بدھ، 24 جون، 2009

نئی حکومت اور مسلم قیادت

پندرہویں لوک سبھا کے نتیجوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ووٹروں نے مذہب اور ذات پات کی سیاست کو نظر انداز کرکے صرف اور صرف ترقی اور امن کے نام پر ووٹ دیا ہے۔ مذہب کے نام پر قائم سیاسی پارٹیوں کو اس بار منہ کی کھانا پڑی۔ بی جے پی نے اس بار ایڈوانی کو مضبوط نیتا کا نعرہ بلند کرکے پرائم منسٹر کے عہدہ کا امیدوار بنایا تھا۔ وزارتِ عظمیٰ-کا انتظار کرنے والوں کو اب مزید پانچ سال تک اپنی باری آزمانے کے موقع کا انتظار کرنا پڑے گا۔ جس طرح پچھلے الیکشن میں انڈیا شائننگ کا نعرہ فیل ہوا تھا اسی طرح اس دفعہ گڑیا، بڑھیا، کمزور اور نکما کی زبان کو عوام نے مسترد کردیا۔
ہار کے بعد بی جے پی کے لئے بڑی مصیبت یہ ہے کہ وہ ہندو احیا پرستی کے ایجنڈے سے دست بردار ہوتی ہے تو اس کو اپنے روایتی ووٹروں سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور جہاں تک نوجوان طبقہ اور ملک کی اکثریت کی بات ہے تو اس کے لئے اب ہندوتو کے ایجنڈے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف ترقی اور امن چاہتے ہیں۔ ہندتوا کے ایجنڈے سے دستبردار ہونے میں ایک پریشانی اور ہے اور وہ یہ کہ بی جے پی سب کچھ ہے مگر آر ایس ایس کے بعد۔ آر ایس ایس کی مرضی کے بغیر بی جے پی کوئی قدم نہیں اٹھا سکتی۔ اور وہ اس کو ایسا کرنے نہیں دے گی۔
اس الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ اس مرتبہ کچھ نوخیز مسلم پارٹیاں مسلمانوں کے ووٹ کا سودا کرنے کے لئے میدان میں آئی تھیں۔ ڈاکٹر ایوب صاحب کی ’پیس پارٹی ‘ اور جماعت اسلامی اور جوائنٹ کمیٹی فار ایمپاورمنٹ آف مسلم کی مشترکہ کوشسوں سے وجود میں آئی ”علماءکونسل“ اس بار بڑے زور و شور سے میدان میں اتریں۔ ڈاکٹر ایوب صاحب پیشہ کے ڈاکٹر اور ایک سماجی کارکن ہیں انہوں نے حالات کا جائزہ لئے بغیر ان علاقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کردیئے جہاں مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں سے اکثر جگہوں پر بی جے پی بڑی آسانی سے جیت گئی۔ پیس پارٹی کے تعلق سے بعض مسلم علاقوں میں یہ بھی دیکھا گیا کہ دوسری پارٹی کے امیدواروں کو سننا تو دور انہیں اپنے علاقوں میں داخل بھی نہیں ہونے دیا گیا۔ جب ایک طرف مذہب کے نام پر مسلمان اس شدت سے جمع ہوں تو بی جے پی کو اپنی سیاست کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے لہٰذا اس نے ہندو ووٹ کو اپنی طرف آسانی سے منتقل کرلیا۔ کافی شور و شرابہ کے بعد جب رزلٹ سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ پیس پارٹی بھی ڈاکٹر مسعود کی نیشنل لوک ہند پارٹی کی طرح ایک سیٹ بھی اپنے کھاتے میں نہ ڈال سکی، ہاں اس نے کئی بی جے پی امیدواروں کو ضرور کامیابی دلائی، جس کے لئے یقینا بی جے پی ڈاکٹر ایوب کی شکر گزار ہوگی۔
علماءکونسل کا معاملہ بھی تقریبا وہی ہے۔ بٹلہ ہا

س انکا

نٹر کے بعد تھوڑے ہی عرصہ میں یہ تنظیم دہلی، لکھنو

¿ اور اعظم گڑھ میں سرخیوں میں آگئی۔ علماءاکسپریس کے ذریعہ اس تنظیم نے دہلی کا سفر کرکے جنتر منتر پر زبردست مظاہرہ کیا اور اعظم گڑھ کو آتنک گڑھ قرار دینے اور مسلمانوں کو بغیر کسی ثبوت کے گرفتار کرنے کے خلاف ایک منظم آواز اٹھائی۔ اس کا خاطر خواہ فائدہ بھی ہوا۔ قومی میڈیا نے اس کو خاص طور پر اہمیت دی۔ حکومت کو بھی اس طرف توجہ دینی پڑی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بلاوجہ گرفتاریوں پر قدغن لگی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حکومت کے رویہ میں تبدیلی لانے میں دوسرے عوامل بھی کارفرما تھے مگر علماءکونسل کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

یہاں تک تو معاملہ صحیح تھا۔ معلوم نہیں اس تنظیم کے قائدین کو کیا سوجھی کہ وہ انتخابی سیاست میں کود پڑے اور لکھنو

¿، جونپور اور اعظم گڑھ سے اپنے نمائندوں کو کھڑا کردیا۔ اکبر ڈمپی بی ایس پی امیدوار کی حیثیت سے اعظم گڑھ سے امیدوار تھے۔ بٹلہ ہا

س انکا

نٹر اور اس کے بعد کے واقعات کے خلاف وہ پارلیامنٹ کے اندر اور باہر زبردست آواز اٹھانے کی وجہ سے پارٹی کی ناراضگی بھی اٹھا چکے تھے۔ اکبر ڈمپی کے وہاں سے امیدوار ہونے کے باوجود علماءکونسل نے اعظم گڑھ سے اپنا امیدوار کھڑا کیا۔ حالانکہ علماءکونسل اور اکبر ڈمپی کے خیالات باہم ملتے جلتے تھے۔ علماءکونسل کی مسلم نوجوانوں میں زبردست پذیرائی کے باوجود الیکشن سے پہلے یہ بات واضح تھی کہ بی جے پی اس علاقہ سے جیت جائے گی اس کے باوجود علماءکونسل نے اس کے لئے کوئی مناسب قدم نہ اٹھایا۔ پھر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔مسلمانوں کی حالت وہی ہوئی کہ بارش سے بھاگ کر پرنالے کے نیچے کھڑے ہوگئے۔ اعظم گڑھ کو آتنک گڑھ قرار دینے والوں ہی کی فتح ہوئی۔

بی جے پی کو مدد پہنچانے والوں میں آسام کے بدر الدین اجمل صاحب بھی ہیں۔ ان کی یوڈی ایف کی وجہ سے سیکولر ووٹوں کی تقسیم کا خدشہ تھا اور یہ بات یقینی تھی کہ اگر اس کے لئے مناسب قدم نہ اٹھائے گئے تو بی جے پی کی کامیابی یقینی ہے مگر ان کے اڑیل رویے کی وجہ سے آسام جیسے صوبہ سے بی جے پی کی تین سیٹیں نکل آئیں۔ بدر الدین اجمل صاحب اپنی پیٹھ ٹھونک سکتے ہیں کہ دو جگہوں میں سے ایک جگہ سے کامیاب ہوگئے لیکن انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ اگر ان کی پارٹی نہ ہوتی تو یقینا بی جے پی کے کھاتہ میں تین سیٹیں کم ہوتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کی ڈوبتی نیّا کو سہارا دینے میں ملت کے ان ”بہی خواہوں“ کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ اس سے پہلے ڈاکٹر مسعود احمد نے ”اپنی قیادت اپنی حکومت“ کا نعرہ بلند کرکے یوپی میں الیکشن لڑا تھا مگر کبھی وہ اپنی سیٹ بھی نہ نکال سکے۔ یہ اور بات ہے کہ آج بھی وہ یوپی اور دہلی میں مسلمانوں کے نام پرووٹ مانگتے نظر آتے ہیں۔ اس تحربہ سے پہلے فریدی صاحب نے تجربہ کیا تھا وہ ایک حد تک کامیاب ضرور رہا مگر وہ اس کامیابی کو برقرار نہ رکھ سکے۔ ان کوششوں کی ناکامی کے بعد مناسب تو یہی تھا کہ ہندوستانی مسلمان مولانا آزاد رحمہ اﷲ کے مشورہ کو مان لیتے اور الگ سے کسی مسلم سیاسی جماعت کے قیام کے بجائے ملک کی سیکولر جماعتوں سے وابستہ ہوجاتے مگر برا ہو نام نہاد مسلم قائدین کا جنہیں ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کی عادت ہے۔خواہ ان کی ہوس اقتدار سے مسلم قوم کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔
اس الیکشن کی ایک خاص بات مولانا اسرار الحق صاحب قاسمی کی کشن گنج سے کانگریس امیدوار کی حیثیت سے جیت ہے۔ یہ کامیابی اس معنی میں اہم ہے انہوں نے راجیہ سبھا کے چور دروازے سے پارلیامنٹ میں انٹری کرنے کے بجائے عوام کی عدالت میں سرخروئی حاصل کی۔ ملی کونسل کے پلیٹ فارم سے کام کرتے ہوئے انہیں مسلم مسائل کے بارے میں کافی تجربہ ہے۔ اس سے امید بندھی تھی کہ کانگریس کم از کم اقلیتی امور کی وزارت انہیں سونپے گی۔ مگر اس دفعہ کانگریس نے مسلمانوں کو وزارتوں کے معاملہ میں مایوس کیا، منموہن سنگھ خود اقلیتی فرقہ سکھ قو م سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے امید کی جاتی تھی کہ وہ اقلیتوں کا درد سمجھتے ہوئے کم از کم انہیں گذشتہ دور حکومت میں جتنی تعداد تھی وہ برقرار رکھیںگے۔ مگر اس مرتبہ ایک وزیر کم کرکے صرف پانچ ہی مسلم وزیروں کو جگہ دی گئی۔ حالانکہ کانگریس سے جیتنے والے امیدواروں کا اوسط دیکھا جائے تو رزلٹ کوئی خراب نہیں ہے۔ کانگریس نے صرف ۸۱ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا ان میں گیارہ میدوار کامیاب ہو

©ئے۔ ان گیارہ میں سے صرف غلام نبی آزاد اور سلمان خورشید کو وزارت دی گئی۔ باقی تین وزیر دوسری حلیف پارٹیوں سے لئے گئے۔

سچر کمیٹی رپورٹ کے مطابق وزارت میں کم از کم گیارہ مسلمانوں کو جگہ ملنی چاہئے اگر اس رپورٹ پر اس کی خالق کانگریس عمل نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟ یوپی اے حکومت نے دلتوں کو اس دفعہ سات کے بجائے دس وزارتیں دی ہےں تو آخر مسلمانوں کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں؟ ایسی بات نہیں کہ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی ہو۔کابینہ کی پہلی حلف برداری میں جب بیس لوگوں کی کابینہ میں صرف ایک نام غلام نبی آزاد کا آیا تبھی سے مسلم لیڈران اور میڈیا نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ قومی میڈیا نے بھی اس کو محسوس کیا۔ مگر بٹلہ ہا

س فرضی انکا

نٹر کا درد بھلا کر کانگریس کو ووٹ دینے والی مسلم قوم کو اس معاملہ میں کانگریس نے مایوس کیا۔

مسلم سیاست سے ہی لالو، پاسوان، ملائم اور مایاوتی کی خراب کارکردگی کو بھی دیکھا جانا چاہئے۔ یہ لوگ مسلم ووٹ کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ ملائم مسلمانوں کے مسیحا کے طور پر اپنے آپ کو تعارف کراتے نہیں تھکتے مگر ان کی پارٹی کو مسلمانوں کی کتنی فکر ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے قاتل اور بابری مسجد شہید کرنے والے کلیان سنگھ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کی ناراضگی کا بھی انہوں نے کوئی خیال نہیں کیا۔ پارٹی کے چوٹی کے لیڈر اعظم خان نے جب اس پر اعتراض کیا تو انہیں حاشیہ پر ڈال دیا۔ پارٹی کو ایک عدد مسلم برانڈ چاہئے تھا جو اسے ابو عاصم اعظمی کی شکل میں مل گیا۔ لہٰذا اعظم خان کی خدمات کو یکسر فراموش کرکے انہیں پارٹی مخالف کارروائیوں کی پاداش میں پارٹی سے باہر کر دیا گیا۔ اگر کلیان سنگھ کی بی جے پی سے اصولوں کی بنیاد پر رنجش ہوتی تو کوئی بڑی بات نہیں تھی انہیں گلے لگایا جاسکتا تھا مگر یہاں تومعاملہ صرف ذاتی دشمنی کاتھا۔ انہیں بی جے پی سے شکایت ہے کہ وہ انہیں نظر انداز کر رہی ہے۔ لہٰذا انہیں سیاسی پناہ ڈھونڈنا تھا جو ملائم سنگھ کی شکل میں مل گیا۔ انہوں نے کرانتی پارٹی کی تشکیل کرکے دیکھ لیا تھا جس کا شو فلاپ رہا تھا۔ اگرچہ کلیان آزاد امیدوار تھے مگر سماج وادی نے ان کی مکمل حمایت کی ۔یہی نہیں سماج وادی نے اس دفعہ راج ناتھ سنگھ کے خلاف کوئی امیدوار نہ اتار کر ان کی جیت کے لئے راہ ہموار کی۔
اعظم خان کی مخالفت اور کلیان دوستی کی وجہ سے الیکشن سے پہلے ہی یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ اس دفعہ یوپی کا مسلمان سماجوادی پارٹی سے دور ہوگیا ہے۔ رہی سہی کسر ملائم کے اڑیل رویے سے نکل گئی جو انہوں نے کانگریس سے سیٹوں کے بٹوارے کے وقت دکھائی۔ ملائم کانگریس کو پورے یوپی میں صرف ۵سیٹ دینے پر راضی تھے مجبور ہوکر کانگریس نے یوپی میں اکیلے الیکشن لڑا اور ۱۲سیٹوں پر زبردست کامیابی حاصل کرکے یوپی کی سیاست میں دوبارہ واپسی کی۔ اس کا سہرا جہاں راہل گاندھی کوجاتا ہے کہ انہوں دن رات ایک کرکے پارٹی میں نئی جان ڈال دی وہیں یوپی کے مسلمانوں کو بھی جاتا ہے کہ انہوں نے ملائم اور مایا کے مقابلہ میں کانگریس کو زیادہ پسند کیا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس بار سماجوادی سے ایک بھی مسلم ایم پی الیکشن نہیں جیت سکا۔
مایاوتی کی مصیبت یہ ہے کہ وہ جس زبان میں بات کرتی ہیں وہ مہذب سماج کی زبان نہیں۔ یہ سچ ہے کہ برسوں کے استحصال کی وجہ سے ان کے لہجہ میں ترشی آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں مگر ان کی باتوں اور عمل سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس استحصال کا بدلہ بڑی ذات کے لوگوں سے ان کی تذلیل کرکے لینا چاہتی ہیں۔
مسلمانوں نے مایاوتی کو گذشتہ اسمبلی الیکشن میں ایک بہتر متبادل سمجھ کر ووٹ دیا تھا مگر مایا نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ صرف دلت بہبود ہی ان کے پیش نظر ہے اقلیتوں کی انہیں بالکل پرواہ نہیں ہے۔ اس سے مسلمان ووٹر ان سے مایوس ہوگیا۔ خود مایاوتی نے اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں میں اس بھرم کی وجہ سے انہیں شکست ہوئی ہے کہ وہ این ڈی اے کے ساتھ جاسکتی ہیں۔ اگرگذشتہ تجربات کو دیکھا جائے تو مسلمانوں کا یہ خدشہ کوئی غلط نہیں۔ مایاوتی کو یقینی طور پر این ڈی اے کے ساتھ الیکشن کے بعد نہیں جانا تھا تو انہیں اس افواہ کی تردید کرنی چاہئے تھی مگر انہوں نے اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔
ملائم نے تو کم از کم ۳۲سیٹیں نکال کر اپنی لاج رکھ لی ہے مگر لالو بہار میں صرف چار سیٹوں تک سمٹ گئے وہ خود ایک جگہ سے ہار گئے در اصل بہار میں نتیش کمار نے جو ترقیاتی کام کرائے ہیں اس کو وہاں کے عوام نے ستائش کی نظر سے دیکھا۔ وہ بہار جو لالو راج میں پورے ملک میں سب سے پچھڑا علاقہ بن گیا تھا وہاں اب سڑکیں بن رہی ہیں، تعلیمی ادارے قائم ہورہے ہیں، بے روزگاروں کو نوکریاں مل رہی ہیں، امن عامہ جس کی دہائی دے کر لالو ووٹ مانگا کرتے تھے نتیش کی حکومت میں لالو سے بہتر رہا۔ یہی وجہ ہے کہ لالو کی ٹرین بہار میں نہیں چل سکی۔
سب سے بری حالت پاسوان کی ہے وہ خود الیکشن ہار گئے ان کی پارٹی کا ایک بھی امیدوار کامیاب نہ ہوسکا۔ یاد رہے کہ لالو، ملائم اور پاسوان الیکشن سے پہلے یوپی اے حکومت کا حصہ تھے مگر ان لوگوں نے ایک ساتھ الیکشن نہ لڑ کر الگ سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ لالو- پاسوان بہار میں کانگریس کو صرف ۳ سیٹ دینے پر راضی تھے۔ کانگریس کا پھنڈا یہاں نتیش کی وجہ سے نہیں چل سکا اس وجہ سے اس کو تین سیٹوں پر قناعت کرنا پڑا۔
اب حالت یہ ہے کہ یہ لوگ کانگریس سے رحم کی بھیک مانگ رہے ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح انہیں بھی حکومت میں شامل کرلیا جائے۔ الیکشن کے بعد ان لوگوں نے اعتراف کیا کہ کانگریس سے الگ ہوکر الیکشن لڑنا ان کی بھول تھی۔ در اصل سیاست میں معمولی غلطیاں بھی سدھارنے کے لئے پانچ سال کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
لالو کی جہاں تک بات ہے تو انہوں نے ہمیشہ یوپی اے کی بھلائی کاکام ہی کیا ہے۔ ریلوے کو انہوں نے منافع بخش وزارت بناکر پوری دنیا میں شہرت دلوائی ہے اسی وجہ سے ان کی بھول کو معاف کیا جاسکتا ہے بلکہ معاف کردیا جانا چاہئے مگر سماجوادی کی موقع پرست سیاست اس قابل ہے کہ ا س سے دوری ہی بنی رہے تو بہتر ہے۔ ملائم اور امر سنگھ کی پریشانی یہ ہے کہ اگر یہ لوگ مرکز اور ریاست سے ایک لمبے عرصہ تک غائب رہے تو دھیرے دھیرے عوام کے ذہنوں سے بھی دور ہوجائیں گے اور پھر ان کی واپسی مشکل ہوجائے گی۔
حالیہ الیکشن میں اگر مسلمانوں کی نمائندگی کی بات کی جائے تو مایوس کن صورتحال سامنے آتی ہے ۴۰۰۲ءکے الیکشن میں ان کی تعداد ۹۳تھی جو گھٹ کر ۰۳رہ گئی مسلم نمائندگی میں ۰۲فیصد کمی ہوئی۔ اس کی خاص وجہ نام نہاد مسلم پارٹیاں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے جذبات کا استحصال کرکے مسلمانوں کے ووٹ کومختلف خانوں میں تقسیم کردیا۔ نہ خود کامیاب ہوسکے اور نہ سیکولر پارٹیوں کے مسلم امیدواروں کو کامیاب ہونے دیا۔ دوسری وجہ خود سیکولر پارٹیوں کی سیاست ہے وہ جان بوجھ کر ایک ہی علاقہ سے کئی امیدوار کھڑا کردیتی ہیں جس کے نتیجہ میں مسلم ووٹ بٹ جاتا ہے اور بی جے پی کا امیدوار نکل جاتا ہے۔
اس الیکشن کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں بڑے بڑے نیتا جو گذشتہ حکومتوں میں وزیر رہ چکے تھے الیکشن ہار گئے۔ ہارنے والوں میں عبدالرحمان انتولے، شکیل احمد، علی اشرف فاطمی، رام ولا س پاسوان، منی شنکر ایر جیسے قدر آوار لیڈران شامل ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس مرتبہ عوام نے بڑے ناموں سے متاثر ہوئے بغیر صرف کام کے بدلہ ووٹ دیا ہے جو نیتا الیکشن کے بعد منہ نہ دکھاتے ہوں انہیں عوام نے پارلیامنٹ سے باہر کا راستہ دکھا دیا۔
منموہن سنگھ کی قیادت والی یوپی اے حکومت پر عوام نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے فتح کے آنکڑے کے قریب پہنچادیا ہے اسے گیارہ ممبران کی ضرورت تھی جو اسے آسانی سے حاصل ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ وزارتوں کے لئے حلیف پارٹیاں دبا

نہیں ڈال سکیں۔ کروناندھی نے ذرا سی اکڑ دکھائی تھی مگر وہ بھی لائن پر آگئے۔

اب منموہن حکومت کے امتحان کی گھڑی ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اترے۔ یوپی اے اب یہ نہیں کہہ سکتی کہ اسے ترقیاتی کام کرنے کا موقع نہیں ملا اس لئے کہ دس سال کا عرصہ اپنے آپ میں ایک معنی رکھتا ہے۔ مندی کے اس دور میں ملکی معیشت کو سہارا دینا، عالمی سطح پر ملک کی امیج کو زیادہ پراثر بنانا، غریبی اور بے روزگاری کا خاتمہ، تعلیم، صحت او رامن عامہ جیسے مسائل پر اسے توجہ دینی ہوگی۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو کانگریس کی زیر قیادت یوپی اے سرکار سے چند توقعات ہیں۔ سرکار کے لئے یہ بہتر موقع ہے کہ وہ انھیں پورا کرکے مسلمانوں کی توقعات پر پوری اترے۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ کا نفاذ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے اقلیتی کردار کی بحالی ان میں سرفہرست ہے۔ اگر سرکار نے مسلمانوں کی ان خواہشات کا احترام نہیں کیا تو مسلمان ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور ہوںگے کہ کانگریس کو مسلمانوں کی فکر نہیں وہ صرف اسے ووٹ بینک کے طور پر دیکھتی ہے۔


حاجی مشتاق احمد انصاری کا انتقال

Haji mustaque Ahmad Ansari
انتہائی افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ حاجی مشتاق احمد انصاری کا ۰۲ مئی کو بترا ہاسپٹل دہلی میں انتقال ہوگیا۔ موصوف بھدوہی میں قالین کی تجارت کرتے تھے۔ اﷲتعالیٰ نے آپ کے اندر خیر کا جذبہ کافی مقدار میں رکھا تھا۔
مہمان نوازی اور غریب پروری میں اپنی مثال آپ تھے۔ کڈنی میں پریشانی کی وجہ سے اکثر دہلی ڈائلیسس کے لئے آنا ہوتا تھا۔ ابو الکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر کے صدرِمحترم مولانا عبد الحمید رحمانی حفظہ اﷲ وتولاہ سے دیرینہ تعلقات کی وجہ سے مرکز کو اپنی زیارت سے شرفیاب کیا کرتے تھے۔
عمر کے تقاضہ کی وجہ سے شکر اور ہارنیا کی شکایت بھی ہوگئی تھی۔ آخری مرتبہ ہارنیا کے آپریشن کے لئے دہلی آئے ہوئے تھے مگر آپریشن کامیاب نہ ہوسکا۔ موصوف کی میت کو ان کے آبائی شہر بھدوہی لے جایا گیاجہاں دوسرے دن ۱۲ مئی کو صلاة مغرب کے بعد ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا۔ صلاةجنازہ جامعہ سلفیہ، بنارس کے استاد مولانا مستقیم احمد سلفی نے پڑھائی۔ پسماندگان میں دو بیٹے محمد واصف اور محمد شارق نیز تین بیٹیاں ہیں۔ سبھی شادی شدہ ہیں۔ ادارہ التبیان ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ دعا ہے اﷲ تعالیٰ موصوف کی خطا¶ں سے در گزر کرے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔

جامعہ سلفیہ کے استاد مولانا رئیس احمد ندوی رحمہ اﷲ


جامعہ سلفیہ بنارس کے سینئر استاداور مفتی، تقریبا دو درجن کتابوں کے مصنف و مولف، مولانا رئیسالاحرار ندوی بن سخاوت علی کا ۹مئی2009، بروز سنیچر رات ساڑھے دس بجے بنارس کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔
موصوف طلبہ میں اپنے بلند اخلاق، بہترین عادات اور اعلیٰ کردار کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔ آپ ایک بے باک قلم کار اور مصنف تھے۔ مسلک سلف کے دفاع میں آپ کا قلم بہت تیز تھا۔ آپ نے ایک درجن سے زائد کتابیں لکھیں مگر آپ کو جس کتاب سے شہرت ملی وہ ”اللمحات

Êلی مافی انوار الباری من الظلمات“ ہے۔ یہ کتاب مولانا انور شاہ کشمیری کے داماد اور شاگرد سید احمد رضا بجنوری کی بخاری کی شرح انوار الباری کے جواب میں ہے۔
موصوف اپنے آبائی گاؤں بھٹیا میں ۲جولائی ۷۳۹۱ءکو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسہ میں ہوئی۔ جونیئر ہائی اسکول مروٹھیا سے پاس کیا اور ہائی اسکول مدرسہ بدریہ پکابازار بستی میں پڑھائی کے دوران پاس کیا۔ ۷۵۹۱ءمیں ندوة العلماءلکھنو¿ میں داخلہ لیا،جہاں ان کے اساتذہ میں علی میاں ندوی، عبد اﷲ عباس ، مولانا عبد الغفور رحمہم اﷲ جیسے لوگ تھے۔
مولانا رئیس الاحرار صاحب نے اگرچہ ندوہ میں تعلیم پائی مگر مسلک اہل سنت والجماعت سے لگاو¶ میں کمی نہ آئی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں وہ سلفی فکر کے خلاف اٹھنے والی ہر تلوارکے خلاف ایک ڈھال بن گئے۔
ندوہ سے فراغت کے بعد مدرسہ بدریہ، جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر، دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ بہار اور ندوة العلماءمیں ۱۶۹۱ءسے ۵۶۹۱ءکے درمیانی سالوں میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ ۶۶۹۱ءمیں جامعہ سلفیہ بنارس کے استاد مقرر ہوئے تو زندگی کے آخری لمحات تک اس سے الگ نہ ہوئے۔ آپ مرکزی دار العلوم کے شیخ الحدیث اور مفتی تھے۔
مولانا رئیس صاحب کے تلامذہ کی ایک طویل فہرست ہے ان میں سے چند نام یہ ہیں:
شیخ صلاح الدین مقبول مدنی، شیخ وصی اﷲ عباس، عبد الباری فتح اﷲ، ڈاکٹر عبد الجبار پریوائی، ڈاکٹر رضاءاﷲ مبارکپوری وغیرہم۔
مولانا رئیس الاحرار صاحب کی مشہور کتابوں میں چند یہ ہیں:
۱-اللمحات الی ما فی انوار الباری من الظلمات ۵ جلدوں میں۔
۲-سیرت حضرت خدیجہ، دو جلدوں میں
۳- رسول اکرم کا صحیح طریقہ

¿ نماز
۴-سیرت ابن حزم
۵-تنویر الآفاق فی مسئلة الطلاق
۶- دیوبندی تحفظ سنت کانفرنس کا سلفی تحقیقی جائزہ
مولانا کافی دنوں سے بیما رچل رہے تھے۔ دل کے مرض کے علاوہ ذیابیطس (شوگر)، بلڈ پریشر، خون کا پیلا ہونا جیسی بیماریاں آپ کو لاحق تھیں۔ چونکہ آپ چل نہیں پاتے تھے اس وجہ سے طلبہ آپ کے کمرے میں جاکر آپ سے پڑھا کرتے تھے۔
آپ کے لکھنے کا انداز نرالا تھا۔ کہنیوں کے بل لیٹ کر یاچت لیٹ کرکاغذ کو پیٹ پر رکھ کر لیٹ کر لکھا کرتے تھے۔ ایک صفحہ ختم ہونے کے بعد دوسرے صفحہ کے لئے گوند سے اس صفحہ کو جوڑ لیا کرتے تھے، اس طرح مضمون ایک لمبی ریل کی مانند ہوجاتا تھا۔ آپ ایک زودنویس مصنف تھے۔ مضمون لکھنے کے بعد اس پر دوبارہ نظر نہیں ڈالتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریروں میں تکرار ہے۔ خط اس قسم کا تھا کہ اس کو پڑھنا ہر آدمی کے بس کی بات نہیں تھی۔ آپ جب بھی کسی کا جواب لکھتے تو جواب بہت مسکت ہوتا۔ دلائل اتنے مضبوط ہوتے کہ مخالف کو خاموشی کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوتا۔
آپ نے دو شادیاں کی تھیں پہلی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ دوسری بیوی بہار کی ہیں جو آخری عمر تک آپ کے ساتھ رہیں۔
اﷲ نے آپ کو دو لڑکے اور چھ لڑکیوں سے نوازا تھا۔ ان میں سے ایک لڑکے کا بچپن میں انتقال ہوگیا تھا جبکہ دوسرے لڑکے عبدالحق سلفی زندہ ہیں۔ لڑکیوں میں ایک غیر شادی شدہ اور دو مطلقہ ہیں ایک لڑکی کے علاوہ سبھی دوسری بیوی سے ہیں۔
مولانا رئیس الاحرار ندوی رحمہ اﷲ کی میت کو ان کے آبائی گا

¶ں بھٹیا لایا گیا جہاں مولانا مستقیم احمد سلفی استاد جامعہ سلفیہ، بنارس نے صلاة جنازہ پڑھائی۔ صلاة جنازہ میں مدارس کے طلبہ کے علاوہ قرب و جوار کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اﷲ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائے اور انہیں اعلی مقام دے۔ ادارہ غم کے اس موقع پر ان کے پسماندگان کے ساتھ ہے۔
حاجی مشتاق احمد انصاری کا انتقال:
انتہائی افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ حاجی مشتاق احمد انصاری کا ۰۲ مئی کو بترا ہاسپٹل دہلی میں انتقال ہوگیا۔ موصوف بھدوہی میں قالین کی تجارت کرتے تھے۔ اﷲتعالیٰ نے آپ کے اندر خیر کا جذبہ کافی مقدار میں رکھا تھا۔
مہمان نوازی اور غریب پروری میں اپنی مثال آپ تھے۔ کڈنی میں پریشانی کی وجہ سے اکثر دہلی ڈائلیسس کے لئے آنا ہوتا تھا۔ ابو الکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر کے صدرِمحترم مولانا عبد الحمید رحمانی حفظہ اﷲ وتولاہ سے دیرینہ تعلقات کی وجہ سے مرکز کو اپنی زیارت سے شرفیاب کیا کرتے تھے۔
عمر کے تقاضہ کی وجہ سے شکر اور ہارنیا کی شکایت بھی ہوگئی تھی۔ آخری مرتبہ ہارنیا کے آپریشن کے لئے دہلی آئے ہوئے تھے مگر آپریشن کامیاب نہ ہوسکا۔ موصوف کی میت کو ان کے آبائی شہر بھدوہی لے جایا گیاجہاں دوسرے دن ۱۲ مئی کو صلاة مغرب کے بعد ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا۔ صلاةجنازہ جامعہ سلفیہ، بنارس کے استاد مولانا مستقیم احمد سلفی نے پڑھائی۔ پسماندگان میں دو بیٹے محمد واصف اور محمد شارق نیز تین بیٹیاں ہیں۔ سبھی شادی شدہ ہیں۔ ادارہ التبیان ان کے غم میں برابر کا شریک ہے۔ دعا ہے اﷲ تعالیٰ موصوف کی خطا¶ں سے در گزر کرے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔