ہفتہ، 20 فروری، 2010

کاغذی کارروائیوں سے جوجھ رہی انسانیت

عزیر اسرائیل سنابلی

ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اردوکے مشہور افسانہ نگار کرشن چند کا افسانہ ’جامن کا پیڑ‘ پڑھا ہوگا۔ اس افسانہ کو پڑھ کر میں نے یہ سوچاتھا کہ حقیقی زندگی میں شاید ایسا نہ ہوتاہو اس لئے کہ افسانہ میں سرکاری افسران کی بے حسی کی جو تصویر کھینچی گئی تھی وہ رونگٹے کھڑی کردینے والی تھی۔ کہانی کچھ اس طرح تھی کہ ایک شاعر کسی نام سے میونسپل کی آفس گیا وہاں پراتفاقاً ایک پرانا جامن کا پیڑ اس کے اوپر کچھ اس طرح سے گرا کہ اسے زیادہ چوٹ تو نہیں آئی مگر بغیردرخت کوجڑسے کاٹے اس کو نکالنا نا ممکن تھا۔ یہاں پر معاملہ ایک پیڑ اور انسانی جان کاتھا۔ ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ فوری طور پر اس پیڑ کے تنے کو کاٹ کر اس آدمی کی جان بچالی جاتی جواتفاق سے شاعر بھی تھا۔ مگر ہوتا اس کے برعکس ہے۔ آفس کا چپراسی جب شاعر کو اس حالت میں پھنسا ہوا دیکھتاہے تو اس کی اطلاع اپنے افسر کو دیتاہے، افسر جائے واقعہ کا معائنہ کرنے کے بعد اس کی اطلاع اپنے اعلیٰ افسر کو دیتاہے اس طرح اس کی فائل مختلف محکموں میں بھیجی جاتی ہے معاملہ چونکہ ایک شاعر کا تھا اس وجہ سے محکمۂ جنگلات کے علاوہ محکمہ ثقافت والسنہ کوبھی فائل بھیجی جاتی ہے اس طرح کئی دن گزر جاتے ہیں اور جب حکومت کے اعلیٰ افسران کی طرف سے پیڑ کاٹ کر شاعر کی جان بچانے کی اجازت ملتی ہے اس وقت تک شاعر مرچکاہوتاہے۔ یہ توصرف کہانی کی بات تھی معلوم نہیں کہ افسانہ نگار کے سامنے کوئی واقعہ تھا یا اس نے اپنے تخیل کی بنیاد پر یہ کہانی لکھی تھی۔ مگرگزشتہ جمعرات کی صبح پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پرکچھ اسی قسم کا واقعہ پیش آیا جس میں ریلوے افسران اورسیکورٹی اہلکاروں نے غفلت اوربے حسی کی مثال قائم کردی۔ 11فروری کی صبح ایک سینئر ریلوے ٹریک انجینئر پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبرایک پرایک شخص ٹرین کی زد میں آگیا اورموقع پر اس نے دم توڑ دیا۔ آٹھ بج کر 55منٹ پرکچھ ریلوے ملازموں نے اس لاش کو دیکھا اور اس کی اطلاع آر پی ایف کو دیا۔ آر پی ایف کے جوان 9بج کر 40منٹ پرآکر لاش کامعائنہ کرتے ہیں اور اس حادثہ کی اطلاع اسٹیشن آپریٹنگ اسٹاف کو دیتے ہیں۔ 9-50پراسٹیشن آپریٹنگ اسٹاف اس کی اطلاع گورمنٹ ریلوے پولس کو دیتی ہے۔ اس درمیان کسی نے بھی ریلوے ٹریک سے اس لاش کواٹھا کر دوسری جگہ رکھنے کوشش نہیں کی۔ حد تو یہ ہوئی کہ 9-52پراسی ٹریک پر کروچھتر ای ایم یو آگئی جس نے لاش کے پرخچے اڑا دئیے۔ اس کے بعد کہیں جاکر 10-35پر جی آر پی کے ذریعہ اس لاش کو وہاں سے ہٹایاگیا۔ لاش کو اٹھائے جانے تک اس کی شناخت نہیں ہوئی تھی مگرجب یہ معلوم ہواکہ مرنے والا کوئی اورنہیں بلکہ ریلوے کا ملازم مہیش کمار تھا تو ریلوے ملازمین نے ہنگامہ کرناشروع کردیا جس پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ کیامذکورہ کہانی اوراس حقیقی واقعہ میں یکسانیت نہیں ہے؟ اگرکرشن چند نے اس کو بہت پہلے نہ لکھا ہوتا تومیں یہی کہتاکہ اس کاپلاٹ پرانی دہلی کے اسی واقعہ سے لیاگیاہے۔ فرق صرف اتناہے کہ وہاں شاعر زندہ حالت میں ہے اور افسران کی بے حسی کی وجہ سے موت کاشکارہوجاتاہے مگر یہاں ریلوے ملازم کی لاش پر دومرتبہ ٹرین چڑھ جاتی ہے جس سے لاش قیمہ بن جاتی ہے۔ اس حادثہ نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ انسان دن بدن بے حس ہوتاجارہاہے۔ انسانیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ پہلے جہاں لوگ حادثہ میں شکار لوگوں کی مدد کے لئے آگے آتے تھے وہیں اب چاروں طرف کھڑے ہوکرتماشہ دیکھتے ہیں اور اس خوف سے مدد کے لئے سامنے نہیںآتے کہ کون پولس کے جھگڑے میں پڑے گا؟ حقیقت بھی یہی ہے کہ ہمارے یہاں کی پولس کے کام کرنے کا انداز ہی یہی ہے۔ اگر کوئی شخص سڑک حادثہ میں زخمی ہوجائے اور کوئی شخص اس کو اسپتال میں لے جائے تو پہلی بات تو یہ کہ پولس کو اطلاع دیئے بغیر ڈاکٹر مریض کو ہاتھ نہیں لگائے گا اگر چہ اس درمیان میں مریض دم توڑدے اور اگراتفاق سے مریض کے دم توڑنے سے پہلے پولس آبھی گئی تو جان بچانے والے کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اسی کو ملزم کے طور پر دیکھنے لگتی ہے اورکچھ اس قسم کے سوالات کرتی ہے کہ وہ آئندہ کیلئے نہ صرف اس قسم کی غلطی سے توبہ کرلے گا بلکہ اپنی آئندہ نسل کو بھی نصیحت کرکے جائے گا کہ بیٹا کبھی کسی اجنبی کی جان مت بچانا۔ آیئے ایک مرتبہ پھر پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہوئے حادثہ کی طرف آتے ہیں۔حادثہ کی اطلاع صبح آٹھ بج کر 55منٹ پر ہوگئی تھی اور لاش کو وہاں سے دس بج کر 35منٹ پر اٹھایا گیا، یعنی کل ڈیڑھ گھنٹے کے بعد وہ بھی پرانی دہلی جیسے بھیڑ بھاڑ والے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبرایک سے۔ آر پی ایف کے جوان اگر چہ اطلاع کے 45منٹ بعد پہنچے تھے مگر وہ اس لاش کو ضروری کارروائی بعد اٹھالیتے تو یہ نوبت نہ ہوتی۔ مگرآر پی ایف کا کہنا ہے کہ لاش اٹھانے کی ذمہ داری ہماری نہیں ہے ہم نے تو اس کی اطلاع آپریشن ونگ کودے دی تھی وہ بعد میں آنے والی ٹرین کاٹریک بدل سکتے تھے لہٰذغلطی ان کی ہے۔ اگرڈی سی پی (ریلوے) بی ایس گوجر اوردہلی ڈویزن کی مانیں تواس معاملہ میں کچھ بھی غلط نہیں ہوا۔ گویاکہ ان آفیسروں کی نظر میں یہ کوئی اہم واقعہ ہی نہیں ۔ اگریہی حادثہ ان کے قریبی رشتہ دار کے ساتھ پیش آیاہوتا تو کیا اس وقت بھی ان کا رد عمل یہی ہوتا؟ شاید کہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ریلوے ملازمین کو معلوم ہواکہ مرنے والا ریلوے ہی کاملازم ہے تو ان لوگوں نے اس کے خلاف ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے اعلیٰ سطحی انکوائری کے کمیٹی کی تشکیل کردی گئی۔ اس قسم کے درد ناک واقعات پھرنہ ہوں اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی بھی حادثہ کے بعد کاغذی کارروائی کے موجودہ رویہ میں تبدیلی لائی جائے۔ تاکہ کوئی بھی شخص حادثہ کے شکار شخص کی جان بچانے میں خوف نہ محسوس کرے۔ انسانی جذبہ کو تمام کارروائی پر مقدم رکھا جائے۔ دوسری طرف ہمیں اپنے اندر اپنے اور پرائے خون کے درمیان فرق کرنے کی عادت میں تبدیلی لانی ہوگی۔ خون کسی کا بھی ہو وہ خون ہے۔ آج کسی اورکے ساتھ حادثہ پیش آیا ہے کل ہمارے کسی قریبی رشتہ دار کے ساتھ ہوسکتابلکہ خود ہم بھی اس حادثہ کے شکار ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنے رویہ میں تبدیلی لاناچاہئے۔