بدھ, اکتوبر 23, 2013

آنگن کے نسوانی کردار۔ ایک تنقیدی مطالعہ


     اگر داستانوی ادب کا چھوڑ دیا جائے تو اردو فکشن کی دنیا میں عورت کی تصویر میں یکسانیت نظر آتی ہے ۔ عورت مظلوم ہے یہ بات ہمارے اکثر فکشن نگاروں نے نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اپنے قلم کے ذریعہ ثابت بھی کیا ہے ۔ ناول افسانے سے لے کر قصے کہانیوں تک ہر جگہ عورت کی یہی تصویر دیکھنے کو ملتی ہے ۔ لیکن کیا یہی عورت کا حقیقی چہرہ ہے ؟ نہیں۔ عورت کا ایک چہر ہ اور بھی ہے جو اس روایتی چہرے سے قدرے مختلف ہے ۔ یہ چہرہ ہمیں حقیقی زندگی میں دیکھنے کو مل جاتا ہے مگر جدیدفکشن کی دنیا میں خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ عورت کے اس چہرہ کو جن فکشن نگاروں نے پیش کیاہے ان میں خدیجہ مستور سرفہرست ہیں۔ خدیجہ مستور نے صرف دو ناول لکھے ہیں’’آنگن ‘‘اور ’’زمین‘‘۔ مگر ان کا ناول ’آنگن ‘ہی انہیں اردو فکشن کی دنیا میں ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے۔
                    خدیجہ مستور کے ناول ’’آنگن ‘‘اور ’’زمین ‘‘اردو فکشن میں اس لحاظ سے الگ پہچان رکھتے ہیں کہ اس کے اندر عورت کی مظلومیت کی داستان بیا ن کر نے کے بجائے عورت کو جد وجہد کرتے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہوتے دکھایا گیا ہے ۔ مگر ان کرداروں کے حوالے سے خدیجہ مستور نے عورت سماج کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ بد نما ہوتے ہوئے بھی حقیقت سے قریب ہونے کی وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے ۔ خدیجہ مستور جو کہ خو د ایک خاتون ہیں انہوں نے ان کرداروں کے حوالے سے عورتوں کے غم وغصہ ، نفرت ، عداوت کی ایک حقیقی تصویر سے قاری کو روشناس کر ایا ہے ۔ اور بتایا ہے کہ عورت جب مظلومیت کے بجائے ظلم کرنے پر اتر آتی ہے تو صدیوں کا حساب چند لمحوں میں چکا دیتی ہے ۔
آنگن اور زمین دونوں تقسیم وطن کے پس منظر میں لکھی گئی ہیں۔ دونوں ناول باہم مربوط ہیں۔ آنگن میں تقسیم سے پہلے اور زمین میں تقسیم کے بعد کے واقعات ہیں۔آنگن مسلم لیگ اور کانگریس کے خیالات رکھنے والے ایک خاندان کے حوالے سے آزادی کی لڑائی سے لے کر تقسیم تک کی روداد ہے ، باپ کٹر کانگریسی ہے تو بیٹے مسلم لیگ کے لئے جان چھڑکتے ہیں۔ وہیں ایک دو کردار ایسے بھی ہیں جو انگریزوں کو باعث رحمت سمجھتے ہیں۔ گویا کہ اس وقت کے ہندوستان کی ترجمانی کرنے والے سبھی خیالات کے لوگوں کا مجموعہ ہے یہ خاندان۔
 عالیہ اور اس کی بہن فہمیدہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں،پورا ناول عالیہ کی زبانی واحد متکلم کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے ۔ آزادی کی تحریک زوروں پر ہے۔ زمین داری اگر چہ باقی ہے مگر بھائیوں میں بٹوارہ ہونے کی وجہ سے جائداد بٹ گئی۔ پہلے جیسے ٹھاٹ باٹ اگر چہ نہ رہے مگر پھر بھی گھر کا نظام کسی طرح چل رہا ہے۔ ابو کے اچانک انتقال پر ان سب کو چچا جان کے گھر جانا پڑا۔ اس کے بعد آزادی اور تقسیم ملک کے بعد تک کی ساری روداد اس ناول میں بیان کی گئی ہے ۔ یہ ناول حقیقی معنوں میں تقسیم ملک کے موضوع پر لکھے گئے ناولوں میں ایک اہم مقام رکھتا ہے ۔
                    آنگن کے نسوانی کرداروں میں عالیہ ، تہمینہ ، کریمن بوا چھمی ، اور نجمہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ عالیہ اس ناول کا مرکزی کردار ہے پوری کہانی اسی کے ارد گرد گردش کرتی نظر آتی ہے ۔ خدیجہ مستور نے اس ناول میں بیانیہ تکنیک کا استعمال کیا ہے ۔ ان کرداروں میں صرف تہمینہ ہی واحد کردار ہے جو روایتی لباس میں نظر آتی ہے صفدر سے محبت کرنے کے باوجود وہ گھٹ گھٹ کر مر جاتی ہے مگر اظہارمحبت نہ کر سکی ۔ اس کے علاوہ سبھی کردار صدیوں سے مردوں کی ناانصافی کا حساب مانگتے نظر آتے ہیں ۔
                    عالیہ کی والدہ کا کردار ایک روایتی ماں کا کردار ہے انہوں نے اپنی مر حومہ نند کی ناجائز اولاد صفدر کی زندگی اجیرن کر دی اور مجبور ہوکر انہیں گھر چھوڑ نا پڑا ۔عالیہ کے والد ان کو بیٹے کی طرح مانتے تھے اس کے باوجود وہ چاہ کر بھی تہمینہ کی شادی صفدر سے نہیں کراسکے ۔ عالیہ کی امی کی بد سلوکی کی وجہ سے وہ علی گڑھ تعلیم کے لئے جانے کے بعد پھر لوٹ کر نہ آئے ۔ والد گھر کے مالک ہونے کے باوجود عالیہ کی والد ہ سے ڈرتے تھے زمینداری ختم ہونے کے بعد جائیداد کا جو حصہ ملا تھا اس کو بھی محترمہ نے اپنے بھائی کے یہاں بھیج دیا ۔ اتنی سخت تھیں کی شوہر کو گھر میں رکنے نہ دیتی تھیں۔ گھر میں گھستے ہی طنز کے تیر چلانا شروع کردیتیں لہذا گھر کے باہر کی مصروفیات ہی ان کے ذمہ رہ گیا تھا ۔ انہیں اپنے شوہر کا سیاست میں حصہ لینا اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنا بالکل پسند نہ تھا۔ وہ انگریزوں کو باعث رحمت سمجھتیں اور ہمیشہ ان کی تعریف کے گن گاتی تھیں۔ انہیں اپنے بھائی پر فخر تھا جن کی بیوی ایک انگریز تھیں۔ ہمیشہ ان کا نام لے کر اپنے شوہر کو تنگ کیا کرتی تھیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے بھائی کو ان کی فکر کم ہی ہوتی تھی۔ عالیہ کی ماں کا کردار ایک مطلب پرست اور جھگڑالو عورت کا ہے ۔ جب ان کے شوہر ایک انگریز کو زخمی کردینے کے جرم میں گرفتار ہوئے تواپنے شوہر ہی کو مورد الزام ٹھہرایا۔
                    شوہر کے انتقال کے بعد عالیہ اپنی والد ہ کے ساتھ اپنے چچا کے یہاں چلی آئی ۔ یہاں پر بھی ماحول گھر ہی جیسا ہے۔ عالیہ کے چچا کی ایک دوکان ہے جس سے تھوڑی بہت آمدنی ہوجایا کرتی ہے۔ مگر اس کی آمدنی کا اکثر حصہ کانگریس کے ان مہمانوں کی نوازش پر خرچ ہوجاتا ہے جو چچا سے ملنے آتے ہیں۔ اسی بات کو لے کرچچی اورچچا میں ہمیشہ تکرار ہوتی۔ جب عالیہ پڑھائی مکمل کر لیتی ہے تو رزلٹ آنے سے پہلے عالیہ کی والدہ چچی جان کو کھرا کھوٹا سناتی ہیں۔
’’بس اب تم جلدی سے ملازمت کے لئے درخواستیں دینے لگو، میں بھر پائی ان مصیبتوں سے ، اس اجڑے گھر میں جانے کس طرح دن گذارے ہیں، کبھی پیٹ بھر کھانا نہیں ملا۔‘‘
اماں نے بڑی بے باکی سے کہا، اس وقت وہ بڑی مغرور نظر آرہی تھیں۔
’ارے چھوٹی دلہن ، میں نے تو اپنی جان سے زیادہ تمہارا خیال کیا ہے اور۔۔۔‘
بڑی چچی سے کچھ کہتے نہ بن پڑ رہی تھی۔
’بس جناب آپ کے خیال کا شکریہ، اب آپ لوگ میری جان بخش دیں اور احسان نہ جتائیں، مجھے پتا تھا کہ ایک دن یہی سننا ہوگا۔‘
’اماں!‘عالیہ نے حیران ہوکر اماں کو پکارا اور بڑی چچی کی طرف دیکھ کر سر جھکالیا ابھی تو امتحان کا نتیجہ بھی نہیں نکلا، کیا یہی سب کچھ سننے کے لئے اس نے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہا تھا، اس کا جی چاہا کہ اپنے فیل ہونے کی دعائیں مانگنے لگے ۔‘‘ ( آنگن ،ص۲۵۹)
                    گویا کہ والدہ کی شکل میں جو کردار پیش کیا گیا ہے وہ بے درد اور مطلب پرستی کی انتہا تک پہنچا ہوا ہے ۔ جس شخص نے ان کو اور بیٹی کو مصیبت کے موقع پر سہارا دیا، خوشحالی نہیں بلکہ اچھے دن کی امید پیدا ہوتے ہی انہیں کھری کھوٹی سنانے لگیں، ان کے تمام احسانات کو یکسر نظر انداز کردیا۔
                    عالیہ کی دادی بھی کچھ کم شدت پسند نہ تھی ۔ نوکروں پر ناراض ہوتیں تو رسیوں سے ان کی کھال اندھیڑ لیتی تھی ۔ در اصل یہ دو کردار ان گھر انوں کی تصویر پیش کر رہے ہیں جہاں وزارت داخلہ عورتوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور کسی طرح یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ خارجی امور بھی ان ہی کے ماتحت رہیں۔
                    چھمی عالیہ کے ماموں کی لڑکی ہے ۔ اسکی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے سوتیلی ماں اپنے پاس رکھنے کو روادار نہیں اس وجہ سے وہ اپنے چچا کے ساتھ رہ رہی ہے ۔ وہ اپنے چچا کے لڑکے جمیل سے پیار کر تی ہے مگر ایک طرفہ محبت ثابت ہوتی ہے ، جمیل کی طرف سے بے تعلقی کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ باغی فطرت کی ہوجاتی ہے ۔ گھر میں بغیر کسی وجہ سے ہنگامہ کھڑا کرتی ہے ۔ اور بغیر کسی وجہ کے اپنے چچا کو لڑائی کر کے تنگ کرتی ہے ۔ حالت یہاں تک کہ خراب ہوجاتی ہے کہ چچا جان جو کہ کٹر کانگریسی ہیں جیسے ہی گھر میں گھستے ہیں چھمی ان کے سامنے مسلم لیگ زندہ باد کا نعرہ لگانے لگتی ہے مجبوراً یہ بیچارے گھر سے باہر چلے جاتے ہیں ۔ چھمی کی چچی کا رویہ چچا جان کے لیے کیا کم تھا کہ چھمی نے اپنے رویے سے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔ ان سب سے مجبور ہوکر بیچارے اب گھر کے اندر کم ہی آتے تھے اور اگر کبھی آنا بھی ہوتا تو فوراً واپس جانا پڑتا۔ تنگ آکر اس کی شادی ایک گوالے سے کردیتے ہیں ۔ وہ ناپسند کرتے ہوئے بھی خاموشی سے اس رشتے کو قبول کرلیتی ہے ۔ وہاں اس کے لڑکے بھی ہوتے ہیں۔ مگر اس کے شوہر کے اچانک انتقال کے بعد واپس گھر آجاتی ہے ۔ بالکل شانت، خاموش، ملک کی آزادی کے بعدجمیل بالآخر اس سے شادی کرنے پر راضی ہوجاتا ہے ۔ اس طرح وہ اپنا پیار حاصل کرلیتی ہے ۔
                    نجمہ پھوپھی نے انگریزی میں ایم ۔ اے کیا کر لیا کہ اب پوری دنیا کو جاہل سمجھتی ہیں ۔ گھر میں کسی سے بات نہیں کر تی کہ’’ جاہلوں کے منہ کون لگے ‘‘ وہ انگریزی کے علاوہ کسی تعلیم کو تعلیم کے زمرے میں رکھتی ہی نہیں ہیں۔ چھمی کو کبھی کبھی اپنے ذاتی کام کے لئے بلاتی تھیں مگر جب سے اس نے کسی کام کے لئے منع کیا اسی دن سے وہ بھی جاہلوں کے زمرے میں آگئی۔ آخر میں نجمہ کی زندگی عبرت کا نشان بن جاتی ہے ۔ کسی بچولئے نے ان کی شادی یہ کہہ کر ایک شخص سے کرادی کہ یہ انگلش سے ایم اے ہے ، مگر وہ معمولی انٹر پاس تھا۔ نجمہ کا کردار ہمیں بتاتا ہے کہ جولوگ تھوڑا پڑھ لکھ لینے کی وجہ سے اپنے آپ کو خود اپنی سوسائٹی اور گھر والوں سے اعلی و ارفع سمجھ لیتے ہیں وہ خود دوسروں کے لئے ایک مضحکہ خیز کردار بن جاتے ہیں۔ اس سے ان کا تو کوئی بھلا نہیں ہوتا الٹے اپنی زندگی مصیبت میں ڈال لیتے ہیں۔
                    کریمن بوا ایک نوکرانی ہیں ایک نوکرانی ہونے کی وجہ سے ان کا کسی پر زور نہیں لیکن اسرار میاں کوحالات نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا تھا کہ وہ اس گھر کے غلام بن کر رہ گئے تھے ۔ در اصل اسرار میاں اسی گھر کی اولاد تو تھے مگر ایک رکھیل کی بطن سے پیدا ہوئے تھے اس میں ان بیچارے کی کیا خطا تھی مگر دادی جان نے جب رکھیلوں کو گھر سے چھٹی دی تو ان کے لڑکوں کو یہ کہہ کر جانے سے روک دیا تھا کہ یہ ہمارا خون ہیں۔ اس لئے ہمارے ساتھ رہیں گے ۔ باقی لڑکے تو دادی کی سختی کی وجہ سے کہیں بھاگ گئے مگر اسرار میاں اب تک حق نمک ادا کررہے ہیں۔ان کی دن رات کی محنت کے باوجود دادی جان نے کبھی گھر کے ایک فرد کی طرح انہیں قبول کیا۔ کریمن بوا کا گھر میں کسی پر زور چلتا تھا تو بس وہ اسرار میں تھے ۔ کریمن بواان کو ہی اپنی ستم کا نشانہ بناتی تھیں ۔ گھر والوں کے لئے انتہائی شفیق نظر آنے والی کریمی بوا کا چنگیزی چہرہ اسرار میاں کے لئے سامنے آتا ۔ اگر کریمن بوا کا چلتا تو وہ گھر کا بچا ہوا باسی کھا نا بھی نہ دیتیں ۔ اسرار میاں کوئی کریمن بوا پر عاشق نہ تھے وہ صرف دو وقت کی روٹی چاہتے تھے مگر یہ دو وقت کی روٹیاں گالیوں کے ساتھ ملتی تھیں ۔
                    عالیہ اس ناول کا مر کز ی کردار ہے ۔ خدیجہ مستور نے اس ناول کو عالیہ کی زبانی ہی بیان کیا ہے پورا ناول واحد متکلم کے صیغہ میں ہے ۔ عالیہ کا دل کچھ نرم ہے وہ ان سبھوں کو دیکھ کر دل ہی میں کڑھتی ہے ۔ مگر دوسری طرف جمیل کی محبت کو جس سنگ دلی سے ٹھکراتی ہے وہ عالیہ کو بھی لے جاکر انہی عورتوں کے زمرے میں کھڑا کر دیتا ہے ۔ دراصل عالیہ کے یہاں محبت کا تصور کچھ عجیب ہے وہ سمجھتی ہے کہ مرد عورت سے محبت کرکے اس کو محکوم بنانا چاہتا ہے ۔ یہاں خدیجہ مستور نے عورت اور مرد کے رشتہ کے بارے میں عالیہ کے ذریعہ اپنا نظریہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ خدیجہ مستور کے یہاں عورت کی آزادی بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ جہاں انہیں آزادی پر حرف آنے کا اندیشہ ہوتاہے وہاں وہ دوسرے تمام فوائد کو بالائے طاق رکھ دیتی ہیں۔آزادی کے بعد عالیہ اپنی امی کے ساتھ پاکستان ہجرت کرجاتی ہے ۔ اسکے ماموں جو انگریزوں کے ہمنوا تھے اس سے پہلے پاکستان جاکر اپنے حصے کی ملائی پر ہاتھ صاف کرچکے ہوتے ہیں۔ ایک موقع پر عالیہ کی ملاقات صفدر سے ہوتی ہے ۔ وہ اسے اپنے گھر لاتی ہے ۔ امی اس کی شکل دیکھنے کو روادار نہیں۔ اس کے باوجود اب بیٹی کے آگے وہ بے بس ہوجاتی ہیں۔ ان کے سامنے عالیہ صفدر سے شادی کرنے کی بات کرتی ہے ۔ مگر آخر میں خود ہی شادی کرنے سے منع کردیتی ہے ۔ اس لئے کہ صفدر کے اندر وہ جس نوجوان کی شبیہ دیکھنا چاہ رہی تھی وہ نہیں تھی۔ وہ روز روز کی بھاگ دوڑ کی زندگی سے تنگ آگیا تھا۔ وہ شادی کے بعد اطمینان کی زندگی گذارنا چاہتا تھا۔ یہ بات عالیہ کی نظر میں صفدر کی وقعت کا محل مسمار کرنے کے لئے کافی تھی۔ عالیہ کا کردار نہایت پیچیدہ ہے۔
آنگن کا ایک اور کردار ہے جو اگر چہ ضمنی کردار ہے۔ چند لمحوں کے لئے سامنے آتا ہے مگر اس کے ذریعہ خدیجہ مستور نے برائی کے بارے میں عورتوں اور مردوں کے لئے دوہرے معیارپر زبردست وار کیا ہے۔ کسم دیدی ایک بیوہ عورت ہیں۔ ہندوسماج میں بیوہ کی دوسری شادی ممکن نہیں اس وجہ سے ایک دن کسم دیدی کسی مرد کے ساتھ فرار ہوجاتی ہیں۔ وہ آدمی کسم دیدی کے ساتھ دھوکہ کے دیتا ہے۔ اب یہاں پر ہر کوئی کسم ہی کو مورد الزام ٹھہراتا ہے کہ وہ ایک غیر مرد کے ساتھ فرار ہوگئی۔کسم یہ بے عزتی برداشت نہیں کرپاتی ہے اور ایک تالاب میں ڈوب کر خود کشی کرلیتی ہے۔ خدیجہ مستور عالیہ کی زبانی آواز بلند کرتی ہیں کہ کوئی اس آدمی کو برا کیوں نہیں کہتا جس نے کسم کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ وہی کام ایک مرد کرے تو کوئی کچھ نہ کہے اور عورت کرے تو ہر کوئی ملامت کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھے۔
دراصل خدیجہ مستور عورتوں کو حکم سنانے والی اور فیصلہ لینے والی کے کردار میں دیکھنا چاہتی ہیں ۔ اس وجہ سے انہوں نے یہ کردار تخلیق کئے ۔ یہ خدیجہ مستور کی حقیقت نگاری ہے کہ انہوں نے یہ بھی دکھا دیا کہ عورت فیصلہ لینے کے مقام پر پہنچ کر کیاکرسکتی ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے عالیہ کی امی ، چچی، اور دادی کے اندر یہ سختی کن حالات کی پیداوار ہے؟
جہاں تک عالیہ کے اندر مردوں کے تعلق سے بدگمانی کی بات ہے تو اس کی وجہ تہمینہ اور کسم دیدی کے واقعات ہیں ان دونوں واقعات نے عالیہ کو پوری مرد برادری سے بدظن کردیا۔ گھر کی دوسری عورتوں کے بارے میں یہ بات نہیں ہے۔ ان کے اندر مردوں کے خلاف نفرت کی وجہ دوسری ہے۔ دراصل ہمارے بہت سے رہنماسماج سیوا میں اپنے گھربار اور ان کی ضروریات کو بھول جاتے ہیں۔ ہر ایک کا حق ہے۔ سماج اور ملک کے ساتھ گھر اور خاندان بھی اہم ہے۔ اس ناول میں چاہے عالیہ کے ابو ہوں یا چچا دونوں گھر کے بجائے باہر کی مصروفیات میں مگن رہا کرتے ہیں اس طرح سے گھر کی عورتوں میں ان کے خلاف ہی نفرت کا مادہ پنپنے لگتا ہے۔ اور دھیرے دھیرے یہ نفرت سختی میں بدل جاتی ہے۔ جس کا شکار صرف ان کے شوہر ہی نہیں بلکہ ان کے تحت آنے والے گھر کے دوسرے افراد بھی ہوتے ہیں۔


٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں