سوموار، 4 اکتوبر، 2010

بابری مسجد کا فیصلہ۔ شر میں خیر کا پہلو

کہتے ہیں کہ ہر شر میں خیر کا پہلو چھپا ہوتا ہے ، بابری مسجد کے تعلق سے الہٰ باد ہائی کورٹ کا فیصلہ اس معنی میں تو مسلمانوں کو مایوس کرنے والا ہے کہ عدالت نے تمام ثبوتوں کے باوجود مسلمانوں کے دعوے کو خارج کردیا  اور رام مندر کے لئے اسی جگہ کی تعیین کردی جہاں پہلے بابری مسجد تھی۔ مگر کورٹ نے اس کے ساتھ کورٹ نے اپنے فیصلہ میں جو جچھ کہا ہے وہ بی جے پی اور دوسری فرقہ پرست جماعتوں کے بھی حلق سے نہیں اترے گا۔
کورٹ نے بابری مسجد کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کو کہا ہے اس میں سے ایک حصہ سنی وقف بورڈ کو بھی دیا ہے۔ اس طرح قانونا وہاں مسجد بنائی جاسکتی ہے۔
اس طرح جو لوگ ابھی اس فیصلہ پر جشن منارہے ہیں اور یہ دعوی کررہے ہیں ان کا امتحان ہوجائے گا کہ وہ عدالت کے فیصلہ پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔
اگر چہ یہ کہا جارہا ہے کہ اس دفعہ سخت سیکورٹی کی وجہ نظم ونسق برقرار رہا مگر حقیقت یہ ہے کہ فسادات کرنے والا ٹولا چونکہ ہمیشہ وہی رہا ہے اور چونکہ اس کو بظاہر اپنی دلی مراد مل گئی اس وجہ سے فسادات کی نوبت ہی نہیں آئی۔ اگر کہیں ایساہوتا کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوتا تو پورے ہندوستان کے گجرات بننے کے پورے چانس تھے اس وجہ سے کہ بھگوا بریگیڈ نے کبھی بھی کھلے من سے عدالت کے فیصلہ کو ماننے کی بات نہیں کہی تھی۔
اللہ کا شکر ہے کہ اس دفعہ مسلمانوں کا خون نہیں بہا۔۔