منگل، 7 اکتوبر، 2014

والد محترم جناب مولانا محمد اسرائیل رحمانی

مولانا اسرائیل کے بڑے بھائی 
جناب کتاب اللہ صاحب
جن کی وفات یکم جنوری ۱۹۸۴
کو ہوئی۔
مولانا اسرائیل
سے ۹ دن پہلے۔
والد محترم مولانا محمد اسرائیل رحمانی رحمہ اللہ ایک معتبر عالم دین تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی درس وتدریس اور دعوت وتبلیغ کے لیے وقف کردیا تھا۔ پوری زندگی سادگی کے ساتھ گزار دی۔ زندگی نے ان ساتھ وفا نہیں کیا۔تقریباً چالیس سال ہی کی عمر میں انہوں نے سفر آخرت اختیار کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے گاؤں اور علاقہ میں انمٹ نقوش چھوڑے جس کو اب بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔
مولانا محمد اسرائیل صاحب کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسہ نورالہدی میں ہوئی۔ اس کے بعد جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر، ندوۃ العلماء لکھنؤ اور جامعہ رحمانیہ بنارس میں تعلیم پائی۔ کہاں پر کتنی تعلیم پائی اس کا علم نہیں ہے البتہ ایک کتاب اصول الشاسی میں انہوں نے ایک اپنے ہاتھ سے ایک تحریر لکھی ہے کہ یہ کتاب ۱۹۶۱ء میں مولانا عبدالسلام رحمانی سے پڑھی ہے۔ چونکہ یہ کتاب عموماً عربی چہارم میں پڑھائی جاتی ہے اس وجہ سے یہ بات
کہی جاسکتی ہے کہ آپ نے چوتھی جماعت جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر میں پڑھی ہے۔ جامعہ رحمانیہ بنارس سے فراغت کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ رحمانی لکھا کرتے تھے۔ جامعہ رحمانیہ سے فراغت کے بعد مولانا عبدالجلیل سامرودی کی خدمت میں حدیث کا درس لینے کے لیے گئے جہاں پر آپ نے دو سال تک حدیث کا درس لیا۔ ابھی ایک مہینہ پہلے سامرود کے ہی ایک صاحب جو والد محترم کے بارے میں کافی دنوں سے معلوم کررہے تھے، انٹرنیٹ سے انہوں نے بات کی۔ ان کے بیان کے مطابق مولانا اسرائیل صاحب کو وہاں لوگ ابو خلیل کے نام سے جانتے ہیں۔ ہمارے بھائیوں میں کسی کا نام بھی خلیل نہیں ہے۔ معلوم نہیں کیوں انہوں نے یہ کنیت اختیار کی۔ ہمارے دادا یعنی مولانا محمد اسرائیل رحمانی کے والد جناب نامدار صاحب موجودہ ضلع سدھارت نگر میں اٹوا بازار کے قریب دیوریا نام کے ایک گاؤں سے  اورہواں آئے تھے۔ ہمارے دادا محترم جناب نامدار کو اورہواں میں نانیہال کی طرف سے جائداد ملی تھی۔ نامدار صاحب اورہواں آتے وقت وہاں سے دو لوگوں و جن کے پاس وہاں کوئی زمین جائداد نہیں تھی اپنے ساتھ لائے تھے۔ جعفر اور اسلام کا خاندان اور دوسرے برکت صاحب۔ دونوں کو انہوں نے بائیس بائیس بیگہہ زمین دیا تھا جس سے وہ دونوں خاندان اب تک گزر بسر کررہے ہیں۔
نامدار صاحب کے دو لڑکے تھے، کتاب اللہ اور محمد اسرائیل۔ دونوں کی پیدائش ان کے آبائی گاؤں دیوریا میں ہوئی تھی۔ بڑے والد جناب کتاب اللہ صاحب کی تعلیم واجبی سی تھی۔ غالبا آٹھویں جماعت تک انہوں نے تعلیم پائی تھی۔ دونوں کی عمر میں تقریباً دس سال کا فرق تھا۔ والد محترم کا سلسلۂ نسب یہ ہے: محمد اسرائیل بن نامدار بن رسال بن علی جان۔ آپ کی والدہ کا نام بصیرہ تھا۔
دونوں بھائیوں نے گھریلو ذمہ داریوں کو آپس میں تقسیم کرلیا تھا۔ کتاب اللہ صاحب نے کھیتی باڑی کی ذمہ داری سنبھال لی تھی اور والد محترم نے درس وتدریس ذریعۂ معاش کے طور پر اپنایا۔ علاقہ کے مختلف مدارس میں انہوں نے درس تدریس کا کام کیا۔ کوئیلا باس، لدھوری کا ذکر اکثر گھر میں اس حوالے سے آتا رہتا ہے کہ والد محترم نے وہاں کئی سالوں تک پڑھایا تھا۔ اس کے بعد وہ رچھا بریلی کے مشہور سلفی ادارے سے وابستہ ہوگئے۔ رچھا بریلی میں والد محترم مولانا اسرائیل صاحب ہماری والدہ کو بھی لے گئے تھے۔ لیکن والدہ چونکہ گاؤں کی زندگی کی عادی تھیں، شہر کی زندگی سے اجنبیت کی وجہ سے وہاں زیادہ دن نہ رہ سکیں۔ والدہ محترمہ کی یاداشت کے مطابق آپ تقریباً چھہ سال تک وہاں رہے۔ اس کے بعد ایک سال آپ نے دارالعلوم شکراوہ، میوات میں تعلیم دی۔ آپ جس سال یہاں پڑھانے کے لیے آئے اسی سال مولانا بدرالزماں نیپالی بھی آئے ہوئے تھے۔ لیکن وہاں کی آب وہوا راس نہ آنے کی وجہ سے مجبوراً وہ جگہ چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد تقریباً دو سالوں تک جامعہ ریاض العلوم دہلی سے وابستہ رہے۔ ۱۹۸۰ میں جب مولانا عبدالحمید رحمانی صاحب نے دہلی میں معہد التعلیم الاسلامی کے قیام کا ارادہ کیا تو آپ کی نظر انتخاب جن لوگوں پر پڑی ان میں مولانا محمد اسرائیل رحمانی بھی ہیں۔ آپ یہاں پر انتظامی امور سے متعلق تھے۔ لیکن مولانا بدرالزماں نیپالی صاحب کے مطابق انہوں نے یہاں پر ایک سال تک ہی کام کیا اس کے بعد وہ یہاں سے بھی الگ ہوگیے۔ یہاں سے الگ ہونے کے بعد وہ ۱۹۸۱ سے سال وفات ۱۹۸۴ تک گھر پر ہی رہے۔ اس درمیان وہ گھریلو الجھنوں اور مالی پریشانیوں کا شکار رہے۔ اسی زمانے کا ایک خط جو انہوں نے مولانا بدالزماں صاحب کے نام لکھا تھا لیکن پوسٹ نہیں کرسکے تھے، پڑھ کر اس زمانے کی الجھنوں اور پریشانیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ مولانا محمد اسرائیل صاحب چونکہ ایک خودار اور غیرت مند انسان تھے، حق بات ہمیشہ منہ پر بول دیا کرتے تھے اس وجہ سے نظمائے مدارس کے ساتھ عموماً نباہ نہیں کرپاتے تھے۔ والدہ محترمہ بتاتی ہیں کہ ایک مرتبہ مولانا عبدالحمید رحمانی صاحبکے ساتھ وہ کہیں سفر پر تھے۔ رحمانی صاحب نے انہیں اپنا کپڑا پریس کرانے کے لیے دیا۔ انہیں یہ بات بہت ناگوار گزری اور یہ کہہ کر منع کردیا کہ میری ذمہ داریوں میں یہ شامل نہیں ہے کہ آپ کے کپڑے پریس کراؤں۔ مولانا بدرالزماں صاحب نے لکھا ہے کہ والد محترم نے لکڑی کا کاروبار بھی کیا جو  کہ صحیح نہیں ہے۔ معہد (دہلی) سے واپسی کے بعد آپ نے ارادہ کیا تھا کہ میری والدہ کے چھوٹے بھائی عزیزالرحمن کے ساتھ لکڑی کا کاروبار کریں۔ لیکن کاروبار شروع نہیں کیا تھا کہ آپ کا وقت موعود آپہنچا۔ اتفاق یہ کہ آپ کے کچھ ہی دنوں کے بعد عزیز الرحمن ماموں کا بھی انتقال ہوگیا۔ آپ بہت سادگی پسند انسان تھے۔ کھیتی کے کاموں میں بڑے بھائی کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ آپ طب کی معلومات رکھتے تھے۔ ہلکی پھلکی بیماری کا علاج وہ خود کرلیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کھیت سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ایک زہریلے سانپ نے آپ کے پاؤں میں کاٹ لیا۔ آپ نے بلا تردد اس جگہ چاقو سے کاٹ کر اس کے اوپر مضبوطی سے رسی باندھ دیا۔ اس وقت وہ اکیلے تھے۔ بہادری کے ساتھ اسی حالت میں گھر تک آئے اور زخم کی جگہ پر لال مرچ پسوا کر رکھ دیا۔ آپ کے بر وقت اقدام کی وجہ سے آپ کی جان بچ گئی۔ آپ کو وکیلوں پر بھروسہ نہیں تھا۔ سول اور فوجداری کے کئی مقدمات انہوں نے لڑے لیکن اہم بات یہ کہ کبھی وکیل کی خدمات نہیں لی۔ ہمیشہ اپنا کیس خود لڑا۔ ان کی حاضر جوابی اور قانونی معاملات پر گرفت سے مد مقابل کا وکیل بھی گھبراتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ پر گئو کشی کا جھوٹا الزام بھی لگا۔ ہوا یہ کہ بڑے والد جناب کتاب اللہ صاحب کھیت میں کام کررہے تھے کہ ایک گائے کھیت میں آگئی، آپ نے اسے ہاتھ سے دھکا دیا تو وہ گرگئی معلوم نہیں کیا ہوا کہ وہ وہیں مرگئی۔ وہ بہت گھبرائے، کھیت چونکہ ایک ہندو گاؤں رموا پور سے قریب تھا اور وہاں کوئی پاس میں نہیں تھا اس لیے گھبراہٹ میں اس کو وہیں چھوڑ کر گاؤں چلے آئے۔ ادھررموا پور والوں نے ہمارے والد اور بڑے والد دونوں کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کے لیے گائے کا سر کاٹ دیا اور شور مچا دیا کہ مولانا اسرائیل اور کتاب اللہ نے رموا پور والوں کی گائے ذبح کردی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے یہ نہیں سوچا کہ مسلمان جانور کا سر دھڑ سے الگ نہیں کرتے۔ والد محترم کی دلیلوں کے آگے سازش رچنے والوں کی ایک بھی نہ چلی اور دونوں بھائی باعزت بری ہوگیے۔ انتقال سے کچھ پہلے ایک اہم زمین کا فیصلہ آنا تھا جو کہ سرکار نے ضبط کرلیا تھا۔ پوری امید تھی کہ اس کا فیصلہ آپ کے حق میں آئے گا۔ ارادہ یہ تھا کہ وہ زمین ہاتھ میں آتے ہی اسے بیچ کر ٹریکٹر خریدیں گے۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بعد میں کوئی بچا ہی نہیں کہ ان مقدمات کی پیروی کرے۔ اس وجہ سے یہ زمین بھی جاتی رہی۔ آپ ایک اچھے مقرر تھے۔ جہاں بھی جاتے لوگ ان کی تقریر سننے کو مشتاق رہتے۔ ہلکے پھلکے انداز میں دین کی باتیں لوگوں کو بہت پسند آتی تھیں۔ تحریری صا حیت بھی اچھی تھی لیکن انہوں نے اس جانب توجہ کم دی۔ آپ کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک تحریر نظر سے گزری۔ میں نے اس کو اس غرض سے سنبھال کر رکھا تھا کہ اسے شائع کراؤں گا مگر وہ ضائع ہوگئی۔
کتابیں جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ بہت ساری کتابوں کے قلمی نسخے بھی آپ نے اپنی لائبریری میں جمع کررکھا تھا۔ آپ کی کتابوں کا پیش بہا ذخیرہ آج تک ہمارے گھر کی زینت تھا۔ ابھی چند مہینے پہلے والدہ محترمہ نے ہماری لاعلمی میں ان کتابوں کو مدرسہ نورالہدی اورہواں میں دے دیا۔ میں ان کتابوں کو والد کی نشانی سمجھ کر بہت احترام کے ساتھ رکھتا تھا۔ ان کتابوں کو نہ پاکر میں نے والدہ محترمہ سے معلوم کیا۔ کتابوں کو وقف کرنے کی بات سن کر بہت افسوس ہوا۔ لیکن والدہ کے فیصلہ کا احترام کیے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ دہلی واپسی کے بعد میں نے خواب دیکھا کہ لوگ ہم سے کہہ رہے کہ تمہارے والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں جہاں بھی جاتا ہوں لوگ یہی سناتے ہیں۔ میں ان کو بتاتا ہوں کہ ان کو انتقال کو ایک عرصہ ہوگیا۔ اس خواب کے بعد میں بہت پریشان رہا۔ مجھے ایسا لگا کہ وہ کتابیں جو والد محترم کو جان سے بھی زیادہ عزیز تھیں، والد کی غیر موجودگی میں بھی والد کی نشانی کے طور پر موجود تھیں۔ جس دن وہ کتابیں ہمارے گھر سے گئیں، حقیقی معنوں میں وہی ان کی وفات کا دن تھا۔ آپ خود بھی دعوت وتبلیغ سے وابستہ تھے اور اس سلسلے میں علماء سے برابر رابطے میں رہتے تھے۔ اس حوالے سے علمائے کرام کے خطوط بڑی تعداد میں آپ کے پاس آتے تھے۔ ان خطوط کو آپ سنبھال کر رکھتے تھے۔ ان خطوط سے۱۹۶۰ اور ۱۹۸۴ کے درمیان وقفہ کی دعوتی سرگرمیوں پر روشنی پڑتی ہے۔ والد محترم مولانا محمد اسرائیل رحمہ اللہ کے بارے میری معلومات بہت محدود ہے۔ ایک دھندلی سی تصویر ہے جو وقت کے گزرنے کے ساتھ مٹنے کے بجائے مزید پختہ ہوتی جارہی ہے۔ جس سال والد محترم کا انتقال ہوا اسی سال میرا نام گاؤں کے مدرسہ نور الہدی میں لکھوایا گیا تھا۔ اس وقت تک میرا شعور بیدار نہیں ہوا تھا۔ لیکن اتنا یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ میں مدرسہ پڑھنے نہیں گیا، مدرسہ کا وقت ہوگیا تھا، گھر میں کسی نے والد محترم سے کہا کہ اگر اسی طرح یہ لاپرواہ رہے گا تو نہیں پڑھ پائے گا۔ آپ سختی کیوں نہیں کرتے؟ والد محترم ہمارے ساتھ بہت شفقت کا معاملہ کرتے تھے، مارپیٹ کا معاملہ تو دور وہ کبھی ہیں ڈانٹتے بھی نہیں تھے۔ اس وقت ان کی طبیعت بھی خراب تھی، لیکن دوسروں کے کہنے پر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور ایک ہاتھ میں ہلکی سی کوئی لکڑی لی اور کہا کہ چلو دیکھتا ہوں، پڑھنے کیوں نہیں جائے گا۔ وہ ہمیں اسی حالت میں لے کر مدرسہ کی طرف نکلے۔ مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے وہ خاموشی کے ساتھ مجھے اسکول تک چھوڑنے آئے تھے۔ اس کے  علاوہ ایک اور بات مجھے یاد ہے میں ٹرین سے والد کے ساتھ ننیہال سے گھر آرہا تھا۔ میں ٹرین کی کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کررہا تھا۔ پنجوں کے بل ہونے کے باوجود میں بمشکل کھڑکی تک پہنچ رہا تھا۔ والد محترم مجھے باہر دیکھے سے منع کیا کہ آنکھ میں کچھ پڑ جائے گا۔ اور مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا۔آپ کی شادی رسول پور میں مولانا زین العابدین صاحب کی بہن سے ہوئی تھی۔ ان سے ہمارے بڑے بھائی مولانا عرفان اللہ کی پیدائش ہوئی۔ لیکن عارضہ قلب کی وجہ سے عرفان اللہ جب چار سال کے تھے تبھی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ان کی دوسری شادی مولانا فرید احمد رحمانی رحمہ اللہ کی صاحب زادی ام حببیبہ سے ہوئی۔ جن سے تین لڑکے زبیر احمد، عزیز احمد (راقم الحروف) ارشاد احمد اور ایک لڑکی زرینہ پیدا ہوئی۔ زرینہ کا انتقال ۲۰۰۵ میں دل کے عارضہ میں دہلی میں ہوا۔ باقی سب بقید حیات ہیں۔ مولانا محمد اسرائیل صاحب اپنے بھائی جناب کتاب اللہ صاحب بہت محبت کرتے تھے۔ بھائیوں میں ایسی محبت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔اس کی مثال اب بھی لوگ دیتے ہیں۔ یکم جنوری ۱۹۸۴ کو کتاب اللہ صاحب کی وفات کا صدمہ انہیں اتنا سخت لگا کہ وہ برداشت نہ کرسکے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے کلیجہ متاثر ہوگیا تھا۔ اس کے ایک ہفتہ بعد ہی دس جنوری ۱۹۸۴ کو ان کا بھی انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر تقریباً چالیس سال تھی۔ یکے بعد دیگرے دو نوں بھائیوں کے وفات سے ہمارا گھر ہی نہیں بلکہ پورا گاؤں سکتے میں آگیا۔ ہم لوگ بے سہارا ہوگئے۔ پورے گھر میں سب بڑے بھائی رضوان اللہ تھے، جو ۲۰۰۰ء میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اس وقت وہ معہد التعلیم الاسلامی (دہلی) میں چوتھی جماعت میں پڑھ رہے تھے۔ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا۔ اتنا یاد پڑتا ہے کہ کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہارے ابو تمہارے لیے مٹھائی لینے گیے ہیں۔ اس کے بعد کی کہانی بہت دکھ بھری ہے۔ بس اللہ ہمارے نانا محترم مولانا فرید رحمانی رحمہ اللہ کو جزائے خیر دے انہوں نے ہم بھائیوں کے تعلیم کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی۔ آج ہمارے سارے بھائی جو تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیے ہیں وہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
مولانا بدرالزماں نیپالی صاحب کے ساتھ مولانا کی کئی سالوں تک رفاقت رہی ہے۔ انہوں نے آپ کے بارے میں اپنی رائے دی ہے:''آٹھ سالہ تعلقات اور تقریباً تین سالہ مصاحبت کا تاثر یہ ہے وہ نہایت خلیق، ملنسار اور درد مند انسان تھے۔ تبلیغ دین کا کافی جذبہ تھا، وعظ وتقریر میں اچھی دسترس تھی علمی صلاحیت بھی متوسط اور لائق اعتماد تھی۔ آپ ذہین اور دور اندیش تھے۔ معاملات کی تہہ تک پہنوچنے کی کوشش کرتے تھے۔ غصہ کچھ زیادہ آتا تھا مگر جلد ہی فرو بھی ہوجاتا تھا۔ میں نے اس طویل مصاحبت میں کینہ اور بغض وحسد جیسے امراض خبیثہ سے آپ کے دل کو پاک وصاف پایا۔ میں آپ سے چھوٹا تھا مگر پھر بھی آپ نے شاید ہی کبھی میری بات ٹالی ہو۔ حق بات خواہ ان کے مزاج کے خلاف ہی کیوں نہ ضرور منوالیتا تھا۔''
(علمائے اہلحدیث بستی وگونڈہ از بدرالزماں نیپالی، ص ۱۳۵)

والد محترم کے انتقال کے وقت میری عمر بہت کم تھی اس وجہ سے ان کے اخلاق وعادات کے بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ البتہ ان کے بارے میں لوگوں کی عام رائے یہ ہے کہ وہ بہت ہمدرد اور ملنسار قسم کے انسان تھے۔ محتاجوں کی امداد میں پیش پیش رہا کرتے تھے۔ رشتہ داری کا پاس ولحاظ رکھتے تھے۔ دور دراز کے رشتہ داروں کے پاس وہ برابر جایا کرتے تھے۔مہمان نواز تھے۔ والدہ محترمہ بتاتی ہیں کہ روزانہ کوئی نہ کوئی مہمان گھر پر ہوتے تھے۔ والد محترم اور چچا جان کے انتقال کے بعد گھر کی رونق ختم ہوگئی۔ گھر میں یا تو ہم چھوٹے چھوٹے بچے رہ گئے یا ہماری والدہ اور بڑی امی رہ گئیں۔ اللہ تعالی والد محترم کی نیکیوں کو قبول فرمائے، گناہوں سے درگزر کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین