا نہ ہو مگر شاعر بنانے میں عورت کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے وہی اسے عشق کے اسرار ورموز سے واقف کراتی ہے۔ اس لئے میرا ماننا ہے کہ ایک اچھے شاعر کے لئے عاشق ہونا ضروری ہے۔عزیز سلفی نے یہ کہہ کر معاملہ صاف کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ان کی شریک حیات ہیں۔ عزیز سلفی ایک بڑے عالم دین ہیں اس وجہ سے ان سے یہی امید بھی کی جاتی ہے۔ مگر ان کی شاعری کچھ الگ ہی کہانی بیان کرتی نظر آتی ہے۔ اگر محبوب ان کی بیوی ہے تو اس کے یہ عشوہ ناز و ادا، اس کی جدائی میں آنسو بہانا اور کبھی ملے بھی تو اس کی جفائیں اس لئے یا تو مولانا حقیقت بتاتے ہوئے شرمارہے ہیںیا ان کی شاعری کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے۔ ویسے بھی عشق ایک حقیقی اور فطری جذبہ ہے کسی کو بھی ہوسکتاہے اس میں نہ تو کچھ چھپانے کی ضرورت ہے نہ شرمانے کی کوئی حاجت ہے۔ 

عزیز سلفی کی شاعری ہمیں اپنی طرف ایک اور وجہ سے اپنی طرف کھینچتی ہے وہ ہے ان کے موضوعات کا تنوع ۔مولانا نے جہاں اسلامی تہواروں پر نظمیں کہی ہیں وہیں ہندؤں کے تہواروں پر بھی نظمیں کہی ہیں ۔ عزیز سلفی نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ بنارس میں گذاراہے سچ پوچھئے تو جوانی سے لے کر عمر کے اس مقام تک جہاں سے عہد جونی کو پیچھے مڑ کر دیکھنا پڑتا ہے عزیزسلفی نے بنارس میں گذارے۔ وہاں کا تہذیب اور کلچر ان کی رگوں میں بسا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں صبح بنارس کی جھلک نظر آتی ہے۔ عزیز سلفی نے ہندوں کے تہواروں پر جو نظمیں کہی ہیں ان کے اندر ان تہواروں کی اچھائیوں کا تذکرہ تو ہے ہی ساتھ ہی مذہب کے نام پر امن وامان کو غارت کرنے والوں کے عمل سے ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔

آئی دیوالی گھر گھر چراغاں ہوا بام ودر دیکھو گلشن بداماں ہوا 
ہر محل میں ہے خوشیوں کا ساماں ہوا خوب اظہار شوق فراواں ہوا
جگمگا اٹھا ہے نور سے ہر محل
کتنی پریاں ہیں مصروف رقص وغزل
ہجر کے مارے کتنے گلے سے ملے وصل کی شب دیئے دیکھو کتنے جلے
مدتوں بعد ہیں آج دل سے ملے آج ساقی ملا دور مے بھی بھی چلے
آج خوشیوں کے ساون کی برسات ہے
جس کے تھے منتظر آج وہ رات ہے
عزیز سلفی ایک دردمند دل رکھتے ہیں دیوالی کی چکاچوند روشنی انہیں ایک بیوہ کے آنسو اور اس کے غم کو اوجھل نہ کرسکی۔ اس لئے ’تصویر کا دوسرا رخ‘ بھی دکھا یا ہے۔
کوئی بیوہ دل اپنا دبائے ہوئے اپنے پلکوں پہ آنسو سجائے ہوئے
بچھڑے پیتم کو دل میں بسائے ہوئے میلے آنچل میں چہرہ چھپائے ہوئے
رات بھر کروٹیں وہ بدلتی رہی
اور دیوالی ہنستی ہنساتی رہی
کچھ اسی طرح عزیز سلفی نے دیوالی پر بھی ایک نظم لکھی ہے جس میں دیوالی سے متعلق چھوٹی سی چھوٹی باتوں کا خوب صورت انداز میں ذکر کیا ہے۔لیکن ہولی کے نام پر بے ہودگی انہیں پسند نہیں اس لئے وہ کہتے ہیں:
سرتاپا ہیں رنگ میں ڈوبے مے میں دھت ہیں سارے
بیٹھے گھر میں منہ کو چھپائے دکھیارے بیچارے
اس کی دیکھو ناک ہے زخمی اس کا سر ہے پھوٹا
بدن ہے سارا خون میں ڈوبا پہر بھی شاید ٹوٹا
رنگ کی ہولی کے بدلے میں کھیلی خون کی ہولی 
کسی نے اس کا کرتا پھاڑا، اس نے پھاڑ دی چولی
’پرواز ‘کی اشاعت میں ایک بات کا خیا ل رکھا گیا ہے کہ ہر غزل یا نظم کب کہی گئی اس کی تاریخ بھی درج کردی گئی ہے، اس کے مطالعہ سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ جوانی کی عمر کی شاعری میں جو جوش ، ولولہ اور روانی تھی وہ دھیرے دھیرے کم ہوتی گئی، یہی نہیں بلکہ فکر کی وسعت بھی پھیلنے کے بجائے سمٹتی گئی، اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ درس وتدریس کی وجہ انہیں اس کی طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہ ملی ہو۔ دوسری وجہ یہ ہے شاعری ایک قسم کی آوارہ مزاجی چاہتی ہے جس کو عزیز سلفی بعد میں نبھا نہ سکے۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی ان پر سنجیدگی آتی گئی اور عمدہ قسم کی شاعری اسی سنجیدگی میں دفن ہوتی گئی۔
عزیز سلفی کے اندر ایک عظیم شاعر تھا جس کو کبھی کھل کر سامنے آنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ عزیز نے جو کچھ بھی شاعری کے نام پر کہا ہے وہ اگرچہ مقدار میں کم ہے مگر کسی بھی فنکار کی عظمت اس کلام کی تعداد سے نہیں بلکہ معیار سے جانچی جاتی ہے۔ اس معاملے میں عزیز سلفی کا کافی خوش قسمت ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پرواز کو وقتی اشعار جو کسی کی شادی یا اعزہ و اقربا کے موت کے وقت کہے گئے اس مجموعے میں شامل نہ کئے جاتے۔ 

عزیر اسرائیل
شعبہ اردو ،دہلی یونی ورسٹی


مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھوتی بھوجپوری فلم صنعت


مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھوتی ,بھوجپوری فلم صنعت
آپ مانیں یا نہ مانیں آج بھوجپوری سنیما ہندی سنیما کے لئے ایک چیلنج بن کر ابھررہا ہے۔ یہ معاملہ صرف یوپی بہار کا نہیں ہے بلکہ دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں بھی جہاں اترپردیس اور بہار کے لوگ کثیر تعداد میں موجود ہیں ہندی نغموں کے ساتھ بھوجپوری موسیقی بھی اپنی موجودگی درج کرارہی ہے۔
بچے ہوں یا جوان یا پھر بوڑھے ہر طبقہ بھوجپوری موسیقی کا دلدادہ ہے۔ایسا ممکن نہیں کہ یہ تبدیلی یکبارگی آگئی ہو اور پوروانچل (مشرقی یوپی کا وہ علاقہ جہاں بھوجپوری بولی اور سمجھی جاتی ہے) یکبارگی ہندی سنیما کو چھوڑ کر بھوجپوری کا دامن تھام لیا ہو، ضروری سی بات ہے کہ اس تبدیلی میں کچھ عرصہ لگا ہوگامگر جس سرعت کے ساتھ یہ سب ہو اوہ چونکانے والا ضرور ہے ۔
اس تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑا محرک علاقائیت کا بڑھتا رجحان ہے،علاقائیت اگر مثبت فکر لئے ہوئے ہو تو اس کو معیوب نہیں کہا جاسکتاہے ۔اس رجحان کو اپنے تہذیب اور کلچر سے پیار کی علامت کے طور پر دیکھنا چاہئے ۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی اجازت دستور ہند ہمیں فراہم کرتا ہے ۔
ہندی کے علاوہ دیگر زبانوں کی فلموں نے عرصہ سے اپنی پہچان بنالی ہے خاص طور پر کنڑاور بنگلہ فلمیں اپنے معیار کے اعتبار سے کافی ترقی کرچکی ہیں ، وہاں کی حکومتوں کا تعاون بھی انہیں حاصل رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں کی فلم انڈسٹری کے لئے یہ ممکن ہوسکا کہ وہ ہندی سنیما کا مقابلہ کرسکیں۔اس کے بالمقابل بھوجپوری کا معاملہ ذرا مختلف ہے ، ابھی تک بھوجپوری کو ایک مستقل زبان کادرجہ نہیں مل سکا ہے ، یہ زبان اب بھی جاہلوں کی زبان سمجھی جاتی ہے ، بھوجپوری بولنے والے جہاں کہیں بھی جاتے ہیں وہ اپنی زبان میں بات کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں،انہیں یہ خوف ہوتاہے کہ لوگ انہیں جاہل ان پڑھ اور گنوار نہ جانے کن کن القاب سے یاد کریں گے۔ اس سے خوف پیدا ہوگیا تھا کہ بھوجپوری زبان اور اس کے ذخیرۂ الفاظ کہیں ختم نہ ہوجائیں۔
یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ بھوجپوری والے بھی اپنی زبان کے لئے بیدار ہورہے ہیں۔ اس کی ایک واضح ثبوت بھوجپوری سنیما کی مقبولیت ہے۔ ایک زمانہ تک بھوجپوری میں اچھے فلم ایکٹروں کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو اس سے مایوسی ہوتی تھی مگر اب زمانہ بدل گیا ہے۔دنیش کماریادو عرف نرہوا،روی کشن جیسے اداکاروں نے جیسے بھوجپوری سنیما میں جان ڈال دی ہے۔پہلے جہاں بڑی کمپنیاں اپنا سرمایہ لگانے سے کتراتی تھیں وہیں اب بڑی بڑی کمپنیاں اپنا سرمایہ لگارہی ہیں۔اس سے یہ امید بنی ہے کہ ایک دن بنگلہ ،پنجابی اور کنڑ فلموں کی طرح یہ بھی اپنا مقام بنالے گی۔
بھوجپوری سنیما کے ترقی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندی سنیما گاؤں دیہات میں رہنے والوں کی آرزؤں اور امنگوں کی ترجمانی نہیں کرپارہا ہے۔’روٹی کپڑا اور مکان‘، ’مدرانڈیا ‘ اور اس زمانہ کی دیگر فلموں کو چھوڑ کر ہندی سنیما گاؤں کی زندگی سے دور ہوتاگیا،اب نہ اس کے اندر گاؤں ہے نہ گاؤں والے ہیں اور نہ ان کے مسائل۔ گاؤں والوں کے لئے اس کی کہانی اوراس کے کردار اجنبی ہوتے ہیں۔ ان کے لئے بھوجپوری فلمیں ایک بہتر متبادل کے طور پر سامنے آئیں۔اس میں گاؤں کی مٹی کی خوشبواور کھیت کھلیان اور ان کی دل چسپی اورمتوجہ کرنے والی سبھی چیزیں ہیں ۔اس میں محبت کرنے والے کارپوریٹ گھرانے کے نازونعم میں پلے بڑھے جوڑے نہیں ہیں۔بلکہ انہی جیسے بھولے بھالے انسان ہیں۔ ایسی بات نہیں کہ بھوجپوری سنیما کے مخاطب صرف گاؤں دیہات کے لوگ ہیں ،بھوجپوری بولنے والے شہروں میں بھی یہ اسی طرح مقبول ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھوجپوری سنیما اپنے ابتدائی دور سے گذر رہا ہے اس کے اندر ابھی کمیاں ہوں گی اور ہیں بھی۔ سب سے بڑی خرابی بھوجپوری میںیہ ہے کہ سہل پسندی اور عامیانہ پن کی وجہ سے اس میں ہنسی مذاق عام طور پر پھوہڑ پن کے دائرہ میں آجاتے ہیں۔ ایسالگتا ہے کہ بھوجپوری کلاکار اشارہ کنایہ میں بات کرنا جانتے ہی نہیں، بعض دفعہ اتنے پھوہڑ قسم کے ڈائلاگ بول جاتے ہیں کہ ان کو سن کرشرمندگی کا احساس ہوتاہے۔
ایک بڑی خامی یہ ہے کہ اب تک بھوجپوری فلم کے عاشق کو عشق کرنا نہیں آیا ہے۔ اس کی ہیروئن تو عموماً پہل کرتی نظر آتی ہے جو بھوجپوری تہذیب اور معاشرہ کی ترجمانی نہیں کرتا،اس کے علاوہ یہ فطرت کے بھی خلاف ہے ۔ لڑکی کی شرم وحیا ہمیشہ یہ کام مرد ہی کے لئے چھوڑ دیتی ہے۔بھوجپوری سنیما کی ہیروئن کی پہل بھی کچھ اس انداز کی ہوتی ہے کہ اسے دیکھ کر سر شرم سے جھک جائے۔شاید ہی کوئی بھوجپوری فلم ہو جس میں لڑکی کو چھیڑکر اس کے ساتھ گانا نہ فلمایا گیا ہو، دراصل بھوجپوری فلمکاروں کی ساری توجہ زیادہ سے زیادہ گانوں کو فلم میں سمونے کی ہوتی ہے اس کے لئے بے وجہ کسی نہ کسی بہانہ سے گانا اور ناچ کو جگہ دے دی جاتی ہے۔ اس کوشش میں ان کو یہ مہلت ہی نہیں ملتی کی وہ ہیرو اور ہیروئن کو اپنے عشق کو فطری انداز میں انجام تک پہنچانے کا موقع دیں۔ گویا کہ اگر ڈرامے کی زبان میں بات کریں تو بھوجپوری سنیما پر ’اندرپرست ‘ کی روایت حاوی ہے۔ جہاں تک بھوجپوری فلموں میں لباس کی بات ہے تو یہ بالی وڈسے زیادہ ہالی وڈ کی نقل کرتاہوا نظر آتا ہے۔صحیح بات یہ ہے کہ آپ کو کم ہی بھوجپوری فلمیں ملیں گی جن کو اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکیں۔یقینی طور پر کہاجاسکتا ہے کہ بھوجپوری سنیما میں گاؤں کھلیان اور کھیت تو اپنے ہیں مگر ان میں اگنے والی فصل اپنی نہیں ہے۔
اگرچہ آج کل بھوجپوری علاقوں میں ہندی گانوں کے مقابلہ میں بھوجپوری کا چلن بڑھا ہے لیکن اگر گانوں کا یہی معیار رہا تو کچھ ہی دنوں میں اس سے لوگ اوب جائیں گے، بھوجپوری گانے عموماً ضرورت سے زیادہ طویل ہوتے ہیں، یہ طوالت اس وجہ سے نہیں ہوتی کہ گانے کے بول زیادہ ہوتے ہیں اس کی وجہ عموماً یہ ہوتی ہے کہ ایک ہی مصرعہ کو گلوکار بار بار دہراتا ہے، اس طرح جو گانا چار منٹ میں گایا جاسکتا ہے اس کے لیے سات سے آٹھ منٹ لگ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندی گانوں کی بھونڈی نقالی بھی طبیعت پر گراں گزرتی ہے۔ابھی بھوجپوری موسیقی کو ہندی یا پنجابی موسیقی تک پہنچنے کے لیے ایک لمبا سفر طے کرنا ہے اس کے لیے بھوجپوری موسیقاروں کو ہندی گانوں کی نقالی چھوڑکر تخلیقی قوت کو بروئے کار لانا ہوگا ورنہ نقل سے کبھی پہچان نہیں بنتی۔
اس وقت عوام میں بھوجپوری فلموں کی بڑھتی مقبولیت بھوجپوری سنیما کے لیے ایک خوش آئند بات ہے ، اس دلچسپی کو برقرار رکھنے میں اگر بھوجپوری سنیما کامیاب رہا تو ٹھیک ورنہ پھر شاید یہ موقع پھر نہ مل سکے۔ 

اتوار، 17 جولائی، 2011

ممبئی سیریل بم دھماکوں کے بعد گرفتاریاں

ہندوستان میں دھماکے کہیں بھی ہوں شک کی سوئی بے چارے مسلمانوں کی طرف جاتی ہے گویا کہ ہماری ایجنسیوں نے ایک بات تسلیم کرلی ہے کہ اس دیش میں بم دھماکے صرف مسلمان ہی کرسکتاہے، ایک طرف سیکورٹی ایجنسیاں کہہ رہی ہیں کہ ان کے ہاتھ ابھی کسی قسم کے ثبوت ہاتھ نہیں لگے دوسری طرف انڈین مجاہدین اور دوسری تنظیموں کا نام لیا جانے لگا، مسلم ناموں کا نام لیا جانے لگا۔ ٹی وی چینل جتنی تیزی کے ساتھ اس کیس کی تحقیقات کررہی ہیں اس کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ حکومت کو یہ ذمہ داری انہیں چینلوں کو سونپ دینا چاہیے۔ اسی درمیان ایک الگ آواز بھی آئی جو دگ وجے سنگھ کی تھی انہوں نے صرف اتنا کہا کہ سنگھ پریوار کے رول سے ہم ان دھماکوں میں انکار نہیں کرسکتے۔ بات واجبی تھی، اس سے پہلے بھی کئی دھماکوں میں ان تنظیموں کے شامل ہونے کے ثبوت ملے ہیں، اس لیے جس طرح دوسری دہشت گرد تنظیموں کے رول کی جارہی ہے ان تنظیموں کے رول کی بھی جانچ ہونی چاہئے۔ ہندو دہشت گرد تنظیموں کے رول کی جانچ کی بات پر بی جے پی کے اندر تہلکہ کیوں مچ گیا ؟ کہیں دادا گیری کے ذریعہ جانچ کو ایک خاص سمت میں لے جانے کی کوشش تو نہیں ہے؟
       سیاسی حلقوں میں یہ آواز اٹھنی شروع ہوگئی تھی جب سے ہندو دہشت گرد چہرے سامنے آئے اسی وقت سے بم دھماکے بند ہوگئے، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دھماکے صرف یہ ثابت کرنے کے لئے ہوں کہ ہندو دہشت گرد ہی تمام دھماکوں کے ذمہ دار نہیں ہیں۔     
میں دہشت گردی کو کسی بھی مذہب سے جوڑنے کا مخالف رہا ہوں۔ اس لئے میری درخواست ہے کہ ان دھماکوں کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جو پولیس ایک مسلم نوجوان کی اس رپورٹ پر کوئی کاروائی نہیں کرتی کہ اس نے چار لوگوں کو بم پلانٹ کرنے کی بات کرتے سنا، اس کو پولیس اسٹیشن سے واپس بھیج دیا گیا۔ اب وہی پولیس اتنی مستعد ہوگئی ہے کہ ایک شخص کو صرف اس لئے گرفتار کرلیتی ہے کہ مرشدآبار میں اس کے پاس مراٹھی لٹریچر ملا ہے۔ ابھی ڈاکٹر سین کے معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے کہ کسی بھی زبان کا لٹریچر کسی کے خلاف ثبوت نہیں بن سکتا ہے۔ آخر بار بار یہ غلطی کیوں دہرائی جاتی ہے؟
       دوسری بات یہ کہ اس معاملہ میں بھی آنکھ بند کرکے مسلم نوجوان گرفتاریاں ہورہیں ہیں، مجھے پورا یقین ہے کہ کچھ دنوں کے بعد ان کو چھوڑ دیا جائے گا اس لئے کہ ان کو عوام کا غصہ سرد کرنے کے لئے بغیر کسی ثبوت کے گرفتار کیا جارہاہے۔ لیکن ان نوجوانوں کے کیریر کا کیا ہوگا؟ وہ گرچہ چھوڑ دیے جائیں گے مگر عوام ان کو گنہگار ہی تصور کرے گی۔ ان سے نفرت کرے گی۔ عام جگہوں پر ان کا اٹھنا بیٹھنا مشکل ہوجائے گا۔ اس لئے خدا کے لیے نوجوانوں کے کیریر کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جائے اس لئے کہیں کوئی حقیقت میں اس قسم کی بے وقوفی نہ کر بیٹھے۔


سوموار، 11 جولائی، 2011

اسکولی بچوں کو تقریر کی مشق کیسے کرائیں؟

بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے اور لوگوں کے سامنے اپنی بات کو بہتر ڈھنگ سے پیش کرنے کی مشق کرانے کے لیےتقریر کی مشق کرانی چاہئے۔ تقریر
صرف اپنی بات پیش کرنے ہی کا نام نہیں ہے بلکہ دوسروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی ہے۔ جملوں کی ترتیب، الفاظ کا زیروبم، جملوں کے بیچ ٹھہراو
یہ سبھی چیزیں تقریر میں اہمیت رکھتی ہیں۔ ان سب سے زیادہ اہم بات موضوع کا انتخاب اور مواد کی فراہمی ہے۔ موضوع کا انتخاب استاد کے مشورہ سے
طالب علم خود اپنے طور پر کرسکتاہے، ابتدائی جماعتوں میں استاد بچوں کےذہن کو مدنظر رکھتے ہوئے موضوع کا انتخاب کردے تو کوئی حرج نہیں ہے مگر
اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ بچوں کی تخلیقی اور اختراعی ذہنیت پر اس سے حرف نہ آئے۔ جہاں تک مواد کی فراہمی کی بات ہے تو طلبہ کو ہمیشہ آس
پاس کی چیزوں کو خود غور سے دیکھنے اور ان سے سیکھنے کا مشورہ دینا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر موضوع '' صفائی ستھرائی کے فوائد'' ہو تو بچوں کو کہا جائے کہ وہ گندگی سے پھیلنے والی بیماریوں کے بارے میں جانکاری حاصل کریں، گھر اور محلہ کی صفائی کے سلسلے میں کس قسم کی لاپرواہیاں ہوتی ہیں ان کا جائزہ لیں۔ اس کے بعد طلبہ اپنی سوچ کے مطابق ان سب پریشانیوں کا حل پیش کریں۔ اور اس کے فوائد گنائیں۔ اس طرح ان کو تقریر کا مواد خود ان کے آس پاس سے مل جائے گا۔ اور ان کے اندر غور وفکر کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوگی۔ تقریر کی مشق ہم دو طرح کرسکتے ہیں:
۱۔ فی البدیہہ
۲۔ غیر فی البدیہہ یا فصیح تقریر
فی البدیہ تقریر کے اندر یہ جانچنا ہوتاہے کہ طالب علم فوری طور پر بغیر کسی پیشگی تیاری کے کس طرح اپنی بات سامعین کے سامنے رکھ پاتا ہے۔ یہ ایک
مشکل مرحلہ ہوتا ہے مگر یہ بھی مشق وتمرین چاہتاہے۔ طلبہ کو اس کی مشق کرانی چاہئے۔ اس لئے کہ زندگی میں اکثر مواقع ایسے ہی آئیں گے جن میں
طلبہ کو بغیر کسی پیشگی تیاری کے ہی بولنا ہوگا۔ ا س لئے انہیں اس کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ اس میں چونکہ طلبہ کو تقریر کا موضوع اسٹیج پر ہی دیا جاتا ہے اس وجہ سے مناسب یہ ہے کہ موضوع کا انتخاب کچھ اس طرح کا ہو کہ جس سے طالب علم دلچسپی لے سکے۔ اس کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ طالب علم سے کہا جائے کہ وہ ایک لیڈر کی حیثیت سے تقریر کرے جس میں وہ اپنے پانچ سال کے کارناموں کو گناکر اپنے لئے ووٹ کی اپیل کرے۔ یا اس قسم کا کوئی بھی موضوع دیا جاسکتاہے۔ اس میں گھسے پٹے موضوعات دینے سے احتراز کیا جائے۔
فصیح تقریر کے بارے میں طالب علموں کو کہاجائے کہ وہ اس کے لئے مواد خود تلاش کریں۔ کسی مشہور مقرر کی لکھی ہوئی یا کہی ہوئی تقریر زبانی یاد کرکے سنادینے سے اچھا ہے کہ نامکمل جملوں کے ساتھ طالب علم خود کی تیار کی ہوئی تقریر کہے، یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب خود اپنی تقریر تیار کرنے میں ہونے والی غلطیوں پر ان کی سرزنش کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی ہو۔
مباحثہ
سیکھنے سکھانے کے جدید طریقوں میں سے ایک اہم طریقہ ہے بحث و مباحثہ۔مباحثہ دراصل عربی کا لفظ ہے جو مفاعلہ کے وزن سے ہے اس کے اندر دو طرفہ
تال میل ہوناضروری ہے۔ مباحثہ استاد اپنی نگرانی میں کرئے تو بہتر ہے اس لئے کہ اسی صورت میں اس کے فوائد سامنے آسکتے ہیں۔ مباحثہ کے لیے تقریر
کی طرح پہلے سے موضوع کا انتخاب ہونا چاہیے۔ طلبہ کو دو گروپ میں تقسیم کرنے کسی بھی موضوع کے مثبت یا منفی پہلو کے بارے میں مواد اکٹھا کرنے کو
کہا جائے۔ اس کے بعد جب مباحثہ شروع ہو تو استاد دونوں طرف کی گفتگو کو بغور سنے اور بعد میں دونوں طرف کی کمزوریوں کا خلاصہ کرے۔ مباحثہ گروپ
کی شکل میں بھی ہوسکتا ہے اور انفرادی طور پر بھی ہوسکتاہے۔ باری باری دونوں طریقے اپنانا طلبہ کے حق میں بہتر رہے گا۔