منگل، 5 نومبر، 2013

فرقہ وارانہ فسادات: مسلمان بھی اپنا محاسبہ کریں...



مظفر نگر کے حالیہ فسادات نے ایک بار پھر فرقہ وارانہ فسادات کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔ فسادات کے اسباب وعلاج پر بحث ہورہی ہے۔ فرقہ وارانہ مخالف بل کو پاس کرنے کے لئے آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ عام طور پر فسادات کے اسباب ہندو فرقہ پرستی میں تلاش کیے جاتے ہیں ۔ہندوستان کے تناظر میں یہ بات ایک حد تک صحیح بھی ہے مگر کیا مسلمان اس کے ذمہ دار نہیں ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ میری بات بہت سارے لوگوں کو ناگوار لگے کہ فرقہ وارانہ فسادات کے تناظر میں مسلمانوں کو بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔ انہیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ برادران وطن کی ایک بڑی تعداد ان سے نفرت کرتی ہے۔مسلمانوں کے ساتھ لین دین کرنا تو دور کسی مسلم کا نام آتے ہی ان زبان پر گالی آجاتی ہے۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ تالی صرف ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔




انٹرنیٹ پر سوشل نیٹ ورکنگ کی سائٹوں پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا سیلاب ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی جھلک دیکھنی ہو تو کسی ایسی ویب سائٹ پر جائیں جہاں خبروں پر قارئین کو آزادانہ رائے پیش کرنے کی آزادی ہو۔ وہاں پر اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے کوئی بھی خبر کھول کر اس پر قارئین کے تبصرے پڑھیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ کوئی بھی مسلمان ان تبصروں کی زبان کو دیکھ کر مشتعل ہوجائے گا۔ یہ کون لوگ ہیں جو مسلمانوں کے خلاف نفرت کی زبان استعمال کررہے ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ ملک کا نوجوان سیکولرزم پر یقین رکھتا ہے لیکن انٹرنیٹ پر نفرت آمیز تبصرہ کرنے والا نوجوان طبقہ ہی ہے جس نے تقسیم ہند کا سانحہ نہیں دیکھا۔ ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو بابری مسجد اور سکھ مخالف فسادات کوبھی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے۔

ایک زندہ قوم کی علامت یہ ہوتی ہے کہ جب اس پر کوئی مشکل گھڑی آتی ہے تو سب سے پہلے اپنا محاسبہ کرتی ہے۔ اپنی کمیوں اور کوتاہیوں پر نظر دوڑاتی ہے پھر باہر کی دنیامیں نظرڈالتی ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کے مسئلہ میں مسلمانوں کوایک زندہ قوم کو رویہ اختیار کرنا چاہئے۔



غیرمسلموں میں مسلمانوں کے تعلق سے نفرت کی سب سے بڑی وجہ نام نہاد جہادی تنظیمیں ہیں۔ یہ تنظیمیں حالات و ظروف سے بے خبر آج بھی ہزار سال پہلے کی دنیا میں جی رہی ہیں جہاں چند لوگ تلوار اٹھا کر علاقہ کی تقدیر بدل دیا کرتے تھے۔ ان تنظیموں کی بزدلانہ حرکتوں کی وجہ سے پورا عالم اسلام میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ کب کہاں اور کس کا قتل ہوجائے، بم پھوٹ جائے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس کی سزا مسلم اقلیتوں مل رہی ہے۔ برادران وطن کی نظر میں مسلمان جھگڑالو قوم ہے جہاں بھی مسلمان رہتے ہیں ہمیشہ لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔

ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ مسلمان عام طور پر اپنے محدود دائرے میں مگن رہتے ہیں۔ خود ہی غیر مسلموں سے دوری بنا کر رہتے ہیں۔ ایسا غیر مسلموں کے مذہب اور ان کے رسم ورواج کے بارے میں عدم واقفیت کی وجہ سے بھی ہے۔ خود اپنے دین سے عدم واقفیت کی وجہ سے مسلمان یہ سمجھتے ہیں غیر مسلموں سے دوری بناکر رکھنا ہی عین اسلام ہے۔ اس سے برادران وطن اسلام اور مسلمانوں کے بارے جان نہیں پاتے۔ اکثرایسا دیکھا گیا کہ مسلمانوں کے ساتھ رہنے والے غیر مسلموں میں ان کے خلاف نفرت نہیں ہوتی ہے یا کم ہوتی ہے۔ اس وجہ سے مسلم نوجوانوں کو خاص طور پر غیر مسلموں سے میل جول پیدا کرنا چاہئے۔

ایک عام تاثر مسلموں کے تعلق سے ہم وطنوں میں یہ ہے کہ یہ ایک گندی قوم ہے۔ پہلی فرصت میں مسلمان یہ کہہ کر اپنا دامن صاف کرنے کی کوشش کریں گے کہ اسلام میں صفائی کو آدھا ایمان کہا گیا ہے۔ مگر زمینی حقیقت کیا ہے؟ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی جھجھک نہیں محسوس کرنی چاہئے کہ آج مسلمان واقعی صفائی پر دھیان نہیں دیتے۔ہمارا اپنا مشاہدہ ہے کہ مسلم علاقے گندگی اور غلاظت سے پہچانے جاتے ہیں۔لوگ شکایت کرتے ہیں کہ حکومت مسلم علاقوں میں صفائی پر توجہ نہیں دیتی۔ یہ بات اگر سچ بھی ہوپھر بھی مسلمانوں کی اپنی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟ غیر مسلم روزانہ اپنے گھر میں جھاڑو لگاتا ہے اور اپنے گھر کے سامنے کی سڑک پر بھی جھاڑو لگاتا ہے۔ اپنے گھر کے اندر بھی روشنی رکھتا ہے اور گھر کے باہر بھی راہگیروں کے لئے بلب جلا کر رکھتا ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مسلمان ایسا نہیں کرتے۔ اپنے گھر کا سارا کچڑا سڑک پر یا کسی خالی پلاٹ میں ڈال کر فرمان بنی پر عمل کرلیتے ہیں۔ کسی بھی مسلم بستی میں گھر کے سامنے بلب لگا ہوا نہیں ملتا۔ ہمارے اس رویے سے کیا برادران وطن ہم سے نفرت نہیں کریں گے؟

مسلمانوں کے اندر خدمت خلق کا رجحان بھی غیر مسلموں کے مقابلے میں کم ہے۔ مسلمانوں میں زکوۃ کا نظام ہے مگر اس کاایسابے ہنگم طریقہ مسلمانوں نے اپنا رکھا ہے کہ یہ مسلمانوں کی نیک نامی کے بجائے بدنامی کا باعث بن گیا ہے۔ گلی کوچوں میں بھکاریوں کی بھرمار ہے۔ جو نئے نئے انداز میں اداکاری کرکے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔ گندگی کے بعد مسلم علاقوں کی دوسری پہچان یہی بھیک منگے ہیں۔ کتنا اچھا ہوتا کہ زکوۃ کا ایسا مربو ط نظام قائم ہوتا جس سے حقیقی حق داروں تک امداد پہنچ جاتی اور اس روپئے سے اسپتال اور دیگر رفاہی کام انجام دیئے جاتے۔ہندوستان میں اور بھی اقلیتیں رہتی ہیں لیکن تشدد کا نشانہ مسلمان ہی کیوں بنتے ہیں؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ دوسری اقوام بوجھ بننے کے بجائے برادران وطن کے لئے سہولت فراہم کرتے ہیں۔ انہی کے اسکولوں میں اکثریتی فرقہ کے بچے پڑھتے ہیں۔ انہی کے اسپتال میں علاج کے لئے جاتے ہیں۔ کوئی بھی پریشانی کا وقت ہو وہ مدد کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اکثریتی فرقہ انہیں کوئی کیوں تنگ کرے گا؟ رہ گئے مسلمان ، تو وہ اپنے علاقوں میں بھی معیاری اسکول اور اسپتال نہیں کھول سکتے ،تو ان سے کیا امید کی جائے کہ دوسرے علاقوں میں بھی اسکول و اسپتال قائم کریں۔ مسلمانوں کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہئے۔

آج جب فرقہ وارانہ فسادات کے اسباب تلاش کئے جارہے ہیں تو ہماری گذارش ہے کہ ان نکات پر بھی غور کیا جائے۔ہم دعا کرتے ہیں کہ آنے والا کل ہندوستان کے لئے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ہو۔


٭٭٭٭



بدھ، 23 اکتوبر، 2013

آنگن کے نسوانی کردار۔ ایک تنقیدی مطالعہ


     اگر داستانوی ادب کا چھوڑ دیا جائے تو اردو فکشن کی دنیا میں عورت کی تصویر میں یکسانیت نظر آتی ہے ۔ عورت مظلوم ہے یہ بات ہمارے اکثر فکشن نگاروں نے نہ صرف تسلیم کیا ہے بلکہ اپنے قلم کے ذریعہ ثابت بھی کیا ہے ۔ ناول افسانے سے لے کر قصے کہانیوں تک ہر جگہ عورت کی یہی تصویر دیکھنے کو ملتی ہے ۔ لیکن کیا یہی عورت کا حقیقی چہرہ ہے ؟ نہیں۔ عورت کا ایک چہر ہ اور بھی ہے جو اس روایتی چہرے سے قدرے مختلف ہے ۔ یہ چہرہ ہمیں حقیقی زندگی میں دیکھنے کو مل جاتا ہے مگر جدیدفکشن کی دنیا میں خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے ۔ عورت کے اس چہرہ کو جن فکشن نگاروں نے پیش کیاہے ان میں خدیجہ مستور سرفہرست ہیں۔ خدیجہ مستور نے صرف دو ناول لکھے ہیں’’آنگن ‘‘اور ’’زمین‘‘۔ مگر ان کا ناول ’آنگن ‘ہی انہیں اردو فکشن کی دنیا میں ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے۔
                    خدیجہ مستور کے ناول ’’آنگن ‘‘اور ’’زمین ‘‘اردو فکشن میں اس لحاظ سے الگ پہچان رکھتے ہیں کہ اس کے اندر عورت کی مظلومیت کی داستان بیا ن کر نے کے بجائے عورت کو جد وجہد کرتے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہوتے دکھایا گیا ہے ۔ مگر ان کرداروں کے حوالے سے خدیجہ مستور نے عورت سماج کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ بد نما ہوتے ہوئے بھی حقیقت سے قریب ہونے کی وجہ سے بھلا معلوم ہوتا ہے ۔ خدیجہ مستور جو کہ خو د ایک خاتون ہیں انہوں نے ان کرداروں کے حوالے سے عورتوں کے غم وغصہ ، نفرت ، عداوت کی ایک حقیقی تصویر سے قاری کو روشناس کر ایا ہے ۔ اور بتایا ہے کہ عورت جب مظلومیت کے بجائے ظلم کرنے پر اتر آتی ہے تو صدیوں کا حساب چند لمحوں میں چکا دیتی ہے ۔
آنگن اور زمین دونوں تقسیم وطن کے پس منظر میں لکھی گئی ہیں۔ دونوں ناول باہم مربوط ہیں۔ آنگن میں تقسیم سے پہلے اور زمین میں تقسیم کے بعد کے واقعات ہیں۔آنگن مسلم لیگ اور کانگریس کے خیالات رکھنے والے ایک خاندان کے حوالے سے آزادی کی لڑائی سے لے کر تقسیم تک کی روداد ہے ، باپ کٹر کانگریسی ہے تو بیٹے مسلم لیگ کے لئے جان چھڑکتے ہیں۔ وہیں ایک دو کردار ایسے بھی ہیں جو انگریزوں کو باعث رحمت سمجھتے ہیں۔ گویا کہ اس وقت کے ہندوستان کی ترجمانی کرنے والے سبھی خیالات کے لوگوں کا مجموعہ ہے یہ خاندان۔
 عالیہ اور اس کی بہن فہمیدہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتے ہیں،پورا ناول عالیہ کی زبانی واحد متکلم کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے ۔ آزادی کی تحریک زوروں پر ہے۔ زمین داری اگر چہ باقی ہے مگر بھائیوں میں بٹوارہ ہونے کی وجہ سے جائداد بٹ گئی۔ پہلے جیسے ٹھاٹ باٹ اگر چہ نہ رہے مگر پھر بھی گھر کا نظام کسی طرح چل رہا ہے۔ ابو کے اچانک انتقال پر ان سب کو چچا جان کے گھر جانا پڑا۔ اس کے بعد آزادی اور تقسیم ملک کے بعد تک کی ساری روداد اس ناول میں بیان کی گئی ہے ۔ یہ ناول حقیقی معنوں میں تقسیم ملک کے موضوع پر لکھے گئے ناولوں میں ایک اہم مقام رکھتا ہے ۔
                    آنگن کے نسوانی کرداروں میں عالیہ ، تہمینہ ، کریمن بوا چھمی ، اور نجمہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ عالیہ اس ناول کا مرکزی کردار ہے پوری کہانی اسی کے ارد گرد گردش کرتی نظر آتی ہے ۔ خدیجہ مستور نے اس ناول میں بیانیہ تکنیک کا استعمال کیا ہے ۔ ان کرداروں میں صرف تہمینہ ہی واحد کردار ہے جو روایتی لباس میں نظر آتی ہے صفدر سے محبت کرنے کے باوجود وہ گھٹ گھٹ کر مر جاتی ہے مگر اظہارمحبت نہ کر سکی ۔ اس کے علاوہ سبھی کردار صدیوں سے مردوں کی ناانصافی کا حساب مانگتے نظر آتے ہیں ۔
                    عالیہ کی والدہ کا کردار ایک روایتی ماں کا کردار ہے انہوں نے اپنی مر حومہ نند کی ناجائز اولاد صفدر کی زندگی اجیرن کر دی اور مجبور ہوکر انہیں گھر چھوڑ نا پڑا ۔عالیہ کے والد ان کو بیٹے کی طرح مانتے تھے اس کے باوجود وہ چاہ کر بھی تہمینہ کی شادی صفدر سے نہیں کراسکے ۔ عالیہ کی امی کی بد سلوکی کی وجہ سے وہ علی گڑھ تعلیم کے لئے جانے کے بعد پھر لوٹ کر نہ آئے ۔ والد گھر کے مالک ہونے کے باوجود عالیہ کی والد ہ سے ڈرتے تھے زمینداری ختم ہونے کے بعد جائیداد کا جو حصہ ملا تھا اس کو بھی محترمہ نے اپنے بھائی کے یہاں بھیج دیا ۔ اتنی سخت تھیں کی شوہر کو گھر میں رکنے نہ دیتی تھیں۔ گھر میں گھستے ہی طنز کے تیر چلانا شروع کردیتیں لہذا گھر کے باہر کی مصروفیات ہی ان کے ذمہ رہ گیا تھا ۔ انہیں اپنے شوہر کا سیاست میں حصہ لینا اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنا بالکل پسند نہ تھا۔ وہ انگریزوں کو باعث رحمت سمجھتیں اور ہمیشہ ان کی تعریف کے گن گاتی تھیں۔ انہیں اپنے بھائی پر فخر تھا جن کی بیوی ایک انگریز تھیں۔ ہمیشہ ان کا نام لے کر اپنے شوہر کو تنگ کیا کرتی تھیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے بھائی کو ان کی فکر کم ہی ہوتی تھی۔ عالیہ کی ماں کا کردار ایک مطلب پرست اور جھگڑالو عورت کا ہے ۔ جب ان کے شوہر ایک انگریز کو زخمی کردینے کے جرم میں گرفتار ہوئے تواپنے شوہر ہی کو مورد الزام ٹھہرایا۔
                    شوہر کے انتقال کے بعد عالیہ اپنی والد ہ کے ساتھ اپنے چچا کے یہاں چلی آئی ۔ یہاں پر بھی ماحول گھر ہی جیسا ہے۔ عالیہ کے چچا کی ایک دوکان ہے جس سے تھوڑی بہت آمدنی ہوجایا کرتی ہے۔ مگر اس کی آمدنی کا اکثر حصہ کانگریس کے ان مہمانوں کی نوازش پر خرچ ہوجاتا ہے جو چچا سے ملنے آتے ہیں۔ اسی بات کو لے کرچچی اورچچا میں ہمیشہ تکرار ہوتی۔ جب عالیہ پڑھائی مکمل کر لیتی ہے تو رزلٹ آنے سے پہلے عالیہ کی والدہ چچی جان کو کھرا کھوٹا سناتی ہیں۔
’’بس اب تم جلدی سے ملازمت کے لئے درخواستیں دینے لگو، میں بھر پائی ان مصیبتوں سے ، اس اجڑے گھر میں جانے کس طرح دن گذارے ہیں، کبھی پیٹ بھر کھانا نہیں ملا۔‘‘
اماں نے بڑی بے باکی سے کہا، اس وقت وہ بڑی مغرور نظر آرہی تھیں۔
’ارے چھوٹی دلہن ، میں نے تو اپنی جان سے زیادہ تمہارا خیال کیا ہے اور۔۔۔‘
بڑی چچی سے کچھ کہتے نہ بن پڑ رہی تھی۔
’بس جناب آپ کے خیال کا شکریہ، اب آپ لوگ میری جان بخش دیں اور احسان نہ جتائیں، مجھے پتا تھا کہ ایک دن یہی سننا ہوگا۔‘
’اماں!‘عالیہ نے حیران ہوکر اماں کو پکارا اور بڑی چچی کی طرف دیکھ کر سر جھکالیا ابھی تو امتحان کا نتیجہ بھی نہیں نکلا، کیا یہی سب کچھ سننے کے لئے اس نے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہا تھا، اس کا جی چاہا کہ اپنے فیل ہونے کی دعائیں مانگنے لگے ۔‘‘ ( آنگن ،ص۲۵۹)
                    گویا کہ والدہ کی شکل میں جو کردار پیش کیا گیا ہے وہ بے درد اور مطلب پرستی کی انتہا تک پہنچا ہوا ہے ۔ جس شخص نے ان کو اور بیٹی کو مصیبت کے موقع پر سہارا دیا، خوشحالی نہیں بلکہ اچھے دن کی امید پیدا ہوتے ہی انہیں کھری کھوٹی سنانے لگیں، ان کے تمام احسانات کو یکسر نظر انداز کردیا۔
                    عالیہ کی دادی بھی کچھ کم شدت پسند نہ تھی ۔ نوکروں پر ناراض ہوتیں تو رسیوں سے ان کی کھال اندھیڑ لیتی تھی ۔ در اصل یہ دو کردار ان گھر انوں کی تصویر پیش کر رہے ہیں جہاں وزارت داخلہ عورتوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور کسی طرح یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ خارجی امور بھی ان ہی کے ماتحت رہیں۔
                    چھمی عالیہ کے ماموں کی لڑکی ہے ۔ اسکی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے سوتیلی ماں اپنے پاس رکھنے کو روادار نہیں اس وجہ سے وہ اپنے چچا کے ساتھ رہ رہی ہے ۔ وہ اپنے چچا کے لڑکے جمیل سے پیار کر تی ہے مگر ایک طرفہ محبت ثابت ہوتی ہے ، جمیل کی طرف سے بے تعلقی کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ باغی فطرت کی ہوجاتی ہے ۔ گھر میں بغیر کسی وجہ سے ہنگامہ کھڑا کرتی ہے ۔ اور بغیر کسی وجہ کے اپنے چچا کو لڑائی کر کے تنگ کرتی ہے ۔ حالت یہاں تک کہ خراب ہوجاتی ہے کہ چچا جان جو کہ کٹر کانگریسی ہیں جیسے ہی گھر میں گھستے ہیں چھمی ان کے سامنے مسلم لیگ زندہ باد کا نعرہ لگانے لگتی ہے مجبوراً یہ بیچارے گھر سے باہر چلے جاتے ہیں ۔ چھمی کی چچی کا رویہ چچا جان کے لیے کیا کم تھا کہ چھمی نے اپنے رویے سے آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا۔ ان سب سے مجبور ہوکر بیچارے اب گھر کے اندر کم ہی آتے تھے اور اگر کبھی آنا بھی ہوتا تو فوراً واپس جانا پڑتا۔ تنگ آکر اس کی شادی ایک گوالے سے کردیتے ہیں ۔ وہ ناپسند کرتے ہوئے بھی خاموشی سے اس رشتے کو قبول کرلیتی ہے ۔ وہاں اس کے لڑکے بھی ہوتے ہیں۔ مگر اس کے شوہر کے اچانک انتقال کے بعد واپس گھر آجاتی ہے ۔ بالکل شانت، خاموش، ملک کی آزادی کے بعدجمیل بالآخر اس سے شادی کرنے پر راضی ہوجاتا ہے ۔ اس طرح وہ اپنا پیار حاصل کرلیتی ہے ۔
                    نجمہ پھوپھی نے انگریزی میں ایم ۔ اے کیا کر لیا کہ اب پوری دنیا کو جاہل سمجھتی ہیں ۔ گھر میں کسی سے بات نہیں کر تی کہ’’ جاہلوں کے منہ کون لگے ‘‘ وہ انگریزی کے علاوہ کسی تعلیم کو تعلیم کے زمرے میں رکھتی ہی نہیں ہیں۔ چھمی کو کبھی کبھی اپنے ذاتی کام کے لئے بلاتی تھیں مگر جب سے اس نے کسی کام کے لئے منع کیا اسی دن سے وہ بھی جاہلوں کے زمرے میں آگئی۔ آخر میں نجمہ کی زندگی عبرت کا نشان بن جاتی ہے ۔ کسی بچولئے نے ان کی شادی یہ کہہ کر ایک شخص سے کرادی کہ یہ انگلش سے ایم اے ہے ، مگر وہ معمولی انٹر پاس تھا۔ نجمہ کا کردار ہمیں بتاتا ہے کہ جولوگ تھوڑا پڑھ لکھ لینے کی وجہ سے اپنے آپ کو خود اپنی سوسائٹی اور گھر والوں سے اعلی و ارفع سمجھ لیتے ہیں وہ خود دوسروں کے لئے ایک مضحکہ خیز کردار بن جاتے ہیں۔ اس سے ان کا تو کوئی بھلا نہیں ہوتا الٹے اپنی زندگی مصیبت میں ڈال لیتے ہیں۔
                    کریمن بوا ایک نوکرانی ہیں ایک نوکرانی ہونے کی وجہ سے ان کا کسی پر زور نہیں لیکن اسرار میاں کوحالات نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیا تھا کہ وہ اس گھر کے غلام بن کر رہ گئے تھے ۔ در اصل اسرار میاں اسی گھر کی اولاد تو تھے مگر ایک رکھیل کی بطن سے پیدا ہوئے تھے اس میں ان بیچارے کی کیا خطا تھی مگر دادی جان نے جب رکھیلوں کو گھر سے چھٹی دی تو ان کے لڑکوں کو یہ کہہ کر جانے سے روک دیا تھا کہ یہ ہمارا خون ہیں۔ اس لئے ہمارے ساتھ رہیں گے ۔ باقی لڑکے تو دادی کی سختی کی وجہ سے کہیں بھاگ گئے مگر اسرار میاں اب تک حق نمک ادا کررہے ہیں۔ان کی دن رات کی محنت کے باوجود دادی جان نے کبھی گھر کے ایک فرد کی طرح انہیں قبول کیا۔ کریمن بوا کا گھر میں کسی پر زور چلتا تھا تو بس وہ اسرار میں تھے ۔ کریمن بواان کو ہی اپنی ستم کا نشانہ بناتی تھیں ۔ گھر والوں کے لئے انتہائی شفیق نظر آنے والی کریمی بوا کا چنگیزی چہرہ اسرار میاں کے لئے سامنے آتا ۔ اگر کریمن بوا کا چلتا تو وہ گھر کا بچا ہوا باسی کھا نا بھی نہ دیتیں ۔ اسرار میاں کوئی کریمن بوا پر عاشق نہ تھے وہ صرف دو وقت کی روٹی چاہتے تھے مگر یہ دو وقت کی روٹیاں گالیوں کے ساتھ ملتی تھیں ۔
                    عالیہ اس ناول کا مر کز ی کردار ہے ۔ خدیجہ مستور نے اس ناول کو عالیہ کی زبانی ہی بیان کیا ہے پورا ناول واحد متکلم کے صیغہ میں ہے ۔ عالیہ کا دل کچھ نرم ہے وہ ان سبھوں کو دیکھ کر دل ہی میں کڑھتی ہے ۔ مگر دوسری طرف جمیل کی محبت کو جس سنگ دلی سے ٹھکراتی ہے وہ عالیہ کو بھی لے جاکر انہی عورتوں کے زمرے میں کھڑا کر دیتا ہے ۔ دراصل عالیہ کے یہاں محبت کا تصور کچھ عجیب ہے وہ سمجھتی ہے کہ مرد عورت سے محبت کرکے اس کو محکوم بنانا چاہتا ہے ۔ یہاں خدیجہ مستور نے عورت اور مرد کے رشتہ کے بارے میں عالیہ کے ذریعہ اپنا نظریہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ خدیجہ مستور کے یہاں عورت کی آزادی بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ جہاں انہیں آزادی پر حرف آنے کا اندیشہ ہوتاہے وہاں وہ دوسرے تمام فوائد کو بالائے طاق رکھ دیتی ہیں۔آزادی کے بعد عالیہ اپنی امی کے ساتھ پاکستان ہجرت کرجاتی ہے ۔ اسکے ماموں جو انگریزوں کے ہمنوا تھے اس سے پہلے پاکستان جاکر اپنے حصے کی ملائی پر ہاتھ صاف کرچکے ہوتے ہیں۔ ایک موقع پر عالیہ کی ملاقات صفدر سے ہوتی ہے ۔ وہ اسے اپنے گھر لاتی ہے ۔ امی اس کی شکل دیکھنے کو روادار نہیں۔ اس کے باوجود اب بیٹی کے آگے وہ بے بس ہوجاتی ہیں۔ ان کے سامنے عالیہ صفدر سے شادی کرنے کی بات کرتی ہے ۔ مگر آخر میں خود ہی شادی کرنے سے منع کردیتی ہے ۔ اس لئے کہ صفدر کے اندر وہ جس نوجوان کی شبیہ دیکھنا چاہ رہی تھی وہ نہیں تھی۔ وہ روز روز کی بھاگ دوڑ کی زندگی سے تنگ آگیا تھا۔ وہ شادی کے بعد اطمینان کی زندگی گذارنا چاہتا تھا۔ یہ بات عالیہ کی نظر میں صفدر کی وقعت کا محل مسمار کرنے کے لئے کافی تھی۔ عالیہ کا کردار نہایت پیچیدہ ہے۔
آنگن کا ایک اور کردار ہے جو اگر چہ ضمنی کردار ہے۔ چند لمحوں کے لئے سامنے آتا ہے مگر اس کے ذریعہ خدیجہ مستور نے برائی کے بارے میں عورتوں اور مردوں کے لئے دوہرے معیارپر زبردست وار کیا ہے۔ کسم دیدی ایک بیوہ عورت ہیں۔ ہندوسماج میں بیوہ کی دوسری شادی ممکن نہیں اس وجہ سے ایک دن کسم دیدی کسی مرد کے ساتھ فرار ہوجاتی ہیں۔ وہ آدمی کسم دیدی کے ساتھ دھوکہ کے دیتا ہے۔ اب یہاں پر ہر کوئی کسم ہی کو مورد الزام ٹھہراتا ہے کہ وہ ایک غیر مرد کے ساتھ فرار ہوگئی۔کسم یہ بے عزتی برداشت نہیں کرپاتی ہے اور ایک تالاب میں ڈوب کر خود کشی کرلیتی ہے۔ خدیجہ مستور عالیہ کی زبانی آواز بلند کرتی ہیں کہ کوئی اس آدمی کو برا کیوں نہیں کہتا جس نے کسم کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ وہی کام ایک مرد کرے تو کوئی کچھ نہ کہے اور عورت کرے تو ہر کوئی ملامت کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھے۔
دراصل خدیجہ مستور عورتوں کو حکم سنانے والی اور فیصلہ لینے والی کے کردار میں دیکھنا چاہتی ہیں ۔ اس وجہ سے انہوں نے یہ کردار تخلیق کئے ۔ یہ خدیجہ مستور کی حقیقت نگاری ہے کہ انہوں نے یہ بھی دکھا دیا کہ عورت فیصلہ لینے کے مقام پر پہنچ کر کیاکرسکتی ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے عالیہ کی امی ، چچی، اور دادی کے اندر یہ سختی کن حالات کی پیداوار ہے؟
جہاں تک عالیہ کے اندر مردوں کے تعلق سے بدگمانی کی بات ہے تو اس کی وجہ تہمینہ اور کسم دیدی کے واقعات ہیں ان دونوں واقعات نے عالیہ کو پوری مرد برادری سے بدظن کردیا۔ گھر کی دوسری عورتوں کے بارے میں یہ بات نہیں ہے۔ ان کے اندر مردوں کے خلاف نفرت کی وجہ دوسری ہے۔ دراصل ہمارے بہت سے رہنماسماج سیوا میں اپنے گھربار اور ان کی ضروریات کو بھول جاتے ہیں۔ ہر ایک کا حق ہے۔ سماج اور ملک کے ساتھ گھر اور خاندان بھی اہم ہے۔ اس ناول میں چاہے عالیہ کے ابو ہوں یا چچا دونوں گھر کے بجائے باہر کی مصروفیات میں مگن رہا کرتے ہیں اس طرح سے گھر کی عورتوں میں ان کے خلاف ہی نفرت کا مادہ پنپنے لگتا ہے۔ اور دھیرے دھیرے یہ نفرت سختی میں بدل جاتی ہے۔ جس کا شکار صرف ان کے شوہر ہی نہیں بلکہ ان کے تحت آنے والے گھر کے دوسرے افراد بھی ہوتے ہیں۔


٭٭٭٭

پلاننگ کمیشن کا نیا سوشہ: طلاق کے بعد بیوی آدھی جائداد کی حق دار

کیا یہ اتفاق ہے کہ میڈیا میں اچانک ایک جیسی خبریں آنے لگتی ہیں، مثلا کچھ دنوں پہلے دہلی میں بلیو لائن بسوں کے بارے میں روزانہ اخبارات اور ٹی وی چینل تفصیلی خبریں دیا کرتے تھے ۔ معمولی سا بھی سڑک حادثہ اگر اس میں کسی بھی طرح بلیولائن کی شمولیت رہی ہو اگر چہ غلطی اس میں کسی اور کی ہو اس کو بلیو لائن کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا تھا۔ میڈیا کے اسی پرپیگنڈے نے بلیولائن کو کلر لائن بنادیا۔ اور بالآخر بلیو لائن کو سڑکوں سے ہٹنا پڑا۔بالکل یہی صورت حال اس وقت عورتوں سے متعلق خبروں کے بارے میں بھی ہے۔ کوئی بھی نیوز چینل کھولو اس میں عورتوں کے ساتھ چھیڑکھانی ، زبردستی اور مارپیٹ جیسے واقعات کی خبریں ملیں گی۔ کیااس سے پہلے یہ سب کچھ نہیں ہوتا رہا ہے۔ بلیولائن بسوں سے حادثے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور اسی قسم کے حادثے اب بھی روزانہ کہیں نہ کہیں ڈی ٹی سی سے بھی ہورہے ہیں۔ مگر نہ پہلے ان کی کوریج ہوتی تھی نہ اب ہوتی ہے۔
دراصل میڈیا میں کچھ لوگ ہیں جو اپنی پسند اور مرضی کے موضوعات کو اچھالتے ہیں۔میڈیا کے بارے میں جانکاری رکھنے والے بتاتے ہیں کہ بلیولائن کو ہٹانے کے لئے دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ نے میڈیا کے پرپیگنڈے کا سہارا لیا تھا۔ پہلے میڈیا میں اس کی تشہیر کرائی اور پھر اسی کو بہانہ بناکر ان کو سڑکوں سے ہٹایا گیا۔ دوسرے میڈیا گروپ مجبوری یا غیر محسوس طریقے سے ان کے پرپیگنڈے کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں۔
آج کل عورتوں سے متعلق اس قسم کی خبروں کی بھر مار دیکھ کرلگتا ہے کہ کچھ خاص قسم کی فضا تیار کی جارہی ہے۔ ہمارا شک اس وقت یقین کی صورت اختیار کرگیا جب پلاننگ کمیشن کا بیان سامنے آیا کہ وہ جلد ہی شوہر کی پراپرٹی میں بیوی کو آدھے کا حق دار بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پلاننگ کمیشن کی سفارشات اگر مان لی گئیں تو ایسی صورت میں طلاق کی صورت میں شوہر کی پوری پراپرٹی دوحصوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ اس میں سے آدھی جائداد بیوی کو دے دی جائے گی ۔ باقی میں شوہر اور اس کے رشتہ دار جیسے تیسے گذارہ کریں۔ خاص بات یہ کہ اس میں منقولہ اور غیر منقولہ جائداد میں فرق نہیں کیا گیا ہے۔
                    پلاننگ کمیشن کی مانیں تو ایسا اس لئے کیا جارہا تاکہ طلاق اور علیحدگی کے بعد معاوضے کو لے کر عورتوں کو ہورہی پریشانیوں سے نجات دلایا جائے۔ پلاننگ کمیشن کو سب سے زیادہ فکر مسلم خواتین لے کر ہورہی ہے۔ اس لیے کہ مسلم پرسنل لاء کے مطابق طلاق کے بعد عدت کے خرچ کے علاوہ کسی اور قسم کے خرچ کے لئے بیوی دعوی نہیں کرسکتی۔ قانون بن جانے کی صورت میں مسلم عورتوں کو بھی طلاق کے بعد شوہر کی جائداد کا آدھا حصہ مل جائے گا۔
اگر چہ ابھی یہ ایک سفارش ہے کوئی قانون نہیں ۔ اگر اس قانون کی مخالفت نہ کی گئی اور یہ قانون ایسے ہی پاس ہوگیا تو ہمارا خاندانی نظام اور اس کا پورا سسٹم برباد ہوجائے گا۔
شادی بیاہ صرف جسمانی ملن کا نام نہیں، بلکہ یہ دو روحوں کا ملن ہے۔ اس کو روپئے پیسے اور جائداد سے جوڑ کر دیکھنا اپنے آپ میں ایک غلط عمل ہے۔مستقبل میں ایسے واقعات بھی سامنے آئیں گے کہ لڑکی کی شادی صرف جائداد ہڑپنے کے لئے کی گئی ۔ شادی کے بعد طلاق کی عرضی داخل کی جائے گی اور ایک دو دن ساتھ رہنے کا معاوضہ لڑکی آدھے جائداد کی صورت میں وصول کرے گی۔
ابھی ایک سال پہلے پولیس نے ایک ایسی لڑکی کو گرفتار کیا تھا جو شادی کا ناٹک کرکے کئی ایک نوجوانوں کو کنگال کرچکی تھی۔ دلالوں کے ذریعہ وہ شادی کی بات کرتی اور پھر موقع پاکر گھر کے سبھی زیور اور نقدی اپنے دلالوں کی مدد سے صاف کردیا کرتی تھی۔
وجہ سے کوئی بعید نہیں کہ لڑکیوں کا ایک گروہ ایسا تیار ہو جو بڑے گھرانے کے لڑکوں کو اپنے جال میں پھانسیں اور پھر ان سے الگ ہوکر ان کی جائداد کے برابر کے حق دار بن جائیں۔
دوسری بات یہ کہ پلاننگ کمیشن کو صرف لڑکی دکھائی دیتی ہے نہ لڑکا دکھتا ہے نہ اس کے ماں باپ اور بھائی بہن۔ لڑکے کو سب کی نگہداشت کرنی ہوتی ہے۔ جب آدھی جائداد لڑکی کو دے دی جائے گی تووہ اپنے ماں باپ کی نگہداشت کیسے کرے گا؟کیا خاندان میں صرف میاں اور بیوی ہی ہوتے ہیں؟ اور کوئی دوسرا رشتہ نہیں ہوتا ہے۔؟
سب سے بڑا مسئلہ لڑکوں کی تعلیم اور تربیت سے متعلق ہوتا ہے۔طلاق کے بعد لڑکے اگر شوہر کے پاس رہے تو کیا تب بھی بیوی آدھی جائداد کی حق دار ہوسکتی ہے؟
اگرچہ یہ کہا گیا ہے کہ شوہر کے ساتھ بیوی کی جائداد بھی تقسیم ہوگی مگر بیوی کی جائداد کیا ہوتی ہے؟ زیورات ، نقدی یا زمین وغیرہ عموماً وہی ہوتا ہے جو شوہر اپنی بیوی کو دیتا ہے۔ اگر معاملہ برابری کا ہے تو ایسا ہونا چاہئے کہ اگر بیوی کمارہی ہے تو طلاق کے بعد اپنے سابقہ شوہر کے اخراجات برداشت کرے۔ اسکے نان ونفقہ کی ذمہ دار ہو۔ اس لئے کہ پلاننگ کمیشن کی نظر میں دونوں برابر ہیں۔
دراصل پلاننگ کمیشن کا یہ فیصلہ خاندانوں کو توڑنے کا کام کرے گا ۔ سماج دشمن عناصر کی ہمت افزائی کا باعث ہوگا۔
صحیح بات تو یہ ہے طلاق کے بعد عورت کا عدت کی مدت کے خرچ کے علاوہ کوئی اور حق بنتا ہی نہیں ہے جیسا کہ اسلام کا فیصلہ ہے۔اس لئے کہ شوہر اپنی بیوی کو خرچ اس وجہ سے دیتا ہے کیوں کہ وہ اس کی بیوی ہے۔ طلاق کے بعد جب وہ بیوی ہی نہیں رہی تو ایسی صورت میں وہ خرچ کی حق دار کیوں کر ہوسکتی ہے؟اور جہاں تک رہی بات یہ کہ عورت طلاق کے بعد کھائے گی کیا ؟ تو اس کی ذمہ داری ماں باپ پر ہے۔ اسلام نے عورت کو لڑکے کی طرح جائداد کا وارث بنایا ہے۔ بچوں کی پرورش اس کے ذمہ نہیں رکھا گیا ہے اس وجہ سے اس کو صرف اپنے اوپر ہی خرچ کرنا ہے۔ ایسے میں اسلام کو عورت کا مخالف ثابت کرنا بالکل غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ اپنی ذمہ داری (یعنی لڑکی کو وراثت میں حصہ دینا ) سے بچنا چاہتے ہیں اور ناجائز طور پر وہ سابقہ شوہر سے لینا چاہتے ہیں۔


مذکورہ قانون اپنی تمام قباحتوں کے ساتھ مسلم پرسنل لاء میں صریح مداخلت ہے، جس کی قانون قانون ہند میں ہمیں ضمانت دی گئی ہے۔اس وجہ سے اس قانون کی بڑے پیمانہ پر مخالفت ہونی چاہئے۔ ایسا نہ ہوکہ ہم سوئے رہیں اور جب بیدار ہوں تو معلوم ہو کہ اب دیر ہوچکی ہے۔

ٹکٹوں کی کالابازاری، دلال مالامال، مسافر پریشان

مئی جون میں اسکولوں میں چھٹیاں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ان دو مہینوں میں لوگ اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیاں گذارنے اپنے گاؤں یا شہر کا رخ کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے گرمیوں میں ٹرینوں میں بھیڑ بڑھ جاتی ہے۔ ایک دو اضافی ٹرینوں سے بھی یہ بھیڑ مسئلہ کا حل نہیں ہوپاتا ہے۔ گرمی کی چھٹیوں کے لیے ریزرویشن ٹکٹ پانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ۔ ریلوے کے نئے قانون کے مطابق نوے دن پہلے ریزرویشن ٹکٹ لیا جاسکتا ہے۔ آج کل حالت یہ ہے کہ ٹکٹ کاونٹر کھلنے کے ایک دو گھنٹہ کے اندر ہی ساری سیٹیں ختم ہوجاتی ہیں۔پہلے ایسا تتکال ٹکٹوں کے لئے ہوتا تھا اب عام ریزرویشن ٹکٹوں کا بھی یہی حال ہوگیا ہے ، یہ حالت خاص طور پر شمالی ہند کی طرف جانے والی ٹرینوں میں ہے۔ آخر ماجرا کیا ہے؟ سارے ٹکٹ جاتے ہیں۔ آسان سا جواب ہے کہ یہ سب دلالوں کی جھولی میں جاتا ہے۔
                    دراصل گرمی کی چھٹیوں میں ٹکٹ کے لئے مارا ماری کو دیکھتے ہوئے دلال پہلے ہی سارے ٹکٹ بک کرلیتے ہیں ۔ عام آدمی کو چھٹی سے ایک مہینہ ٹکٹ کا خیال آتا ہے ، اس وقت تک سارے ٹکٹ ختم ہوچکے ہوتے ہیں ، اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ دلالوں کے پاس جائے اور کئی گنا زیادہ قیمت پر ان ٹکٹوں کو خریدے۔ تعجب یہ ہے کہ یہ سارا کام انتظامیہ کے ناک کے نیچے ریلوے اسٹیشنوں کے ارد گرد بیٹھے ٹریول ایجنٹ ڈھڑلے سے کر رہے ہیں ۔ ریلوے انتظامیہ کو سب کچھ معلوم ہوتا ہے اس کے باوجود سب کچھ برداشت ہی نہیں بلکہ کچھ کرپٹ ملازمین اس میں برابر کا حصہ وصول کرتے ہیں۔
اگر آپ کو آج ہی سفر کرنا ہے اور آپ کے پاس ٹکٹ نہیں ہے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، نئی دہلی اور پرانی دہلی جیسے اسٹیشنوں پر ’آج کاریزویشن ٹکٹ ، آج کا ریزویشن ٹکٹ‘ کی آواز لگانے والے دلال مل جائیں گے، ان سے رابطہ کرنے پر وہ آپ کو پاس ہی کسی ٹریول ایجنسی پر لے جائیں گے، ٹریول ایجنٹ آج ہی کے ٹکٹوں کی ایک موٹی گڈی لے کر بیٹھا ہوگا، ٹکٹ کی قیمت ضرورت مند کی ضرورت کے حساب سے طے ہوتی ہے جو کسی بھی صورت میں دوگنی سے کم نہیں ہوتی۔ جو ٹکٹ بچ جاتے ہیں ان کو واپس بھی نہیں کیا جاتا اس کے لیے یہ ایجنٹ ٹرین میں چلنے والے ٹی ٹی سے بات کرلیتے ہیں وہ ان سیٹوں کو منہ مانگی قیمت پر بیچ لیتے ہیں ۔ اس طرح دلالوں اور ریلوے کے کچھ کرپٹ ملازمین کی ملی بھگت سے عام مسافروں کے لئے ٹکٹ حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں رہ گیا ہے۔
                    ریلوے  اگر واقعی چاہتی کہ دلالوں کی اس ہیرا پھیری سے مسافروں کو نجات دلائیں تو اس کے لیے انہیں سخت قدم اٹھانے ہوں گے۔ اس کا ایک آسان طریقہ یہ ہے تمام ریزرویشن ٹکٹوں کے لئے شناختی کارڈ کو لازمی کردیا جائے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے تتکال ٹکٹوں کے لئے شناختی کارڈ کو ضروری قرار دیا گیا تھا یہ ایک اچھا قدم ہے اس سے فرضی ناموں پر ٹکٹوں کی خرید اور فروخت پر لگام لگے گی۔ آج کے زمانے میں کم ہی لوگ ہوں گے جن کے پاس کسی بھی قسم کا شناختی کارڈ نہ ہو۔


                    دوسرا کام یہ کیا جاسکتا ہے کہ ریزرویشن کی مدت تین مہینہ سے کم کرکے دو مہینہ کردیا جائے۔میری اپیل ہے کہ جلد ہی مذکورہ تدابیر یا اس کے علاوہ جو بھی ماہرین کامشورہ ہو اپناکر مسافروں کو دلالوں سے نجات دلائیں۔ امید کہ محترمہ ممتا بینرجی جلد اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھائیں گی۔