منگل, جون 9, 2009

فضا ابن فیضی_مثبت فكر كا شاعر

سستی شہرت اور ادبی گروہ بندیوں سے الگ رہ کر خالص اردو ادب کی خدمت انجام دینے والوں کی فہرست اردو ادب کی دنیا میں بہت طویل نہیں ہے۔ اس کی وجہ اردو والوں کی ذہنیت اور ایک خاص قسم کا ماحول ہے ،کسی مخصوص ادبی تحریک سے وابستہ نہ ہونے کا مطلب تمام کاوشوں کے باوجود گمنانی کے غار میں اپنے آپ کو ڈالنے کے مترادف ہے، ان خدشات کے باوجود جن لوگوں نے اپنا مطمح نظر صرف اردو ادب کی خدمت رکھا ان میں سے ایک معروف نام فضا ابن فیضی مرحوم کا ہے۔ افسوس کہ قحط الرجال کے اس دور میں فضا صاحب بھی 17جنوری 2009ءکو انتقال كرگئے۔
فضا صاحب کا نام تو فیض الحسن تھا مگر اپنے قلمی نام فضا ابن فیضی سے مشہور ہوئے یہاں تک کہ لوگ ان کا اصلی نام بھول گئے۔ یکم جولائی 1923ءکو مئوناتھ بھنجن یوپی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے بعد مئو کے معروف دینی ادارہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو میں درس نظامی میں داخلہ لیا اور 1942ءمیں فراغت حاصل کی۔ آپ کی رسمی تعلیم بس اتنی ہی ہے بعد میں فضا صاحب نے پرائیویٹ طور پر انگریزی سیکھنے کی طرف توجہ کی مگر آبائی تجارت نے ان کو موقع نہ دیا اور تجارت میں لگ گئے کرانہ کی ایک دکان سے ہونے والی آمدنی ذریعہ معاش تھی اس کے علاوہ آمد نی کا ایک ذریعہ پاکستانی رسائل و جرائد تھے جہاں وہ باقاعدگی سے اپنے اشعار اشاعت کے لئے بھیجا کرتے تھے افسوس کہ ہندو پاک کی باہمی چپقلش کی وجہ سے یہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔ زندگی بھر کسی کی ملازمت نہ کی ،فرماتے ہیں
تھا شوق بہت شہ کا مصاحب بن جاں
خیر گذری کہ فضا نوکری کرنے سے بچا
فضا ابن فیضی کی شاعری
فضا ابن فیضی کی شاعری مثبت فکر کی ترجمان ہے آپ نے حالات و زمانہ کو جیسا دیکھا اپنے اشعار میں بے تکلف بیان کر دیا، نظم، غزل ،نعت اور حمد ہر صنف شاعری پر آپ نے خامہ فرسائی کی۔ مخمور سعیدی صاحب کہتے ہیں کہ ان کی غزلوں میں نظموں کے مقابلہ میں تنوع زیادہ ہے ان کی نظم گوئی چند ایک موضوعات کے دائرے میں گھومتی ہے۔ غالبا مخمور سعیدی صاحب نے فضا صاحب کے نعتیہ مجموعہ کلام ”سرشاخ طوبی “کو سامنے رکھ کر یہ بات کہی ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی نظموں میں بھی کی غزلوں کی طرح مضامین کا تنوع موجود ہے ان کا مجموعہ کلام ”شعلہ نیم سوز “جو کہ نظموں کا مجموعہ ہے اس پر شاہد ہے۔
فضا صاحب مشاعرے میں بلائے جاتے تھے اور اشعار بھی پڑھتے تھے مگر سب سے بڑی مجبوری فضا صاحب کے ساتھ یہ تھی کہ وہ مشاعروں کی سطح تک گر کر اشعار پڑھنے کے قائل نہ تھے۔فضا صاحب ہمیشہ معیاری شاعری کرتے تھے خواہ اس پر انہیں داد ملے یا نہ ملے۔
فضا صاحب چونکہ عربی و فارسی زبان کے ماہر تھے اس وجہ سے ان کی شاعری میں عربی و فارسی تراکیب کی کثرت ہے یہی وجہ ہے کہ فضا صاحب کی شاعری سمجھنے کے لئے عربی اور فارسی زبان کی واقفیت بھی ضروری ہے۔ فارسی اور عربی نہ جاننے والوں کے لئے ان کی شاعری سے حقیقی معنوں میں لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔ مگر عجیب بات یہ کہ فضا کے ترانے اس سے مختلف ہیں۔ فضا صاحب نے جامعہ سلفیہ بنارس اور جامعہ اسلامیہ سنابل اور کئی دیگر اداروں کا ترانہ لکھا ہے اس کے اندر الفاظ انتہائی سہل تراکیب آسان اور فکر کی بلندی اپنے عروج پر ہے۔ جامعہ سلفیہ بنارس کے ترانہ کے چند بند ملاحظہ فرمائیں:
سحر کا پیرہن ہیں ہم، بہار کی ردا ہیں ہم
بدن پہ زندگی کے رنگ و نور کی قبا ہیں ہم
چراغ کی طرح سرِدریچہ وفا ہیں ہم
مغنیِ حرم ہیں، بربط لبِ حرا ہیں ہم
کہ گلشن رسول کے طیورِ خوش نوا ہیں ہم
خدا کرے فضا یوں ہی خواب جاگتے رہیں
یہ خوشبوئیں جواں رہیں گلاب جاگتے رہیں
ہنرورانِ سنت و کتاب جاگتے رہیں
چمن چمن بشارتِ نسیم جاں فزا ہیں ہم
کہ گلشنِ رسول کے طیورِ خوش نوا ہیں ہم
مذکورہ دو بندوں میں ردا, قبا اور مغنی عربی الفاظ ہیں مگر ان کو فضا صاحب کے نہایت خوبصورتی سے باندھا ہے بلکہ ان عربی الفاظ کی اضافت فارسی کی طرف کرکے ایک خوش کن نغمگی پیدا کردی ہے’ مغنی حرم‘ اور’ طیور خوش نوا‘ جیسی تراکیب فضا کی شعری مہارت کو واضح کرتی ہیں۔
فضا صاحب کا رشتہ ایک طرف قدیم کلاسیکی شاعری سے ملتا ہے تو دوسری طرف جدید لب و لہجہ کی شاعری سے بھی انہوں نے اپنا تعلق جوڑے رکھا، بجا طور پر فضا کی شاعری قدیم وجدید کا
فضاابن فیضی ایک نظر میں:
نام: فیض الحسن بن مولانا منظور حسن۔
تاریخ ولادت: یکم جولائی1923ء
تعلیم: عالمیت اورفضیلت جامع عالیہ عربیہ مئو سے (1942)
الہٰ آباد بورڈ سے منشی ،کامل مولوی عالم اور فاضل کے امتحان۔
ذریعہ معاش: تجارت
مجموعہ کلام :
سفینہء زرگل (غزلیات ورباعیات) فیضی پبلیکیشنز مئو
سبزہء معنی بیگانہ (غزلیات)اسلامک سائنٹفک ریسرچ اکیڈمی،نئی دہلی۔25
شعلہء نیم سوز (غزلیات) فیضی پبلیکیشنز، مئو
دریچہء سیم سمن (غزلیات)
پس دیوار حرف (غزلیات)
سرِشاخ طوبی (حمد ،نعت ومنظومات) جامعہ سلفیہ بنارس
غزال مشک گزیدہ (رباعیات)
لوح آشوب آگہی (منظومات)
آئینہ نقش صدا(غزلیات)
سخنہائے گفتی (خطبہء استقبالیہ) دانش کدہ مئو
خود نوشت حالات زندگی اور شاعری دانش کدہ مئو
سنگم ہے۔ فضا نے اپنا رشتہ میرو داغ سے بنائے رکھا اور اسی معیار کی شاعری پوری زندگی کرتے رہے۔ نمو نے کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
غیر مشروط مسائل لب و لہجہ مشروط
چلو اچھا ہے کہ وہ ہم سے مخاطب ہی نہ تھا
چلتے پھرتے پاں میں لفظوں نے بیڑی ڈال دی
اب کہاں دہلیزِ معنی چھوڑ کر جاں گا میں
مجھے پکار رہی ہے زمیں کی پہنائی
یہ در تو کھول کہ میں آسمان سے نکلوں
بہت قریب رہا مجھ سے وہ مگر پھر بھی
یہ فاصلہ سا مرے آس پاس کیسا ہے
چاند کا درد سمجھ دن میں چمکنے والے
تو تو اک پل کو کبھی منظر شب میں نہ کھلا
اس کی قربت کا نشہ کیا چیز ہے
ہاتھ پھر جلتے توے پر رکھ دیا
خاکسترِحیات ہوں دامن میں باندھ لے
پیارے تو مجھ کو شعلہ سمجھ کر ہوا نہ دے
فضا نقادوں کی نظر میں:
فضاکی زندگی ہی میں ماہرین فن نے ان کی شاعری کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ پروفیسر عبد المغنی صاحب کہتے ہیں:”آج کے طوفان مغرب میں فضا کی مشرقیت اپنی جگہ ایک مضبوط ستون ہے اور یہ ایقان شاعر کے فکری رسوخ اور ذہنی بلوغ کی علامت ہے پروفیسر مسعود حسین کہتے ہیں:”وہ صوت و لفظ کے نازک رشتے کے محرم ِراز ہیں۔“
فضا پرلکھے گئے ڈاکٹریٹ کے مقالے:
(1) ”فضا ابن فیضی فکر و فن اور شخصیت“ ڈاکٹر محمد شفیع بنارس ہندو یونیورسٹی ۔
(2) ”فضا ابن فیضی کی شاعری اور شخصیت “مقالہ نگار ڈاکٹر ممتاز،پٹنہ یونیورسٹی ۔
(3) ”فضا ابن فیضی “ڈاکٹر حدیث انصاری ، اسلامیہ کریمیہ کالج، اندور۔
(4فضا ابن فیضی پرتحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹر تبسم بانو نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
(5) فی الحال پاکستان میں ايك صاحب فضا ابن فیضی اور انکی کتابوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔
پروفیسر ابو الکلام قاسمی صاحب کہتے ہیں :”فضا ابن فیضی ان معدودے چند ممتاز شاعروں میں سے ایک ہیں جن کی مشاقی اور قدرت ِاظہار کلاسیکی روایت سے ان کی دلچسپی اور وابستگی کا پتہ دیتی ہے اور نئے شعری رجحانات کی ان کی شاعری کو نئے اسالیب اظہار اور نئے طرز احساس سے ہم رشتہ کرتی ہے“۔
اعتراف ہنر:
فضا کی ادبی خدمات پر مختلف ادبی تنظیموں نے انہیں ایوارڈ سے نوازا۔ ’سفینہ زرگل ‘کی اشاعت پر اردو اکادمی لکھنو اور مجموعی ادبی خدمات پر غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی 2000ءمیں انہیںایوارڈ سے نوازا گیا۔ ادبی ایوارڈ فہرست یہاں گنانا ممکن نہیں ہاں یہ بتانا مناسب ہے کہ ۱۹۹۱ءمیں سہ ماہی توازن مالیگاں نے ایک خصوصی نمبر نکالا تھا جس کی ضخامت296 صفحات ہے اس میں ملک کے معروف ناقدین نے فضا کی شاعری کا مختلف جہات سے جائز لیا ہے۔ فضا کی شخصیت اور فن پر پی ایچ ڈی کے مقالے ان کی زندگی ہی میں لکھے گئے۔ ڈاکٹر شفیع صاحب بنارس یونیورسٹی سے اور اندور سے ڈاکٹر حدیث انصاری نے آپ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔ اول الذکر مقالہ 2001ءمیں شائع بھی ہو چکا ہے۔
خلاصہ کلام:
فضا صاحب بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں جہاں بہت سی خوبیاں ہیں وہیں ایک خامی یہ ہے کہ عربی و فارسی اور مشکل الفاظ کی بھر مار نے ان کی شاعری کو عوام سے دور کر دیا۔ انہی مشکل الفاظ کی وجہ سے ان کی شاعری میں نغمگی کی کمی پائی جاتی ہے جہاں فضا نے اس حصار کو توڑا ہے وہاں ان کا اصلی جوہر کھل کر سامنے آیا ہے ،خاص طور پر نظموں میں ۔فضا کی مشکل پسند ہی ہے کہ ان کے سبھی مجموعہ کلام کے نام سہ حرفی ہیں۔ ’سفینہ گل‘،’ سبزہ معنی بیگانہ‘، ’دریچہ سیم سمن ‘اور ’پس دیوار حرف ‘وغیرہ۔ فضا کے کل آٹھ مجموعہ کلام شائع ہو چکے ہیں ان میں سے بعض مجموعے کئی یونیورسٹیز میں داخل نصاب ہیں۔فضا کے یہاں تصوف کے مضامین نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اہلحدیث مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے یہ بات مشہور و معروف ہے کہ اہل حدیث اور تصوف میں بعد المشرقین کا فرق ہے،ہاں ،دینی مضامین کی کثرت ہے بلکہ ایک مجموعہ کلام ’سر شاخ طوبی ‘عشق نبی میںڈوب کر لکھا گیا نعتیہ مجموعہ کلام ہے۔
اس مقاله كا خاتمه فضا هى کے ايك شعر سے كرتا هوں
مجھ سے ملنا ہو تو پھر میری کتابیں دیکھنا
ہرورق پر عکس اپنا چھوڑ کر جاں گا میں
٭٭٭٭
٭٭٭