اتوار، 18 اکتوبر، 2009

نیا تعلیمی نظام کہیں معیار تعلیم کے ساتھ کھلواڑ تو نہیں



منموہن حکومت کی کابینہ میں جب سے  سبل صاحب نے وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کا قلمدان سنبھالا ہے تب سے ان کے بلند بانگ دعوے ہر روز اخبارات کی زینت بن رہے ہیں۔ اگر ان دعوؤں پر یقین کیا جائے تو بھارت کے تعلیمی نظام میں آنے والے چند سالو ںمیں انقلاب برپا ہونے والا ہے۔
آئےے ہم دیکھتے ہیں کہ موصوف کے منصوبے کیا ہیں ؟اور اس سے کس قسم کے انقلاب کی توقع کی جاسکتی ہے؟
کپل سبل صاحب کے اعلان کے مطابق اس سال سے سی بی ایس ای (CBSE)اسکولوں میں دسویں کلاس کے لئے گریڈنگ سسٹم کا نفاذ اور اگلے سال سے دسویں کا بورڈ امتحان ختم کر دیا جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے بچوں پر ذہنی دباؤ کم ہوگا اور نمبر گیم کے چکر میں بچوں کی معصومیت کا خون نہیں ہوگا۔
سب سے پہلے ہم گریڈنگ سسٹم کی بات کرتے ہیں۔ اس سسٹم میں اب بچوں کو فیصد میں نمبرات ملنے کی بجائے A،A+، BاورB+میں نمبرات دیئے جائیں گے۔ لہٰذا اب اگر کسی طالب علم کا مجموعی فیصد ٩١ بنتا ہے اور دوسرے کا ٪٩٨ ،تودونوں کو ایک ہی گریڈ ملے گا۔ اس سسٹم کی وجہ سے بچے تعلیم سے لاپرواہ نہ ہوجائیں اس سے بچنے کے لئے (CCE) Continual Comprehensive Evaluation کا نظام نافذ ہوگا جس میں پورے سال لگاتار اسسمنٹ کیا جائے گا۔ اس میں کتابی علم کے علاوہ کھیل کود، نظم و نسق، اخلاق اور بچے کی قائدانہ صلاحیتوں کو جانچا پرکھا جائے گا اور اس پر طلبہ کو نمبرات دئے جائیں گے۔
اس نظام کو نافذ کرنے کا بنیادی مقصد جیسا کہ بتایا جارہا ہے بچوں کے دلوں سے امتحان کا خوف ختم کرنا ہے اور تعلیم کو لے کر ان کے ذہنوں پر بے جا دباؤ کوکم کرنا ہے لیکن اگر غورکیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ دباؤ اب بھی لگاتار اسسمنٹ کی وجہ سے برقرار ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ دباؤ ان معصوموں پر پڑے گا۔
اسسمنٹ نظام کی سب سے بڑی برائی جو سامنے آئے گی وہ یہ کہ اب طلبہ اساتذہ کو خوش کرنے پر زیادہ توجہ دیںگے۔ اساتذہ اپنے چہیتے بچوں کو من مانی نمبر دیںگے۔ اس سے مستحق طلبہ کی حق تلفی کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
ایک بڑی خامی یہ ہے کہ اس سسٹم کے لئے خاکہ بناتے وقت انسانی نفسیات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ جب تک انسان پر کوئی داخلی یا خارجی دباؤ نہ ہو آدمی صحیح طور پر کام نہیں کرتا ہے۔ ایک معمولی سی مثال لیں کہ آپ کو صبح چار بچے کی ٹرین پکڑ کر کہیں جانا ہوگا تو ضروری سی بات ہے کہ اس کےلئے ہر حال میں وقت سے پہلے بیدار ہو کر اسٹیشن پہنچ جائیں گے تاکہ ٹرین نہ چھوٹے۔ اور اگر معاملہ یہ ہو کہ آپ کو خود کی سواری سے کہیں جانا ہو اور وقت کی کوئی تعین نہ ہو تو گھر سے نکلتے نکلتے ١٢ بجے جائیں گے۔ یہ عام مشاہدہ کی بات ہے اس سے ہر کوئی واقف ہے۔
موجودہ نظام سے کم از کم طلبہ امتحان کے خوف سے پڑھائی پر توجہ دیا کرتے تھے وہ اب فیل ہونے کا خوف نکل جانے کی وجہ سے سال بھر پڑھائی سے زیادہ کھیل کود اور دوسری غیر تعلیمی مصروفیات میں اپنا وقت ضائع کریں گے۔ یہ بچے نہ خود پڑھیں گے اور نہ دوسروں کو پڑھنے دیں گے اس طرح اسکول کا ماحول خراب ہوکر رہ جائے گا۔
گریڈنگ سسٹم کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ CBSEکے علاوہ دوسرے بورڈ اس کو نافذ نہیں کر رہے ہیں۔ اس سے پہلی بات تو یہ کہ ملک کے دوسرے بورڈوں سے CBSEکی دوریاں اور بڑھیںگی اوردوسری بات یہ کہ ملک کی بہت ساری یونیورسٹیاں اپنے یہاں داخلہ میرٹ کی بنیاد پر دیتی ہےں۔ ایسے میں ان طلبہ کے سامنے داخلہ کا بھی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔
کل ملا کر گریڈنگ سسٹم سے کسی مثبت تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
کپل سبل صاحب نے دوسرا بڑا اعلان یہ کیا ہے کہ اگلے سال سے دسویں کا امتحان اختیاری ہوجائے گا۔ وزیر موصوف کی نظر میں دسویں کا بورڈ امتحان کا رِعبث ہے۔
دراصل دسویں تک ہمارے موجودہ تعلیمی نظام میں سبھی طالب علموں کو ایک ہی جیسے مضامین پڑھنے ہوتے ہیں۔ دسویں کے بعد مضمون کے اختیار کرنے کا مسئلہ ہوتا ہے یہیں سے یہ طے ہوتا ہے کہ طالب علم آرٹس، سائنس یا کامرس میں سے کس طرف جانا چاہتا ہے۔ لہٰذا دسویں پاس کرنے کا مطلب ہوا کہ بچے نے ایک مرحلہ مکمل کرلیا ہے اب اس کو دوسرے مرحلہ میں قدم رکھنا ہے۔ اس وجہ سے بورڈ کا امتحان لیا جاتا ہے تاکہ سبھی بچوں کو ایک ہی معیار پر نمبرات ملیں۔ ورنہ ہر اسکول اپنے حساب سے نمبر دے گا جس سے اس کا اعتبار مجروح ہوگا۔
بورڈ امتحان کے خوف سے طلبہ پڑھائی میں دلچسپی لیتے ہیںبورڈکا خوف ختم ہونے کی وجہ سے پڑھائی سے بے پروا ہی بڑھے گی اور اس کا برا نتیجہ بار ہویں کے امتحان میں سامنے آ سکتاہے۔ جس انداز سے وزیر محترم طلبہ کی سہولت پر خصوصی دھیان دے رہے ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ کچھ سالوں میں وہ بارہویں کے بورڈ امتحان کو بھی اختیاری کر سکتے ہیں۔ اس سے تعلیم کا کیا ہوگا وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
بورڈ متحان صرف اسکولوں کے لیے نہیں بلکہ کچھ ایسا نظام بنایا جائے کہ مدارس کا بھی کم از کم آخری سال کا امتحان بورڈ کے ذریعہ ہو۔اس لیے کہ مختلف مدارس میں نمبرنگ کے مختلف پیمانے ہونے کی وجہ سے اس کا معیار مجروح ہوتا ہے۔
ابھی کچھ دنوں پہلے مدرسہ بورڈ کا سوسہ چھوڑ کر سابق ایچ آر ڈی (HRD)منسٹر ارجن سنگھ نے پورے مدارس برادری کو دو خانوں میں تقسیم کردیا تھا،میری رائے یہ ہے کہ (CBSE)کے پیٹرن پر حکومت کسی ایسے بورڈ کی تشکیل کرے جو فضیلت کے بعد پورے ملک میں امتحان کراکر انہیں بارہویں کے مساوی سرٹیفکٹ دے تاکہ یہ طلبہ عام طالب علموں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر چل سکیں۔ اگر چہ مدارس کے نصاب میں یکسانیت نہیں ہے مگر جس طرح CBSEکوآرٹس ،کامرس اور سائنس کے بارہوں کے امتحانات کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی اس طرح مختلف نصاب والے مدارس کے سلسلے میں بھی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
اب تک مدرسہ بورڈ کے نام پر جو ادارے ملک کے مختلف صوبوں میں رائج ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ اس کے فارغین کی اخلاقی حالت پر شک ہونے لگتا ہے کیونکہ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ مدرسہ بورڈ کے امتحانات میںجبہ ودستار والے 'دینی رہنما' اپنی ماتحتی نقل کراتے ہیں۔
وزیر موصوف کو چاہئے کہ تعلیم کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دیں۔تعلیمی اداروں میں صرف اسکول ہی نہیں آتے بلکہ مدارس اسلامیہ بھی ملک کے تعلیمی نظام کا حصہ ہیں لہذا انہیں ساتھ لیکر چلیں۔ ملک کے سرکاری اسکولوں کی حالت دن بدن خستہ ہوتی جارہی ہے۔ سرکاری پرائمری اسکولوںکی ایک بڑی تعداد صرف ایک ٹیچر کے سہارے چل رہی ہے۔ اسکولوں کی عمارتیںاس قدر خستہ ہےں کہ آئے دن حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں دہلی کے ایک سرکاری اسکول میں بھگڈر مچنے کی وجہ سے سات اسکولی طالبات اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اس کے لئے جہاں اسکول انتظامیہ کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے وہیں اسکول کی بوسیدہ عمارت کو بھی اس بھگدڑ کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
کپل سبل صاحب کو سوچنا ہوگا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں ٹیچر بننے کے لئے تو لوگ لاکھوں روپئے رشوت دینے کو تیار رہتے ہیں مگر متوسطہ طبقہ بھی اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں بھیجنا گوارا نہیں کرتا۔
اسکولوں میں معمولی بنیادی سہولتوں کے فقدان کے باوجود محض دعوؤں کی بنیاد پر پورے تعلیمی سیکڑ میں انقلاب برپاکرنے کی بات کرنا محض کام خیالی ہوگی۔    ٭٭٭