ہفتہ, اگست 8, 2009

خواتین ریزرویشن بل


یوپی اے حکومت نے خواتین ریزرویشن بل کو ایک مرتبہ پھر پارلیامنٹ میں بھیج کر اس مسئلہ کو ملکی پیمانہ پر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ اس کی مخالفت اور حمایت کرنے والی پارٹیاں آمنے سامنے آگئی ہیں۔ شرد یادو نے یہ کہہ کر کہ اگر بل پاس ہو گیا تو میں زہر کھالوںگا اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اس کی مخالفت اور حمایت کے بیچ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا خواتین کو پارلیامنٹ میں ریزرویشن دینا ملک و قوم کے لئے فائدہ مند ہو گا اور عام خواتین کو اس کا فائدہ ملے گا؟
اس پورے مسئلہ پر گفتگو کرنے سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ خواتین ریزرویشن بل کا خیال ہمارے نیتاؤں کو کس طرح آیا؟ دراصل اندرا گاندھی کی موت کے بعد تمام تخمینوں کو درکنار کرتے ہوئے ان کے بیٹے راجیو گاندھی کو زبردست کامیابی ملی۔ بعد میں جب اس کا میابی کے محرکات کا پتہ لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ عورتوں نے اندراگاندھی کی حادثاتی موت سے متاثرہو کر تمام حد بندیوں سے پرے ہٹ کر کانگریس کو ووٹ دیا۔ اس سے پہلی دفعہ ہمارے سیاست دانوں کو عورتوں کے ووٹ کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔ پھر اس ووٹ کو کاسٹ کرنے کیلئے خواتین ریزرویشن بل پیش کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بل کا محرک عورتوں کی فلاح و بہبود کے بجائے ان کے ووٹ کا حصول ہے۔ یہ بل گذشتہ ١٣سالوں سے زیر غور ہے۔ گذشتہ یوپی اے اور این ڈی اے دونوں حکومتیں اس کو پیش کر چکی ہیں۔ مگر ان دونوں نے اسے حکومت کی مدت ختم ہونے سے کچھ دنوں پہلے پیش کیا اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ بل بھی پیش ہوجائے اور پاس بھی نہ ہو سکے۔
اس مرتبہ ایسا لگتا ہے کہ کانگریس اس بل کو پاس کرانے کے لئے دل سے کوشاں ہے۔ اس وجہ سے اس نے اس کو حکومت بنتے ہی پیش کر دیا ہے۔
ملک میں پنچایت کے الیکشن میں پہلے سے کچھ جگہوں پر ٥٠ فیصدر یزرویشن ہے مگر اس کی مخالفت اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ پردھان اگرچہ کاغذی طور پر عورتیں ہوتی ہےں مگر ساری کارروائی ان کے شوہر چلایا کرتے ہیں۔ مگر یہاں پارلیامنٹ میں ایسا ممکن نہیں ہے۔
خواتین ریزرویشن بل کی حمایت کرنے والے خواہ کچھ بھی کہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس بل کے ذریعہ وہ لوگ بڑی ذات کی حصہ داری بڑھانا چاہتے ہیں۔ منڈل کمیشن کی وجہ سے کچھ سیٹیں جو کمزور طبقات کے لئے خاص ہوگئی ہیں اس کمی کو عورتوں کے ذریعہ پوری کرنا چاہتے ہیں۔ ضروری سی بات ہے کہ عام عورتیں سیاست میں نہیں آئیںگی۔ سیاست میں وہی عورتیں آئیںگی جو سیاسی بیک گراؤنڈ سے ہوںگی۔ یہی وجہ ہے کہ ملائم سنگھ، لالو پرساد اور ملک کا ایک بڑا طبقہ یہ آواز بلند کررہا ہے کہ خواتین ریزرویشن میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور مسلم خواتین کا کوٹہ مقرر ہوتا کہ بڑی ذات کی عورتیں ہی اس بل کا فائدہ نہ اٹھائیں۔ ان لوگوں کا خدشہ صحیح بھی ہے۔ موجودہ الیکشن کے نتائج پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس مرتبہ ٥٨ عورتیں لوک سبھا کا الیکشن جیت کر آئی ہیں ان میں سے ٣٦ عورتیں نیتاؤں کی بہو بیٹیاں ہیں۔ اگر اترپردیش کی بات کریں جہاں سے سب سے زیادہ ١٢ عورتیں جیت کرآئی ہیں تو معلوم ہوگا کہ ٣ کو چھوڑ کر سبھی سیاسی گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں، جو تین باقی بچی ہیں ان میں جیابچن کو فلمی ہستی ہونے کا فائدہ ملا تو بقیہ دو بڑے گھرانوں سے تعلق کی وجہ سے کامیاب ہو سکی ہیں۔
ایسے میں اگر اس بل میں ترمیم کرکے پسماندہ طبقات کے لئے سیٹ مختص نہیںجائے گی تو ضروری سی بات ہے کہ سیاست میں ایک مرتبہ پھر بڑی ذات کے لوگوں کا دبدبہ ہوجائے گا۔ بلکہ پارلیامنٹ نیتاؤں کا گھرا ۤنگن ہوجائے گا۔ جس میں ہر بڑا نیتا اپنی بہو سے لے کر پوتی تک کو لانا چاہے گا۔
سچ پوچھئے تو ریزرویشن ملک کو بانٹنے کا کام کر رہا ہے۔ ایک آدمی جو ہر قسم کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے اس کے باوجود آگے نہیں آپاتا ہے اس لئے کہ وہ بڑی ذات کا ہے جب کہ کم جاننے والا صرف چھوٹی ذات والا ہونے کی وجہ سے رکھ لیا جاتا ہے۔ اس سے تمام سیاسی اداروں کی کارکردگی متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔ ایسے میں ملک پر ایک اور ریزرویشن لاگو کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟
دلتوں کو سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن دینے کے لئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے ساتھ چھوت چھات کا سلوک کیاجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں نے یہ آواز اٹھائی کہ ان مسلمانوں کو بھی ایس سی، ایس ٹی کا درجہ دیاجائے جو ان جیسے کام کر رہے ہیں مثلا مسلمان بھنگی وغیرہ تو کہا گیا کہ چونکہ مسلمانوں کے یہاں چھوت چھات نہیں ہے اس وجہ سے اگرچہ وہی کام جس کی بنیاد پر ہندؤوں کو ایس سی، ایس ٹی کا درجہ ملا ہے کوئی مسلمان کرے تواس کو یہ درجہ نہیں مل سکتا۔ حد تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایس سی، یا ایس ٹی کوٹے پر سرکاری ملازم ہو اور مسلمان ہوجائے تو اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ معلوم نہیں صرف اسلام قبول کرلینے سے اس کی حالت میں کون سا اتنا بڑا انقلاب آگیا کہ جس کی بنیاد پر اب وہ پسماندہ نہیں رہ گیا۔
خیر !بات یہ تھی کہ اگر عورتوں کو اس وجہ سے ریزرویشن دیا جا رہا ہے کہ وہ اچھوت ہیں تو یہ بات بالکل غلط ہے اور اگر مقصد یہ ہے کہ ان کی نمائندگی آبادی کے لحاظ سے بڑھائی جائے تو صرف عورتیں ہی کیوں آزادی سے لے کر اب تک مسلمانوں کی نمائندگی حکومت کے ہر شعبہ میں کم ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے ساتھ یہ رعایت کیوں نہیں؟
محترم سلمان خورشید صاحب نے وزارت برائے اقلیتی امور کا عہدہ سنبھالتے ہی بیان دیا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کا علاج ریزرویشن نہیں ہے۔ آخر یہ دوہری پالیسی کیوں؟ تو کیا دلتوں اور عورتوں کی پسماندگی کا علاج ریزرویشن ہے؟
آج حالت یہ ہے کہ بی ایس پی، اے آئی ڈی ایم کے اور ترنمول کانگریس جیسی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کی کرتا دھرتا عورتیں ہیں۔ ملک کی برسراقتدار پارٹی کانگریس کی سربراہ عورت ہے۔ اگر کانگریس کی بات چھوڑ دی جائے تو مذکورہ بالا پارٹیوں کو کون روکتا ہے کہ یہ عورتوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دے کر انہیں پارلیامنٹ بھیجیں۔ کیا یہ پارٹیاں چاہتی ہیں کہ انہیں قانون بنا کر مجبور کیا جائے تب ہی وہ ایسا کریںگی۔ خواتین کی ماتحتی والی پارٹیوں کو عورتوں کی نمائندگی کی کتنی فکر ہے اس کا اندازہ خود کو وزیر اعظم کے عہدہ کا مضبوط دعوےدار کہنے والی محترمہ مایاوتی کے اس عمل سے ہوتا ہے کہ انہوں نے اس مرتبہ ٤٥٤ سیٹوں میں سے صرف ٢٣ عورتوں کو ٹکٹ دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب سیاست بازی ہے اس سے عورتوں کی نمائندگی بڑھانا اور ان کی فلاح وبہبود نہیں ہے۔ بلکہ پارلیامنٹ کو پکنک پلیس میں تبدیل کرنے کی سازش ہے۔ عورتوں کی نمائندگی بڑھانے کے بہانے سے سیاسی گھرانے زیادہ سے زیادہ اپنے خاندان والوں کو پارلیامنٹ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سارے منظرنامہ میں کہیں نہ کہیں برہمن سیاست نظر آرہی ہے۔ منڈل کمیشن کی وجہ سے جب سرکاری نوکریوں میں دلتوں کی شمولیت کی وجہ سے ان کا اقتدار خطرہ میں پڑنے لگا تو انہوں نے بڑی بڑی سرکاری کمپنیوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں دے دیا۔ اس طرح ان کمپنیوں میں برہمنوں اور اونچی ذات والوں کو جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ جب سیاست میں بھی انہیں اپنا وجود خطرہ میں نظر آنے لگا تو انہوں نے عورتوں کے بہانے ایک محفوظ راستہ نکال لیا۔
عورتوں کا دعویٰ ہے کہ ہم مردوں سے کم نہیں۔ اگر واقعی ان کا یہ دعویٰ صحیح ہے تو پھر بسوں میں الگ سے سیٹ، ٹرینوں میں الگ سے ڈبہ اور پھر پارلیامنٹ اور نوکریوں میں ریزرویشن کا مطالبہ کیوں؟ یا تو اس دعوے سے دستبردار ہوں یا ریزرویشن کے مطالبہ سے پیچھے ہٹیں۔
عورتوں کے لئے ٣٣ فیصد ریزرویشن کے نتائج بڑے پیمانہ پر سامنے آئیںگے۔ اگر بروقت اس کی بڑے پیمانہ پر مخالفت کرکے اسے نہ روکا گیا تو پورے ملک کا منظر نامہ بدل جائے گا۔ ہمارا خاندانی نظام جو مغربی تہذیب کے اثرات کی وجہ سے متزلزل ہو رہا ہے منہدم ہوجائے گا۔ اور اللہ نہ کرے کہ کبھی وہ وقت آجائے کہ سیاست میں ہر جگہ عورتیں ہی نظر آئیں مرد پچھلی پنچوں پر بیٹھ کر تالیاں بجا رہے ہوں۔ حقوق نسواں کی طرح حقوق مرداں کمیشن بنانے کی ضرورت پڑجائے۔ مردوں کے حقوق اور ملک و قوم کی فلاح وبہبود میں مردوں کے کردار پر سمینار ہوں۔ یہ سب کچھ ممکن ہے۔ ملائم سنگھ یادو نے بڑے پتے کی بات کہی ہے کہ اگر یہ بل پاس ہو گیا تو مرد پارلیامنٹ کی بنچیں تھپتھپانے کے بجائے گھروں میں بیٹھے نظر آئیںگے۔
یہ بل ملک و قوم کے حق میں نہیں ہے۔ اس وجہ سے حکومت کو چاہئے کہ ملک پر مزید ایک ریزرویشن کا بوجھ نہ لا دے۔ اور اگر یہ بل پاس ہی کرنا ہے تو کمزور طبقات اور اقلیتوں کے لئے اس میں ٣٣فیصد سیٹیں خاص کی جائےں۔ ورنہ یہ بل کمزور طبقات اور اقلیتوں کے لئے پارلیامنٹ کی راہ کو مزید دشوار بنا دے گا۔ ٭٭