جمعرات, جولائی 2, 2009

ٹھنڈا گوشت


Thanda gosht

by

mantoo


ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا، کلونت کور پلنگ سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کر طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کر دی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔

کلونت کور پلنگ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔ ایشر سنگھ جو غالباّ اپنے پراگندہ خیالات کے الجھے ہوئے دھاگے کھول رہا تھا، ہاتھ میں‌ کرپان لیے ایک کونے میں کھڑا تھا۔ چند لمحات اسی طرح خاموشی میں گزر گئے۔ کلونت کور کو تھوڑی دیر کے بعد اپنا آسن پسند نہ آیا اور دونوں ٹانگیں پلنگ سے نیچے لٹکا کر ہلانے لگی۔ ایشر سنگھ پھر بھی کچھ نہ بولا۔

کلونت کور بھرے بھرے ہاتھ پیروں والی عورت تھی۔ چوڑے چکلے کولہے، تھل تھل کرنے والے گوشت سے بھرپور کچھ زیادہ ہی اوپر کو اٹھا ہوا سینہ، تیز آنکھیں، بالائی ہونٹ پر بالوں کا سرمئی غبار، ٹھوڑی کی ساخت سے پتہ چلتا تھا کہ بڑے دھڑلے کی عورت ہے۔

ایشر سنگھ سر نیوڑھائے ایک کونے میں چپ چاپ کھڑا تھا، سر پر اس کی کس کر باندھی ہوئی پگڑی ڈھیلی ہو رہی تھی، اس کے ہاتھ جو کرپان کو تھامے ہوئے تھے، تھوڑے تھوڑے لرزاں تھے، مگر اس کے قد و قامت اور خد و خال سے پتہ چلتا تھا کہ وہ کلونت کور جیسی عورت کے لیے موزوں ترین مرد ہے۔

چند اور لمحات جب اسی طرح خاموشی میں گزر گئے تو کلونت کور چھلک پڑی۔ لیکن تیز تیز آنکھوں کو نچا کر وہ صرف اس قدر کہہ سکی ایشر سیاں

ایشر سنگھ نے گردن اٹھا کر کلونت کور کی طرف دیکھا، مگر اس کی نگاہوں کی تاب نہ لا کر منہ دوسری طرف موڑ لیا۔

کلونت کور چلائی ایشر سیاں لیکن فوراّ ہی آواز بھینچ لی اور پلنگ سے اٹھ کر اس کی جانب جاتے ہوئے بولی کہاں رہے تم اتنے دن؟

ایشر سنگھ نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری مجھے معلوم نہیں۔

کلونت کور بھنا گئی یہ بھی کوئی ماں یا جواب ہے۔

ایشر سنگھ نے کرپان ایک طرف پھینک دی اور پلنگ پر لیٹ گیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا یہ وہ کئی دنوں کا بیمار ہے۔ کلونت کور نے پلنگ کی طرف دیکھا جو اب ایشر سنگھ سے لبالب بھرا تھا۔ اس کے دل میں ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو گیا۔ چنانچہ اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس نے بڑے پیار سے پوچھا جانی، کیا ہوا ہے تمہیں؟

ایشر سنگھ چھت کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس سے نگاہیں ہٹا کر اس نے کلونت کور کے مانوس چہرے کو ٹٹولنا شروع کیا۔ کلونت

آواز میں درد تھا، کلونت ساری کی ساری سمٹ کر اپنے بالائی ہونٹ میں آ گئی۔ ہاں جانی۔کہہ کر وہ اس کو دانتوں سے کاٹنے لگی۔

ایشر سنگھ نے پگڑی اتار دی۔ کلونت کور کو سہارا لینے والے نگاہوں سے دیکھا۔ اس کے گوشت بھرے کولہے پر زور سے دھپا مارا اور سر کو جھٹکا دے کر اپنے آپ سے کہا یہ کڑی یا دماغ خراب ہے۔

جھٹکا دینے سے اس کے کیس کھل گئے۔ کلونت کور انگلیوں سے ان میں کنگھی کرنے لگی۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے بڑے پیار سے پوچھا ایشر سیاں کہاں رہے تم اتنے دن؟

بُرے کی ماں کے گھر۔ایشر سنگھ نے کلونت کور کو گھور کے دیکھا اور دفعتہّ دونوں ہاتھوں سے اس کے ابھرے ہوئے سینے کو مسلنے لگا۔ قسم واہگورو کی، بڑی جاندار عورت ہو۔

کلونت کور نے ایک ادا کے ساتھ ایشر سنگھ کے ہاتھ ایک طرف جھٹک دیئے اور پوچھا تمہیں میری قسم، بتاؤ کہاں رہے ------ شہر گئے تھے؟

ایشر سنگھ نے ایک ہی لپیٹ میں اپنے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے جواب دیا۔ نہیں

کلونت کور چڑ گئی، نہیں تم ضرور شہر گئے تھے ------ اور تم نے بہت سا روپیہ لوٹا ہے جو مجھ سے چھپا رہے ہو۔

وہ اپنے باپ کا تخم نہ ہو جو تم سے جھوٹ بولے۔

کلونت کور تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئی، لیکن فوراّ ہی بھڑک اٹھی۔

لیکن میری سمجھ میں نہیں آتا، اس رات تمہیں ہوا کیا ------ اچھے بھلے میرے ساتھ لیٹے تھے، مجھے تم نے وہ سارے گہنے پہنا رکھے تھے جو تم شہر سے لوٹ کر لائے تھے۔ میری بھپیاں لے رہے تھے، پر جانے ایک دم تمہیں کیا ہوا، اٹھے کپڑے پہن کر باہر نکل گئے۔

ایشر سنگھ کا رنگ زرد ہو گیا۔ کلونت کور نے یہ تبدیلی دیکھتے ہی کہا، دیکھا کیسے رنگ نیلا پڑ گیا ------ ایشر سیاں، قسم واہگورو کی، ضرور کچھ دال میں کالا ہے۔

تیری جان کی قسم، کچھ بھی نہیں۔

ایشر سنگھ کی آواز بے جان تھی۔ کلونت کور کا شبہ اور زیادہ مضبوط ہو گیا۔ بالائی ہونٹ بھینچ کر اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا، ایشر سیاں، کیا بات ہے، تم وہ نہیں ہو جو آج سے آٹھ روز پہلے تھے؟

ایشر سنگھ ایک دم اٹھ بیٹھا جیسے کسی نے اس پر حملہ کیو تھا۔ کلونت کور کو اپنے تنومند بازوؤں میں سمیٹ کر اس نے پوری قوت کے تھا بھنبھوڑنا شروع کر دیا۔ جانی میں وہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ گُھٹ گُھٹ پا جپھیاں، تیری نکلے ہڈاں دی گرمی۔۔۔۔۔۔۔۔

کلونت کور نے کوئی مزاحمت نہ کی، لیکن وہ شکایت کرتی رہی، تمہیں اس رات ہو کیا گیا تھا؟

بُرے کی ماں کا وہ ہو گیا تھا۔

بتاؤ گے نہیں؟

کوئی بات ہو تو بتاؤں۔

مجھے اپنے ہاتھوں سے جلاؤ اگر جھوٹ بولو۔

ایشر سنگھ نے اپنے بازو اس کی گردن میں ڈال دیئے اور ہونٹ اس کے ہونٹوں میں گاڑ دیئے۔ مونچھوں کے بال کلونت کور کے نتھنوں میں گھسے تو اسے چھینک آ گئی۔ دونوں ہنسنے لگے۔

ایشر سنگھ نے اپنی صدری اتار دی اور کلونت کور کو شہوانی نظروں سے دیکھ کر کہا، آ جاؤ ایک بازی تاش کی ہو جائے۔

کلونت کور کے بالائی ہونٹ پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں پھوٹ آئیں۔ ایک ادا کے ساتھ اس نے اپنی آنکھوں کی پتلیاں گھمائیں اور کہا، چل دفعان ہو۔

ایشر سنگھنے اس کے بھرے ہوئے کولہے پر زور سے چٹکی بھری۔ کلونت کور تڑپ کر ایک طرف ہٹ گئی۔ نہ کر ایشر سیاں، میرے درد ہوتا ہے۔

ایشر سنگھ نے آگے بڑھ کر کلونت کور کا بالائی ہونٹ اپنے دانتوں تلے دبا لیا اور کچکچانے لگا۔ کلونت کور بالکل پگھل گئی۔ ایشر سنگھ نے اپنا کرتہ اتار کے پھینک دیا اور کہا لو پھر ہو جائے ترپ کی چال۔۔۔۔۔۔۔۔

کلونت کور کا بالائی ہونٹ کپکپانے لگا۔ ایشر سنگھ نے دونوں ہاتھوں سے کلونت کور کی قمیص کا گھیرا پکڑا اور جس طرح بکرے کی کھال اتارتے ہیں، اسی طرح اس کو اتار کر ایک طرف رکھ دیا۔ پھر اس نے گھور کے اس کے ننگے بدن کو دیکھا اور زور سے بازو پر چٹکی لیتے ہوئے کہا۔ کلونت، قسم واہگورو کی بڑی کراری عورت ہے تو۔

کلونت کور اپنے بازو پر اُبھرتے ہوئے لال دھبے کو دیکھنے لگی، بڑا ظالم ہے تو ایشر سیاں۔

ایشر سنگھ اپنی گھنی مونچھوں میں مسکرایا، ہونے دے آج ظلم۔اور یہ کہہ کر اس نے مزید ظلم ڈھانے شروع کر کئے۔ کلونت کور کا بالائی ہونٹ دانتوں تلے کچکچایا۔ کان کی لوؤں کو کاٹا۔ اُبھرے ہوئے سینے کو بھنبھوڑا۔ بھرے ہوئے کولہوں پر آواز پیدا کرنے والے چانٹے مارے۔ گالوں کے منہ بھر بھر کے بوسے لیے۔چوس چوس کر اس کا سارا سینہ تھوکوں سے لتیھڑ دیا۔ کلونت کور تیز آنچ پر چڑھی ہوئی ہانڈی کے طرح اُبلنے لگی۔ لیکن ایشر سنگھ ان تمام حیلوں کے باوجود خود میں حرارت پیدا نہ کر سکا۔ جتنے گُر اور جتنے داؤ اسے یاد تھے سب کے سب اس نے پٹ جانے والے پہلوان کی طرح استعمال کر دیئے پر کوئی کارگر نہ ہوا۔ کلونت کور نے جس کے بدن کے سارے تار تن کر خودبخود بج رہے تھے غیر ضروری چھیڑ چھاڑ سے تنگ آ کر کہا، ایشر سیاں، کافی پھینٹ چکا، اب پتا پھینک۔

یہ سنتے ہی ایشر سنگھ کے ہاتھ سے جیسے تاش کی ساری گڈی نیچے پھسل گئی۔ ہانپتا ہوا وہ کلونت کور کے پہلو میں لیٹ گیا اور اس کے ماتھے پر سرد پسینے کے لیپ ہونے لگے۔ کلونت کور نے اسے گرمانے کی بہت کوشش کی، مگر ناکام رہی۔ اب تک سب کچھ منہ سے کہے بغیر ہی ہوتا رہا تھا، لیکن جب کلونت کور کے منتظر بہ عمل اعضا کو سخت ناامیدی ہوئی تو وہ جھلا کر پلنگ سے نیچے اتر گئی۔ سامنے کھونٹی پر چادر پڑی تھی۔ اس کو اتار کر اس نے جلدی جلدی اوڑھ کر اور نتھنے پھلا کر بپھرے ہوئے لہجے میں کہا، ایشر سیاں، وہ کون حرامزادی ہے جس کے پاس تو اتنے دن رہ کر آیا ہے اور جس نے تجھ کو نچوڑ ڈالا ہے؟

ایشر سنگھ پلنگ پر لیٹا ہانپتا رہا اور اس نے کوئی جواب نہ دیا۔

کلونت کور غصے سے اُبلنے لگی، میں پوچھتی ہوں، کون ہے وہ چڈو ------ کون ہے وہ الفتی ------ کون ہے وہ چور پتہ ؟

ایشر سنگھ نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا کوئی بھی نہیں کلونت، کوئی بھی نہیں۔

کلونت کور نے اپنے بھرے ہئے کولہوں پر ہاتھ رکھ کر ایک عزم کے ساتھ کہا ایشر سیاں، میں آج جھوٹ سچ جان کے رہوں گی ------ واہگور جی کی قسم ------ کیا اس کی تہہ میں کوئی عورت نہیں؟

ایشر سنگھ نے کچھ کہنا چاہا، مگر کلونت کور نے اس کی اجازت نہ دی، قسم کھانے سے پہلے سوچ لے کہ میں بھی سردار نہال سنگھ کی بیٹی ہوں ------ تکا بوٹی کر دوں گی اگر تو نے جھوٹ بولا ------ لے اب کھا واہگورو کی قسم ------ کیا اس کی تہہ میں کوئی عورت نہیں ؟

ایشر سنگھ نے بڑے دکھ کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا۔ کلونت کور بالکل دیوانی ہو گئی۔ لپک کر کونے میں سے کرپان اٹھائی، میان کو کیلے کے چھلکے کی طرح اتار کر ایک طرف پھینکا اور ایشر سنگھ پر وار کر دیا۔

آن کی آن میں لہو کے فوارے چھوٹ پڑے۔ کلونت کور کی اس سے بھی تسلی نہ ہوئی تو اس نے وحشی بلیوں کی طرح ایشر سنگھ کے کیس نوچنے شروع کر دیئے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی نامعلوم سوت کو موٹی موٹی گالیاں دیتی رہی۔ ایشر سنگھ نے تھوڑی دیر کے بعد نقاہت بھری التجا کی جانے دے اب کلونت، جانے دے۔

آواز میں بلا کا درد تھا، کلونت کور پیچھے ہٹ گئی۔

خون ایشر سنگھ کے گلے سے اڑ اڑ کر اس کی مونچھوں پر گر رہا تھا۔ اس نے اپنے لرزاں ہونٹ کھولے اور کلونت کور کی طرف شکریے اور گِلے کی ملی جلی نگاہوں سے دیکھا۔

میری جان، تم نے بہت جلدی کی ------ لیکن جو ہوا ٹھیک ہے۔

کلونت کور کا حسد پھر بھڑکا، مگر وہ کون ہے؟ تمہاری ماں۔

لہو ایشر سنگھ کی زبان تک پہنچ گیا۔ جب اس نے اس کا ذائقہ چکھا تو اس کے بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔

اور میں ۔۔۔۔۔۔ اس میں ۔۔۔۔۔۔ بھینی یا چھ آدمیوں کو قتل کر چکا ہوں ۔۔۔۔۔۔ اس کرپان سے۔۔۔۔۔۔

کلونت کور کے دماغ میں صرف دوسری عورت تھی۔ میں پوچھتی ہوں، کون ہے وہ حرامزادی؟

ایشر سنگھ کی آنکھیں دھندلا رہی تھیں۔ ایک ہلکی سی چمک ان میں پیدا ہوئی اور اس نے کلونت کور سے کہا، گالی نہ دے اس بھڑوی کو۔

کلونت چلائی، میں پوچھتی ہوں، وہ ہے کون؟

ایشر سنگھ کے گلے میں آواز رندھ گئی، بتاتا ہوں۔یہ کہہ کر اس نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیرا اور اس پر اپنا جیتا خون دیکھ کر مسکرایا، انسان ماں یا بھی ایک عجیب چیز ہے۔

کلونت کور اس کے جواب کی منتظر تھی، ایشر سیاں تو مطلب کی بات کر۔

ایشر سنگھ کی مسکراہٹ اس کی لہو بھری مونچھوں میں اور زیادہ پھیل گئی ------ “ مطلب ہی کی بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔ گلا چِرا ہے ماں یا میرا ۔۔۔۔۔۔ اب دھیرے دھیرے ہی ساری بات بتاؤں گا۔

اور جب وہ بات بتانے لگا تو اس کے ماتھے پر ٹھنڈے پسینے کے لیپ ہونے لگے۔ کلونت، میری جان ۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں نہیں بتا سکتا، میرے ساتھ کیا ہوا۔۔۔۔۔۔ انسان کڑی یا بھی ایک عجیب چیز ہے۔۔۔۔۔۔ شہر میں لوٹ مچی تو سب کی طرح میں نے بھی اس میں حصہ لیا لیکن ایک بات تمہیں نہ بتائی۔

ایشر سنگھ نے گھاؤ میں درد محسوس کیا اور کراہنے لگا۔ کلونت کور نے اس کی طرف توجہ نہ دی اور بڑی بے رحمی سے پوچھا کون سی بات؟

ایشر سنگھ نے مونچھوں پر جمتے ہوئے لہو کو پھونک کے ذریعے سے اڑاتے ہوئے کہا جس مکان پر ۔۔۔۔۔۔ میں نے دھاوا بولا تھا ۔۔۔۔۔۔ اس میں سات ۔۔۔۔۔۔اس میں سات آدمی تھے ۔۔۔۔۔۔۔ چھ میں نے قتل کر دیئے ۔۔۔۔۔۔ اسی کرپان سے جس سے تو نے مجھے ۔۔۔۔۔۔ چھوڑ اسے ۔۔۔۔۔۔ سن ۔۔۔۔۔۔ ایک لڑکی تھی بہت سندر ۔۔۔۔۔۔ اس کو اٹھا کر میں اپنے ساتھ لے آیا۔

کلونت کور خاموش سنتی رہی۔ ایشر سنگھ نے ایک بار پھر پھونک مار کے مونچھوں پر سے لہو اڑایا۔ کلونت جانی میں تم سے کیا کہوں کتنی سندر تھی۔۔۔۔۔۔ میں اسے بھی مار ڈالتا، پر میں نے کہا، نہیں ایشر سیاں، کلونت کور کے تو ہر روز مزے لیتا ہے، یہ میوہ بھی چکھ دیکھ۔

کلونت کور نے صرف اس قدر کہا ہوں ۔۔۔۔۔۔

اسے میں کندھے پر ڈال کر چل دیا ۔۔۔۔۔۔ راستے میں ۔۔۔۔۔۔ کیا کہہ رہا تھا میں ۔۔۔۔۔۔ ہاں راستے میں ۔۔۔۔۔۔ نہر کی پٹری کے پاس، تھوہر کی جھاڑیوں تلے میں نے اسے لٹا دیا ۔۔۔۔۔۔ پہلے سوچا کہ پھینٹوں، لیکن پھر خیال آیا کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ کہتے کہتے ایشر کی زبان سوکھ گئی۔

کلونت کور نے تھوک نگل کر اپنا حلق تر کیا اور پوچھا۔ پھر کیا ہوا؟

ایشر سنگھ کے حلق سے بمشکل یہ الفاظ نکلے، میں نے ۔۔۔۔۔۔ پتا پھینکا ۔۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔ لیکن

اس کی آواز ڈوب گئی۔

کلونت کور نے اسے جھنجھوڑا، پھر کیا ہوا؟

ایشر سنگھ نے اپنی بند ہوتی ہوئی آنکھیں کھولیں اور کلونت کور کے جسم کی طرف دیکھا جس کی بوٹی بوٹی تھرک رہی تھی وہ مری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔لاش تھی ۔۔۔۔۔۔ بالکل ٹھنڈا گوشت ۔۔۔۔۔۔ جانی مجھے اپنا ہاتھ دے ۔۔۔۔۔۔

کلونت کور نے اپنا ہاتھ ایشر سنگھ کے ہاتھ پر رکھا جو برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا تھا۔


۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔۔

بشكريه:

http://www.adabnama.com




نئی بیوی


(1)

ہمارا جسم پرانا ہے لیکن اس میں ہمیشہ نیا خون دوڑتا رہتا ہے، اسی نئے خون پر زندگی قائم ہے، دنیا کے قدیم نظام میں یہ نیا پن اسکے ایک ایک ذرے میں، ایک ایک ٹہنی میں، ایک ایک قطرے میں تار میں چھپے ہوئے نغمے کی طرح گونجتا رہتا ہے اور یہ سو سال کی بڑھیا آج بھی نئی دلہن بنی ہوئی ہے۔

جب سے لالہ ڈنگا مل نے نئی شادی کی ہے انکی جوانی از سرِ نو عود کر آئی ہے۔ جب پہلی بیوی بقیدِ حیات تھی وہ بہت کم گھر رہتے تھے، صبح سے دس گیارہ بجے تک تو پوجا پاٹ ہی کرتے رہتے، پھر کھانا کھا کر دکان پر چلے جاتے، وہاں سے ایک بجے رات کو لوٹتے اور تھکے ماندے سو جاتے۔ اگر لیلا کبھی کہتی کہ ذرا اور سویرے آ جایا کرو تو بگڑ جاتے، "تمھارے لیے کیا دکان بند کر دوں یا روزگار چھوڑ دوں، یہ وہ زمانہ نہیں ہے کہ ایک لوٹا جل چڑھا کر لکشمی کو خوش کر لیا جائے، آج کل لکشمی کی چوکھٹ پر ماتھا رگڑنا پڑتا ہے تب بھی انکا منہ سیدھا نہیں ہوتا"۔ لیلا بیچاری خاموش ہو جاتی۔

ابھی چھ مہینے کی بات ہے، لیلا کو زور کا بخار تھا، لالہ جی دکان پر چلنے لگے تو لیلا نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ "دیکھو، میری طبیعت اچھی نہیں ہے، ذرا سویرے آ جانا۔"

لالہ جی پگڑی اتار کھونٹی پر لٹکا دی اور بولے۔ "اگر میرے بیٹھے رہنے سے تمھارا جی اچھا ہو جائے تو میں دکان پر نہ جاؤں گا۔"

لیلا رنجیدہ ہو کر بولی۔ "میں یہ کب کہتی ہوں کہ تم دکان پر نہ جاؤ، میں ذرا سویرے آ جانے کو کہتی ہوں۔"

"تو کیا میں دکان پر بیٹھا موج کرتا ہوں؟"

لیلا کچھ نہ بولی، شوہر کی یہ بے اعتنائی اس کیلیئے کوئی نئی بات نہ تھی۔ ادھر کئی سال سے اسے اسکا دلدوز تجربہ ہو رہا تھا کہ اس گھر میں اسکی قدر نہیں ہے۔ اگر اسکی جوانی ڈھل چکی تھی تو اسکا کیا قصور تھا، کس کی جوانی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ لازم تو یہ تھا کہ 25 سال کی رفاقت اب گہرے رومانی تعلق میں تبدیل ہو جاتی جو ظاہر ہے بے نیاز رہتی ہے، جو عیب کو بھی حسن دیکھنے لگتی ہے، جو پکے پھل کی طرح زیادہ شیریں، زیادہ خوشنما ہو جاتی ہے۔ لیکن لالہ جی کا تاجر دل ہر ایک چیز کو تجارت کے ترازو پر تولتا تھا، بوڑھی گائے جب دودھ نہ دے سکتی ہو، نہ بچے تو اس کیلیئے گئو شالہ سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ انکے خیال میں لیلا کیلیئے بس اتنا ہی کافی تھا کہ وہ گھر کی مالکن بن رہے، آرام سے کھائے، پہنے اور پڑی رہے۔ اسے اختیار ہے چاہے جتنے زیور بنوائے، چاہے جتنی خیرات اور پوجا کرے، روزے رکھے، صرف ان سے دور رہے۔ فطرتِ انسانی کی نیرنگیوں کا ایک کرشمہ یہ تھا کہ لالہ جی جس دلجوئی اور حظ سے لیلا کو محروم رکھنا چاہتے تھے خود اسی کیلیئے ابلہانہ سرمستی سے متلاشی رہتے تھے۔ لیلا چالیس کی ہو کر بوڑھی سمجھ لی گئی تھی مگر وہ پینتالیس کے ہو کر ابھی جوان تھے۔ جوانی کے ولولوں اور مسرتوں سے بیقرار، لیلا سے اب انہیں ایک طرح کی کراہت ہوتی تھی اور وہ غریب جب اپنی خامیوں کے حسرتناک احساس کی وجہ سے فطری بے رحمیوں کے ازالے کیلیئے رنگ روغن کی آڑ لیتی تو وہ اسکی بوالہوسی سے اور بھی متنفر ہو جاتے۔ "چہ خوش، سات لڑکوں کی تو ماں ہو گئیں، بال کھچڑی ہو گئے، چہرہ دھلے ہوئے فلالین کی طرح پر شکن ہو گیا، مگر آپ کو ابھی مہادر اور سیندور، مہندی اور ابٹن کی ہوس باقی ہے۔ عورتوں کی بھی کیا فطرت ہے، نہ جانے کیوں آرائش پر اس قدر جان دیتی ہیں، پوچھو اب تمھیں اور کیا چاہیئے؟ کیوں نہیں دل کو سمجھا لیتیں کہ جوانی رخصت ہو گئی اور ان تدبیروں سے اسے واپس نہیں بلایا جا سکتا۔" لیکن وہ خود جوانی کا خواب دیکھتے رہتے تھے، طبیعت جوانی سے سیر نہ ہوتی، جاڑوں میں کشتوں اور معجونوں کا استعمال کرتے رہتے تھے، ہفتے میں دو بار خضاب لگاتے اور کسی ڈاکٹر سے بندر کے غدودوں کے متعلق خط و کتابت کر رہے تھے۔

لیلا نے انہیں شش و پنج کی حالت میں کھڑا دیکھ کر مایوسانہ انداز سے کہا۔ "کچھ بتلا سکتے ہو، کے بجے آؤ گے۔"

لالہ جی نے ملائم لہجے میں کہا۔ "تمھاری طبیعت آج کیسی ہے؟"

لیلا کیا جواب دے؟ اگر کہتی ہے، بہت خراب ہے تو شاید یہ حضرت یہیں بیٹھ جائیں اور اسے جلی کٹی سنا کر اپنے دل کا بخار نکالیں۔ اگر کہتی ہے اچھی ہوں تو شاید بے فکر ہو کر دو بجے رات کی خبر لائیں۔ ڈرتے ڈرتے بولی۔ "اب تک تو اچھی تھی لیکن اب کچھ بھاری بھاری ہو رہی ہے لیکن تم جاؤ، دکان پر لوگ تمھارے منتظر ہونگے مگر ایشور کیلیئے دو نہ بجا دینا۔ لڑکے سو جاتے ہیں، مجھے ذرا بھی اچھا نہیں لگتا، طبیعت گھبراتی ہے۔"

سیٹھ جی نے لہجے میں محبت کی چاشنی دیکر کہا۔ "بارہ بجے تک آؤنگا ضرور۔"

لیلا کا چہرہ اتر گیا۔ "دس بجے تک نہیں آ سکتے۔"

"ساڑھے گیارہ سے پہلے کسی طرح نہیں۔"

"ساڑھے دس بھی نہیں۔"

"اچھا گیارہ بجے۔"

گیارہ پر مصالحت ہو گئی۔ لالہ جی وعدہ کر کے چلے گئے لیکن شام کو ایک دوست نے مجرا سننے کی دعوت دی۔ اب بیچارے اس دعوت کو کیسے رد کر دیتے۔ جب ایک آدمی آپ کو خاطر سے بلاتا ہے تو یہ کہاں کی انسانیت ہے کہ آپ اسکی دعوت نا منظور کر دیں، وہ آپ سے کچھ مانگتا نہیں، آپ سے کسی طرح کی رعایت کا خواستگار نہیں، محض دوستانہ بے تکلفی سے آپ کو اپنی بزم میں شرکت کی دعوت دیتا ہے، آپ پر اسکی دعوت قبول کرنا فرض ہوتا ہے۔ گھر کے جنجال سے کسے فرصت ہوتی ہے، ایک نہ ایک کام تو روز لگا ہی رہتا ہے، کبھی کوئی بیمار ہے، کبھی پوجا ہے، کبھی کچھ۔ اگر آدمی یہ سوچے کہ گھر سے بے فکر ہو کر جائیں گے تو اسے سارے دوستانہ مراسم منقطع کر لینے پڑیں گے، اسے شاید ہی گھر سے کبھی فراغت نصیب ہو۔ لالہ جی مجرا سننے چلے گئے تو دو بجے لوٹے، آتے ہی اپنے کمرے کی گھڑی کی سوئیاں پیچھے کر دیں لیکن ایک گھنٹے سے زیادہ کی گنجائش کسی طرح نہ نکال سکے، دو کو ایک کہہ سکتے ہیں، گھڑی کی تیزی کے سر الزام رکھا جاتا ہے لیکن دو کو بارہ نہیں کہہ سکتے۔ چپکے سے آ کر نوکر کو جگایا۔ کھانا کھا کر آئے تھے، اپنے کمرے میں جا کر لیٹ رہے۔ لیلا انکی راہ دیکھتی، ہر لمحہ درد اور بے چینی کی بڑھتی ہوئی شدت کا احساس کرتی نہ جانے کب سو گئی تھی۔ اسے جگانا سوئے ہوئے فتنے کو جگانا تھا۔

غریب لیلا اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکی، لالہ جی کو اسکی وفات کا بیحد روحانی صدمہ ہوا۔ دوستوں نے تعزیت کے تار بھیجے، کئی دن تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا، ایک روزانہ اخبار نے مرنے والی کی قصیدہ خوانی کرتے ہوئے اسکی دماغی اور اخلاقی خوبیوں کی مبالغہ آمیز تصویر کھینچی۔ لالہ جی نے ان سب ہمدردوں کا دلی شکریہ ادا کیا اور انکے خلوص اور وفاداری کا اظہار جنت نصیب لیلا کے نام سے لڑکیوں کیلیئے پانچ وظیفے قائم کرنے کی صورت میں نمودار ہوا۔ "وہ نہیں مریں صاحب، میں مر گیا۔ زندگی کی شمعِ ہدایت گل ہو گئی، اب تو جینا اور رونا ہے، میں تو ایک حقیر انسان تھا نہ جانے کس کارِ خیر کے صلے میں مجھے یہ نعمت بارگاہِ ایزدی سے عطا ہوئی تھی، میں تو اسکی پرستش کرنے کے قابل بھی نہ تھا۔" وغیرہ۔

چھ مہینے کی عزلت اور نفس کشی کے بعد لالہ ڈنگا مل نے دوستوں کے اصرار سے دوسری شادی کر لی۔ آخر غریب کیا کرتے، زندگی میں ایک رفیق کی ضرورت تو تھی ہی اور اس عمر میں تو رفیق کی ضرورت اور زیادہ ہو گئی تھی۔ لکڑی کی ضرورت تو جبھی ہوتی ہے جب پاؤں میں کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رہتی۔

(2)

جب سے نئی بیوی آئی ہے، لالہ جی کی زندگی میں حیرت انگیز انقلاب ہو گیا ہے، دکان سے اب انہیں اس قدر انہماک نہیں ہے، متواتر نہ جانے سے بھی انکے کاروبار میں کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ زندگی سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت جو ان میں روز بروز مضحمل ہوتی جاتی تھی، اب یہ ترشح پا کر پھر سرسبز ہو گئی ہے، اس میں نئی نئی کونپلیں پھوٹنے لگی ہیں۔ موٹر نیا آ گیا ہے، کمرے نئے فرنیچر سے آراستہ کر دیئے گئے ہیں، نوکروں کی تعداد میں معقول اضافہ ہو گیا ہے، ریڈیو بھی لگا دیا گیا ہے۔ لالہ جی کی بوڑھی جوانی، جوانوں کی جوانی سے بھی زیادہ پرچوش اور ولولہ انگیز ہو رہی ہے، اسی طرح جیسے بجلی کی روشنی چاند کی روشنی سے زیادہ شفاف اور نظر فریب ہوتی ہے۔ لالہ جی کو انکے احباب انکی اس جوان طبعی پر مبارکباد دیتے ہیں تو وہ تفاخر کے انداز سے کہتے ہیں۔ "بھئی ہم تو ہمیشہ جوان رہے اور جوان رہیں گے، بڑھاپا میرے آئے تو اسکے منہ پر سیاہی لگا کر گدھے پر الٹا سوار کر کے شہر بدر کردوں، جوانی اور بڑھاپے کو لوگ نہ جانے عمر سے کیوں منسوب کرتے ہیں، جوانی کا عمر سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا مذہب کا اخلاق سے، روپے کا ایمانداری سے، حسن کا آرائش سے۔ آجکل کے جوانوں کو آپ جوان کہتے ہیں، ارے صاحب میں انکی ایک ہزار جوانیوں کو اپنی جوانی کے ایک گھنٹے سے تبدیل نہ کروں، معلوم ہوتا ہے زندگی میں کوئی دلچسپی ہی نہیں، کوئی شوق ہی نہیں، زندگی کیا ہے گلے میں پڑا ہوا ڈھول ہے۔" یہی الفاظ وہ کچھ ضروری ترمیم کے بعد آشا دیوی کے لوحِ دل پر نقش کرتے رہتے ہیں۔ اس سے ہمیشہ سینما، ٹھیٹر، سیرِ دریا کیلیئے اصرار کرتے ہیں لیکن آشا نہ جانے کیوں ان دلچسپیوں سے ذرا بھی متاثر ہو جاتی تو ہے مگر اصرار کے بعد۔ ایک دن لالہ جی نے آ کر کہا۔ "چلو آج بجرے پر دریا کی سیر کر آئیں۔"

بارش کے دن تھے، دریا چڑھا ہوا تھا، ابر کی قطاریں بین الاقوامی فوجوں کی سی رنگ برنگ وردیاں پہنے آسمان پر قواعد کر رہی تھیں۔ سڑک پر لوگ ملہار اور بارہ ماسے گاتے چلے جا رہے تھے، باغوں میں جھولے پڑ گئے تھے۔

آشا نے بے دلی سے کہا۔ "میرا تو جی نہیں چاہتا۔"

لالہ جی نے تادیب آمیز اصرار سے کہا۔ "تمھاری کیسی طبیعت ہے جو سیر و تفریح کی جانب مائل نہیں ہوتی۔"

"آپ جائیں مجھے اور کئی کام کرنے ہیں۔"

"کام کرنے کو ایشور نے آدمی دے دیئے ہیں، تمھیں کام کرنے کی کیا ضرورت ہے؟"

"مہراج اچھا سالن نہیں پکاتا، آپ کھانے بیٹھیں گے تو یونہی اٹھ جائیں گے؟"

لیلا اپنی فرصت کا بیشتر حصہ لالہ جی کیلیئے انواع و اقسام کے کھانے پکانے میں صرف کرتی تھی، کسی سے سن رکھا تھا کہ ایک خاص عمر کے بعد مردوں کی زندگی کی خاص دلچسپی لذتِ زبان رہ جاتی ہے۔ لالہ جی کے دل کی کلی کھل گئی، آشا کو ان سے اسقدر محبت ہے کہ وہ سیر کو انکی خدمت پر قربان کر رہی ہے۔ ایک لیلا تھی کہ کہیں جاؤں پیچھے چلنے کو تیار، پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا تھا، بہانے کرنے پڑتے تھے، خود سر پر سوار ہو جاتی تھی، سارا مزہ کرکرا کر دیتی تھی۔

بولے۔ "تمھاری بھی عجیب طبیعت ہے، اگر ایک دن سالن بے مزہ ہی رہا تو ایسا کیا طوفان آ جائے گا، تم اسطرح میرے رئیسانہ چونچلوں کا لحاظ کرتی رہو گی تو مجھے بالکل آرام طلب بنا دو گی، اگر تم نہ چلو گی تو میں بھی نہ جاؤنگا۔"

آشا نے جیسے گلے سے پھندا چھڑاتے ہوئے کہا۔ "آپ بھی تو مجھے ادھر ادھر گھما کر میرا مزاج بگاڑ دیتے ہیں، یہ عادت پڑ جائے گی تو گھر کے دھندے کون کریگا؟"

لالہ جی نے فیاضانہ لہجے میں کہا۔ "مجھے گھر کے دھندوں کی ذرہ برابر پرواہ نہیں ہے، بال کی نوک برابر بھی نہیں، میں چاہتا ہونکہ تمھارا مزاج بگڑے اور تم اس گھر کی چکی سے دور ہو اور تم مجھے بار بار آپ کیوں کہتی ہو؟ میں چاہتا ہوں تم مجھے تم کہو، تو کہو، محبت کی گالیاں دو، غصے کی صلواتیں سناؤ، لیکن تم مجھے آپ کہہ کر جیسے دیوتا کی سنگھاسن پر بٹھا دیتی ہو، میں اپنے گھر میں دیوتا نہیں شریر چھوکرا بنکر رہنا چاہتا ہوں۔"

آشا نے مسکرانے کی کوشش کر کے کہا۔ "آئے نوج، بھلا میں آپ کو تم کہونگی، تم برابر والوں کو کہا جاتا ہے یا بڑوں کو؟"

منیم جی نے ایک لاکھ کے گھاٹے کی پر ملال خبر سنائی ہوتی تب بھی لالہ جی کو شاید اتنا صدمہ نہ ہوتا جتنا آشا کے ان بھولے بھالے الفاظ سے ہوا۔ انکا سارا جوش سارا ولولہ ٹھنڈا پڑ گیا، جیسے برف کی طرح منجمد ہو گیا۔ سر پر مانکی رکھی ہوئی رنگین پھولدار ٹوپی، گلے میں پڑی ہوئی جوکٹے رنگ کی ریشمی چادر، وہ تن زیب کا بیل دار کرتہ جس میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے، یہ سارا ٹھاٹھ جیسے انہیں مضحکہ خیز معلوم ہونے لگا، جیسے سارا نشہ کسی منتر سے اتر گیا ہو۔

دل شکستہ ہو کر بولے۔ "تو تمھیں چلنا ہے یا نہیں؟"

"میرا جی نہیں چاہتا۔"

"لو میں بھی نہ جاؤں۔"

"میں آپ کو کب منع کرتی ہوں۔"

"پھر آپ کہا۔"

آشا نے جیسے اندر سے زور لگا کر کہا۔ "تم" اور اسکا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔

"ہاں اسطرح تم کہا کرو، تو تم نہیں چل رہی ہو؟ اگر میں کہوں کہ تمھیں چلنا پڑے گا تب؟"

"تب چلونگی، آپکے حکم کی پابندی میرا فرض ہے؟"

لالہ جی حکم نہ دے سکے۔ فرض اور حکم جیسے الفاظ سے انکے کانوں میں خراش سی ہونے لگی، کھسیانے ہو کر باہر چلے، اس وقت آشا کو ان پر رحم آ گیا، بولی، "تو کب تک لوٹو گے۔"

"میں نہیں جا رہا۔"

"اچھا تو میں بھی چلتی ہوں۔"

جسطرح ضدی لڑکا رونے کے بعد اپنی مطلوبہ چیز پا کر اسے پیروں سے ٹھکرا دیتا ہے، اسی طرح لالہ جی نے رونا منہ بنا کر کہا۔ "تمھارا جی نہیں چاہتا تو نہ چلو، میں مجبور نہیں کرتا۔"

"آپ۔۔۔۔۔۔۔نہیں تم برا مان جاؤ گے۔"

آشا سیر کرنے گئی لیکن امنگ سے نہیں، جو معمولی ساڑھی پہنے ہوئے تھی وہی پہنے چل کھڑی ہوئی، نہ کوئی ساڑھی نہ کوئی مرصع زیور نہ کوئی سنگار، جیسے بیوہ ہو۔

ایسی ہی باتوں سے لالہ جی دل میں جھنجھلاتے۔ "شادی کی تھی زندگی کا لطف اٹھانے کیلیئے، جھلملاتے ہوئے چراغ میں تیل ڈالکر اسے روشن کرنے کیلیئے، اگر چراغ کی روشنی تیز نہ ہوئی تو تیل ڈالنے سے کیا فائدہ؟ نہ جانے اسکی طبیعت کیوں اسقدر خشک اور افسردہ ہے، جیسے کوئی اوسر کا درخت ہو، کتنا ہی پانی ڈالو اس میں ہری پتیوں کے درشن ہی نہیں ہوتے، جڑاؤ زیوروں کے بھرے صندوق رکھے ہیں، کہاں کہاں سے منگوائے، دہلی سے، کلکتے سے، فرانس سے، کیسی کیسی ساڑھیاں رکھی ہوئی ہیں، ایک نہیں سینکڑوں مگر صندوق میں کیڑوں کی خوراک بننے کیلیئے۔ غریب خاندان کی لڑکیوں میں بھی یہی عیب ہوتا ہے، انکی نگاہ ہمیشہ تنگ رہتی ہے، نہ کھا سکیں نہ پہن سکیں نہ دے سکیں، انہیں تو خزانہ بھی مل جائے تو یہی سوچتی رہیں گی کہ بھلا اسے خرچ کیسے کریں۔"

دریا کی سیر تو ہوئی مگر کچھ لطف نہ آیا۔

(3)

کئی ماہ تک آشا کی طبیعت کو ابھارنے کی ناکام کوشش کر کے لالہ جی نے سمجھ لیا کہ یہ محرم کی پیدائش ہے لیکن پھر بھی برابر مشق جاری رکھی۔ اس بیوپار میں ایک خطیر رقم صرف کرنے کے بعد وہ اس سے زیادہ سے زیادہ نفع اٹھانے کے تاجرانہ تقاضے کو کیسے نظر انداز کرتے۔ دلچسپی کی نئی نئی صورتیں پیدا کی جاتیں۔ گراموفون اگر بگڑ گیا ہے، گانا نہیں، یا آواز صاف نہیں نکالتا تو اسکی مرمت کرانی پڑے گی، اسے اٹھا کر رکھ دینا، یہ تو حماقت ہے۔

ادھر بوڑھا مہراج بیمار ہو کر چلا گیا تھا اور اسکی جگہ سولہ سترہ سال کا لڑکا آ گیا تھا، کچھ عجیب مسخرا سا، بالکل اجڈ اور دہقانی، کوئی بات ہی نہ سمجھتا۔ اسکے پھلکے اقلیدس کی شکلوں سے بھی زیادہ مختلف الاشکال ہو جاتے، بیچ میں موٹے کنارے پتلے۔ دال کبھی تو اتنی پتلی جیسے چائے اور کبھی اتنی گاڑھی جیسے دہی، کبھی نمک اتنا کم کہ بالکل پھیکا کبھی اتنا تیز کہ نیبو کا نمکین اچار۔ آشا سویرے ہی سے رسوئی میں پہنچ جاتی اور اس بد سلیقے مہراج کو کھانا پکانا سکھاتی۔ "تم کتنے نالائق آدمی ہو جگل؟ آخر اتنی عمر تک تم کیا گھاس کھودتے رہے یا بھاڑ جھونکتے رہے کہ پھلکے تک نہیں بنا سکتے۔"

جگل نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔ "بہو جی، ابھی میری عمر ہی کیا ہے، سترھواں سال تو ہے۔"

آشا ہنس پڑی۔ "تو روٹیاں پکانا کیا دس بیس سال میں آتا ہے؟"

"آپ ایک مہینہ میں سکھا دیں بہو جی، پھر دیکھنا میں آپ کو کیسے پھلکے کھلاتا ہوں کہ جی خوش ہو جائے۔ جس دن مجھے پھلکے پکانے آ جائیں گے میں آپ سے کوئی انعام لونگا، سالن تو اب میں کچھ کچھ پکانے لگا ہوں نا؟"

آشا حوصلہ افزا تبسم سے بولی۔ "سالن، نہیں وہ پکانا آتا ہے لیکن ابھی کل ہی نمک اتنا تیز تھا کہ کھایا نہ گیا۔"

"میں جب سالن بنا رہا تھا تو آپ یہاں کب تھیں؟"

"اچھا تو جب میں یہاں بیٹھی رہوں تب تمھارا سالن لذیذ پکے گا؟"

"آپ بیٹھی رہتی ہیں تو میری عقل ٹھکانے رہتی ہے۔"

"اور میں نہیں رہتی تب؟، تمھارے دادا آ جائیں گے تم چلے جاؤ گے؟"

"نہیں بہو جی، کسی اور کام میں لگا دیجیئے گا، مجھے موٹر چلانا سکھوا دیجیئے گا۔ نہیں نہیں، آپ ہٹ جایئے میں پتیلی اتار لونگا، ایسی اچھی ساڑھی ہے آپکی، کہیں داغ لگ جائے گا تو کیا ہو۔"

"دور ہو، پھوہڑ تو تم ہو ہی، کہیں پتیلی پیر پر گر پڑے تو مہینوں جھیلو گے۔"

جگل افسردہ ہو گیا، نحیف چہرہ اور بھی خشک ہو گیا۔

آشا نے مسکرا کر پوچھا۔ "کیوں، منہ کیوں لٹک گیا سرکار کا۔"

"آپ ڈانٹ دیتی ہیں بہو جی تو میرا دل ٹوٹ جاتا ہے، سیٹھ جی کتنا ہی گھرکیں مجھے ذرا بھی صدمہ نہیں ہوتا، آپ کی نظر کڑی دیکھ کر جیسے میرا خون سرد ہو جاتا ہے۔"

آشا نے تشفی دی۔ "میں نے تمھیں ڈانٹا نہیں صرف اتنا ہی کہا کہ کہیں پتیلی پاؤں پر گر پڑے تو کیا ہو؟"

"ہاتھ تو آپ کا بھی ہے، کہیں آپ کے ہاتھ سے ہی چھوٹ پڑے تب؟"

سیٹھ جی نے رسوئی کے دروازے پر آ کر کہا۔ "آشا ذرا یہاں آنا، دیکھو تمھارے لیے کتنے خوشنما گملے لایا ہوں۔ تمھارے کمرے کے سامنے رکھے جائیں گے۔ تم وہاں دھوئیں دھکڑ میں کیا پریشان ہوتی ہو، لونڈے سے کہہ دہ کہ مہراج کو بلائے ورنہ میں کوئی دوسرا انتظام کر لونگا۔ مہراجوں کی کمی نہیں ہے، آخر کب تک کوئی رعایت کرے۔ اس گدھے کو تو ذرا بھی تمیز نہ آئی، سنتا ہے جگل، لکھ دے اپنے باپ کو۔"

چولہے پر توا رکھا ہوا تھا، آشا روٹیاں بیل رہی تھی، جگل توے کیلیے روٹیوں کا انتظار کر رہا تھا، ایسی حالت میں بھلا وہ کیسے گملے دیکھنے جاتی؟ کہنے لگی۔

"ابھی آتی ہوں ذرا روٹی بیل رہی ہوں۔ چھوڑوں گی تو جگل ٹیڑھی بیلے گا۔"

لالہ جی نے کچھ چڑ کر کہا۔ "اگر روٹیاں ٹیڑھی میڑھی بیلے گا تو نکال دیا جائے گا۔"

آشا ان سنی کر کے بولی۔ "دس پانچ دن میں سیکھ جائے گا، نکالنے کی کیا ضرورت ہے۔"

"تم چل کر بتا دو گملے کہاں رکھے جائیں۔"

"کہتی ہوں روٹیاں بیل کر آ جاتی ہوں۔"

"نہیں میں کہتا ہوں تم روٹیاں مت بیلو۔"

"تم خواہ مخواہ ضد کرتے ہو۔"

لالہ جی سناٹے میں آ گئے، آشا نے کبھی اتنی بے التفاتی سے انہیں جواب نہ دیا تھا اور یہ محض بے التفاتی نہ تھی اس میں ترشی بھی تھی۔ خفیف ہو کر چلے گئے۔ انہیں ایسا غصہ آ رہا تھا کہ ان گملوں کو توڑ کر پھینک دیں اور سارے پودوں کو چولہے میں ڈال دیں۔

جگل نے سہمے ہوئے لہجے میں کہا۔ "آپ چلی جائیں، بہو جی، سرکار ناراض ہو گئے۔"

"بکو مت، جلدی جلدی روٹیاں سینکو، نہیں تو نکال دیئے جاؤ گے اور آج مجھ سے روپے لیکر اپنے لئے کپڑے بنوا لو۔ بھیک منگوں کی سی صورت بنائے گھومتے ہو اور بال کیوں اتنے بڑھا رکھے ہیں، تمھیں نائی بھی نہیں جڑتا؟"

"کپڑے بنوا لوں تو دادا کو کیا حساب دونگا۔"

"ارے بیوقوف میں حساب میں نہیں دینے کو کہتی، مجھ سے لے جانا۔"

"آپ بنوائیں گی تو اچھے کپڑے لونگا، مہین کھدر کا کرتہ، کھدر کی دھوتی، ریشمی چادر، اچھا سا چپل۔"

آشا نے مٹھاس بھرے تبسم سے کہا۔ "اور اگر اپنے دام سے بنوانے پڑے تو؟"

"تب کپڑے بنواؤں گا ہی نہیں۔"

"بڑے چالاک ہو تم۔"

"آدمی اپنے گھر پر روکھی روٹی کھا کر سو رہتا ہے لیکن دعوت میں اچھے اچھے پکوان ہی کھاتا ہے۔"

"یہ سب میں نہیں جانتی، ایک گاڑھے کا کرتہ بنوا لو اور ایک ٹوپی، حجامت کے لیے دو آنے کے پیسے لے لو۔"

"رہنے دیجیئے میں نہیں لیتا، اچھے کپڑے پہن کر نکلوں گا تو آپ کی یاد آئے گی، سڑیل کپڑے ہوئے تو جی جلے گا۔"

"تم بڑے خود غرض ہو، مفت کے کپڑے لو گے اور اعلیٰ درجے کے۔"

"جب یہاں سے جانے لگوں گا تو آپ مجھے اپنی ایک تصویر دے دیجیئے گا۔"

"میری تصویر لیکر کیا کرو گے؟"

"اپنی کوٹھڑی میں لگا دونگا اور دیکھا کرونگا، بس وہی ساڑھی پہن کر کچھوانا جو کل پہنی تھی اور وہی موتیوں والا مالا بھی ہو مجھے ننگی ننگی صورت اچھی نہیں لگتی، آپکے پاس تو بہت گہنے ہونگے آپ پہنتی کیوں نہیں؟"

"تو تمھیں گہنے اچھے لگتے ہیں۔"

"بہت۔"

لالہ جی نے پھر آ کر خفت آمیز لہجے میں کہا۔ "ابھی تک تمھاری روٹیاں نہیں پکیں۔ جگل اگر کل سے تم نے اپنے آپ اچھی روٹیاں نہ بنائیں تو میں تمھیں نکال دونگا۔"

آشا نے فوراً ہاتھ دھوئے اور بڑی مسرت آمیز تیزی سے لالہ جی کے ساتھ جا کر گملوں کو دیکھنے لگی۔ آج اسکے چہرے پر غیر معمولی شگفتگی نظر آ رہی تھی۔ اسکے اندازِ گفتگو میں بھی دلآویز شیرینی تھی۔ لالہ جی کی ساری خفت غائب ہو گئی۔ آج اسکی آواز زبان سے نہیں دل سے نکلتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی، بولی۔ "میں ان میں سے کوئی گملا نہ جانے دونگی، سب میرے کمرے کے سامنے رکھوانا۔ سب کتنے سندر پودے ہیں واہ، انکے ہندی نام بھی بتا دینا۔"

لالہ جی نے چھیڑا۔ "یہ سب لیکر کیا کرو گی، دس پانچ پسند کر لو، باقی میں باہر باغیچے میں رکھوا دونگا۔"

"جی نہیں، میں ایک بھی نہیں چھوڑونگی، سب یہیں رکھیں جائیں گے۔"

"بڑی حریص ہو تم۔"

"حریص سہی، میں آپ کو ایک بھی نہ دونگی۔"

"دس پانچ تو دے دو، اتنی محنت سے لایا ہوں۔"

"جی نہیں، ان میں سے ایک بھی نہ ملے گا۔"

(4)

دوسرے دن آشا نے اپنے آپ کو زیوروں سے خوب آراستہ کیا اور فیروزی ساڑھی پہن کر نکلی تو لالہ جی کی آنکھوں میں نور آ گیا۔ اب انکی عاشقانہ دلجوئیوں کا کچھ اثر ہو رہا ہے ضرور ورنہ انکے بار بار تقاضا کرنے پر، منت کرنے پر بھی اس نے کوئی زیور نہ پہنا تھا۔ کبھی کبھی موتیوں کا ہار گلے میں ڈال لیتی تھی وہ بھی بیدلی سے۔ آج ان زیوروں سے مرصع ہو کر وہ پھولی نہیں سماتی، اترائی جاتی ہے، گویا کہتی ہے، دیکھو میں کتنی حسین ہوں۔ پہلے جو کلی تھی وہ آج کھل گئی ہے۔

لالہ صاحب پر گھڑوں کا نشہ چڑھا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں انکے احباب و اعزہ آ کر اس سونے کی رانی کے دیدار سے اپنی آنکھیں روشن کریں۔ دیکھیں کہ انکی زندگی کتنی پر لطف ہے، جو انواع و اقسام کے شکوک دشمنوں کے دلوں میں پیدا ہوئے تھے وہ آنکھیں کھول کر دیکھیں کہ اعتماد، رواداری اور فراست نے کتنا خلوص پیدا کر دیا ہے۔

انہوں نے تجویز کی، "چلو کہیں سیر کر آئیں بڑی مزیدار ہوا چل رہی ہے۔"

آشا اس وقت کیسے آ سکتی ہے، ابھی اسے رسوئی جانا ہے، وہاں سے کہیں بارہ ایک بجے تک فرصت ملے گی، پھر گھر کے کام دھندے سر پر سوار ہو جائیں گے، اسے کہاں فرصت ہے۔ پھر کل سے اسے کلیجہ میں کچھ درد بھی ہو رہا ہے۔ رہ رہ کر درد اٹھتا ہے، ایسا درد کبھی نہ ہوتا تھا، رات نہ جانے کیوں درد ہونے لگا۔

سیٹھ جی ایک بات سوچ کر دل ہی دل میں پھول اٹھے۔ وہ گولیاں رنگ لا رہی ہیں۔ راج وید نے آخر کہا بھی تھا کہ ذرا سوچ سمجھ کر انکا استعمال کیجیئے گا۔ کیوں نہ ہو، خاندانی وید ہے، اسکا باپ مہاراجہ بنارس کا معالج تھا، پرانے مجرب نسخے ہیں اسکے پاس۔

چہرے پر سراسیمگی کا رنگ بھر کر پوچھا۔ "تو رات ہی سے یہ درد ہو رہا ہے، تم نے مجھ سے کہا نہیں ورنہ وید جی سے کوئی دوا منگوا لیتا۔"

"میں نے سمجھا تھا کہ آپ ہی آپ اچھا ہو جائے گا مگر بڑھ رہا ہے۔"

"کہاں درد ہو رہا ہے، ذرا دیکھوں تو کچھ آماس تو نہیں ہے۔"

سیٹھ جی نے آشا کے آنچل کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ آشا نے شرما کر سر جھکا لیا اور بولی "یہی تمھاری شرارت مجھے اچھی نہیں لگتی، جا کر دوا لا دو۔"

سیٹھ جی اپنی جوانمردی کا یہ ڈپلوما پا کر اس سے کہیں زیادہ محظوظ ہوئے جتنا شاید رائے بہادری کا خطاب پا کر ہوتے۔ اپنے اس کارِ نمایاں کی داد لیے بغیر انہیں کیسے چین ہوتا۔ جو لوگ انکی شادی کے متعلق شبہ آمیز سر گوشیاں کرتے تھے انہیں زک دینے کا کتنا نادر موقع ہاتھ آیا ہے۔

پہلے پنڈت بھولا ناتھ کے گھر پہنچے اور با دلِ دردمند بولے۔ "میں تو سخت مصیبت میں مبتلا ہو گیا، کل سے انکے سینے میں درد ہو رہا ہے کچھ عقل کام نہیں کرتی۔"

بھولا ناتھ نے کچھ زیادہ ہمدردی کا اظہار نہیں کیا۔ بولے، "ہوا لگ گئی ہوگی اور کیا۔"

سیٹھ جی نے ان سے اختلاف کیا۔ "نہیں پنڈت جی ہوا کا فساد نہیں ہے، کوئی اندرونی شکایت ہے، ابھی کمسن ہیں ناں، راج وید سے کوئی دوا لیے لیتا ہوں۔"

"میں تو سمجھتا ہوں آپ ہی آپ اچھا ہو جائے گا۔"

"آپ بات نہیں سمجھتے، یہی آپ میں نقص ہے۔"

"آپ کا جو خیال ہے وہ بالکل غلط ہے مگر خیر دوا لا کر دیجیے اور اپنے لیے بھی کوئی دوا لیتے آئیے گا۔"

سیٹھ جی یہاں سے اٹھ کر اپنے دوسرے دوست لالہ بھاگ مل کے پاس پہنچے اور ان سے بھی قریب قریب انہیں الفاظ میں یہ پر ملال خبر کہی۔ بھاگ مل بڑا شہدا تھا، مسکرا کر بولا۔

"مجھے تو آپکی شرارت معلوم ہوتی ہے۔"

سیٹھ جی کی باچھیں کھل گئیں۔ "میں اپنا دکھ سنا رہا ہوں اور تمھیں مذاق سوجھتا ہے، ذرا بھی انسانیت تم میں نہیں ہے۔"

"میں مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ بھلا اس میں مذاق کی کیا بات، وہ ہیں کمسن نازک اندام، آپ ٹھہرے آزمودہ کار، مرد میدان۔ بس اگر یہ بات نہ نکلے تو مونچھیں منڈوا ڈالوں۔"

سیٹھ جی نے متین صورت بنائی۔ "میں تو بھئی بڑی احتیاط کرتا ہوں، تمھارے سر کی قسم۔"

"جی رہنے دیجیئے، میرے سر کی قسم نہ کھایئے، میرے بھی بال بچے ہیں، گھر کا اکیلا آدمی ہوں۔ کسی قاطع دوا کا استعمال کیجیئے۔"

"انہیں راج وید سے کوئی دوا لیے دیتا ہوں۔"

"اس کی دوا وید جی کے پاس نہیں، آپ کے پاس ہے۔"

سیٹھ جی کی آنکھوں میں نور آ گیا۔ شباب کا احساس پیدا ہوا اور اسکے ساتھ چہرے پر بھی شباب کی جھلک آ گئی۔ سینہ جیسے کچھ فراخ ہو گیا، چلتے وقت انکا پیر کچھ زیادہ مضبوطی سے زمین پر پڑنے لگا اور سر کی ٹوپی بھی خدا جانے کیوں کج ہو گئی۔ بشرے سے ایک بانکپن کی شان برس رہی تھی۔ راج وید نے مژدہ جاں فزا سنا تو بولے۔ "میں نے کہا تھا ذرا سوچ سمجھ کر ان گولیوں کا استعمال کیجیئے گا۔ آپ نے میری ہدایت پر توجہ نہ کی، ذرا مہینہ دو مہینے انکا استعمال کیجیئے اور پرہیز کے ساتھ رہیئے پھر دیکھیئے گا انکا اعجاز۔ اب گولیاں بہت کم رہی ہیں، لوٹ مچی رہتی ہے لیکن انکا بنانا اتنا مشکل اور دقت طلب ہے کہ ایک بار ختم ہو جانے پر مہینوں تیاری میں لگ جاتے ہیں۔ ہزاروں بوٹیاں ہیں، کیلاش، نیپال اور تبت سے منگائی جاتی ہیں۔ اور اسکا بنانا تو آپ جانتے ہیں کتنا لوہے کے چنے چبانا ہے۔ آپ احتیاطاً ایک شیشی لیتے جائیے۔"


(5)

جگل نے آشا کو سر سے پاؤں تک جگمگاتے دیکھ کر کہا۔ "بس بہو جی، آپ اسی طرح پہنے اوڑھے رہا کریں، آج میں آپ کو چولہے کے پاس نہ آنے دونگا۔"

آشا نے شرارت آمیز نظروں سے دیکھ کر کہا۔ "کیوں، آج یہ سختی کیوں؟ کئی دن تو تم نے منع نہیں کیا۔"

"آج کی بات دوسری ہے۔"

"ذرا سنوں کیا بات ہے؟"

"میں ڈرتا ہوں کہیں آپ ناراض نہ ہو جائیں، آج آپ بہت سندر لگ رہی ہیں۔"

لالہ ڈنگا مل نے سینکڑوں ہی بار آشا کے حسن و انداز کی تعریف کی تھی مگر انکی تعریف میں اسے تصنع کی بو آتی تھی، وہ الفاظ انکے منہ سے کچھ اسطرح لگتے تھے جیسے کوئی ہیجڑا تلوار لیکر چلے۔ جگل کے ان الفاظ میں ایک کیفیت تھی، ایک سرور تھا، ایک ہیجان تھا، ایک اضطراب تھا۔ آشا کے سارے جسم میں رعشہ آ گیا، آنکھوں میں جیسے نشہ چھا جائے۔

"تم مجھے نظر لگا دو گے، اسطرح کیوں گھورتے ہو؟"

"جب یہاں سے چلا جاؤنگا تب آپ کی بہت یاد آئے گی۔"

"روٹی بنا کر تم کیا کرتے ہو؟ دکھائی نہیں دیتے۔"

"سرکار رہتے ہیں اسی لیے نہیں آتا پھر اب تو جواب مل رہا ہے، دیکھیئے بھگوان کہاں لے جاتے ہیں۔"

آشا کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ "کون تمھیں جواب دیتا ہے۔"

"سرکار ہی تو کہتے ہیں تجھے نکال دونگا۔"

"اپنا کام کیے جاؤ، کوئی نہیں نکالے گا، اب تو تم روٹیاں بھی اچھی بنانے لگے ہو۔"

"سرکار ہیں بڑے غصہ ور۔"

"دو چار دن میں انکا مزاج ٹھیک کیے دیتی ہوں۔"

"آپ کے ساتھ چلتے ہیں تو جیسے آپ کے باپ لگتے ہیں۔"

"تم بڑے بدمعاش ہو، خبردار زبان سنبھال کر باتیں کرو۔"

مگر خفگی کا یہ پردہ اسکے دل کا راز نہ چھپا سکا، وہ روشنی کی طرح اسکے اندر سے باہر نکل پڑتا تھا۔ جگل نے اسی بیباکی سے کہا۔ "میری زبان کوئی بند کرے، یہاں تو سب ہی کہتے ہیں۔ کوئی میرا بیاہ پچاس سال کی بڑھیا سے کر دے تو میں گھر چھوڑ کر بھاگ جاؤں، یا تو خود زہر کھا لوں یا اسے زہر دیکر مار ڈالوں، پھانسی ہی تو ہوگی۔"

آشا مصنوعی غصہ قائم نہ رکھ سکی، جگل نے اسکے دل کے تاروں پر مضراب کی ایسی چوٹ ماری تھی کہ اسے کے بہت ضبط کرنے سے بھی دردِ دل باہر نکل ہی آیا۔

"قسمت بھی تو کوئی چیز ہے۔"

"ایسی قسمت جائے جہنم میں۔"

"تمھاری شادی کسی بڑھیا سے کر دونگی، دیکھ لینا۔"

"تو میں زہر کھا لوں گا دیکھ لیجیئے گا۔"

"کیوں؟ بڑھیا تمھیں جوان سے زیادہ پیار کرے گی، زیادہ خدمت کرے گی، تمھیں سیدھے راستے پر رکھے گی۔"

"یہ سب ماں کا کام ہے، بیوی جس کام کے لیے ہے اسی کے لیے ہے۔"

"آخر بیوی کس کام کے لیے ہے۔"

"آپ مالک ہیں نہیں تو بتلا ہی دیتا بیوی کس کام کے لیے ہے۔"

موٹر کی آواز آئی، نہ جانے کیسے آشا کے سر کا آنچل سر سے کھسک کر کندھے پر آ گیا تھا، اس نے جلدی سے آنچل سر پر کھینچ لیا اور یہ کہتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی۔ "لالہ کھانا کھا کر چلے جائیں گے، تم ذرا آ جانا۔"