ہفتہ, نومبر 22, 2014

جہیز مخالف قانون کا بے جا استعمال، کب ختم ہوگا یہ اندھا قانون


جرائم کی روک تھام کے لئے حکومت خصوصی قوانین بناتی ہے، اس کا مقصد تو جرم کی دنیا پر ایک کاری ضرب لگانا ہوتا ہے مگر عموما ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ان قوانین میں ایجنسیوں کو کچھ اس قسم کی مراعات دے دی جاتی ہیں جن کی وجہ سے یہ قوانین خود انسانیت کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں۔ ٹاڈا، پوٹا اور اسپشل آرم ایکٹ اسکی واضح مثالیں ہیں۔ آج یہی صورتحال جہیز مخالف قانون کی ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں، سرکردہ شخصیات سے لے کر سپریم کورٹ تک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس قانون کا بے جا استعمال ہورہا ہے ، سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں مرکز سے اس قانون میں ترمیم کرنے کے لیے کہا ہے۔ ایک لمبے عرصہ سے اس قانون کے خلاف آواز یں اٹھ رہی ہیں مگر سرکار اس میں ترمیم کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش کرتی نظر نہیں آتی۔
 جہیز کے لئے لڑکیوں کے ستائے جانے اور جان سے ماردینے کی وارداتوں کی روک تھام کے لئے یہ قانون بنایا گیا تھا۔ اس میں جہیز مانگنے ،لینے اور دینے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔یہ ایک غیر ضمانتی جرم ہے، ایک ایسا جرم جس کی کم ازکم سزا تین سال کی قید ہے۔ یہ قانون جہیز کے بڑھتے لین دین پر قدغن لگانے میں کس حد تک کامیاب ہوا یہ سب کے سامنے ہے۔ اس میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔قانون کسی کے خلاف کاروائی اسی صورت میں کرے گا جب کسی فریق کی طرف سے شکایت درج کرائی جائے گی۔ اور شکایت عام طور پر شادی کے ٹوٹنے کے بعد یا کسی اور اختلاف کے وقت ہی ہوتی ہے۔
اخبارات میں میں تقریبا ہر روز جہیز سے متعلق خبردیکھنے کو ملتی ہے۔ ان خبروں پر غور کیا جائے تو حیرت انگیز طور پر ان میں یکسانیت نظر آتی ہے۔ مضمون کچھ اس طرح ہوتا ہے۔’’ فلاں لڑکی کی شادی فلاں لڑکے سے ہوئی تھی ، شادی کے وقت ہی سے لڑکے والے جہیز سے خوش نہیں تھے وہ اور جہیز کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مطالبہ پورا نہ ہونے پر لڑکے کے گھروالے لڑکی کو ذہنی اور جسمانی اذیت دینے لگے۔ لڑکی نے اس کی شکایت اپنے ماں باپ سے کی انہوں نے لڑکے کے گھر والوں کو سمجھایا۔ اس کے بعد بھی سسرال والے نہیں مانے اور لڑکی کو منہ مانگی جہیز نہ لانے کی پاداش میں گھر سے نکال دیا۔‘‘

لڑکی کی طرف سے تھانے میں صرف شکایت کرنے کی دیر ہے، اس کے بعد ہماری پولیس سارا معاملہ آنا فانا اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے۔ سسرال والوں کو ملک کے کونے کونے سے اکٹھا کرکے جیل میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ اس میں حاملہ اور بوڑھے معذور لوگوں کی بھی رعایت نہیں کی جاتی۔ اس قانون نے عورت کو اتنی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ دو سال کے بچے کو بھی نامزد کرسکتی ہے کہ وہ مجھے پریشان کر رہا ہے۔
اس قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے اس کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ عام طور پر کوئی عورت جب اپنے شوہر اور اس کے رشتہ داروں کو اس کیس میں ملوث کرتی ہے تو گھریلو تشدد کے قانون کو بھی اس کے ساتھ شامل کردیتی ہے۔ حالانکہ دونوں کا مقصد الگ اور پس منظر بھی الگ ہے۔
اس قانون کی کا فائدہ حقیقی مستحقین کو ہوا ہی نہیں سماج دشمن عناصر ہی نے اس کا فائدہ اٹھایا ہے۔ کئی معاملوں میں لڑکی کا معاشقہ کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے شوہر کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی نہیں پیدا کرپاتی۔ بجائے اس کے کہ وہ کوئی اور راستہ ڈھونڈے پورے گھر والوں کو جہیز قانون اور گھریلو تشدد کے جھوٹے کیس میں پھنسا کر پورے خاندان کی زندگی خراب کردیتی ہے۔
ایک گھر میں رہتے ہوئے معمولی کہا سنی ایک معمولی بات ہے۔ عام کہاوت ہے کہ جہاں دو برتن ہوں گے وہاں بجیں گے ہی۔ لیکن اس قانون کے آتے ہی گھروں کی دوستانہ فضا مکدر ہوکر رہ گئی ہے، نند اور ساس سے معمولی کہا سنی ہوتے ہی لڑکی تھانے میں پہنچ کر گھریلو تشد اور جہیز مانگنے کی رپوٹ لکھانے پہنچ جاتی ہے۔ پہلے جو بات آپس میں سلجھ جایا کرتے تھے وہ اب کورٹ اور کچہری تک پہنچ رہے ہیں۔ ان سب کا سب سے نقصان دہ پہلو یہ سامنے آتا ہے کہ خاندان ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شادیاں ٹوٹنے کا ریشو دن بدن بڑھ رہا ہے۔ کوئی بھی شوہر کبھی یہ برداشت نہیں کرے گا کہ وہ اس لڑکی کو دوبارہ اپنے گھر لائے جس نے گھریلو معاملے کو کورٹ میں اچھال کر ، جھوٹے کیس میں پھنسا کر پورے خاندان کی عزت ، وقت اور پیسے کو برباد کیا۔ بعد میں یہی لڑکیاں افسوس کرتی ہیں مگر اس وقت سب کچھ ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔
کئی دفعہ لڑکی والے عیب چھپاکر شادی کردیتے ہیں کہ شادی کے بعد لڑکے والے اگر کچھ کہیں گے تو جہیز مخالف قانون کا سہارا لے کر اس کو خاموش کردیا جائے گا۔ میرٹھ کے رہنے والے اسرار کی شادی فاطمہ نام کی لڑکی سے ہوئی۔ شادی کے ایک مہینہ بعد معلوم ہوا کہ لڑکی دل کی مریض ہے۔ اس نے یہ بات لڑکی کے والدین سے کہا تو انہوں نے کہا کہ اسے یہ بیماری پہلے نہیں تھی تمہارے گھر جاکر ہوئی۔ حالانکہ لڑکی نے خود اقرار کیا کہ اس کے دل کا وال خراب تھا ڈاکٹر آپریشن کرنے کو کہہ رہے تھے۔ اب اسرار کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ وہ دل کی مریض فاطمہ کو اپنے رشتے میں باقی رکھے یا طلاق دے دے۔ بہرحال اس نے طلاق دینے کا فیصلہ کیا ۔ لڑکی والوں نے اسرار اور اس کے پورے گھر والوں پر جہیز مانگنے کاجھوٹا کیس کردیا۔ پورا گاؤں اس بات سے واقف ہے کہ طلاق کیوں ہوئی مگر چونکہ مقدمہ کردیا گیا اس وجہ سے پہلے گرفتاری سے بچنے کے لیے اسرار کو ہائی کورٹ سے اسٹے لینا پڑا اور پھر ضلع کورٹ سے اپنے پورے گھر والوں کی ضمانت کرانی پڑی ۔ گواہی اور ثبوت تو بہت بعد کی چیز ہے۔ وہاں تک معاملہ پہنچتے پہنچتے سال دوسال گذر جائیں گے۔
لکھنؤ کے دیپک کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح ہے۔ اس کی شادی لکھنؤ ہی میں ہوئی ، لڑکی ایک کمپنی میں کام کرتی ہے، اور دیپک خود حیدرآباد میں ایک سرکاری آفس میں ملازم ہے۔ شادی کے بعد لڑکی اس میں کوئی دلچسپی نہیں لیتی تھی اس کے فون کال نہیں رسیو کرتی تھی، اس کے ماں باپ کو پریشان کرتی تھی، دیپک کو معلوم ہوا کہ اس کا آفس ہی کے کسی کڑکے کے ساتھ معاشقہ ہے اس نے لڑکی کو سمجھانا چاہا مگر وہ نہ مانی، بالآخر اس نے طلاق دینے کا فیصلہ کرلیا۔ لڑکی کے گھر والوں نے اس پر اور اس کے پورے گھر والوں پر جھوٹا جہیز اور گھریلو تشدد کا مقدمہ کردیا۔ بے چارے ماں باپ ناحق جیل گئے اور دیپک کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یہیں پر معاملہ ختم ہوجائے تو بھی کوئی بات نہیں اس کو پوری زندگی اس لڑکی کو رہائش اور خرچ بھی دینا پڑے گا۔
اگر کسی کو شکایت ہے کہ فلاں شخص جہیز کا مطالبہ کر رہا ہے تو اس سے اپنی لڑکی کی شادی ہی نہ کرے، اور اگر وہ اپنی لڑکی کی شادی کر رہا ہے تواس کا مطلب یہ کہ وہ خود جہیز کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ لیکن ہوتا یہ ہے پہلے تو شادی کردی جاتی ہے اس کے بعد جب کسی قسم کا اختلاف ہوتا ہے تو لڑکے اور اس کے گھر والوں سے بدلہ لینے کے لئے اس کو جھوٹے جہیز کے کیس میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ قانون لڑکے کے گھر والوں سے بدلہ لینے کا ایک مؤثر ہتھیار بن گیا ہے۔
                    جہیز مخالف قانون بنایا گیا تھا لڑکیوں کی حفاظت کے لئے مگر اس کی وجہ سے سب سے زیادہ عورتوں کو ہی اذیت پہنچائی گئی ہے۔ ایسا کم ہی ہوا ہے کہ جہیز مانگنے کی شکایت کی گئی ہو اور لڑکے کی ماں اور بہن کا نام نہ لیا گیا ہو۔ کیا سبھی واقعات میں ماں اور لڑکے کی بہن ملوث ہوتی ہے؟ ارن اور جے مالا نے کورٹ میرج کی جس کی وجہ سے ارن کو اس کے گھر والوں نے گھر سے بے دخل کردیا ۔ وہ دونوں ایک کمپنی میں کام کرتے تھے اور اپنے گاوں سے دور ایک شہر میں رہتے تھے کسی بات پر ان دونوں میں کہا سنی ہوئی تو جے مالا نے لڑکے اور اس کے ماں باپ کے خلاف پولیس میں جہیز مانگنے اور اس کے لئے ذہنی اور جسمانی تشدد کرنے کی رپوٹ لکھا دی، ارن لاکھ کہتا رہا کہ وہ گھر سے بے دخل ہے اس کے ماں باپ اس سے ملنے بھی نہیں آتے مگر پولیس نے ایک بھی نہیں سنی ۔ اس کے ماں باپ اور خود ارن کو پولیس نے جیل نے اندر ڈال ڈیا۔ یہ ہے جہیز مخالف قانون کا استعمال۔ چونکہ لڑکی والوں کا مقصد لڑکے والوں کو سبق سکھانا ہوتا ہے اس وجہ سے لڑکے کی والدہ اور اس کی بہنوں کو خاص طور پر نامزد کیا جاتا ہے۔
وکیلوں کی چونکہ روزی روٹی اسی سے جڑی ہوتی ہے اس وجہ سے کس طرح کس کو پھنسایا جائے جھوٹا مقدمہ کس طرح بنایا جائے یہ سارے گُر وہ لڑکی والوں کو بتادیتے ہیں۔
اس قانون کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ محض لڑکی کی شکایت ہی کو بنیاد بناکر آپ کو مجرم مان لیا جاتا ہے، لڑکی کی یہ ذمہ داری نہیں ہوتی ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ واقعی اس کو تشدد کا نسانہ بنایا گیا بھی یا نہیں، یہی نہیں اس قانون کی ایک اور خرابی ہے کہ یہ غیر ضمانتی ہے، یعنی اگر کسی کی بیوی اگر اس کے خلاف جہیز مخالف قانون کا سہارا لے کر شکایت کردے تو اس کے لئے جیل جانے سے بچنے کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ ہائی کورٹ سے جاکر گرفتاری پر اسٹے آرڈر لے کر آئے۔
غیر سرکاری تنظیمیں اور خود سپریم کورٹ اب مان رہا ہے کہ اس قانون کا بے جا استعمال ہورہا ہے، مگر معلوم نہیں کیوں حکومت اس میں بدلاو ٔ کرنے کو تیار نہیں۔ ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوے فیصد سے زائد جہیز کے مقدمات فرضی ہیں۔ اگر حکومت اس قانون میں بدلاو ٔ نہیں کرتی تو اسی طرح خاندان ٹوٹتے رہیں گے۔ بے گناہ نوجوان اپنا قیمتی وقت عدالتوں میں برباد کریں گے۔ کیا اب بھی حکومت کو کسی چیزکا انتظار ہے؟

بدھ, نومبر 5, 2014

پسماندہ طبقات کے اشرافیہ کو ریزرویشن کیوں؟


آئین ہند کے معماروں نے معاشرہ کے تمام طبقات کے ساتھ برابری کا برتاؤ کیا ہے ۔ معاشرہ کے وہ طبقات جو صدیوں سے دبے کچلے چلے آرہے ہیں ان کے لیے ریزرویشن کی رعایت دی ہے ۔ تعلیمی اداروں اور نوکریوں میں ان کے لیے نششتیں محفوظ کی گئیں، فیس اور عمر کی حد میں رعایت دی گئی۔ ان مراعات کی وجہ سے پسماندہ اور دلت سماج کی ایک بڑٰی تعداد نے اعلی تعلیمی اداروں میں داخلہ پاکر اعلی تعلیم حاصل کرلیا اور اس کی بنیاد پراعلی سرکاری عہدوں پر بھی فائزہوگیے ۔ تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں ہی میں پسماندہ طبقات کو رعایت ہی نہیں دی گئی اس کا دائرہ بڑھا دیا گیا اور ترقی میں بھی انہیں ترجیح دی جانے لگی۔ ایک عرصہ تک سب کچھ ٹھیک تھا۔ غریب اور دبے لوگ آگے آتے گیے لیکن دھیرے دھیرے پسماندہ طبقات میں بھی ایک اشرافیہ طبقہ پیدا ہوگیا۔ یہ وہ طبقہ ہے تھا جس کو سب سے پہلے ریزرویشن کا فائدہ ملا۔ ان لوگوں نے سرکاری رعایتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلائی اور اعلی نوکریوں پر انہیں فائز کرادیا۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں سرکاری نوکری ایک عام آدمی کے لیے ایک خواب ہے وہاں ان کے گھر اور خاندان کا ہر فرد کسی نہ کسی اعلی عہدہ پر فائزہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ گھر اور خاندان مالی لحاظ سے متمول ہوگیا لیکن پسماندہ طبقہ کا لیبل ہونے کی وجہ سے انہیں اب تک رعایت مل رہی ہے ۔ اس رویہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ جن مقاصد کے لیے ریزرویشن کا نفاذ ہوا تھا دھیرے دھیرے وہی فوت ہوتا جارہا ہے ۔ پسماندہ طبقات کے لیے دی گئی ساری رعایتوں کا سیدھے فائدہ پسماندہ طبقات کے اشرافیہ کو مل رہا ہے ۔ عام پسماندہ طبقہ کے افراد جو دبی کچلی حالت سے نکلنے کے اپنے پر تولتے ہوئے باہر نکلتے ہیں تو ان کا سامنا خود ان کے اپنے طبقہ کے اشرافیہ سے ہوتا ہے ۔ مستحق ہونے کے باوجود انہیں ان کا حق نہیں مل رہا ہے ۔
آئین ہند کے معماروں نے انگریزوں کے ذریعہ نافذ کیے گیے ریزرویشن کو اس لیے باقی رکھا تھا تاکہ سماج کے وہ طبقات جو صدیوں سے دبے کچلے چلے آرہے ہیں وہ بھی سماج کا حصہ بن سکیں۔ سماج میں انہیں بھی اپنی صلاحیتوں کو دکھانے کا موقع ملے ۔ انہوں نے مذہبی بنیاد پر نہ تو ریزرویشن دیا اور نہ مذہب کی بیناد پر کسی کو ریزرویشن سے منع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کو بھی شیڈول کاسٹ کا ریزرویشن دیا جاتا رہا۔ بعد میں پنڈٹ نہرو کے دور حکومت میں صرف ہندؤوں کو ہی اس کا فائدہ دینے کا صدارتی ریفرنس آیا جس میں بعد میں بدھسٹوں اور سکھوں کوبھی شامل کرلیا گیا۔ لیکن مسلمانوں کو اس حق سے محروم رکھا گیا۔ یہ آئین ہند کے ساتھ سراسر کھلواڑ تھا لیکن مسلمان ایک عرصہ سے اس گھونٹ کو برداشت کرتا رہا ہے ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسی پیشہ سے وابستہ افراد کو ساری رعایتیں ملتی ہیں لیکن مسلمانوں کو نہیں؟
ایک عرصہ سے آواز اٹھتی رہی ہے کہ ریزرویشن کی بنیاد کیا ہونی چاہیے ؟ پسماندگی یا ذات برادری؟ اور اگر مذہبی بنیاد پر ریزرویشن دیا جائے تو مسلمانوں کو کیوں نہیں جن کے بارے میں سچر کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ دلتوں سے بھی پچھڑے ہیں۔ اور اگر مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینا غیر آئینی ہے تو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن سے روکنا بھی غیر آئینی ہے ۔ آخر اس کے خلاف آواز کیوں نہیں بلند کی جاتی۔
ہم ایک مرتبہ پھر اپنے موضوع پر آتے ہیں کہ آزادی کے بعد سے اب تک ریزرویشن کا فائدہ اٹھانے والے پسماندہ طبقات کے اشرافیہ نے ریزرویشن کے فوائد کا دورازہ دوسروں کے لیے بند کردیا ہے ۔ اس کا نقصان یہ ہورہا ہے کہ حقیقی مستحقیق کو ان کا حق نہیں مل رہا ہے ۔ اس وجہ سے اس قانون میں تبدیلی کرکے پسماندہ طبقات میں سے کریمی لیئر کو الگ کیا جائے ۔ اس سلسلے میں بہار میں نتیش کمار نے ایک اچھی پہل کی ہے انہوں نے پسماندہ طبقات کو دو زمروں میں تقسیم کردیا ہے ۔ ایک پسماندہ دوسرا انتہائی پسماندہ طبقہ۔ لیکن افسوس کہ انہوں نے بھی ذات برادری کو ہی معیار مانا ہے ۔ کیا ضروری ہے کہ کسی ذات سے تعلق رکھنے والے سبھی لوگ انتہائی پسماندہ ہوں؟ ایسا بھی ہوسکتا ہے اسی ذات کے کچھ لوگ بڑے سرکاری عہدوں پر ہوں، بڑے تاجر ہوں۔ مرکزی یا ریاستی وزیر ہو۔ ایک انتہائی پسماندہ زمرہ سے تعلق رکھنے والے وزیر کے لڑکے کو بھی ریزرویشن کا فائدہ مل جاتا ہے لیکن دوسرا لڑکا جو صرف پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتا ہے اور غریب بھی لیکن اس کو فائدہ نہیں ملتا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پسماندہ طبقات میں کریمی لیئر کا معیار ذات پات کے بجائے مالی حالت کو بنایا جائے ۔ ماں یا باپ کے کسی اعلی عہدے پر فائز ہونے پر اس کے بیٹوں کو وہ رعایت نہ دی جائے جو صرف غریب اور واقعی پسماندہ لوگوں کا حق ہے ۔ اس طرح پسماندہ طبقات کے لیے دی جانے والی رعایتوں کا فائدہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے گا۔ سب سے اہم بات یہ کہ ریزرویشن کی ایک میعاد ہونی چاہئے ۔ ہر پانچ سال کے وقفہ میں اس کی جانچ ہونی چاہیے کہ اس کا فائدہ واقعی پہنچ رہا ہے یا نہیں۔ اور متعلقہ طبقات کی سماجی اور مالی حالت درست ہوئی یا نہیں جن طبقات کی حالت میں سدھار آجائے اسے ریزرویشن کے زمرہ سے خارج کیا جائے جو واقعی مستحق لوگوں کا حق ہے۔ ورنہ کہاوت ہے کہ اندھا بانٹے ریوڑی اور گھوم گھوم کر اپنوں کو دے ۔

عزیر اسرائیل
شعبۂ اردو دہلی یونی ورسٹی
9210919540

پس

منگل, اکتوبر 7, 2014

والد محترم جناب مولانا محمد اسرائیل رحمانی

مولانا اسرائیل کے بڑے بھائی 
جناب کتاب اللہ صاحب
جن کی وفات یکم جنوری ۱۹۸۴
کو ہوئی۔
مولانا اسرائیل
سے ۹ دن پہلے۔
والد محترم مولانا محمد اسرائیل رحمانی رحمہ اللہ ایک معتبر عالم دین تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی درس وتدریس اور دعوت وتبلیغ کے لیے وقف کردیا تھا۔ پوری زندگی سادگی کے ساتھ گزار دی۔ زندگی نے ان ساتھ وفا نہیں کیا۔تقریباً چالیس سال ہی کی عمر میں انہوں نے سفر آخرت اختیار کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے گاؤں اور علاقہ میں انمٹ نقوش چھوڑے جس کو اب بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔
مولانا محمد اسرائیل صاحب کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسہ نورالہدی میں ہوئی۔ اس کے بعد جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر، ندوۃ العلماء لکھنؤ اور جامعہ رحمانیہ بنارس میں تعلیم پائی۔ کہاں پر کتنی تعلیم پائی اس کا علم نہیں ہے البتہ ایک کتاب اصول الشاسی میں انہوں نے ایک اپنے ہاتھ سے ایک تحریر لکھی ہے کہ یہ کتاب ۱۹۶۱ء میں مولانا عبدالسلام رحمانی سے پڑھی ہے۔ چونکہ یہ کتاب عموماً عربی چہارم میں پڑھائی جاتی ہے اس وجہ سے یہ بات
کہی جاسکتی ہے کہ آپ نے چوتھی جماعت جامعہ سراج العلوم جھنڈا نگر میں پڑھی ہے۔ جامعہ رحمانیہ بنارس سے فراغت کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ رحمانی لکھا کرتے تھے۔ جامعہ رحمانیہ سے فراغت کے بعد مولانا عبدالجلیل سامرودی کی خدمت میں حدیث کا درس لینے کے لیے گئے جہاں پر آپ نے دو سال تک حدیث کا درس لیا۔ ابھی ایک مہینہ پہلے سامرود کے ہی ایک صاحب جو والد محترم کے بارے میں کافی دنوں سے معلوم کررہے تھے، انٹرنیٹ سے انہوں نے بات کی۔ ان کے بیان کے مطابق مولانا اسرائیل صاحب کو وہاں لوگ ابو خلیل کے نام سے جانتے ہیں۔ ہمارے بھائیوں میں کسی کا نام بھی خلیل نہیں ہے۔ معلوم نہیں کیوں انہوں نے یہ کنیت اختیار کی۔ ہمارے دادا یعنی مولانا محمد اسرائیل رحمانی کے والد جناب نامدار صاحب موجودہ ضلع سدھارت نگر میں اٹوا بازار کے قریب دیوریا نام کے ایک گاؤں سے  اورہواں آئے تھے۔ ہمارے دادا محترم جناب نامدار کو اورہواں میں نانیہال کی طرف سے جائداد ملی تھی۔ نامدار صاحب اورہواں آتے وقت وہاں سے دو لوگوں و جن کے پاس وہاں کوئی زمین جائداد نہیں تھی اپنے ساتھ لائے تھے۔ جعفر اور اسلام کا خاندان اور دوسرے برکت صاحب۔ دونوں کو انہوں نے بائیس بائیس بیگہہ زمین دیا تھا جس سے وہ دونوں خاندان اب تک گزر بسر کررہے ہیں۔
نامدار صاحب کے دو لڑکے تھے، کتاب اللہ اور محمد اسرائیل۔ دونوں کی پیدائش ان کے آبائی گاؤں دیوریا میں ہوئی تھی۔ بڑے والد جناب کتاب اللہ صاحب کی تعلیم واجبی سی تھی۔ غالبا آٹھویں جماعت تک انہوں نے تعلیم پائی تھی۔ دونوں کی عمر میں تقریباً دس سال کا فرق تھا۔ والد محترم کا سلسلۂ نسب یہ ہے: محمد اسرائیل بن نامدار بن رسال بن علی جان۔ آپ کی والدہ کا نام بصیرہ تھا۔
دونوں بھائیوں نے گھریلو ذمہ داریوں کو آپس میں تقسیم کرلیا تھا۔ کتاب اللہ صاحب نے کھیتی باڑی کی ذمہ داری سنبھال لی تھی اور والد محترم نے درس وتدریس ذریعۂ معاش کے طور پر اپنایا۔ علاقہ کے مختلف مدارس میں انہوں نے درس تدریس کا کام کیا۔ کوئیلا باس، لدھوری کا ذکر اکثر گھر میں اس حوالے سے آتا رہتا ہے کہ والد محترم نے وہاں کئی سالوں تک پڑھایا تھا۔ اس کے بعد وہ رچھا بریلی کے مشہور سلفی ادارے سے وابستہ ہوگئے۔ رچھا بریلی میں والد محترم مولانا اسرائیل صاحب ہماری والدہ کو بھی لے گئے تھے۔ لیکن والدہ چونکہ گاؤں کی زندگی کی عادی تھیں، شہر کی زندگی سے اجنبیت کی وجہ سے وہاں زیادہ دن نہ رہ سکیں۔ والدہ محترمہ کی یاداشت کے مطابق آپ تقریباً چھہ سال تک وہاں رہے۔ اس کے بعد ایک سال آپ نے دارالعلوم شکراوہ، میوات میں تعلیم دی۔ آپ جس سال یہاں پڑھانے کے لیے آئے اسی سال مولانا بدرالزماں نیپالی بھی آئے ہوئے تھے۔ لیکن وہاں کی آب وہوا راس نہ آنے کی وجہ سے مجبوراً وہ جگہ چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد تقریباً دو سالوں تک جامعہ ریاض العلوم دہلی سے وابستہ رہے۔ ۱۹۸۰ میں جب مولانا عبدالحمید رحمانی صاحب نے دہلی میں معہد التعلیم الاسلامی کے قیام کا ارادہ کیا تو آپ کی نظر انتخاب جن لوگوں پر پڑی ان میں مولانا محمد اسرائیل رحمانی بھی ہیں۔ آپ یہاں پر انتظامی امور سے متعلق تھے۔ لیکن مولانا بدرالزماں نیپالی صاحب کے مطابق انہوں نے یہاں پر ایک سال تک ہی کام کیا اس کے بعد وہ یہاں سے بھی الگ ہوگیے۔ یہاں سے الگ ہونے کے بعد وہ ۱۹۸۱ سے سال وفات ۱۹۸۴ تک گھر پر ہی رہے۔ اس درمیان وہ گھریلو الجھنوں اور مالی پریشانیوں کا شکار رہے۔ اسی زمانے کا ایک خط جو انہوں نے مولانا بدالزماں صاحب کے نام لکھا تھا لیکن پوسٹ نہیں کرسکے تھے، پڑھ کر اس زمانے کی الجھنوں اور پریشانیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ مولانا محمد اسرائیل صاحب چونکہ ایک خودار اور غیرت مند انسان تھے، حق بات ہمیشہ منہ پر بول دیا کرتے تھے اس وجہ سے نظمائے مدارس کے ساتھ عموماً نباہ نہیں کرپاتے تھے۔ والدہ محترمہ بتاتی ہیں کہ ایک مرتبہ مولانا عبدالحمید رحمانی صاحبکے ساتھ وہ کہیں سفر پر تھے۔ رحمانی صاحب نے انہیں اپنا کپڑا پریس کرانے کے لیے دیا۔ انہیں یہ بات بہت ناگوار گزری اور یہ کہہ کر منع کردیا کہ میری ذمہ داریوں میں یہ شامل نہیں ہے کہ آپ کے کپڑے پریس کراؤں۔ مولانا بدرالزماں صاحب نے لکھا ہے کہ والد محترم نے لکڑی کا کاروبار بھی کیا جو  کہ صحیح نہیں ہے۔ معہد (دہلی) سے واپسی کے بعد آپ نے ارادہ کیا تھا کہ میری والدہ کے چھوٹے بھائی عزیزالرحمن کے ساتھ لکڑی کا کاروبار کریں۔ لیکن کاروبار شروع نہیں کیا تھا کہ آپ کا وقت موعود آپہنچا۔ اتفاق یہ کہ آپ کے کچھ ہی دنوں کے بعد عزیز الرحمن ماموں کا بھی انتقال ہوگیا۔ آپ بہت سادگی پسند انسان تھے۔ کھیتی کے کاموں میں بڑے بھائی کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ آپ طب کی معلومات رکھتے تھے۔ ہلکی پھلکی بیماری کا علاج وہ خود کرلیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کھیت سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں ایک زہریلے سانپ نے آپ کے پاؤں میں کاٹ لیا۔ آپ نے بلا تردد اس جگہ چاقو سے کاٹ کر اس کے اوپر مضبوطی سے رسی باندھ دیا۔ اس وقت وہ اکیلے تھے۔ بہادری کے ساتھ اسی حالت میں گھر تک آئے اور زخم کی جگہ پر لال مرچ پسوا کر رکھ دیا۔ آپ کے بر وقت اقدام کی وجہ سے آپ کی جان بچ گئی۔ آپ کو وکیلوں پر بھروسہ نہیں تھا۔ سول اور فوجداری کے کئی مقدمات انہوں نے لڑے لیکن اہم بات یہ کہ کبھی وکیل کی خدمات نہیں لی۔ ہمیشہ اپنا کیس خود لڑا۔ ان کی حاضر جوابی اور قانونی معاملات پر گرفت سے مد مقابل کا وکیل بھی گھبراتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ پر گئو کشی کا جھوٹا الزام بھی لگا۔ ہوا یہ کہ بڑے والد جناب کتاب اللہ صاحب کھیت میں کام کررہے تھے کہ ایک گائے کھیت میں آگئی، آپ نے اسے ہاتھ سے دھکا دیا تو وہ گرگئی معلوم نہیں کیا ہوا کہ وہ وہیں مرگئی۔ وہ بہت گھبرائے، کھیت چونکہ ایک ہندو گاؤں رموا پور سے قریب تھا اور وہاں کوئی پاس میں نہیں تھا اس لیے گھبراہٹ میں اس کو وہیں چھوڑ کر گاؤں چلے آئے۔ ادھررموا پور والوں نے ہمارے والد اور بڑے والد دونوں کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کے لیے گائے کا سر کاٹ دیا اور شور مچا دیا کہ مولانا اسرائیل اور کتاب اللہ نے رموا پور والوں کی گائے ذبح کردی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے یہ نہیں سوچا کہ مسلمان جانور کا سر دھڑ سے الگ نہیں کرتے۔ والد محترم کی دلیلوں کے آگے سازش رچنے والوں کی ایک بھی نہ چلی اور دونوں بھائی باعزت بری ہوگیے۔ انتقال سے کچھ پہلے ایک اہم زمین کا فیصلہ آنا تھا جو کہ سرکار نے ضبط کرلیا تھا۔ پوری امید تھی کہ اس کا فیصلہ آپ کے حق میں آئے گا۔ ارادہ یہ تھا کہ وہ زمین ہاتھ میں آتے ہی اسے بیچ کر ٹریکٹر خریدیں گے۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بعد میں کوئی بچا ہی نہیں کہ ان مقدمات کی پیروی کرے۔ اس وجہ سے یہ زمین بھی جاتی رہی۔ آپ ایک اچھے مقرر تھے۔ جہاں بھی جاتے لوگ ان کی تقریر سننے کو مشتاق رہتے۔ ہلکے پھلکے انداز میں دین کی باتیں لوگوں کو بہت پسند آتی تھیں۔ تحریری صا حیت بھی اچھی تھی لیکن انہوں نے اس جانب توجہ کم دی۔ آپ کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک تحریر نظر سے گزری۔ میں نے اس کو اس غرض سے سنبھال کر رکھا تھا کہ اسے شائع کراؤں گا مگر وہ ضائع ہوگئی۔
کتابیں جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔ بہت ساری کتابوں کے قلمی نسخے بھی آپ نے اپنی لائبریری میں جمع کررکھا تھا۔ آپ کی کتابوں کا پیش بہا ذخیرہ آج تک ہمارے گھر کی زینت تھا۔ ابھی چند مہینے پہلے والدہ محترمہ نے ہماری لاعلمی میں ان کتابوں کو مدرسہ نورالہدی اورہواں میں دے دیا۔ میں ان کتابوں کو والد کی نشانی سمجھ کر بہت احترام کے ساتھ رکھتا تھا۔ ان کتابوں کو نہ پاکر میں نے والدہ محترمہ سے معلوم کیا۔ کتابوں کو وقف کرنے کی بات سن کر بہت افسوس ہوا۔ لیکن والدہ کے فیصلہ کا احترام کیے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ دہلی واپسی کے بعد میں نے خواب دیکھا کہ لوگ ہم سے کہہ رہے کہ تمہارے والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں جہاں بھی جاتا ہوں لوگ یہی سناتے ہیں۔ میں ان کو بتاتا ہوں کہ ان کو انتقال کو ایک عرصہ ہوگیا۔ اس خواب کے بعد میں بہت پریشان رہا۔ مجھے ایسا لگا کہ وہ کتابیں جو والد محترم کو جان سے بھی زیادہ عزیز تھیں، والد کی غیر موجودگی میں بھی والد کی نشانی کے طور پر موجود تھیں۔ جس دن وہ کتابیں ہمارے گھر سے گئیں، حقیقی معنوں میں وہی ان کی وفات کا دن تھا۔ آپ خود بھی دعوت وتبلیغ سے وابستہ تھے اور اس سلسلے میں علماء سے برابر رابطے میں رہتے تھے۔ اس حوالے سے علمائے کرام کے خطوط بڑی تعداد میں آپ کے پاس آتے تھے۔ ان خطوط کو آپ سنبھال کر رکھتے تھے۔ ان خطوط سے۱۹۶۰ اور ۱۹۸۴ کے درمیان وقفہ کی دعوتی سرگرمیوں پر روشنی پڑتی ہے۔ والد محترم مولانا محمد اسرائیل رحمہ اللہ کے بارے میری معلومات بہت محدود ہے۔ ایک دھندلی سی تصویر ہے جو وقت کے گزرنے کے ساتھ مٹنے کے بجائے مزید پختہ ہوتی جارہی ہے۔ جس سال والد محترم کا انتقال ہوا اسی سال میرا نام گاؤں کے مدرسہ نور الہدی میں لکھوایا گیا تھا۔ اس وقت تک میرا شعور بیدار نہیں ہوا تھا۔ لیکن اتنا یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ میں مدرسہ پڑھنے نہیں گیا، مدرسہ کا وقت ہوگیا تھا، گھر میں کسی نے والد محترم سے کہا کہ اگر اسی طرح یہ لاپرواہ رہے گا تو نہیں پڑھ پائے گا۔ آپ سختی کیوں نہیں کرتے؟ والد محترم ہمارے ساتھ بہت شفقت کا معاملہ کرتے تھے، مارپیٹ کا معاملہ تو دور وہ کبھی ہیں ڈانٹتے بھی نہیں تھے۔ اس وقت ان کی طبیعت بھی خراب تھی، لیکن دوسروں کے کہنے پر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور ایک ہاتھ میں ہلکی سی کوئی لکڑی لی اور کہا کہ چلو دیکھتا ہوں، پڑھنے کیوں نہیں جائے گا۔ وہ ہمیں اسی حالت میں لے کر مدرسہ کی طرف نکلے۔ مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے وہ خاموشی کے ساتھ مجھے اسکول تک چھوڑنے آئے تھے۔ اس کے  علاوہ ایک اور بات مجھے یاد ہے میں ٹرین سے والد کے ساتھ ننیہال سے گھر آرہا تھا۔ میں ٹرین کی کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کررہا تھا۔ پنجوں کے بل ہونے کے باوجود میں بمشکل کھڑکی تک پہنچ رہا تھا۔ والد محترم مجھے باہر دیکھے سے منع کیا کہ آنکھ میں کچھ پڑ جائے گا۔ اور مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا۔آپ کی شادی رسول پور میں مولانا زین العابدین صاحب کی بہن سے ہوئی تھی۔ ان سے ہمارے بڑے بھائی مولانا عرفان اللہ کی پیدائش ہوئی۔ لیکن عارضہ قلب کی وجہ سے عرفان اللہ جب چار سال کے تھے تبھی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ان کی دوسری شادی مولانا فرید احمد رحمانی رحمہ اللہ کی صاحب زادی ام حببیبہ سے ہوئی۔ جن سے تین لڑکے زبیر احمد، عزیز احمد (راقم الحروف) ارشاد احمد اور ایک لڑکی زرینہ پیدا ہوئی۔ زرینہ کا انتقال ۲۰۰۵ میں دل کے عارضہ میں دہلی میں ہوا۔ باقی سب بقید حیات ہیں۔ مولانا محمد اسرائیل صاحب اپنے بھائی جناب کتاب اللہ صاحب بہت محبت کرتے تھے۔ بھائیوں میں ایسی محبت کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔اس کی مثال اب بھی لوگ دیتے ہیں۔ یکم جنوری ۱۹۸۴ کو کتاب اللہ صاحب کی وفات کا صدمہ انہیں اتنا سخت لگا کہ وہ برداشت نہ کرسکے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے کلیجہ متاثر ہوگیا تھا۔ اس کے ایک ہفتہ بعد ہی دس جنوری ۱۹۸۴ کو ان کا بھی انتقال ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انتقال کے وقت آپ کی عمر تقریباً چالیس سال تھی۔ یکے بعد دیگرے دو نوں بھائیوں کے وفات سے ہمارا گھر ہی نہیں بلکہ پورا گاؤں سکتے میں آگیا۔ ہم لوگ بے سہارا ہوگئے۔ پورے گھر میں سب بڑے بھائی رضوان اللہ تھے، جو ۲۰۰۰ء میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اس وقت وہ معہد التعلیم الاسلامی (دہلی) میں چوتھی جماعت میں پڑھ رہے تھے۔ میں اس وقت بہت چھوٹا تھا۔ اتنا یاد پڑتا ہے کہ کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہارے ابو تمہارے لیے مٹھائی لینے گیے ہیں۔ اس کے بعد کی کہانی بہت دکھ بھری ہے۔ بس اللہ ہمارے نانا محترم مولانا فرید رحمانی رحمہ اللہ کو جزائے خیر دے انہوں نے ہم بھائیوں کے تعلیم کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی۔ آج ہمارے سارے بھائی جو تھوڑا بہت پڑھ لکھ لیے ہیں وہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
مولانا بدرالزماں نیپالی صاحب کے ساتھ مولانا کی کئی سالوں تک رفاقت رہی ہے۔ انہوں نے آپ کے بارے میں اپنی رائے دی ہے:''آٹھ سالہ تعلقات اور تقریباً تین سالہ مصاحبت کا تاثر یہ ہے وہ نہایت خلیق، ملنسار اور درد مند انسان تھے۔ تبلیغ دین کا کافی جذبہ تھا، وعظ وتقریر میں اچھی دسترس تھی علمی صلاحیت بھی متوسط اور لائق اعتماد تھی۔ آپ ذہین اور دور اندیش تھے۔ معاملات کی تہہ تک پہنوچنے کی کوشش کرتے تھے۔ غصہ کچھ زیادہ آتا تھا مگر جلد ہی فرو بھی ہوجاتا تھا۔ میں نے اس طویل مصاحبت میں کینہ اور بغض وحسد جیسے امراض خبیثہ سے آپ کے دل کو پاک وصاف پایا۔ میں آپ سے چھوٹا تھا مگر پھر بھی آپ نے شاید ہی کبھی میری بات ٹالی ہو۔ حق بات خواہ ان کے مزاج کے خلاف ہی کیوں نہ ضرور منوالیتا تھا۔''
(علمائے اہلحدیث بستی وگونڈہ از بدرالزماں نیپالی، ص ۱۳۵)

والد محترم کے انتقال کے وقت میری عمر بہت کم تھی اس وجہ سے ان کے اخلاق وعادات کے بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ البتہ ان کے بارے میں لوگوں کی عام رائے یہ ہے کہ وہ بہت ہمدرد اور ملنسار قسم کے انسان تھے۔ محتاجوں کی امداد میں پیش پیش رہا کرتے تھے۔ رشتہ داری کا پاس ولحاظ رکھتے تھے۔ دور دراز کے رشتہ داروں کے پاس وہ برابر جایا کرتے تھے۔مہمان نواز تھے۔ والدہ محترمہ بتاتی ہیں کہ روزانہ کوئی نہ کوئی مہمان گھر پر ہوتے تھے۔ والد محترم اور چچا جان کے انتقال کے بعد گھر کی رونق ختم ہوگئی۔ گھر میں یا تو ہم چھوٹے چھوٹے بچے رہ گئے یا ہماری والدہ اور بڑی امی رہ گئیں۔ اللہ تعالی والد محترم کی نیکیوں کو قبول فرمائے، گناہوں سے درگزر کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین 



جمعرات, ستمبر 18, 2014

اردو ریسرچ جرنل کا تازہ شمارہ منظر عام پر

اردو ریسرچ جرنل کا تازہ شمارہ منظرعام پر آگیا ہے۔ اس شمارہ کو یونی کوڈ میں پیش کیا جارہا ہے۔ جو قارئین اس کو پی ڈی ایف میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں ان کے لیے ہر مضمون کے آخر میں متعلقہ مضمون اور مکمل شمارہ کا لنک دے دیا گیا ہے۔ اس شمارہ میں قارئین ہر مضمون پر اپنی رائے دے سکیں گے۔ اس شمارے میں شامل مضامین کی فہرست ملاحظہ فرمائیں:
حرف آغاز                                       عزیر اسرائیل(مدیر)       
خراج عقیدت:
محمد کاظم                                          محمد راشد شیخ                  
مولانا اسید الحق محمد عاصم قادریؒ کی مکتوب نگاری نورین علی حق    
تنقید وتحقیق
غالب کا تصورِ شہر اور دلی                                           
     (اردو شاعری کی روشنی میں)                     ڈاکٹر رضوان الحق           
     ڈاکٹر تنویر احمد علوی بہ حیثیت محقق                        ڈاکٹر محمد اکمل    
     اردو تحقیق میں جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال   عزیر اسرائیل     
     امداد امام اثر کی غزل گوئی: ایک مختصر جائزہ             محمد مقیم               
اسلامیہ یونی ورسٹی آف بہاول پور
     (فہرست مقالات ایم ۔فِل شعبہ اُردو و اقبالیات)ادارہ            کسوٹی (تبصرہ)
ابن کنول بحیثیت افسانہ نگار                سلمان فیصل       
     علامہ عبدالحمید رحمانی ایک عہد، ایک تاریخ محمد اشرف یاسین
     اردو میں نثری نظم                                   حسین ایاض       
     پرورش لوح وقلم                         ڈاکٹر محمد عبدالعزیز          
     وہ دن (افسانوی مجموعہ)                محمد علم اﷲ اصلاحی 
اس شمارہ کو   http://www.urdulinks.com/urj پر ملاحظہ فرمائیں۔
--
عزير اسرائیل
Uzair Israeel
+91-9210919540

پیر, اگست 25, 2014

مولانا بدرالزماں نیپالی کی ایک نایاب کتاب علماء اہلحدیث بستی وگونڈہ

علماء  اہلحدیث بستی گونڈہ مولانا بدرالزماں کی ایک اہم کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے بستی اور گونڈہ (سدھارت نگر، بلرام پور اور سراوستی) کے علماء کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ صرف ان علماء کی تاریخ نہیں ہے بلکہ اس علاقے کی بھی تاریخ ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے ہی گاؤں کے ان علماء کے بارے میں نہیں جانتے جو آج سے بیس سال پہلے گزرگئے۔  مجھے یہ کتاب جامعہ اسلامیہ سنابل کی لائبریری میں ملی ۔ میں اپنے والد محترم مولانا محمد اسرائیل کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ اس کتاب میں میرے والد مولانا محمد اسرائیل کے علاوہ میرے نانا مولانا فرید رحمانی رحمہما اللہ کا بھی ذکر ہے۔ کتاب چونکہ نایاب ہے اس وجہ سے افادۂ عام کے لئے میں اس کو انٹرنیٹ پر شائع کررہا ہوں۔ اس امید کے ساتھ کہ مولانا بدرالرزماں اس سے ناراض نہیں ہونگے۔ مولانا بدرالرزماں نیپالی صاحب میرے والد کے دوستوں میں سے ہیں۔ انہوں نے اس کتاب کو پاکستان سے چھپوا کر مفت تقسیم کیا تھا۔ چونکہ کتاب ہی مفت تقسیم کے لئے تھی۔ اس سے ان کا مقصد روپیہ پیسہ کمانا نہیں تھا اس لئے ان سے اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ ایک اور معذرت کہ کتاب کے صفحات الٹ گئے ہیں۔ اس کو صحیح کرنے کی زحمت اس وجہ سے نہیں اٹھائی گئی کہ اس کو آخر سے بھی آسانی سے پڑھا جاسکتا ہے۔
عزیر اسرائیل


کتاب ڈاؤن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔



مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر اسحاق بھٹی کی ایک عمدہ تحریر

مولانا ابوالکلام آزاد برصغیر کی ایسی ہستی ہے جس کے ذکر کے بغیر کوئی بھی تاریخی، علمی اور ادبی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ مولانا اسحاق بھٹی دور حاضر کے ایک عظیم مورخ ہیں۔ ان کے قلم کی سلاست قاری کو آخر تک اپنے سحر میں گرفتار کرلیتی ہے۔ مولانا آزاد پر ان کی یہ تحریر میں نے بزم ارجمنداں سے لی ہے۔ یہ ایک طویل مضمون ہے اس وجہ سے اس کا پی ڈی ایف لنک یہاں دیا جارہا ہے۔
اس کو یہاں سے ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے

اتوار, مئی 18, 2014

اردو ریسرچ جرنل کا دوسرا شمارہ منظرعام پر

 'اردو ریسرچ جرنل ' مئی ۔ جولائی 2014
اردو ریسرچ جرنل



'اردو ریسرچ جرنل' (مئی تا جولائی 2014) کے دوسرے  شمارہ  کا اون لائن ورن منظر عام  پر آگیا ہے ۔ یہ اردو کا واحد اون لائن خالص تحقیقی وتنقیدی جرنل ہے جو پہلے شمارے سے ہی آئی ایس ایس این نمبر کے ساتھ  شائع ہورہا ہے۔اس تازہ شمارہ میں  'خراج  عقیدت' کے تحت  پروفیسر محمود الٰہی پر دو مضامین ' پروفیسر محمود الٰہی کے تحقیقی کارنامے'  از ڈاکٹر ایم عظیم اﷲ  اور 'پروفیسر محمود الٰہی: بحیثیت محقق و نقاد  از محمد شمس الدین اور معروف ناول نگار اور صحافی خسونت سنگھ پر راقم کا مضمون ' خشونت سنگھ ایک عظیم قلم کار ۔ ایک عظیم انسان' ملاحظہ فرمائیں۔ 
اس مرتبہ 'تحقیق وتنقید' کے تحت اقبال شناسی پر تین مضامین ٹیگور اور اقبال' از محمد علم اﷲ اصلاحی؛  'اقبال بحیثیت آفاقی شاعر' ازضیاء الحق محمد حسین اور راقم کا مضمون 'اقبال اور تصوف'  اور ڈاکٹر ہاجرہ بانو کا مضمون 'الفاظ و معنی اورزبان کا رشتہ' شامل ہیں۔
اردو ریسرچ جرنل کے اس دوسرے شمارے میں ہم عصر ادبی شخصیات پر ایک گوشہ 'رفتار ادب' کے نام سے شامل کیا گیا ہے۔  اس گوشہ میں شمیم اختر کا اردو کی موجودہ صورتحال  پر  ایک مضمون، اور احمد علی جوہر کا مضمون  'ہم عصر اردو افسانہ میں حاشیائی کرداروں کی عکاسی' اس کے علاوہ اس گوشہ میں  جن ادبی شخصیات پر مضامین ہیں وہ کچھ اس طرح ہے:  
تصوراور حقیقت کا افسانہ نگار :اصغر کمال از ڈاکٹر محمد ارشد
عزیز نبیل کی شاعری ازحسین عیاض
فریاد آزرؔ:تخلیقی اڑان کے نئے زاویے              از حقانی القاسمی              
ملک زادہ منظوراور' شہرِادب'از شاہنواز فیاض
صادقہ نواب سحر کا مونولاگ ناول'کہانی کوئی سناؤ متاشا'ازسلمان فیصل
 اردو ریسرچ جرنل کے اس دوسرے شمارے سے 'کسوٹی' کے تحت نو وارد اہم ادبی کتابوں پر تبصروں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اس  کالم کے تحت  ارشاد نیازی کی کتاب 'تفہیم شبلی' ؛ محمد مقیم کا ترتیب کردہ 'کلیات غزلیات ناسخ'،  محمد زکریا ازہری کی نووارد ڈکشنری القاموس الازہر ایڈوانس (اردو۔ عربی) اور 'ہندوستان کی یونی ورسٹیوں میں اردو تحقیق' کتابوں پر تبصرے شائع کئے گئے ہیں۔ پروفیسر ابن کنول کی سرپرستی  اور عزیر اسرائیل کی ادارت میں شائع ہونے والے اس ریفرڈ جرنل کو اس کی ویب سائٹ (www.urdulinks.com )پر پڑھا جاسکتا ہے۔
عزیر اسرائیل
مدیر اعلی


ISSN 2348-2687


-- 
عزير اسرائیل 
Uzair Israeel

منگل, اپریل 22, 2014

کچھ دن برف کی وادیوں میں (۱)


کچھ دن برف کی وادیوں میں

(پہلی قسط)

(دہلی، شملہ اورمنالی کی سیر)










دہلی میں ۱۹۹۴ تعلیم کے سلسلے میں رہائش کے بعد سے اب تک بیس سال سے بھی زائد ہوگیا لیکن کبھی اتنی فرصت نہیں ملی کہ دہلی اور اس کے مضافات میں واقع گھومنے پھرنے کی جگہوں کا مشاہدہ کرلوں۔ کئی بار کوشش کی مگر یہ کوشش کبھی بار آور نہیں ہوئی۔ حیرت ہے کہ دہلی میں۱۹۹۴ سے رہنے کے باوجود قطب مینار بھی پچھلے سال قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس سے قارئین کو یہ مطلب نہیں نکالنا چاہئے کہ مجھے گھومنے پھرنے کا شوق نہیں ہے۔ بلکہ معاملہ اس سے برعکس ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دہلی میں مجھے کوئی قاعدے کا گھمکڑ دوست نہیں مل سکتا۔  مجھے تاریخی عمارتیں دیکھنے اور تاریخیں شخصیات کے بارے میں جاننے کا بے حد شوق ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ ہمایوں کے مقبرہ دیکھنے گیا تھا۔ میں ہمایوں کے مقبرہ کو ہی نہیں بلکہ اس کے احاطہ میں واقع  گمنام قبروں کو بھی ایک کرکے دیکھ رہا تھا۔ ساتھ ہی نگاہ عبرت سے ماضی کے ان عظیم ہستیوں کے ان باقیات کا مشاہدہ کررہا تھا جو صدیوں سے ان مقبروں اور اس کے احاطے میں اپنی حیثیت کے مطابق قبروں میں آرام کررہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ موت امیر غریب کے فرق کو مٹادیتی ہے۔ مگر بادشاہوں نے اس فرق کو مرنے کے بعد بھی باقی رکھنے کی کوشش کی۔ خود اپنے لئے بڑے بڑے مقبرے بنوائے۔ شاہ جہاں نے تو اپنی بیوی کے لئے تاج محل تعمیر کروا دیا۔ اہم وزیروں کے لئے بھی مقبرے بنے۔ نظام الدین، دہلی کا خان خاناں کا مقبرہ جو کہ لب سڑک ہے اور مغلیہ دور کے ایک وزیر کا ہی مقبرہ ہے۔ عام لوگوں کو قبرستان میں جگہ ملتی تھی۔ ان لوگوں نے غالبا یہ سمجھ لیا تھا کہ ان کی حکومت ہمیشہ برقرار رہے گی۔ ان کے ذریعہ قائم کردہ امیر و غریب کا یہ فرق تاریخ بھی برقرار رکھے گی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ تاریخ صرف یہ جانتی ہے کہ کس حکمران کب سے کب تک حکومت کی۔ حکومت کے خاتمہ کے بعد اب وہ عمارتیں صرف تفریح گاہوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمایوں کے مقبرے میں گھومتے ہوئے میرے دوست بار بار مجھ سے الجھ رہے تھے۔ انہیں ان پتھروں کے ڈھیر میں گھومنا وقت کا ضیاع لگ رہا تھا۔ اس وجہ سے وہ بار بار مخل ہورہے تھے۔ یہ تجربہ اتنا خراب رہا کہ میں بعد میں اپنے کسی دوست کے ساتھ کسی تاریخی جگہ کو دیکھنے نہیں گیا۔  شاید مجھ سے برا تجربہ میرے دوستوں کو میرے ساتھ گھومنے کا ہوا تھا۔ اس لئے کہ جب بھی کبھی کہیں گھومنے اور ٹہلنے کے لئے باہر جانے کی بات ہوتی، وہ کہنا شروع کردینے کہ  گھومنا اور وہ بھی تمہارے ساتھ، معاف کرنا مجھ سے زیادہ پیدل نہیں چلا جاتا۔
 
ابھی ایک مہینہ پہلے میرے ممبئی کے دوست جلال الدین کا ایک پیغام موصول ہوا کہ وہ ایک ہفتہ کے لئے دہلی، آگرہ، شملہ اور منالی کے لئے نکلنے والے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ ہمارے دوست سعید احمد اور اشتیاق احمد بھی ہوں گے۔ بعد میں اشتیاق بھائی نے اپنا ارادہ تبدیل کردیا۔ لیکن وہ دونوں اپنے مقررہ وقت پر 17  فروری کو دہلی آگئے۔ جلال الدین بھائی کا تعلق ہمارے ننہال پیکولیا مسلم ضلع بستی، یوپی  سے ہے  لیکن ان کا پورا خاندان ممبئی میں مقیم  ہے۔ وہ ایک معتبر عالم دین ہیں۔ ممبئی کی ایک مسجد میں امام و خطیب کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔  جلال الدین بھائی کا تعلق ان علما میں نہیں ہے جو دنیا سے کٹ کر گوشہ نشینی کو ہی دین سمجھتے ہوں۔ ان کا اپنا ایک ہفت روزہ اخبار ہے جو اردو اور ہندی دو زبانوں میں شائع ہوتا ہے۔ اس اخبار کے ذریعہ یہ قوم وملت کی رہنمائی اور ان کی آواز بلند کرتے ہیں۔ وہ ایک بہتر مقرر اور مناظر ہیں۔ اس وقت وہ ممبئی کے ایک کالج سے بی ایڈ کررہے ہیں۔  جہاں تک سعید بھائی کی بات ہے تو وہ میرے بہت قریبی دوست ہیں ۔ جامعہ سنابل کی بستی ، اترپردیش کی شاخ میں جب میرا داخلہ ہوا تو مجھ سے ایک سال نیچے کی کلاس میں سعید بھائی تھے۔ میں عربی دوم میں اور وہ عربی اول میں تھے۔ اس وقت ہمارے ایک دوست تھے حافظ خلیل اللہ بھائی ہم تینوں ایک ساتھ رہتے تھے ۔ ایک ساتھ گھومنے نکلتے۔ ہم تینوں میں قدرے مشترک بات یہ تھی  کہ ہم سب حافظ قران تھے۔ اس کی وجہ سے ہمارا یہ گروپ اساتذہ اور طلبہ سب کی نظر میں قابل احترام تھا۔ ہماری یہ دوستی جامعہ اسلامیہ میں تعلیم کے دوران بھی برقرار رہی بلکہ دن بدن ہم ایک دوسرے سے مزید قریب ہوتے گئے۔ سنابل کے طلبہ اور اساتذہ ہماری قربت کی وجہ سے ہمیں بھائی تصور کرتے تھے۔ اگر کوئی ہم سے دریافت کرتا تو ہم لوگ بھی یہی جواب دیتے کہ ہم آپس میں بھائی ہیں۔  فی الحال وہ ممبئی میں کمپیوٹر کی خرید و فروخت کا کام کررہے ہیں۔

            بھائی جلال الدین اور بھائی سعید کا دو نفری قافلہ پانچ بجے صبح حضرت نظام الدین ریلوے پر وارد ہوا۔ اپنی عادت کے مطابق الارم لگاکر سونے کے باوجود میری نیند بھائی جلال الدین کے فون کی گھنٹی سے کھلی۔ وقت کم تھا بہت ساری جگہیں دیکھنی تھیں اس وجہ میں نے انہیں تاکید کردی تھی جتنا آرام کرنا ہو راستے میں کرلینا۔ دہلی آتے ہی ابن بطوطہ کی روایت کو زندہ کرنا ہے۔ ان لوگوں نے اس ناچیز کی نصیحت پر پورا عمل کیا تھا۔ اس وجہ سے گھر پر پہنچتے ہی نہادھو کرناشتہ کرتے ہی دہلی کے اہم تاریخی مقامات کی سیر کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ انہیں دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ وہ پورے دو دن کے سفر ابھی دہلی آئے ہیں۔  ان سے زیادہ تھکا ہوا چہرہ میرا معلوم ہوتا تھا۔ اصل میں انہوں نے جس ٹرین سے دہلی کا سفر کیا تھا وہ ۳۶ گھنٹے لگاتی ہے۔ فون پر کئی بار سعید بھائی نے ٹرین کی سست رفتاری پر اپنی الجھن کا اظہار کیا تو میں نے انہیں بتایا کہ آپ تفریح کے لئے گھر سے نکلے ہیں اس وجہ سفر میں ٹرین کی سست رفتاری سے پریشان ہونے کے بجائے لطف اندوز ہوں۔ میں نے یہ آزمایا ہے کہ جب کبھی ہیں کہیں جلدی پہچنا ہوتا ہے تو گھڑی پر دھیان دینے سے الجھن بڑھ جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ گاڑی سے تیز گھڑی کی سوئی چلتی ہے۔ ایسے میں ہماری ضعیف الاعتقادی کہ میں گھڑی نہیں دیکھتا۔ کسی حد تک خود کو لاتعلق ظاہر کرکے سفر کی دوسری چیزوں پر دھیان دینے کی کوشش کرتا ہوں۔

عالمی اردو کتاب میلہ، پرگتی میدان

ہم سب کی خوش نصیبی کہ ان دنوں پرگتی میدان میں عالمی کتاب میلہ کی وجہ سے دہلی اہل علم  کی توجہ کا مرکز تھا۔ دہلی یوں تو صدیوں سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے۔ سرزمین دہلی کو مشرق کا جنیوا بلکہ کوفہ و بغدادکہیں تو بے جانہ ہوگا۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے شہر کسی نہ کسی نسبت سے مشہور ہوئے۔ لیکن اہل دہلی کے علم وعرفان کو اپنے لئے چنا۔ ملک کی سب سے بڑی یونی ورسٹی، دہلی یونی ورسٹی جس کے ۸۶ کالجوں میں سے کئی کالج اسٹیٹ یونی ورسٹیوں کے برابر ہیں۔ مسلمانوں کے دو عظیم عصری ادارے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ ہمدرد یہیں دہلی ہی میں ہیں جن پر پوری ملت اسلامیہ کو ناز ہے۔ آزادی کے مسلمانوں کی عصری تعلیمی ضرورتوں کی تکمیل میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے بعد ان اداروں کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ابھی دو سال پہلے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو مسلم اقلیتی ادارے کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے اب یہ ممکن ہوسکا ہے کہ یہاں پچاس فیصد سیٹین مسلمانوں کے لئے مختص کی جاسکیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کی کہانی بھی بڑی عجیب وغریب ہے۔ اس کی روداد بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے۔ بس انت بھلا تو سب بھلا۔۔۔ اللہ اب خیر کا معاملہ کرے اور بانیان جامعہ کی کوششوں کو قبول کرے۔ آمین۔ عصری اداروں کے علاوہ دہلی دینی تعلیمی اداروں کا بھی مرکز رہا ہے۔ شاہ ولی اللہ کی درسگاہ (جس کی ایک شکل آج بھی مہندیان میں باقی ہے)، مسند ولی اللہی کے آخری جانشین سید نذیر حسین محدث دہلوی کی درسگاہ فاٹک حبش خان میں، مرحوم جامعہ رحمانیہ جہاں فیض یافتہ ہمارے نانا محترم بھی تھے، جماعت اہلحدیث کا ازہر تھا۔ یہیں سے شاہ ولی اللہ دہلوی کے خاندان نے علم وعرفان کی شمع روشن کی۔ عربی دنیا کو انہوں نے حجۃ اللہ البالغہ جیسی گراں گدر تصنیف دی تو ان کے خانوادے میں شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین نے قرآن کا اولین اردو ترجمہ کیا۔ شاہ اسماعیل نے تقویۃ الایمان لکھ کر مسلمانوں کے عقیدہ ومنہج کی اصلاح کا کام کیا۔ آزادی کے بعد بھی ان میں سے کچھ ادارے باقی رہے کچھ بند ہوگئے۔ کچھ نئے ادارے بھی قائم ہوئے جن میں جامعہ نگر میں مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کا قائم کردہ مرکز ابولکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر اپنے وسیع منصوبوں اور شعبہ جات کی وجہ سے سب پر فائق ہے۔ اس کے تحت مختلف اعلی تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل، اسلامی دنیا میں اپنی پہچان قائم کئے پوئے ہے۔ جہاں تک اردو زبان کی خدمات کی بات ہے تو اردو کی ابتدا کے لئے کوئی بھی تھیوری قائم کی جائے اس کا سرا دہلی سے ملتا ہے۔ دہلی نےمیر، داغ، غالب اورمومن جیسے شعرا دیئے ہیں جن کے نام سے اردو  کا وجود ہے۔ آج بھی اردو کتابوں کی اشاعت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اردو اکادمیاں تو سبھی ریاستوں میں قائم ہے لیکن دہلی اردو اکامی جیسی متحرک اور فعال اکادمی کہیں کے نہیں ہے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو جیسا فعال ادارہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ پڑوسی ملک پاکستان جہاں کی قومی زبان اردو ہے وہاں بھی نہیں ہے۔ دہلی کی ادبی اور علمی فتوحات پر اگر گفتگو کی جائے تو اس کے لئے کئی دفتر چاہئے اس وجہ اس کو یہیں پر چھوڑتے ہیں۔ ذکر کرتے ہیں عالمی کتاب میلہ کا۔

دہلی اور ممبئی کے آٹو رکشہ والے

سب سے پہلے ہم لوگوں نے پرگتی میدان عالمی کتاب میلہ سے اپنے سفر کا آغاز کرنے کا ارادہ کیا۔  اوکھلا سے ہم تین لوگوں کا قافلہ ایک آٹو میں سوار ہوکر پرگتی میدان کے لئے روانہ ہوا۔ ارادہ تو بس میں سفر کا تھا لیکن ہمارے باقی ہم سفر چونکہ ممبئی سے تعلق رکھتے تھے جہاں پبلک ٹرانسپورٹ میں آٹو یا ٹیکسی پر بسوں سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ ممبئی کا معاملہ نرالہ ہے وہاں اگر سفر کرنے والے دو یا تین کی تعداد میں ہوں تو بس کے بجائے آٹو ہی سستا پڑتا ہے۔ ممبئی کے سفر میں کئی بار ایسا بھی مشاہدہ ہوا کہ دو لوگ اگر ایک ہی جگہ جانا چاہتے ہیں تو آپس میں مل کر رکشہ کرلیتے ہیں اور کرایہ کی رقم آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ سفر ختم ہونے کے بعد دونوں اپنے اپنے راستے پر ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کو نہیں پہچانتا۔ دہلی کے رکشہ والوں سے اللہ بچائے ایک دو کلومیٹر کے فاصلہ کے لئے رکشہ والے تیار ہی نہیں ہوتے۔ رکشہ والوں سے کہیں جانے کے لئے بات کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ کہاں جانا ہے؟ کتنے لوگ ہیں؟ کتنا سامان ہے؟ مین روڈ سے کتنی دور جانا ہے؟ ساری تفصیلات سے مطمئن ہوکر وہ اپنا ریٹ بتاتے ہیں۔ اور اگر مسافر نے یہ کہہ دیا کہ میٹر کس لئے لگا رکھا ہے  اگر من مانا کرایہ ہی وصول کرنا ہے تو آٹو والا آپے سے باہر ہوجاتا ہے۔ آٹو والوں کی اسی لفڑے سے بچنے کے لئے میں بسوں کے دھکے کھانا برداشت کرلیتا ہوں لیکن ان آٹو والوں کی بداخلاقی نہیں گوارا کرپاتا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ٹھیک ہی ہے کہ دہلی کے آٹو والے بداخلاق ہیں ورنہ ممبئی والوں کی خوش اخلاق ہوتے تو ان کی خوش اخلاقی کا لاج رکھنے کے لئے اپنی جیب ہلکی کرنی پڑتی۔  توقع کے برخلاف ہم نے جس آٹو والے سے پرگتی میدان چلنے کے لئے بات کی وہ چلنے کے لئے تیار ہوگیا بغیر کرایہ طے کئے اس نے میٹر ڈاؤن کرلیا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ کرایہ میٹر کے مطابق دینا ہے۔ میں نے مسکراکر سعید اور جلال بھائی کو دیکھا، میرا مطلب سمجھ کروہ بھی مسکرا دئے۔ اس آٹو والے کو میں نےدل ہی دل میں دعائیں دی کہ اس نے دہلی والوں کی لاج رکھ لی۔ فرسٹ ایمپریشن اگر اچھا رہا تو آگے بھی سب ٹھیک رہے گا۔ یہی سوچ کر میں نے قدرے اطمینان کا احساس کیا۔
 
پرگتی میدان میں سال بھر مختلف قسم کے میلوں کا انعقاد ہوتا ہے لیکن سب سے بڑا میلہ عالمی تجارتی میلہ مانا جاتا ہے۔  جس میں ملک کی سبھی ریاستوں اور بیرون ملک کے تجارتی ادارے اپنی مصنوعات کی نمائش کرتے ہیں۔  پرگتی میدان پورے ملک کی ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہر صوبہ کا اپنا ایک ہال ہے جس کو ریاستی حکومتیں اپنی تہذیب اور کلچر کے سجاتی اور ترتیب دیتی ہیں۔ ہندوستان کی رنگا رنگ تہذیب کو اگر کسی ایک جگہ دیکھنا ہوا تو پرگتی میدان سے بہتر جگہ نہیں ہوسکتی۔  کسی بھی ریاست کے ہال میں جاکر یا اس کے باہر لگے آرٹ کے نمونوں اور مجسموں سے وہاں کی تہذیب، روایتی رقص، روایتی پیشوں اور رہن سہن کے بارے میں کم وقت میں بہتر معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

عالمی تجاری میلہ کے اختتام کو کئی مہینے ہوگئے تھے اس کے باوجود اس میلہ کے آثار اب بھی پورے آب وتاب کے ساتھ باقی تھے۔ ہم لوگ اگرچہ کتاب میلہ کے ارادے سے پرگتی میدان میں داخل ہوئے تھے مگر مختلف ریاستوں کے ہال سے گزرتے ہوئے ہم لوگوں کے قدم رک گئے۔ سب سے خوب صورت اسٹال کس ریاست کا ہے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا تھا۔ بھائی جلال الدین کو مہاراسٹر کے ہال کے تلاش تھی تلاش کرتے ہوئے ہم اس ہال کے سامنے پہنچے۔ عالمی تجارتی میلہ کو ہوئے دو مہینہ سے بھی زائد ہوچکا تھا اس کے باوجود ہال اسی طرح سجاہوا تھا۔ سجاوٹ میں وہاں کی تہذیب کے ساتھ وہاں کی شان وشوکت  ظاہر کیا گیا تھا۔ سب سے برا حال دہلی کے ہال کا تھا۔ میں نے دور سے دہلی کا بورڈ دیکھا اور اس کی زبوں حالی دیکھی تو کوشش کی کہ اس کے سامنے نہ جاؤں اس لئے کہ معلوم نہیں کیوں مجھے سبکی محسوس ہورہی تھی۔ لیکن بالآخر اس کے سامنے جانا ہی پڑا۔ دیواریں ٹوٹی ہوئی۔ سامنے ایک بڑی سی گوریا کا مجسمہ اوندھے منہ پڑا تھا۔ میں نے خود وضاحت کی کہ دہلی والے عمل پر یقین رکھتے ہیں ظاہری نمائش انہیں پسند نہیں ہے اس وجہ جس کو دہلی اور اس کی خوبصورتی کا مشاہدہ کرنا ہو وہ بچشم خود کرے۔

حکومت ہند کا ادارہ نیشنل بک ٹرسٹ ہر سال پرگتی میدان میں اردو کتاب میلہ کا انعقاد کرتا ہے۔ ایک سال دہلی کتاب میلہ اور دوسرے سال سالمی کتاب میلہ اسی ترتیب سے یہ سلسلہ ۔۔۔۔ سے مسلسل جاری ہے۔  نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا پورے ملک میں کتابوں کی اشاعت و فروغ کے لئے حکومت کی طرف سے قائم کردہ ادارہ ہے۔ اس کے تحت مختلف موضوعات پر ہندوستانی زبانوں بشمول اردو زبان میں کتابیں شائع کی جاتی ہیں۔ نیشنل بک ٹرسٹ عام طور پر ہندوستانی زبانوں میں رابطہ کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ اس وجہ سے یہاں سے ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ کا خوبصورت کام ہوتا ہے۔ دہلی کتاب میلہ اور عالمی کتاب میلہ بھی اسی کی کڑی ہے جس میں ملکی و بین الاقوامی زبانوں کے اسٹال ایک ہی جگہ لگتے ہیں۔ لوگ دوسری زبانوں اور اس کے ادب سے واقف ہوتے ہیں۔  زبانوں کے بیچ کی خلیج کم ہوتی ہے۔ ہر ایک کو پھلنے پھولنے کا پورا موقع ملتا ہے۔

پاکستانی مکتبات اور کاپی رائٹ

عالمی کتاب میلے میں سابقہ سالوں کی طرح امسال بھی ملک اور بیرون ملک کے مکتبات اور بیرون ملک کے سفارت خانوں کے اسٹال لگے تھے جہاں سے کتابوں کے شیدائی اپنے مطلب کی کتابیں دیکھ رہے تھے اور  پسندیدہ کتابیں خرید بھی رہے تھے۔ ہمیں کچھ کتابیں پاکستانی مکتبات سے خریدنی تھی جس کے لئے میں ایک دن پہلے بھی کتاب میلہ میں آیا تھا مگر اکثر پاکستانی مکتبات کے اسٹال خالی تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کسٹم کی وجہ سے ابھی وہ کتابیں یہاں نہیں آسکی تھیں۔ آج کتاب میلہ کا دوسرا دن تھا۔ ہم لوگ صبح صبح ہال نمبر سات میں پہنچے جہاں پاکستانی مکتبات کے اسٹال لگے تھے۔ عالمی کتاب میلہ میں پاکستانی کتابوں کے ساتھ کچھ عجیب معاملہ ہے۔ اصل میں ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہوں پر اردو زبان بولی اور پڑھی جاتی ہے۔ پاکستان میں وہاں کی سرکاری زبان ہونے کی وجہ سے اور کتابوں کی مانگ ہونے کی وجہ سے اردو کتابوں کی اشاعت ہندوستان کے مقابلہ میں آسان ہے۔ دو ملک ایک زبان اردو ہے جو ان کو ایک رشتہ میں باندھتی ہے مگر سیاسی اختلافات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے قارئین ایک دوسرے ملک کی کتابوں سے استفادہ نہیں کرپاتے۔ عالمی کتاب میلہ ایک وسیلہ ہے جہاں پاکستان اور ہندوستان کے کتب فروش اور قارئین ایک دوسرے کے روبرو ہوتے ہیں۔ کاش کہ علم وادب کو سیاست کی غلاظت سے الگ رکھا جاتا۔ اس عالمی کتاب میلہ  کا انتظار دوسروں کو ہو یا نہ ہو لیکن اردو کے ناشروں کو بڑی شدت سے رہتا ہے۔  بعض ناشر تو پاکستانی مکتبات کی سبھی کتابیں آنکھ بند کرکے خرید لیتے ہیں۔  بعد میں اسے دوگنی قیمت پر قارئین کو دیتے ہیں ضرورت پڑنے پر اسے اپنے یہاں شائع بھی کردیتے ہیں۔ کتابوں کی کاپی رائٹ کا قانون اپنی جگہ اردو والوں کے آگے سارے قانون فیل ہوجاتے ہیں۔

ابھی کچھ دنوں پہلے مکتبہ عزیزیہ کی ایک کتاب جو مدارس میں داخل نصاب ہے، مفتی کفایت اللہ کی ’تعلیم الاسلام‘ کو دہلی کے ہی ایک دوسرے ناشر نے بغیر اجازت کے شائع کردیا تھا۔ مکتبہ عزیزیہ والوں کو معلوم ہوا تو وہ پورے لاؤ لشکر کے اس مکتبہ میں داخل ہوئے اور ساری کتابوں کو اٹھا لے گئے۔ ہمارے زیادہ سے زیادہ یہی ہوسکتا ہے۔ مقدمہ، عدالت اور تھانے کی کاروائی  میں  برسوں کی تگ ودو کے بعد بھی کچھ نہیں حاصل ہوتا۔

اگر ہندوستان کے مکتبات کاپی رائٹ کی خلاف ورزی میں ماہر ہیں تو مملکت خداداد بھی اس سے مستثنی نہیں ہے۔ وہاں کے ناشرپاکستان جاتے ہوئے یہاں کی مطبوعہ کتابوں کا گٹھر لے جاتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر اس سے انڈے بچے نکلوالیتے ہیں۔
 
ہم لوگ جلدی جلدی ہال نمبر سات میں گئے پاکستانی پبلشر س سے میں اقبالیات پر کتابوں کے بارے میں اتنی بار پوچھ چکا تھا کہ کئی ایک  نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا ۔ پاکستان کا ادارہ اقبال اکیڈمی پاکستان اور کشمیر ، ہندوستان کا ادارہ اقبال انشٹی ٹیوٹ اقبالیات پر اہم اور گرنقدر تالیفی اور تصنیفی خدمات انجام دیتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ کہ اس دفعہ دونوں ادارے نہیں آئے تھے۔   اس وجہ سے ہمیں انہی دوسرے مکتبات پر قناعت کرنا پڑا۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ پاکستانی مکتبات بھی اقبالیات پر وہی کتابیں لائے ہوئے تھے جو ہمارے یہاں ہندوستان میں موجود ہیں۔  دو کتابیں اقبالیات پر میں نے خرید لیا صرف یہ سوچ کرکہ کم از کم عالمی کتاب میلہ کے پاکستانی اسٹال سے کچھ تو لینا ہی تھا۔

اردو کتابوں کی اشاعت میں قومی کونسل کا نمایا ں مقام ہے۔ اس کا اسٹال ہر سال کی طرح اس سال بھی مرجع خلائق تھا۔ اس مرتبہ کتاب میلہ میں پہلی بار عالمی میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ  کا اسٹال طلبہ ، اساتذہ  اور اردو دوستوں کی توجہ اپنی جانب کھنچنے میں کامیاب رہا۔ اس کے روح رواں اردو کے اولوالعزم سپاہی عبدالرحمان صاحب ہیں۔ انہوں نے کم قیمت پر معیاری کتابیں اور پاکٹ سائز بک شائع کرکے ادبی دنیا میں کہرام مچھا دیا۔ ایک مہینہ کی قلیل مدت میں انہوں نے ۲۰۰ کتابیں شائع کرکے اسے لاگت قیمت پر اردو عوام کو فراہم کیا۔  اخباری رپورٹوں کے مطابق اس اکیلے اس اسٹال سے جتنی کتابیں خریدی گئی ہیں اتنی دوسرے تمام اردو اسٹالوں کو ملا کر نہیں خریدی گئیں۔ عالمی میڈیا ٹرسٹ کی کوششوں کی سبھی لوگوں نے  ستائش کی ۔ ہم لوگوں نے بھی اس ادارے سے انور سدید کی مختصر تاریخ ادب اردو ۱۳۵ روپئے میں خریدی۔ اس کتاب کو دوسرے مکتبات نے بھی شائع کیا ہے لیکن اس کی قمت ۶۰۰ سے کم نہیں ہے۔ مرزا حامد بیگ کی اردو افسانے کی روایت کو بھی ادارے نہیں چھاپ کر محض ۲۵۰ روپئے میں بیچاجس کی وجہ سے وہاں پر موجود سارے نسخے بک گئے ۔ ہم نے مشاہدہ کیا کہ جو بھی عالمی میڈیا کے اسٹال میں گیا وہ جھولی بھر کر واپس آیا۔ خالی ہاتھ کوئی بھی نہیں آیا۔ بھائی جلال الدین کو بھی کچھ کتابیں چاہئے تھیں جو انہوں عالمی میڈیا اور اردو کونسل کے اسٹال سے خریدیں۔

دوپہر تک کتابوں کے بیچ رہ کر ہم لوگ باہر نکل آئے۔ ہاتھ میں کتابوں کا جھولہ لے کر اپنے علم دوست ہونے کا ثبوت دے رہے تھے۔ اب آگے ہمیں انڈیا گیٹ اور قطب مینا ر جانا تھا۔ ہم نے پہلے قطب مینار جانے کا فیصلہ کیا اس لئے کہ انڈیا گیٹ رات میں بھی دیکھا جاسکتا ہے مگر قطب مینار شام کو بند کردیا جاتا ہے۔  ہم لوگ میٹرو سے قطب مینار میٹرو اسٹیشن گئے اور پھر وہاں سے پیدل قطب مینار تک گئے۔ پیدل چلنے کی وجہ یہ رہی کہ ہم لوگوں نے وہاں جتنے رکشہ والوں سے بات کی کوئی میٹر سے چلنے پر راضی نہ ہوا۔ ہم لوگوں نے بھی فیصلہ کیا کہ آٹو والوں کی پہلے سے خراب عادت کو مزید نہ خراب کیا جائے۔ ایک پانی کا ٹھیلہ لگانے والے سے ہم نے قطب مینار کا راستہ دریافت کیا کہ مبادا ہم مخالف سمت کا سفر نہ شروع کردیں۔ اس نے کچھ ایسے انداز میں راستہ بتایا کہ لگا بس دو منٹ میں قطب مینار سامنے ہے۔ لیکن بعد میں احساس ہوا کہ رکشہ کرلینا ہی بہتر تھا۔ ڈر یہ تھا کہ ہم جیسے پہلوانوں جیسے جسم والے کہیں قطب مینار کی سیر ہی میں اپنی توانائی نہ صرف کردیں۔ ابھی تو اور بھی سفر کرنا تھا جس کے لئے ہمیں انرجی بچاکر رکھنا تھا۔ اللہ اللہ کرکے قطب مینار آیا۔ ٹکٹ لے کراندر داخل ہوئے۔ ابھی کچھ سالوں پہلے میں آرٹی آئی داخل کرکے معلوم کیا تھا تو معلوم ہوا تھا کہ دہلی میں صرف تین تاریخی مقامات کا ہی ٹکٹ لیا جاتا ہے وہ ہیں قطب مینار، ہمایوں کا مقبر ہ اور تغلق آباد کا قلعہ۔ اب ہم قطب مینار کے احاطہ میں تھے۔

قطب مینار کو غلام خاندان کے بادشاہ قطب الدین ایبک نے بنوایا تھا۔ تاریخ کا ایک عجوبہ ہے کہ دہلی سلطنت کی بنیاد رکھنے والا پہلا مسلمان بادشاہ  قطب الدین، شہاب الدین  غوری کا غلام تھا۔  اس کی شکل وصورت قبیح تھی۔  ۱۱۹۲ عیسوی میں سلطان غوری نے دہلی اور اجمیر فتح کرکے اس کا گورنر قطب الدین کو بنادیا۔ قطب الدین نے اپنی گورنری میں گجرات، دو آبہ اور بہار اور بنگال کو فتح کرلیا۔ ۱۵ جنوری ۱۲۱۶ میں محمد غوری کی وفات کے بعد اس نے اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا۔ اس طرح پہلا مسلم بادشاہ ہے جس نے دہلی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ اگر چہ اس کو صرف چار سال ہی بادشاہت کا موقع ملا لیکن آرٹ اور علم پرور بادشاہ نے قطب مینار اور قوت الاسلام مسجد کی شکل میں ایسی یادگاریں چھوڑی ہیں جو رہتی دنیا تک اس کا نام روش کرنے کے لئے کافی ہیں۔

قطب مینار آرٹ کا ایک نادر نمونہ ہے۔ یہ دراصل مسجد قوت الاسلام کا ہی ایک حصہ ہے۔ یہ مینار ۲۳۴ فٹ لمبا ہے۔  سرخ پٹھروں سے بنے اس مینار میں اندر سیڑھیاں ۳۷۹بنی ہیں جن سے اوپر جاکر دہلی کا نظارہ کیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس کوبند کردیا گیا ہے۔ کہاجاتا ہے کہ افغانستان کے جامی مینار سے متاثر ہوکر قطب الدین نے ۱۱۹۳میں اسے بنوانے  کا حکم دیا تھا۔ لیکن پہلی منزل کی تعمیر کے وقت ہی قطب الدین کی لاہور میں پولو کھیلتے ہوئے ایک حادثہ میں موت ہوگئی۔ جس کی وجہ سے اس کے جانشین التمش نے اس کام کوپورا کیا۔  لال پتھروں سے بنے اس عظیم الشان مینار کی ایک اہم خصوصیت اس مینار پر قرآن اور حدیث کی کشیدہ کاری ہے۔ مینار کے داخلہ دروازے پر حدیث لکھی ہے : من بنی للہ مسجدا بنی اللہ لہ بیتا فی الجنہ (جو اللہ کے لئے مسجد کی تعمیر کرے گا اللہ کے یہاں اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مینار بھی قوت الاسلام مسجدکا ہی ایک حصہ ہے ۔ مسلم دور حکومت میں جتنی بھی عمارتیں بنائی گئیں ان کی خاص بات ہے ان عمارتوں میں تصویروں کے بجائے قرآنی آیات اور احادیث خوب صورت انداز میں لکھے گئے ہیں۔مسلم بادشاہ کم از کم اتنے اسلام پسند تو تھے کہ دیواروں پر تصویر سازی نہیں کرواتے تھے۔ ان عربی عبارتوں کو لکھنے میں کافی مہارت کا ثبوت دیا جاتا تھا۔ ان عبارتوں کو پڑھنے کے لئے خاص قسم کی مہارت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم نے قطب مینار احاطہ میں واقع دوسری عمارتوں کا مشاہدہ کیا۔  ہمیں قرآنی آیات کا انتخاب بہت پسند آیا۔ مقبرہ میں ہم نے دیکھا کہ دراوازے پر سورۂ  یٰسٓ  لکھی ہوئی ہے۔ اندر آیتیں لکھیں ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ عزت ذلت اور بادشاہت اللہ ہی دیتا ہے۔ ایک آیت لکھی ہوئی ہے جس کا میں اللہ نے انسانی زندگی کے مختلف مراحل کا نطفہ سے موت تک کا تذکرہ کیا ہے۔ اور قبر کی تعویز پر ایک آیت (ان الذین قالوا ربنا اللہ  ثم استقاموا۔۔۔۔) لکھی ہے۔ جس کا مفہوم یہ جو ایمان لاکر اس ثابت قدم رہتے ہیں ان پر فرشتے نازل ہوکر کہتے ہیں تم ڈرو نہیں، غم مت کرو، اور انہیں جنت کی بشارت دیتے ہیں جس کا دنیا میں وعدہ کیا گیا ہے۔

یہ مقبرہ نہیں بلکہ  ایک عبرت گاہ ہے۔ مسلم بادشاہوں کا اللہ پر ایمان اور یقین کس قدر پختہ تھا اس کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ لوگ ان عربی آیات نقش ونگارش سمجھ کر لطف اندوز ہورہے تھے۔ انہیں کیا معلوم ان بادشاہوں نے اپنی زندگی بھر کے تجربے کا نچوڑ ان آیات کی شکل میں کنندہ کروادیا ہے تاکہ آنے والے ان سے نصیحت حاصل کریں ۔ اللہ کے یہاں جواب دہی کا سوچ کر کچھ غلط کرنے سے پہلے سوچیں۔

قطب مینار میں واقع عمارتوں میں لکھی تحریروں پر ہم لوگوں نے خاص طور پر غور کیا۔ ہندوستان میں یارسول اللہ اور یاغوث کا نعرہ لگانے والے والے اپنی قدامت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں قطب کمپلیکس ہی نہیں بلکہ مغلیہ سلطنت کی تعمیر کردہ عمارتوں میں بھی کہیں اس قسم کی تحریر نہیں ملی۔ یہاں تک قطب مینار میں ایک بزرگ کے مقبرہ میں بھی کوئی تحریر ایسی نہیں ملی جس میں یا رسول اللہ جیسی کوئی تحریر شامل ہو۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارے نعرے بعد میں ایجاد کئے گئے جس کا وجود اسلامی سلطنت میں نہیں تھا۔
 
مسجد قوت الاسلام کے بارے میں وہاں پر آثار قدیمہ کے محکمہ کی طرف سے جو کتبہ لکھا ہے اس پر لکھا ہے کہ قوت الاسلام مسجد کو ۔۔۔۔۔ جین مندروں کو توڑ کربنایا گیا ہے۔ اس قسم کی تحریر اگر محکہ آثار قدیمہ لکھے گا تو پھر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کا اللہ ہی مالک ہے۔ اصل بات یہ کہ مسلمانوں کی آمد سے بہت پہلے ہندوستا ن کی اکثر جگہوں پر جین دھرم کے ماننے والوں نے ہندودھرم اپنا لیا تھا۔ اشوک  کی کوششوں سے جین دھرم اپنانے والوں کو برہمنوں نے زبردستی ہندو بنالیا۔ باقی جو بچے تھے وہ مسلمان ہوگئے، بہت کم جین بچے تھے۔ اکثر جین مندر ویران تھے کوئی جین ان میں پوجا کرنے والا نہیں بچا تھا۔ ان پتھروں کو مسجد قوت الاسلام کی تعمیر میں استعمال کیا تھا۔ آج بھی اس جین مندروں کے آثار واضح طور پر اس کے کھمبوں اور دیواروں پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

قطب الدین اور اس کے جانشینوں کوآثار قدیمہ کی حفاظت کا اتنا خیال تھا کہ  انہوں نے اشوک کی لاٹ کو ہمیشہ کے لئے قطب مینار میں محفوظ کردیا۔ وہ کیسے مندروں کو توڑ سکتے ہیں۔ مسجد قوت الاسلام ویران ہے اس میں نماز نہیں ہوتی۔ البتہ قطب مینار کے احاطہ میں مرکزی دروازہ کے دائیں جانب ایک مسجد ہے جو آباد ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ نے میرے آر ٹی آئی کے جواب میں کہا تھا کہ اس مسجد میں غیر قانونی نماز ہوتی ہے۔ ایک طرف مسجد بھی کہا جارہا ہے دوسری طرف نماز غیر قانونی ۔ اللہ انہیں ہدایت دے ۔ آمین۔

قطب مینار میں کئی جگہوں پر چھوٹی چھوٹی مسجدوں کے آثار ملے جن کا رقبہ محض ایک چارپائی کے برابر ہوگا۔ ان مساجد کی موجودگی سمجھ میں نہیں آئی۔ غالبا انہیں تہجد یا نفلی عبادتوں کے لئے گوشہ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہو۔ قطب مینار کے بازو میں ایک اور مینار کی تعمیر کا کام التمش نے شروع کروایا تھا۔ مگر زندگی نے ساتھ نہیں دیا اور قدرت نے اسے قطب الدین جیسا جانشین بھی نہیں دیا جو اس کی وراثت کو باقی رکھ سکے۔ اس وجہ سے یہ مینار ادھورا ہی اسی حالت میں کھڑا ہے۔  ہم لوگوں نے دیکھا کہ جتنی چوڑائی میں یہ مینا ر بن رہا تھا اگر بن کر تیار ہوجاتا تو موجودہ قطب مینار سے بھی بڑا ہوتا۔

قطب مینار کے احاطہ میں ہم لوگوں نے دیگر عمارتوں کو بھی دیکھا۔ ایک عمارت پر مدرسہ کا بورڈ لگا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ کس قسم کا مدرسہ تھا۔ ہم صرف قیاس ہی کرسکتے ہیں۔ اس لئے کہ تاریخ بھی تو خاموش ہے۔

ان عمارتوں کے ذریعہ ہم نے تاریخ کے جھرونکوں میں جھانکتے کی کوشش کی۔ ہم نے اپنے شاندار ماضی میں اپنے حال اور مستقل کا جائزہ لیا۔  کئی ایسے لمحات بھی آئے جہاں نہ چاہتے ہوئے بھی ہم جذباتی ہوگئے۔ کاش کہ مسلمانوں کی پہلی سی عظمت رفتہ واپس آجاتی۔ بے وقعتی کا دور ختم ہوجاتا۔ کاش ۔ کاش۔۔۔۔

تقریبادو یا تین گھنٹے ہم لوگ قطب کمپلیکس میں رہے ۔  اس کے بعد پروگرام کے مطابق ہم لوگوں کو انڈیا گیٹ جانا تھا۔ اتفاق سے ڈی ٹی سی کی اے سی بس مل گئی ہم لوگوں نے یہ سفر اسی بس کے ذریعہ کیا۔ ایک گھنٹہ کا سفر کب ختم ہوا پتا ہی نہیں چلا۔ رات ہوچکی تھی۔ بس کی لائٹیں جل چکی تھیں۔  ایڈیا گیٹ پہنچتے پہنچتے کافی اندھیرا ہوگیا تھا۔ سچ پوچھیں تو انڈیا گیٹ گھومنے کا یہی صحیح وقت ہوتا ہے۔ برقی روشنی میں نہایا ہوا بلند وبالا گیٹ پر ہیبت معلوم ہوتا ہے۔ اس کے چاروں طرف دائرے کی شکل میں گھومنے والی گاڑیاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس گیٹ کا طواف کررہی ہیں۔  دہلی کے قلب میں واقع انڈیا گیٹ کے اس وسیع وعریض رقبہ کو دیکھ کر بھائی جلال الدین کے منہ سے نکلا کہ اتنی جگہ یوں ہی بے کار پڑی ہے۔  سعید بھائی نے چونکہ دہلی ہی میں تعلیم حاصل کی ہے اس وجہ سے  دہلی ان کے لئے اجنبی نہیں۔ جلال الدین بھائی دہلی کی ہر چیز میں عیب نکال کرہمیں چھڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ کوئی بھی موقع ضائع نہیں ہونے دے رہے تھے۔ سعید بھائی اور جلال الدین بھائی میں اس تعلق سے خوش گوار نوک جھوک سفر کے آخر تک برقرار رہی۔

انڈیا گیٹ کا علاقہ ہندوستان کا سب سے حساس علاقہ ہے۔ صدارتی محل اور حکومت کے اہم محکموں کی آفسیں یہیں پر ہیں۔ اس وجہ سے اس علاقہ کا یوں ہی خالی رہنا ضروری ہے۔  اس علاقہ کا خالی رکھنا اس وجہ سے بھی ضروری ہے کیوں کہ پندرہ اگست اور چھبیس جنوری کے تقریبات یہیں پر ہوتے ہیں۔   سب سے اہم بات یہ کہ یہ علاقہ دہلی اور بیرون دہلی کے عوام کے لئے تفریح گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔  

انڈیا گیٹ کے اندر ایک مشعل ہے جو مسلسل جل رہی ہے یہ مشعل ان شہیدوں کے لئے جل رہی ہے دوسری جنگ عظیم میں ہندوستان کی طرف لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ اس عمارت پر ان ان شہیدوں کے نام کنندہ ہیں۔ ان میں مسلمان ، ہندو اور عیسائی سبھی دھرم کے ماننے والے ہیں۔

انگریزوں کے ذریعہ بنائی گئی ان عمارتوں کی حکومت کس طرح دیکھ بھال کرتی ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انڈیا گیٹ کی عمارت کے چاروں طرف ہتھیار بند جوان ہمہ وقت کھڑے رہتے ہیں۔ کسی کی کیا مجال جو احاطہ کے چاروں طرف لگائی گئی زنجیر کو بھی ہاتھ لگادے۔  تاریخی عمارتوں کی یہ نگہداشت لائق ستائش  ہے۔ کاش کہ اسی طرح ان عمارتوں کی نگہداشت حکومت مسلم دور حکومت تعمیر کردہ عمارتوں میں بھی کرتی۔ یہاں تو معاملہ   یہ ہے کہ تاج محل جیسی عالمی شہرت یافتہ عمارت میں بھی لوگ بے ٹوک اندر جاتے ہیں اور دیواروں سے لگ کر بیٹھتے اور سوتے ہیں۔ تاج سے متصل عمارتوں میں اپنی کشیدہ کاری پیش کرکے عمارت کی خوب صورتی میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں کوئی بھی اہل کار انہیں ان کی ان عظیم خدمات کا اعتراف کرنے کے لئے نہیں ہوتا ہے۔ دہلی اور بیرون دہلی سیکڑوں تاریخی عمارتیں ایسی ہیں جہاں ایک آدمی بھی مستقل طور پر وہاں نگرانی کرنے والا نہیں ہے۔

انڈیا گیٹ کی سیر کے بعد رات کافی ہوگئی تھی اس وجہ سے ہم لوگ وہاں سے  اوکھلا کے لئے روانہ ہوگئے۔  اوکھلا آنے کے بعد ہم لوگوں نے کھانا کھایا۔ اور اگلے دن کا پروگرام طے کرنے کے لئے بیٹھ گئے۔