منگل, ستمبر 28, 2010

کیوں نہیں بجھ رہی ہے کشمیر کی آگ؟



کشمیر میں حالیہ دنوں میں تشدد کے سلسلہ میں جو کچھ میڈیا کے ذریعہ چھن کر آرہا ہے اس سے ایک بات تو ظاہر ہے کہ کچھ تو ہے جو حکومت چھپارہی ہے اور عوام کو اندھیرے میں رکھ رہی ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ۱۱جولائی سے لے کر اب تک سو سے زائد کشمیری نوجوان پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں ۔حکومت اور پولیس کے خلاف عوامی غصہ اس قدر ہے کہ عوام کرفیو کو توڑ کر جان کی پرواہ کیے بغیر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ کچھ تو وجہ ہوگی آخر ہمیں کیوں نہیں بتایا جارہا ہے؟ میڈیا میں ہلاکتوں اور عوامی مظاہروں کی بات تو ہوتی ہے مگر یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا کہ مظاہرے کیوں ہورہے ہیں وہاں کے عوام کی مانگ کیا ہے اس سے مکمل خاموشی برتی جارہی ہے ۔ آخر ایسی کون سی وجہ ہے کہ اپنے شہریوں کی آواز کو حکومت ملک کے دوسرے حصوں تک نہیں پہنچنے دینا چاہتی۔
کشمیر میں جو کچھ ہورہا اس سے ہر انسانیت پسند کے دل پر چوٹ پڑرہی ہے مگر جو لوگ مسلح نکسلیوں کے خلاف فوج کے استعمال کی کھلے عام مذت کرتے ہیں وہ کہاں ہیں؟ کشمیر مسئلہ پرتمام دیگر امکانات کو بالائے طاق رکھ کر صرف نہتے کشمیری نوجوانوں اور عورتوں کے خلاف فوج کے آپشن ہی کو حکومت نے منظوری دی ۔ کسی بھی سیاسی پارٹی نے اس کی مخالفت نہیں کی گویا کہ ہماری سیاسی پارٹیوں نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ کشمیری ’لاتوں کے بھوت ہیں ‘ ان کا علاج فوج ہی ہے۔ 
موجودہ حالات میں یہ بات تو طے ہے کہ کشمیر میں لا اینڈ آرڈر نام کی چیز رہ ہی نہیں گئی ہے وہاں کی عوام کشمیر کی حکومت سے بدظن ہیں ۔عمر عبداللہ کی بات سننے کو تیار نہیں ہے ایسے میں عمر عبداللہ کی بے جا حمایت سمجھ سے بالاتر ہے۔ مرکزی حکومت کی عمر عبداللہ کی بے جا حمایت سے کشمیریوں میں ایک غلط پیغام جانا لازمی ہے کہ حکومت ان کے معاملہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ حکومت کو سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ کسی طرح اس مسئلہ کو بین الاقوامی مسئلہ ہونے سے بچایا جائے مگر آج کے اس دور میں جہاں میڈیا اس قدر ترقی کرگیا ہے اس قسم کی بات حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ یہ مسئلہ جتنا جلدی سلجھ جائے اتناہی ہمارے حق میں بہتر ہوگا اس لئے کہ طول پکڑنے کی صورت میں یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ عوام کیوں سول نافرمانی پر اتری ہوئی ہے۔
اس دفعہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ آج سے پہلے کی ملیٹنسی سے مختلف ہے۔ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جوہاتھوں میں اے کے ۷۴ لے کر فوج پر اندھا دھند گولیاں چلاتے تھے۔ یہ وہیں کی نوجوان نسل ہے جس کی پرورش وپرداخت قتل وخوریزی کے سائے میں ہوئی ہے ۔ ان میں سے اکثر نے طویل مدت سے چل رہے ملیٹینسی میں اپنے ماں ،باپ ،بھائی اوربہن کو کھویاہے۔ وہ اس دکھ بھری زندگی سے عاجز آگئے ہیں انہیں لگتا ہے کہ اس زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں۔ حکومت کچھ تو ثابت کرے کہ آیا اس کے پاس کشمیریوں کے لئے زندگی کاکوئی پیغام ہے ؟