جمعرات, دسمبر 15, 2011

صلاح الدین مقبول احمد کی اردو شاعری مسدس شاہراہ دعوت کے حوالے سے



انسان اپنی محنت اور لگن کی بدولت انجینئر ڈاکٹر اور سائنسداں ہوسکتا ہے، مگر شاعر بننے کے لئے محنت اور لگن ہی کافی نہیں ہے، اس کے لئے وہبی صلاحیت درکار ہے۔ یہ اور بات ہے کہ انسان اپنے تجربات مشاہدات اورکثرت مطالعہ کی بدولت اپنی فکر کو وسیع اور بلند کرکے اپنی شاعری میں چار چاند لگا دے مگر بنیادی طور پر شاعری ایک وہبی چیز ہے جو قدرت کچھ ہی لوگوں کو دیتی ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کسی کو یہ صلاحیت دے اور وہ بجائے اس کے اظہار کرنے کے چھپانے کی کوشش کرے۔ مولانا صلاح الدین مقبول مقبول احمد کا معاملہ دوسرے شاعروں سے کئی معنوں میں الگ ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ اپنے شاعر ہونے کو پوشیدہ رکھے رہے بلکہ مدینہ منورہ میں تعلیم کے حصول کے لئے جاتے ہوئے انہوں نے ترک شاعری کے لئے دعابھی کی تھی ۔جس پر مولانا اسحاق بھٹی کا بہت ہی برمحل تبصرہ ہے کہ’’ اگر اس کا نام دعا ہے تو فرمائیے کہ بددعا کسے کہتے ہیں؟ یہ بددعاتھی جو عین نشانے پر لگی۔‘‘
مولانا صلاح الدین مقبول احمد ایک معروف عالم دین ہیں۔ ہم انہیں بچپن سے دیکھتے آئے ہیں۔ مگر وہ شاعر بھی ہیں اسکا ہمیں اندازہ نہ تھا ۔ چند دنوں قبل مولانا کے بھائی محترم مولانا عزیز الدین سنابلی سے ملاقات ہوئی دوران گفتگوانہوں نے بتایا کہ مولانا صلاح الدین صاحب کا کوئی شعری مجموعہ اردو میں شائع ہورہا ہے، تو مجھے یاد آیا کہ خلیجی جنگ کے دوران مولانا نے’’ کویت پر عراق کے مظالم ‘‘کے نام سے ایک کتاب اردو میں لکھی تھی اس کے مقدمہ میں جس طرح برمحل اشعار نقل کئے تھے وہ کوئی عمدہ شاعری کا ذوق رکھنے والا شخص ہی کرسکتا ہے۔ اس کتاب سے مجھے مولانا کے شاعرانہ مذاق کا علم ہوا۔ بہرحال مولانا صلاح الدین مقبول احمد کا شعری مجموعہ’’مسدس شاہراہ دعوت‘‘ سامنے آتے ہیں بڑی بے صبری سے میں نے پہلی ہی فرصت میں تقریبا پوری کتاب پڑھ ڈالی۔ مجھے سب سے زیادہ جس چیز نے متأثر کیا وہ ہے حسن ترتیب اور بے ساختگی۔ 
مولانا نے اپنی زندگی کے ایام تصنیف و تالیف میں گذارے جس کی جھلک ہمیں اس کتاب میں دکھتی ہے۔ اب تک شاعری کی کوئی ایسی کتاب میری نظروں کے سامنے سے نہیں گذری جس میں اسلام کے تمام بنیادی اصولوں اور تعلیمات کا اتنی خوب صورتی کے ساتھ شاعری کے پیرایہ میں بیان کیا گیا ہو۔ ہمارے وہ ناقدین ضرور اس پر چراغ پاہوں گے جن کی نظر میں شاعری صرف دل بہلانے کی چیز ہے دعوت وتبلیغ کی چیز نہیں۔ ایسا وہی شخص کرسکتا ہے جس کے سامنے کوئی خاص مقصد نہ ہو مولانا کا ایک خاص مشن ہے، ان کا چلنا پھرنا سب اسی مقصد پر قربان ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے شاعری بھی اپنی شرطوں پر کی ہے۔ مولانا اپنے مقدمہ میں رقم طراز ہیں:
’’میں نے اپنے اس مسدس میں ’’خدا ‘‘،’’عشق ‘‘،’’بادہ و ساغر ‘‘اور ’’میخانہ‘‘ جیسے غیر شرعی کلمات کے استعمال اور غیر ضروری تشبیب سے پرہیز کا ہے ، جس بندہ عاجز نے عقائد وعبادات اور تفسیر و حدیث دفاع کتاب وسنت اور اسلامی ثقافت جیسے موضوعات پر ہزاروں صفحات پر مشتمل تقریبا ۳۰ کتابوں کا ذخیرہ جمع کیا ہے ، اب اسے کے ذہن و قلم کے زیبا نہیں کہ وہ جام مے ، باددہ وساغر، اور حسیناؤں کے قدود و خدود کی تشبیب و تغزل سے ذہنی وفکری عیاشی میں مبتلا ہوں، اللہ تعالیٰ مجھے ’’ من ترک شیئاً للہ عوضہ اللہ خیراً منہ‘‘ کا مصداق بنائے۔ آمین‘‘
مولانا اسی کو شاعری کی زبان میں کچھ اس طرح کہتے ہیں:
یہ علامہ ہیں، مولانا ہیں، مفتی اور قاری ہیں
مفسر میں محدث ہیں فقیہ آہ وزاری ہیں
یہ ہیں قرآن وسنت دین ودنیا کے نمائندہ 
ہے ان کے دست میں ملت کا ماضی اور آئندہ
فرشتے ان کی راہوں میں ہمیشہ پر بچھاتے ہیں
پرندے ماہئی و حشرات ان کا گیت گاتے ہیں
جو یہ حضرات تشبیب و تغزل پہ اتر آئیں
تو پھر فرہاد و مجنوں ان سے بھی کمتر نظر آئیں
پہنچ جاتے ہیں وہ اک ہی جست میں مسجد سے میخانہ
چھلکتے ہیں پھر ان کے سامنے بھی جام و پیمانہ
انہیں اقرار ہے ان سارے ناکردہ گناہوں کا 
حسینہ کی نگاہوں اس کی راہوں اور باہوں کا
تباہی پیش خیمہ ہے اس عشق مجازی کا
کرشمہ ہے ہوائے نفس کی ذرہ نوازی کا
مولانا صلاح الدین مصلح نے ان اشعار میں واضح کردیا کہ وہ بھی اردو شاعری کے ان لوازمات سے واقف ہیں جن کے بغیر اردو شاعری کو نامکمل سمجھا جاتا رہاہے،وہ انہیں شاعری میں برتنا بھی جانتے ہیں مگر ان سے دامن بچاکر بھی اچھی اور عمدہ شاعری کی جاسکتی ہے۔ ان کا مسدس اس کا عملی نمونہ ہے۔
مولانا قوم کے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں:
توقع ملت بیضا کے میروں اور جیالوں سے
بہی خواہوں، سپوتوں ، نوجوانوں ، نونہالوں سے
کہ پاکیزہ ادب شعروسخن کو عام فرمائیں 
بہت سوئے ذرا بیدار ہوں کچھ کام فرمائیں
زمانہ منتظر ہے آپ کی دینی سیادت کا
شریعت فکر وفن ہر باب میں ملی قیادت کا
ان اشعار میں جہاں ایک طرف جذبہ کی صداقت مقصد سے والہانہ لگاؤ اور تڑپ نظر آتی ہے وہیں ان اشعار میں دریا کی سی روانی بھی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے بغیر شور وشرابے کے ایک دریا خاموشی سے بہا چلاجارہا۔ آمد ہی آمد ہے کہیں بھی آورد کا گمان نہیں ہوتا ہے۔
اس مسدس کی وجہ تالیف مولانا فرماتے ہیں:
وجہ تالیف ہے حالی کے مسدس کا کمال
راس ہے شعر کو شکوہ کی زمین اقبال
جہد ناقص میں یہ مصلح کو رہا پوار خیال 
دین خالص کی وہ سرمدی دعوت ہو بحال
رب کی توفیق سے دعوت میں توانائی ہے
شاعری کی یہ نہیں روح کی رعنائی ہے
مسدس حالی سے فکری ہم آہنگی اور اقبال کی مشہور نظم شکوہ جواب شکوہ کی زمین پر مسدس کی بنیاد رکھتے ہوئے یہ مولانا کی انکساری ہے کہ انہوں نے شاعری سے زیادہ معانی و مطالب پر توجہ دینے کی بات کہی ہے۔ 
علامہ اقبال نے بھی ایک جگہ کہا ہے کہ اللہ اس کو کبھی معاف نہ کرے جو مجھے شاعر سمجھے۔ گویا کہ اقبال بھی اپنی شاعری کے فنی محاسن سے زیا دہ اپنی شاعری کے افکار پر توجہ دینے کے قائل تھے ۔ اقبال شاعری کو بذات خود مقصد نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس کے اندر موجود پیغام کو اہمت دیتے تھے ۔ یہی بات مولانا صلاح الدین مصلح بھی کہہ رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک ایسا عالم دین جس نے اپنی پوری زندگی اسلام کی تعبیر و تشریح میں لگا دی ہو وہ جب شاعری کرے گا تو اس کے اندر بھی وہی سب کچھ ہوگا جو پڑھتا لکھتا آیا ہے۔ ایک اور چیز جو ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ خطیبانہ لہجہ اور کڑک ہے ایسا موضوع کی وجہ سے ہے۔ قرآن کلام الٰہی ہے اس پر وہ کہتے ہیں:
حکم رب حق ، کوئی اقرار یا انکار کرے 
اپنی تحقیق کو رسوا سربازار کرے 
رب کے قرآن مقدس پہ کوئی وار کرے
ایک کیا دس نہیں ، کوئی اسے سو بار کرے
حق تو تائید کا محتاج نہیں ہوتا ہے
کفر کے سامنے تاراج نہیں ہوتا ہے
مولانا کا طرز استدلال عمدہ اور جچا ہوا ہوتا ہے، وہ شاعری میں اپنے مخالفین کامسکت جواب دیتے ہیں۔ جواب دیتے ہوئے مولانا کا انداز سوال وجواب کا ہوجاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دو لوگوں کے بیچ مناظرہ ہورہا ہو۔ 
مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا بھی وجود میں آگیا ہے جو صرف قرآن کو حجت مانتا ہے، رسول اکرم کے فرامین جو احادیث کی شکل میں ہیں ان کودلیل نہیں مانتا ۔ اس فرقہ کی تردید کرتے ہوئے مولانا کہتے ہیں:
کتنا کس جنس میں واجب ہے زکاتوں کا نصاب 
کیسے معلوم ہوئے صوم کے، حج کے آداب
ان نمازوں کا طریقہ ذرا بتلائیں جناب
پیش خدمت ہے یہ لو مصحف رب الارباب
نطق سامی ہے یہ، قرآن کی تفسیر ہے یہ 
وحی معصوم کی تشریح ہے،تعبیر ہے یہ
صحیح بات یہ ہے کہ احادیث نبوی کے بغیر ان امور کی نشاندہی ناممکن ہے۔ 
مولانا کے اندر ایک شاعر ہے جسے کبھی کھل کر سامنے آنے کا موقع نہیں ملا، اگر مولانا نے اس جانب تھوڑی بھی توجہ دی ہوتی تو عالم اسلام کے نامور شاعروں میں ہوتے۔ کیا یہ کسی کرامت سے کم ہے کہ شاعری ترک کرنے کے تیس سالوں بعد کوئی آمادۂ شعر ہو اور محض دس دنوں میں اکیاسی مسدس کہہ کر کتاب کی تکمیل کردے؟ اس کتاب کولکھتے وقت مولانا کا شاعرانہ مزاج ہر جگہ انہیں شاعری کی زبان ہی میں بات کرنے پر بر انگیختہ کرتا ہے۔ مقدمہ جو عام طور پر شاعر نثر کی زبان میں لکھتے ہیں اس کے اندر بھی مولانا نے جابجا اشعار کے موتی پروئے ہیں۔ مولانا کی شاعری میں بعض جگہوں پر عربی الفاظ کے استعمال کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ قاری کو سمجھنے میں کچھ دقت محسوس ہو، مگر ایسی تمام جگہوں پر مولانا نے حاشیہ میں اس کی تشریح کردی ہے۔ دراصل اردو کا دامن دوسری زبان کے الفاظ کو لینے اور قبول کرنے میں ہمیشہ سے کسادہ رہا ہے۔ایک زمانہ تھا جب فارسی الفاظ وتراکیب کا استعمال بکثرت ہوا کرتا تھا۔ مولانا آزاد نے عربی الفاظ تراکیب سے اردو کے دامن کو وسعت دی مگر کئی وجوہات سے یہ روایت بعد کے ادوار میں نہ قائم نہ رہ سکی ۔ اور اب اردو اور فارسی کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے۔ بہرحال مولانا کو بھی اس کا احساس تھا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حاشیہ میں اس کی تشریح بھی کردی ہے۔ 
یہ کتاب صرف اسلام کی تعبیر و تشریح ہی کے لئے معاون نہیں ہے بلکہ مستقبل میں مولانا پر تحقیق کرنے والوں کے لئے ان کی زندگی اور ان کی ذہنی اپج کو سمجھنے کا بھی کام دے گی۔انشاء اللہ