سوموار، 4 اکتوبر، 2010

بابری مسجد کا فیصلہ۔ شر میں خیر کا پہلو

کہتے ہیں کہ ہر شر میں خیر کا پہلو چھپا ہوتا ہے ، بابری مسجد کے تعلق سے الہٰ باد ہائی کورٹ کا فیصلہ اس معنی میں تو مسلمانوں کو مایوس کرنے والا ہے کہ عدالت نے تمام ثبوتوں کے باوجود مسلمانوں کے دعوے کو خارج کردیا  اور رام مندر کے لئے اسی جگہ کی تعیین کردی جہاں پہلے بابری مسجد تھی۔ مگر کورٹ نے اس کے ساتھ کورٹ نے اپنے فیصلہ میں جو جچھ کہا ہے وہ بی جے پی اور دوسری فرقہ پرست جماعتوں کے بھی حلق سے نہیں اترے گا۔
کورٹ نے بابری مسجد کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کو کہا ہے اس میں سے ایک حصہ سنی وقف بورڈ کو بھی دیا ہے۔ اس طرح قانونا وہاں مسجد بنائی جاسکتی ہے۔
اس طرح جو لوگ ابھی اس فیصلہ پر جشن منارہے ہیں اور یہ دعوی کررہے ہیں ان کا امتحان ہوجائے گا کہ وہ عدالت کے فیصلہ پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔
اگر چہ یہ کہا جارہا ہے کہ اس دفعہ سخت سیکورٹی کی وجہ نظم ونسق برقرار رہا مگر حقیقت یہ ہے کہ فسادات کرنے والا ٹولا چونکہ ہمیشہ وہی رہا ہے اور چونکہ اس کو بظاہر اپنی دلی مراد مل گئی اس وجہ سے فسادات کی نوبت ہی نہیں آئی۔ اگر کہیں ایساہوتا کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوتا تو پورے ہندوستان کے گجرات بننے کے پورے چانس تھے اس وجہ سے کہ بھگوا بریگیڈ نے کبھی بھی کھلے من سے عدالت کے فیصلہ کو ماننے کی بات نہیں کہی تھی۔
اللہ کا شکر ہے کہ اس دفعہ مسلمانوں کا خون نہیں بہا۔۔

منگل، 28 ستمبر، 2010

کیوں نہیں بجھ رہی ہے کشمیر کی آگ؟



کشمیر میں حالیہ دنوں میں تشدد کے سلسلہ میں جو کچھ میڈیا کے ذریعہ چھن کر آرہا ہے اس سے ایک بات تو ظاہر ہے کہ کچھ تو ہے جو حکومت چھپارہی ہے اور عوام کو اندھیرے میں رکھ رہی ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ۱۱جولائی سے لے کر اب تک سو سے زائد کشمیری نوجوان پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں ۔حکومت اور پولیس کے خلاف عوامی غصہ اس قدر ہے کہ عوام کرفیو کو توڑ کر جان کی پرواہ کیے بغیر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ کچھ تو وجہ ہوگی آخر ہمیں کیوں نہیں بتایا جارہا ہے؟ میڈیا میں ہلاکتوں اور عوامی مظاہروں کی بات تو ہوتی ہے مگر یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا کہ مظاہرے کیوں ہورہے ہیں وہاں کے عوام کی مانگ کیا ہے اس سے مکمل خاموشی برتی جارہی ہے ۔ آخر ایسی کون سی وجہ ہے کہ اپنے شہریوں کی آواز کو حکومت ملک کے دوسرے حصوں تک نہیں پہنچنے دینا چاہتی۔
کشمیر میں جو کچھ ہورہا اس سے ہر انسانیت پسند کے دل پر چوٹ پڑرہی ہے مگر جو لوگ مسلح نکسلیوں کے خلاف فوج کے استعمال کی کھلے عام مذت کرتے ہیں وہ کہاں ہیں؟ کشمیر مسئلہ پرتمام دیگر امکانات کو بالائے طاق رکھ کر صرف نہتے کشمیری نوجوانوں اور عورتوں کے خلاف فوج کے آپشن ہی کو حکومت نے منظوری دی ۔ کسی بھی سیاسی پارٹی نے اس کی مخالفت نہیں کی گویا کہ ہماری سیاسی پارٹیوں نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ کشمیری ’لاتوں کے بھوت ہیں ‘ ان کا علاج فوج ہی ہے۔ 
موجودہ حالات میں یہ بات تو طے ہے کہ کشمیر میں لا اینڈ آرڈر نام کی چیز رہ ہی نہیں گئی ہے وہاں کی عوام کشمیر کی حکومت سے بدظن ہیں ۔عمر عبداللہ کی بات سننے کو تیار نہیں ہے ایسے میں عمر عبداللہ کی بے جا حمایت سمجھ سے بالاتر ہے۔ مرکزی حکومت کی عمر عبداللہ کی بے جا حمایت سے کشمیریوں میں ایک غلط پیغام جانا لازمی ہے کہ حکومت ان کے معاملہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ حکومت کو سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ کسی طرح اس مسئلہ کو بین الاقوامی مسئلہ ہونے سے بچایا جائے مگر آج کے اس دور میں جہاں میڈیا اس قدر ترقی کرگیا ہے اس قسم کی بات حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ یہ مسئلہ جتنا جلدی سلجھ جائے اتناہی ہمارے حق میں بہتر ہوگا اس لئے کہ طول پکڑنے کی صورت میں یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ عوام کیوں سول نافرمانی پر اتری ہوئی ہے۔
اس دفعہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ آج سے پہلے کی ملیٹنسی سے مختلف ہے۔ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جوہاتھوں میں اے کے ۷۴ لے کر فوج پر اندھا دھند گولیاں چلاتے تھے۔ یہ وہیں کی نوجوان نسل ہے جس کی پرورش وپرداخت قتل وخوریزی کے سائے میں ہوئی ہے ۔ ان میں سے اکثر نے طویل مدت سے چل رہے ملیٹینسی میں اپنے ماں ،باپ ،بھائی اوربہن کو کھویاہے۔ وہ اس دکھ بھری زندگی سے عاجز آگئے ہیں انہیں لگتا ہے کہ اس زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں۔ حکومت کچھ تو ثابت کرے کہ آیا اس کے پاس کشمیریوں کے لئے زندگی کاکوئی پیغام ہے ؟ 








ہفتہ، 20 فروری، 2010

کاغذی کارروائیوں سے جوجھ رہی انسانیت

عزیر اسرائیل سنابلی

ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اردوکے مشہور افسانہ نگار کرشن چند کا افسانہ ’جامن کا پیڑ‘ پڑھا ہوگا۔ اس افسانہ کو پڑھ کر میں نے یہ سوچاتھا کہ حقیقی زندگی میں شاید ایسا نہ ہوتاہو اس لئے کہ افسانہ میں سرکاری افسران کی بے حسی کی جو تصویر کھینچی گئی تھی وہ رونگٹے کھڑی کردینے والی تھی۔ کہانی کچھ اس طرح تھی کہ ایک شاعر کسی نام سے میونسپل کی آفس گیا وہاں پراتفاقاً ایک پرانا جامن کا پیڑ اس کے اوپر کچھ اس طرح سے گرا کہ اسے زیادہ چوٹ تو نہیں آئی مگر بغیردرخت کوجڑسے کاٹے اس کو نکالنا نا ممکن تھا۔ یہاں پر معاملہ ایک پیڑ اور انسانی جان کاتھا۔ ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ فوری طور پر اس پیڑ کے تنے کو کاٹ کر اس آدمی کی جان بچالی جاتی جواتفاق سے شاعر بھی تھا۔ مگر ہوتا اس کے برعکس ہے۔ آفس کا چپراسی جب شاعر کو اس حالت میں پھنسا ہوا دیکھتاہے تو اس کی اطلاع اپنے افسر کو دیتاہے، افسر جائے واقعہ کا معائنہ کرنے کے بعد اس کی اطلاع اپنے اعلیٰ افسر کو دیتاہے اس طرح اس کی فائل مختلف محکموں میں بھیجی جاتی ہے معاملہ چونکہ ایک شاعر کا تھا اس وجہ سے محکمۂ جنگلات کے علاوہ محکمہ ثقافت والسنہ کوبھی فائل بھیجی جاتی ہے اس طرح کئی دن گزر جاتے ہیں اور جب حکومت کے اعلیٰ افسران کی طرف سے پیڑ کاٹ کر شاعر کی جان بچانے کی اجازت ملتی ہے اس وقت تک شاعر مرچکاہوتاہے۔ یہ توصرف کہانی کی بات تھی معلوم نہیں کہ افسانہ نگار کے سامنے کوئی واقعہ تھا یا اس نے اپنے تخیل کی بنیاد پر یہ کہانی لکھی تھی۔ مگرگزشتہ جمعرات کی صبح پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پرکچھ اسی قسم کا واقعہ پیش آیا جس میں ریلوے افسران اورسیکورٹی اہلکاروں نے غفلت اوربے حسی کی مثال قائم کردی۔ 11فروری کی صبح ایک سینئر ریلوے ٹریک انجینئر پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبرایک پرایک شخص ٹرین کی زد میں آگیا اورموقع پر اس نے دم توڑ دیا۔ آٹھ بج کر 55منٹ پرکچھ ریلوے ملازموں نے اس لاش کو دیکھا اور اس کی اطلاع آر پی ایف کو دیا۔ آر پی ایف کے جوان 9بج کر 40منٹ پرآکر لاش کامعائنہ کرتے ہیں اور اس حادثہ کی اطلاع اسٹیشن آپریٹنگ اسٹاف کو دیتے ہیں۔ 9-50پراسٹیشن آپریٹنگ اسٹاف اس کی اطلاع گورمنٹ ریلوے پولس کو دیتی ہے۔ اس درمیان کسی نے بھی ریلوے ٹریک سے اس لاش کواٹھا کر دوسری جگہ رکھنے کوشش نہیں کی۔ حد تو یہ ہوئی کہ 9-52پراسی ٹریک پر کروچھتر ای ایم یو آگئی جس نے لاش کے پرخچے اڑا دئیے۔ اس کے بعد کہیں جاکر 10-35پر جی آر پی کے ذریعہ اس لاش کو وہاں سے ہٹایاگیا۔ لاش کو اٹھائے جانے تک اس کی شناخت نہیں ہوئی تھی مگرجب یہ معلوم ہواکہ مرنے والا کوئی اورنہیں بلکہ ریلوے کا ملازم مہیش کمار تھا تو ریلوے ملازمین نے ہنگامہ کرناشروع کردیا جس پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ کیامذکورہ کہانی اوراس حقیقی واقعہ میں یکسانیت نہیں ہے؟ اگرکرشن چند نے اس کو بہت پہلے نہ لکھا ہوتا تومیں یہی کہتاکہ اس کاپلاٹ پرانی دہلی کے اسی واقعہ سے لیاگیاہے۔ فرق صرف اتناہے کہ وہاں شاعر زندہ حالت میں ہے اور افسران کی بے حسی کی وجہ سے موت کاشکارہوجاتاہے مگر یہاں ریلوے ملازم کی لاش پر دومرتبہ ٹرین چڑھ جاتی ہے جس سے لاش قیمہ بن جاتی ہے۔ اس حادثہ نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ انسان دن بدن بے حس ہوتاجارہاہے۔ انسانیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ پہلے جہاں لوگ حادثہ میں شکار لوگوں کی مدد کے لئے آگے آتے تھے وہیں اب چاروں طرف کھڑے ہوکرتماشہ دیکھتے ہیں اور اس خوف سے مدد کے لئے سامنے نہیںآتے کہ کون پولس کے جھگڑے میں پڑے گا؟ حقیقت بھی یہی ہے کہ ہمارے یہاں کی پولس کے کام کرنے کا انداز ہی یہی ہے۔ اگر کوئی شخص سڑک حادثہ میں زخمی ہوجائے اور کوئی شخص اس کو اسپتال میں لے جائے تو پہلی بات تو یہ کہ پولس کو اطلاع دیئے بغیر ڈاکٹر مریض کو ہاتھ نہیں لگائے گا اگر چہ اس درمیان میں مریض دم توڑدے اور اگراتفاق سے مریض کے دم توڑنے سے پہلے پولس آبھی گئی تو جان بچانے والے کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اسی کو ملزم کے طور پر دیکھنے لگتی ہے اورکچھ اس قسم کے سوالات کرتی ہے کہ وہ آئندہ کیلئے نہ صرف اس قسم کی غلطی سے توبہ کرلے گا بلکہ اپنی آئندہ نسل کو بھی نصیحت کرکے جائے گا کہ بیٹا کبھی کسی اجنبی کی جان مت بچانا۔ آیئے ایک مرتبہ پھر پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہوئے حادثہ کی طرف آتے ہیں۔حادثہ کی اطلاع صبح آٹھ بج کر 55منٹ پر ہوگئی تھی اور لاش کو وہاں سے دس بج کر 35منٹ پر اٹھایا گیا، یعنی کل ڈیڑھ گھنٹے کے بعد وہ بھی پرانی دہلی جیسے بھیڑ بھاڑ والے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبرایک سے۔ آر پی ایف کے جوان اگر چہ اطلاع کے 45منٹ بعد پہنچے تھے مگر وہ اس لاش کو ضروری کارروائی بعد اٹھالیتے تو یہ نوبت نہ ہوتی۔ مگرآر پی ایف کا کہنا ہے کہ لاش اٹھانے کی ذمہ داری ہماری نہیں ہے ہم نے تو اس کی اطلاع آپریشن ونگ کودے دی تھی وہ بعد میں آنے والی ٹرین کاٹریک بدل سکتے تھے لہٰذغلطی ان کی ہے۔ اگرڈی سی پی (ریلوے) بی ایس گوجر اوردہلی ڈویزن کی مانیں تواس معاملہ میں کچھ بھی غلط نہیں ہوا۔ گویاکہ ان آفیسروں کی نظر میں یہ کوئی اہم واقعہ ہی نہیں ۔ اگریہی حادثہ ان کے قریبی رشتہ دار کے ساتھ پیش آیاہوتا تو کیا اس وقت بھی ان کا رد عمل یہی ہوتا؟ شاید کہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ریلوے ملازمین کو معلوم ہواکہ مرنے والا ریلوے ہی کاملازم ہے تو ان لوگوں نے اس کے خلاف ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے اعلیٰ سطحی انکوائری کے کمیٹی کی تشکیل کردی گئی۔ اس قسم کے درد ناک واقعات پھرنہ ہوں اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی بھی حادثہ کے بعد کاغذی کارروائی کے موجودہ رویہ میں تبدیلی لائی جائے۔ تاکہ کوئی بھی شخص حادثہ کے شکار شخص کی جان بچانے میں خوف نہ محسوس کرے۔ انسانی جذبہ کو تمام کارروائی پر مقدم رکھا جائے۔ دوسری طرف ہمیں اپنے اندر اپنے اور پرائے خون کے درمیان فرق کرنے کی عادت میں تبدیلی لانی ہوگی۔ خون کسی کا بھی ہو وہ خون ہے۔ آج کسی اورکے ساتھ حادثہ پیش آیا ہے کل ہمارے کسی قریبی رشتہ دار کے ساتھ ہوسکتابلکہ خود ہم بھی اس حادثہ کے شکار ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنے رویہ میں تبدیلی لاناچاہئے۔


منگل، 16 فروری، 2010

انٹرنیٹ پر اردو زبان و ادب کی عدم دستیابی ،ذمہ دار کون؟


موجودہ دورمیں انٹرنیٹ کی بڑھتی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس مرتبہ نوبل پرائز کے لئے انٹرنیٹ کو نامزد کیا گیا ہے۔انٹرنیٹ ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے پوری دنیا سمٹ کر ایک چھوٹی اسکرین پر ہماری نظروں کے سامنے آجاتی ہے۔کہیں بھی اور کسی بھی وقت ہم اس کا استعمال کرسکتے ہیں مگرانٹرنیٹ اپنی تمام وسعتوں کے باوجود اردو دنیا کے لئے آج بھی ایک تنگ وتاریک کوٹھری سے زیادہ نہیں۔انٹرنیٹ پر جہاں دنیا کے تمام علوم سے متعلق مواد ایک بھاری مقدار میں موجود ہیں وہاں اردو زبان و ادب کے حوالے سے سوائے چند ایک ویب سائٹوں کے کچھ نہیں ملتا۔ جو سائٹیں اردو زبان وادب کے حوالے سے ہیں ان کی حالت وہی ہے جو ہندوستان میں ارد وکی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ خراب پوزیشن میں ہے۔اردو ادب کے حوالے سے چند شاعروں اور ادیبو ں کا مختصر تعارف نامکمل حد تک ہے۔

اردو ادب کے علاوہ اگر اسلامی موضوعات پر اردو ویب سائٹوں کی بات کریں تو کسی حد تک اسے قابل اطمینان قرار دیا جاسکتاہے۔کتاب و سنت ڈاٹ کام (kitabosunnah.com)وغیرہ ویب سائٹوں پر نہ صرف کتابوں کو پڑھا جاسکتاہے بلکہ ضرورت کے مطابق انہیں اپنے کمپیوٹر پرمفت میں ڈاؤن لوڈ بھی کیا جاسکتا ہے۔اردو اخبارات کی موجودگی بھی کسی حد تک قابل اطمینان ہے،’ہمارا سماج‘سمیت اردو کے کئی اخبارات انٹرنیٹ کے توسط سے عالمی سطح پر اپنی آواز پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

لیکن جب معاملہ اردو ادب اور دوسرے علوم پر مشتمل اردو کتابوں کا آتا ہے اردو قاری کے ہاتھ مایوسی کے سوا کچھ نہیں آتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میدان میں اردو پوائنٹ،وکی پیڈیا ،اقبال سائبر لائبریری ڈاٹ نیٹ اور اردو دوست ڈاٹ کام کے علاوہ کتاب گھر ڈاٹ کام وغیرہ اپنی خدمات فراہم کررہی ہیں۔ان کی خدمات کا اعتراف نہ کرنا بے انصافی ہوگی۔ خاص طور پر اقبال سائبر لائبریری شکریہ کیمستحق ہے جس پر علامہ اقبال پر لکھی گئی منتخب کتابوں کے علاوہ چند کلاسیکی ادب کی کتابوں کوبھی آن لائن پڑھا جاسکتا ہے۔ کم از کم ان سائٹوں نے اردو ادب کے حوالے سے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو کچھ نہ کچھ مواد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان ویب سائٹوں پر منتخب موضوعات پر موجود کتابوں کو نہ صرف یہ کہ قارئین پڑھ سکتے ہیں بلکہ بوقت ضرورت ان کو ڈاؤن لوڈ بھی کرسکتے ہیں۔کمی صرف اس بات کی ہے کہ کتابوں کی تعداد بہت کم ہے ۔دوسری بات یہ کہ معروف قلم کاروں کی کتابیں ان پر موجود نہیں ہیں۔اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے معروف قلمکاروں کا تعاون ان ویب سائٹوں کو نہیں مل رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غیر معروف قلمکار اپنی کتابوں کی اشاعت کے لئے اس کو ایک بہترین ذریعہ کے طو رپر دیکھتے ہیں اور اپنی کتاب کو اس پر آسانی سے بغیر کسی خرچ کے شائع کردیتے ہیں۔غیر معروف قلمکاروں کی کتاب ہونے کی وجہ سے ان میں سے اکثر کتابیں غیر مستند ہوتی ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا ذریعہ جس سے پوری دنیا تک یکساں طو رپر رسائی حاصل کی جاتی ہے۔اس سے اردو دنیا کی محرومیکیا افسوسناک نہیں ہے؟ آخر سوال یہ ہے کہ اس المیہ اور بحران کا ذمہ دار کون ہے؟حکومت یااردو کے نام پر قائم ادارے اوریا اردو تنظیمیں یا اردو عوام۔جہاں تک حکومت کا تعلق ہے تو وہ یہ کہہ کر اپنا دامن بچا سکتی ہے کہ اس نے اردو کے فروغ کے لئے اردو اکادمی اور اردو کونسل کے نام سے ادارے قائم کردئیے ہیں۔ یہ کام ان اداروں کا ہے۔اگر بات تنظیموں کی ہو تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام ان ادارو ں کا ہے جو اردو کے نام پر قائم ہیں۔اردو کے فروغ کے لئے حکومت انہیں کروڑوں روپے کا بجٹ دیتی ہے مگر یہ پیسے جاتے کہاں ہیں؟کس مقصد کے لئے اس رقم کا استعمال ہوتا ہے، یہ کسی بھی اردو داں طبقہ سے پوشیدہ نہیں۔اردو کے نام پر جلسے اور سیمینار ،مشاعرے منعقد کر کے چند لوگو ں کی جیبیں گرم کردی جاتی ہیں مگر اس سے خود اردو زبان کا فائدہ کہاں تک ہوا ہے اس کی طرف کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔

جب بات اردو زبان وادب کے حوالے سے ہوتی ہے تو ہر ایک کی نظر اردو اکادمی اور اردو کونسل کی طرف اٹھتی ہے اور اٹھنی بھی چاہئے اس لئے کہ حکومت انہیں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے رقم مہیا کراتی ہے۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ ان دونوں ادارو ں نے انٹرنیٹ پر اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے کیا کام کیا ہے۔ جہاں تک اردو اکادمی کی بات ہے تو ہندوستان کے اکثر صوبوں میں اردو اکادمیاں قائم ہیں مگر میری ناقص معلومات کے مطابق دہلی اردو اکادمی کے علاوہ کسی بھی اکادمی کی ویب سائٹس نہیں۔ابھی اسی ہفتہ اردو اکادمی کی ویٹ سائٹ کا افتتاح عمل میں آیا ہے مگر سب سے اہم حصہ اردو لائبریری کو اس میں نہ رکھ کر اردو عوام کو وعدوں پرٹال دیا گیا ہے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ اردو اکادمی اپنے رسالوں کو بھی اپنی کتابوں سمیت پراس سائٹ ڈال دیتی۔

اردو کونسل کا اردو کتابوں کی اشاعت میں بہت بڑا ہاتھ ہے۔وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کے ماتحت قائم اس ادارے کو اردو کے نام پر میری ناقص معلومات کے مطابق سب سے زیادہ بجٹ ملتا ہے مگر افسوس کہ اردو کونسل نے انٹر نیٹ پر اردو ادب کے حوالے سے کوئی کام نہیں کیا ۔حالانکہ وہ بڑی آسانی کے ساتھ اردو کلاسیکی ادب اور جدید ادب کو انٹرنیٹ پر پیش کرسکتی تھی اس کے پاس نہ تو افراد کی قلت ہے او رنہ بجٹ کی ۔اردو کونسل نے بہت ساری قدیم وجدید اردو کتابیں شائع کی ہیں اگر اردو کونسل کچھ نہ کرے تو کم ازکم انہیں کتابوں کی PDFفائل انٹرنیٹ پر مہیا کرد ے تاکہ اردو زبان و ادب پر تحقیق کرنے والوں کو آسانی ہو۔اردو کونسل کم از کم یہ کام تو کرسکتی ہے کہ اپنے یہاں سے شائع اردو انسائیکلوپیڈیا کو ایک سافٹ وےئر کی شکل دے دیتی جس کو اردو قاری اپنے کمپیوٹر پر لوڈکرسکے۔

یہاں پر میں اس خیال کی تردید کردینا مناسب سمجھتا ہو ں کہ انٹرنیٹ پر کتابوں کی اشاعت سے کتابوں کی فروخت پر اثرپڑتا ہے۔ اگر یہ بات درست ہوتی تو کتابوں کے ناشرین لائبریریوں میں اپنی کتابوں کو رکھنے کی اجازت نہیں دیتے،اس لئے کہ وہا ں بھی ایک ہی کتاب سے ہزارو ں لوگ استفادہ کرتے ہیں۔دراصل کتابوں کا ڈیجیٹل ایڈیشن کبھی بھی روایتی کتابوں کی جگہ نہیں لے سکتا۔ڈیجیٹل کتابوں کو ضرورت کے وقت صرف خاص مقامات کو دیکھنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا۔ مکمل کتاب کا مطالعہ کمپیوٹر پر پڑھنا ممکن نہیں ہے۔یہی وجہ یہ کہ انگریزی کتابوں کے ڈیجیٹل ایڈیشن ہونے کے باوجود ان کی اشاعت کروڑوں میں ہوتی ہے۔

اس تعلق سے ایک اہم کام مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کرسکتی ہے۔ اس یونیورسٹی کا قیام ہی اردو زبان کے فروغ کے لئے ہوا ہے۔اس نے اپنے طلبہ کی ضرورت کے لئے مختلف علوم پر مشتمل درسی کتابوں کا اردومیں ترجمہ کرایا یہ کتابیں انتہائی اور اہم ہیں جو شاید ہی اردو یونیورسٹی کے علاوہ کسی اور جگہ مل سکیں ۔لہذا اردو زبان کی خدمت کے لئے یہ یونیورسٹی اپنی ان درسی کتابوں کو آن لائن مطالعہ کے لئے پیش کرسکتی ہے۔ اس سے مختلف علوم میں انٹرنیٹ پر اردو کتابوں کی کمی ایک حد تک پوری ہو جائے گی۔بہت سارے ایسے علوم ہیں جن پر اردو یونیورسٹی کے علاوہ کہیں دوسری جگہ اردو میں مواد ملنا کافی مشکل ہے۔لہذا یونیورسٹی کو اردو کے فروغ کے لئے یہ کام ضرور کرنا چاہئے۔اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ بعض دفعہ طلبہ کو کتابیں ڈاک سے نہیں موصول ہوپاتی ہیں۔ ایسی صورت میں ان کتابوں کو آن لائن پڑھ کر امتحان کی تیاری کرسکتے ہیں۔

اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں انسائیکلوپیڈیا اور زبان و ادب سے متعلق کمپیوٹرپروگرام اور سافٹ وےئر موجود ہیں۔خاص طور پر انگریزی میں انسائیکلوپیڈیا آ ف برٹانیکا اور عربی میں المکتبۃ الشاملۃ خاص طور پرقابل ذکر ہیں۔ افسوس کہ اردو میں کوئی ایسی کوشش سامنے نہیں آئی۔ یہ کام اردو اکادمیوں ، قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کا ہے اوراردو کے نام پر قائم دیگر ادارو ں کا ہے ۔اردو عوام اس تعلق سے ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔وہ گوگل،یاہو اور ایم ایس این وغیرہ جیسی ویب سائٹوں کو خطوط لکھ کر انہیں مجبور کرسکتے ہیں کہ ہندوستان،پاکستان اور پوری دنیا میں موجود اردو برادری کا خیال رکھتے ہوئے اردو سروس بھی شروع کریں۔اس طرح حکومتی،تنظیمی اور عوامی سطح پر جب کوشش ہوگی تو امید ہے کہ جلد ہی اردو زبان و ادب انٹرنیٹ پر اپنی موجودگی درج کرالے گا اور اردو والوں کو انٹرنیٹ پر بیٹھ کر اس مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے گا جو آج کرنا پڑرہا ہے۔