منگل، 4 جولائی، 2017

افسانہ


 پنکی اور منکی کی طرح مسکان کی پیدائش پرپھر گھر میں طوفان برپا ہوا، سلمہ کو اسی بات کا اندیشہ پہلے سے  تھا۔ مگر وہ کربھی  کیا کرسکتی تھی۔ لڑکی یا لڑکے کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں کہاں تھا۔ مگر دین محمد کو کون سمجھا ئے۔ جب بھی اس کے یہاں لڑکی ہوتی تو وہ سارا غصہ سلمہ پر اتارتا۔ اسے لگتا تھا کہ اس میں ساری خطا سلمہ کی ہی ہے۔ کچھ دنوں کے ہنگامے کے بعد سب کچھ پہلے جیسا ہوجاتا ۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
ویسے دین محمد کو اپنی بیوی سے بہت پیار تھا۔ وہ اس کو اپنے گھر بڑے ارمانوں سے لایا تھا۔ تین بچوں کی ماں ہونے کے باوجود اب بھی وہ جوان لگتی تھی۔ غریبی کی وجہ سے اچھے کھانے اور کپڑے کے بارے میں تو سوچنا ہی گناہ تھا۔ دین محمد کی آمدنی کا واحد ذریعہ ایک بھیںس تھی جو اس کا باپ ورثہ میں چھوڑ گیا تھا۔ دودھ میں پانی ملانے کے بعد بھی کل ملاکر چار کلو دودھ ہوتے تھے۔ سارا دودھ وہ لے جاکر گاؤں کے باہر چائے کےہوٹل پر دے آتا تھا۔ اس کے اپنے بچے دودھ کے لئے ترس جاتے تھے مگر ان کے لئے دودھ نہیں بچا پاتا تھا۔ ادھر کئی دنوں سے بھیںس نے بھی دودھ دینا کم کردیا تھا۔ شاید وہ اب بوڑھی ہوگئی تھی۔ دین محمد کے گھر والوں کا پیٹ پالتے پالتے اس کا تھن بھی سوکھنے لگا تھا۔
 جب یہ دودھ دینا بند کردے گی، یا مرجائے گی تو کیا ہوگا؟
 اس نے سوچا، دوسری لے لیں گے
اس نے اپنے آپ کو تسلی دینی چاہی ۔ مگر پھر خیال آیا کہ اس کے لئے بھی تو پیسے چاہئے ۔
 اس کے پاس دودھ بیچنے کے بعد جو پیسے آتے ہیں وہ دال چاول کے لئے بھی پورے نہیں ہوتے تھے۔ وہ تو دوکان والے کا احسان ہے کہ وہ دین محمد کو ادھار پر سامان دے دیا کرتا تھا۔ ورنہ اس گاوں میں اسے کوئی ادھار کے نام پر پھوٹی کوڑی بھی دینے کو تیار نہیں۔ 
پچھلی بار اس نے گوشت کب کھایا تھا۔ اس نے ذہن پر زور ڈالا، اسے یاد آیا پچھلے برسات میں جب شبراتی کی بکری کو کالرا ہوگیا تھا اور وہ مرنے لگی تھی تو اس نے اسے کاٹ کر اس کا گوشت اونے پونے دام پر بیچ دیا تھا۔
شبراتی دین محمد کے پاس بھی آیا تھا :
’’ دین محمد ، اچھا موقع ہے ، گھر کی پالتو بکری تھی، تھوڑی بیمار ہوئی تو کیا ہوا ، اس سے گوشت پر کیا فرق پڑتا ہے۔ تھوڑا سا گوشت تم بھی لے لو۔ ایسا موقع پھر نہیں ملے گا‘‘
اپنی مالی حالت کا حوالہ دے کردین محمد نے اپنا معذرت کرنی چاہی ۔ مگر شبراتی نے اسے یہ کہہ کر راضی کرلیا کی پیسے ابھی نہیں تو کہا ہوا جب ہونگے تو دے دینا۔ گوشت وہ بھی ادھار، کل کس نے دیکھا ہے۔ اس دن اس نے جی بھر کے گوشت کھایا تھا۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ بکری بیمار تھی یا تندرست۔ کہیں گوشت میں کوئی فرق ہوتا ہے؟
گوشت کی یاد آتے ہی اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔ کیا مزے دار گوشت تھا۔
اس نے سوچا کہ اگر اس کی بھیںس بھی مرنے لگی تو اس کو کاٹ کر شبراتی کی طرح اس کا گوشت بھی گاؤں میں بیچ دے گا۔ پھر اس کو خود اپنے اوپر ہنسی آئی۔ کیا بھلا کوئی بھیںس کا گوشت خریدے گا؟ شبراتی کی بکری کی بات الگ ہے۔ کہاں بکری اور کہاں بھیںس ۔ تو کیا اسے وہ اسی طرح مرنے دے گا ؟
بھیںس کی یاد آتے ہی وہ دوڑ کر بھیںس کے پاس گیا۔ وہ صحیح صلامت تھی۔ وہ دیر تک اس کی پیٹھ اور منہ سہلاتا رہا۔ بھیںس بھی دین محمد کا ہاتھ چاٹنے لگی۔
پھر ایک دن اس کی بھیںس نے دودھ دینا بند کردیا ۔ بیماری کی وجہ سے اس نے جگالی کرنا بھی چھوڑدیا۔ لوگوں نے بتایا کہ اوپری اثر ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ دین محمد نے مولویوں سے منت سماجت کرکے تعویزیں بنوا بنوا کر اسے پہنایا، پانی میں گھول گھول کر پلایا۔ سارے ٹوٹکے کرکے دیکھ لئے مگر وہ صحیح نہیں ہوئی۔ آس پاس کے سارے وید حکیم کو دکھا دیا مگر کوئی بھی انہونی کو ٹال نہیں سکا۔ شبراتی کی طرح وہ اپنی بھیںس کو ذبح بھی نہیں کرسکا کہ اس کے گوشت سے کچھ روپئے نکل آئیں۔ ایک مرتبہ خیال بھی آیا مگرچاہ کر بھی اس کا ہاتھ نہیں اٹھ سکا۔
دین محمد اپنی بھیںس کو مرگھٹ پر ڈال کر جب گھر آیا تو بخار سے اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ اس کو فکر ستائے جا رہی تھی کہ اب کیا ہوگا۔ گاؤں میں کمائی کا کوئی اور ذریعہ بھی تو نہیں تھا جس سے وہ اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ پال سکتا۔ گھر میں جو راشن تھا وہ ایک ہفتہ بھی چلنا مشکل تھا،کیا ہوگا؟ سوچ سوچ کراس کے دماغ کی نسیں پھٹی جارہی تھیں۔ دوسری طرف بیماری کمبخت پیچھا نہیں چھوڑ رہی تھی۔
       شام کو برکھو اس کی عیادت کو آیا۔ وہ برکھو کو پسند نہیں کرتا تھا۔ اس کے اندر اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اس سے کہہ دے کہ اسی وقت اس کے گھر سے نکل جائے ، اس کی شکل دیکھنا نہیں چاہتا ۔ اس نے برا سا منہ بنایا۔
’’مجھے معلوم ہے کہ تم مجھے ناپسند کرتے ہو، مگر تمہاری بیماری اور بھیںس کے مرنے کی خبر سن کر میں اپنے آپ کو روک نہیں پایا ۔‘‘
’’ ہاں ، جس طرح مرے ہوئے جانور کو نوچنے کے لئے مردار جانور اپنے آپ کو روک نہیں پاتے‘‘ دین محمد نے اپنی پوری طاقت لگادی ان جملوں کو ادا کرنے میں۔ بیماری کی وجہ سے وہ بستر پر پڑا تھا۔
برکھو نے اسے سہارا دے کر بٹھانا چاہا مگر اس نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا۔
   برکھو کے بارے میں مشہور تھا کہ گاؤں کے غریب لوگوں کو بہلا پھسلا کر ان کی لڑکیوں کو شہر موٹے دام پر سپلائی کرتا ہے۔ لوگوں کو بڑے خواب دکھاتا ہے۔ کسی لڑکی کو گھروں میں کام کرنے کے لیے تو کسی کو شادی کا جھانسہ دے کر وہ شہر بھیج دیتا ہے۔ جہاں جس طرح تیر چل جائے وہ حربہ لگا کر   کے ان آدمیوں کے ہاتھ فروخت کردیتا تھا جن کی شادی کسی وجہ سے نہیں ہوتی تھی۔ اس کا کہنا تو یہی تھا کہ وہ ان ہی لوگوں کو لڑکیاں دیتا ہے جو ان سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ مگر کئی ایک لڑکیاں شہروں کے ریڈ لائٹ علاقوں میں بھی دیکھی گئی ہیں۔
’’تم جیسا سمجھتے ہو میں ویسا نہیں ہوں، میں نے ہمیشہ دوسروں کی مدد کی ہے۔ میں نے سنا کہ تم بیمار ہو تو تمہاری عیادت کرنے۔ ۔‘‘
’’ تم میری فکر مت کرو۔۔ میں صحیح ہوجاؤں گا‘‘ دین محمد نے برکھو کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی اس کو روک دیا۔
’’ لیکن برکھو ، اگر تو کسی غلط نیت سے آیا ہے تو یہ خیال اپنے دل سے نکال دے۔ ہماری بھیںس مری ہے تو کیا  ہوا،میں ابھی زندہ ہوں ، میرے اندر ابھی بھی طاقت ہے۔ ‘‘
جوش اور غصہ میں وہ بستر سے اٹھنا چاہا مگر بیماری کی وجہ سے اٹھ نہیں پایا اور پھر سے بستر پر ڈھیر ہوگیا۔
’’ ابھی تم کو آرام کی ضرورت ہے‘‘ برکھو نے اسے آرام کرنے کی صلاح دی۔
 دین محمد کا دھیان اپنی بیٹی پنکی کی طرف گیا۔ وہ جوان ہوگئی تھی۔ ایک مرتبہ سلمہ نے اس سے پنکی کا رشتہ ڈھونڈنے کو کہا بھی تھا، مگر ایسی حالت میں جہاں کھانے کو لالے پڑرہے ہوں شادی بیاہ کی بات کہاں سوجھتی ہے۔ آج اس نے سوچ لیا تھا کہ صحیح ہوتے ہی وہ پنکی کا رشتہ دیکھنا شروع کردے گا۔
’’ دین محمد ، تم جانتے ہو کہ میں نے کبھی کسی کی لڑکی کو زبردستی نہیں فروخت کیا ہے، ذرا سوچو، جن حالات میں وہ لڑکیا ں یہاں ہیں، وہ شہر میں جاکر اس سے اچھی حالت میں رہتی ہیں۔ کیا یہ بھی کوئی زندگی ہے، جس کو تم جی رہے ہو؟‘‘
’’ کون اچھی زندگی گذار رہا ہے اور کون خراب ، یہ فیصلہ کرنے والے تم کون ہوتے ہو؟ وہ زندگی ہی کیا جو عزت بیچ کر خریدی جائے، اورتم کہتے ہو کہ میں کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا۔ نہیں، تم پہلے لوگوں کو مجبور کرتے ہو اس کے بعد ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہو‘‘ وہ بیماری سے کراہ رہا تھا۔
 ’’ تم ابھی بیمار ہو، اس وجہ سے سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں ہو،پھر بھی جب کبھی میری ضرورت پڑے تو یاد کرلینا، ویسے میں ایک بار پھر آؤں گا‘‘ یہ کہتے ہوئے برکھو نے ایک شاطرانہ نظر دین محمد پر ڈالی اور دین محمد کے پاس سے اٹھتے ہوئے پورے گھر جائزہ لیا گویا کہ وہ اندازہ لگا رہا ہے کہ گاڑی میں کتنا تیل ہے۔ کتنے دنوں تک یہ گاڑی چل سکتی ہے۔
دین محمد کے پاس اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے بستر اٹھ سکے ورنہ وہ انجام کی پرواہ کئے بغیربرکھو کا گلا دبادیتا۔ اس نے ایک بھدی سی گالی دی ۔
’’دفع ہوجا کمینے، اﷲ نہ کرے کہ کبھی تیری منحوس شکل دیکھنی پڑے۔‘‘
سلمہ دروازے کے پیچھے ساری بات سن رہی تھی، برکھو کے جاتے ہی وہ باہر آئی۔
’’ کیا کہہ رہا تھا برکھو‘‘ سلمہ نے پوچھا۔
’’ کچھ نہیں ، اس نے یہ سمجھا کہ ہم مجبورہیں اس وجہ سے ہمیں پھنسانے آیا تھا‘‘
’’ ہائے اﷲ ، ہماری پنکی پر اس کی بری نظر پڑگئی‘‘ سلمہ نے اپنے دوپٹے کو سرپر رکھتے ہوئے کہا جو بار بار لڑھک کر کندھے پر آجارہا تھا۔
’’اے اللہ ہماری عزت تیرے ہاتھ میں ہے، تو ہی اس کی حفاظت فرما‘‘ سلمہ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے ۔ وہ دیر تک معلوم نہیں کون کون سی دعائیں مانگتی رہی۔
اس رات دین محمد نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ کہیں سفر پر جا رہا ہے۔ اچانک سامنے کی طرف سے ایک بڑا پتھرلڑھکتا ہوا ان کی طرف بڑھتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے وہ دوڑتے ہیں لیکن ہر دوسرے قدم پر گر جاتا ہے۔ وہ پتھر کسی جانور کی طرح ان کا پیچھا کرتا ہے۔  اس بیچ پنکی کا کپڑا ایک جھاڑی میں پھنس جاتا ہے وہ اسے بچانے کے لئے آگے بڑھتا ہے مگر اتنے میں وہ بڑا پتھر پنکی کے اوپر گر جاتا ہے۔ مارے خوف سے اس کی چیخ نکل جاتی ہے۔اس کی نیند کھل جاتی ہے، مگر خوف سے وہ بدستور چیخ رہا تھا۔ اس کی بیوی سلمہ اور بیٹیاں بدحواشی میں بستروں سے کود پڑیں۔
’’کیا ہو ا، چلا کیوں رہے ہو؟‘‘ اس کی بیوی نے اسے جھنجھوڑ کر خاموش کرانا چاہا۔ وہ بری طرح ہانپ رہا تھا۔ پیاس سے اس کی زبان سوکھی جارہی تھی۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی چاروں طرح اندھرا تھا۔
’’ پانی، ایک گلاس پانی دو‘‘ بیوی کی آواز کی سمت منہ کرکے اس نے آواز لگائی۔
’’لاتی ہوں، بابا۔ الٹی سیدھی باتیں دن بھر سوچتے رہتے ہو تو خواب میں بھی وہی دکھتا ہوگا۔ ‘‘ اس کی بیوی نے ہمدردی کے چند جملے کہنے کے بجائے جلی کٹی سنانا شروع کردیا۔ اتنی گہری نیند سے بے وقت اٹھنا اسے ناگوار گذرا تھا۔
اس کی بیماری بڑھتی ہی جارہی تھی۔ اب اسے کھانسی کے دورے بھی پڑنے لگے تھے۔ بلغم کے ساتھ خون دیکھ کراس کی بیوی پریشان ہوگئی، پریشان ہونے کی بات بھی تھی۔ گھرمیں ایک پھوتی کوڑی نہیں تھی۔ دوا دارو کہاں سے لائے۔ اور اگر ایسے ہی چھوڑ دے تو کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ جب بھی کھانسی کا دورہ پڑتا سارے لوگ سہم سے جاتے ۔ وہ دھیرے دھیرے موت کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔ سبھی اداس تھے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔
برکھو گھر کی حالت دیکھ چکا تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ بھیںس کے مرنے کے بعد ان کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں رہ گیا ہے۔ اس کی دور رس نگاہوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ کتنے دنوں بعد یہ شکار ہمارے جال میں آسکتا ہے۔ اس کے اندازے کے مطابق اب بالکل مناسب وقت تھا۔
دروازے پر برکھو کو دیکھ کر دین محمد کی بیوی نے دروازہ کھول دیا۔ اور دین محمد کی چارپائی کی طرف اشارہ کرکے ایک طرف ہوگئی۔
برکھو نے ایک شاطرانہ مسکراہٹ کے ساتھ دین محمد کو سلام کیا جس کے جواب میں دین محمد نے اس طرح منہ بنایا جیسے کسی بچے کو کڑوی دوا پلا دی گئی ہو۔
’’ کہو اب طبیعت کیسی ہے؟ برکھو نے دریافت کیا ۔ ساتھ ہی ایک ماہر کاروباری کی طرح گردوپیش کا جائزہ لینے لگا۔ اس کو یقین ہوگیا کہ اب دین محمد انکار کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔
’’ ٹھیک ہی ہے‘‘ دین محمد نے مختصر سا جواب دیا۔
’’سنا ہے کہ تم کو ٹی بی ہوگئی ہے‘‘ برکھو نے بات بڑھانی چاہی۔ وہ دین محمد کے چہرے کا اتار چڑھاؤ اور اس کا رد عمل دیکھنا چاہتا تھا۔
’’ جہاں تم جیسے خبیث رہتے ہوں ، وہاں یہ کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ اس نے برکھو کے سوال کا مطلب سمجھتے ہوئے کہا۔ دین محمد بھی ایک جہاں دیدہ آدمی تھا ۔ باتوں کی تہ تک پہنچنا اسے بھی آتا تھا۔
برکھو کو لگا کہ یہاں دال نہیں گلنے والی، مگر پھر بھی کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔  وہ ان  لوگوں میں سے تھا جو ہار نہیں مانتے ۔
’’ اگر تم کو بروقت علاج نہ ملاتو کچھ بھی ہوسکتاہے میرا مطلب ہے کہ تم میری بات سمجھ رہے ہوگے۔ اور علاج کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے، جو تم کو کوئی بھی مفت میں دینے سے رہا۔ ‘‘
اگر میں مرگیا تو اس سے تمہارا کیا فرق پڑتا ہے‘‘
’’مجھے تو نہیں مگر تمہاری بیوی اورتین بچیوں کو ضرور فرق پڑے گا‘‘
وہ سوچ میں پڑگیا، واقعی اگر اس کو کچھ ہوگیا تو اس کی بیوی بچوں کا کیا ہوگا۔ آدمی زندگی بھر بیوی بچوں کی فکر میں رہتا ہے، یہاں تک مرنے کے وقت ان کی فکر سکون سے مرنے بھی نہیں دیتی۔
اس کو فکر میں ڈوبا دیکھ کر برکھو سمجھ گیا کہ تیر نشانے پر لگا ہے ۔
’’ دین محمد، ذرا سوچو ایک بیٹی کو اگر تم دے دو تو اس کے بدلے میں تم کو اتنا روپیہ ملے گا کہ اپنا علاج بھی کرا لوگے اور اپنی باقی بیٹیوں کی شادی بھی بڑے دھوم دھام سے کر سکتے ہویہی نہیں بلکہ  تم ایک نہیں دو دو گائیں خرید سکتے ہو ‘‘
’’لیکن میں اپنی بیٹی کو بیچنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ‘‘
’’تم سے بیٹی بیچنے کے لیے کون کہہ رہا ہے، میں تو تمھاری بیٹی کا ہاتھ مانگ رہا ہوں‘‘
’’وہ کیسے ‘‘دین محمد نے تعجب سے پوچھا اسے لگا کہ برکھو اسے دھوکا دینا چاہتا ہے۔اگر برکھو اس سے بیٹی کا ہاتھ مانگ رہا ہے تو اس میں برا کیا ہے اوپر سے ایک بڑی رقم بھی اسے مل جائے گی ۔ لیکن اس نے تسلی کرنی چاہی کہ کہیں کوئی دھوکہ تو نہیں۔
برکھو سمجھ گیا کہ چڑیا جال میں پھنس چکی ہے۔ اس نے دین محمد کو تسلی دی:
’’ ہمارے پاس بہت سارے لوگ شہر سے ایسے بھی آتے ہیں جن کو دیہات کی بھولی بھالی لڑکی سے شادی کرنی ہوتی ہے وہ اس کے لئے کوئی بھی رقم دینے کے تیار ہوتے ہیں۔ تم اس کی فکر نہ کرو میرے پاس ایک بہت ہی بڑے گھر کا رشتہ ہے۔ ‘‘
دین محمد نے اتنے اہم معاملہ میں بیوی سے مشورہ کرلینا ضروری سمجھا۔ اس لیے برکھو کو کل آنے کو کہا۔
برکھو نے بھی جلد بازی کرنا مناسب نہیں سمجھا کہ اس سے بھی بات بگڑ سکتی ہے۔ اور کل ہی کی تو بات ہے، ایک دن اور سہی۔
رات میں برکھو کی تجویز کو لے کر میاں بیوی میں خوب تو تو میں میں ہوئی، لیکن برکھو نے جب اپنا فیصلہ سنا دیا وہ پنکی کو برکھو کو دے کر ہی رہے گا تو سلمہ کو خاموش ہوئے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا۔ ویسے بھی عورتوں کی سنتا ہی کون ہے؟  سلمہ نے ہار مانتے ہوئے جب پنکی سے رائے لینے کی بات کہی تو دین محمد نے اسے یہ کہہ کر خاموش کردیا کہ ہم اس کے باپ ہیں اس کے اچھے برے کو ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ کیا جانے کہ شادی بیاہ کیا ہوتا ہے۔
برکھو صبح ہی صبح دین محمد کے گھر پہنچ گیا۔ اسے رات بھر اسی بات کی فکر تھی کہ کہیں کوئی دین محمد کو بہکا پھسلا کر پھیر نہ دے۔ برکھو کو دیکھ کر اس بار دین محمد نے ناگواری کا اظہار نہیں کیا۔ بیٹھے کا اشارہ پاتے ہی برکھو دین محمد کے سرہانے بیٹھ گیا۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ شاید ان میں سے کوئی بھی خود سے ابتدا نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ دین محمد کے رویے میں آئی تبدیلی سے برکھو نے بھانپ لیا تھا کہ راستہ صاف ہے۔ اس وجہ سے ماہر کھلاڑی کی طرح وہ کوئی غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ آخر تجربہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ اب تک علاقے کی سیکڑوں لڑکیوں کو شہر بھیج چکا تھا۔ اسے پوری خبر ہوتی تھی کس کے یہاں کتنی لڑکیا ں اور کیسی ہیں۔ اس کی گہری نگاہیں آدمی کے دماغ کو بھی پڑھ لیا کرتی تھیں۔ کس کو کس طرح لائن پر لانا ہے اسے اچھی طرح معلوم تھا۔ اس نے اپنے بزنس کے لئے کچھ اصول بنارکھے تھے جن پر وہ سختی سے کاربند تھا ۔ برسوں سے یہی کاربار کررہا ہے اس کے باوجود پولیس اور کچہری کا لفڑا نہیں ہوا۔ اس کا سب سے پہلا اصول تھا کہ وہ زور زبردستی کا قائل نہیں تھا۔ لڑکیاں ضرور سپلائی کرتا تھا مگر چھین کر نہیں، ان کے ماں باپ کوبہلا پھسلا کر خود ان کے جگر گوشوں کو ان سے جدا کرنے پر وہ راضی کرلیتا ۔ لڑکیاں اس کو دیکھ کر سہم جاتی تھیں۔ جب کہ کئی لوگوں کے لئے وہ نجات دہندہ بھی تھا۔
’’ مجھے تمہاری تجویز منظور ہے مگر میر ی بھی ایک شرط ہے۔ ‘‘ آخر دین محمد نے بات کی ابتدا کردی ۔ اس نے بسترسے  اٹھنے کی ناکام کوشش کی،بستر پر گرنے ہی والا تھا کہ برکھو نے اسے سہارا دیا۔ میلے کچیلے بستروں میں لپٹا دین محمد کو وہ عام حالتوں میں ہاتھ بھی نہیں لگاتا مگر یہاں تو اس کا اپنا مطلب تھا ۔دل جیتنے کے لئے کچھ تو کرنا ہی پڑے گا۔ اسے سہارا دے کر دیوار کے سہارے بٹھادیا۔ اس کوشش میں دین محمد کی حالت غیر ہوگئی۔ دیر تک کھانسی کا سلسلہ چلتا رہا ۔
’’بولو ، کیا شرط ہے‘‘ برکھو نے گلا صاف کرتے ہوئے پوچھا۔
’’ ہم اپنی بیٹی کو بنا نکاح کے کسی کے ساتھ وداع نہیں کریں گے‘‘
’’ بس ، یہی ایک شرط ؟ کچھ لین دین کی بات نہیں کروگے؟‘‘ برکھو نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے پوچھا۔
لین دین کی بات پر دین محمد نے گردن جھکادی، حالات نے اس کو اس مقام تک پہنچادیا تھا کہ اس کے سامنے اس کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔ ورنہ اس کی غیرت اس بات کو گوارا نہیں کررہی تھی وہ اپنی بیٹی کا سودا کرے۔ وہ ہمیشہ ان لوگوں کی پر لعنت ملامت کرتا تھاجو اپنی بیٹیوں کو بیچ کر ان پیسوں پر عیش کرتے تھے۔ آج وہی خود اپنی بڑی لڑکی کا سودا کرے تو دوسروں کو کیا منہ دکھائے گا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کچھ بولنا چاہا مگر زبان لڑکھڑا کر رہ گئی۔
 دین محمد کو روتا دیکھ کر برکھو کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی ، دین محمد کے آنسو دیکھ کر اس کو ویسی ہی خوشی کا احساس ہوا جیسا پرندہ کو جال میں پھڑپھڑاتا دیکھ کر ایک شکاری کو ہوتا ہے۔ لیکن یہاں پر خوشی کا اظہار مصلحت کے خلاف تھا اس وجہ سے اس نے چہرے پر غم کے آثار ظاہر کرتے ہوئے اسے دلاسا دیا۔
’’ میرا مطلب ایسا کچھ نہیں تھا، مجھے تمہاری شرط منظور ہے، میں نے پہلے ہی تم سے کہا تھا کہ میں تم سے لڑکی کا ہاتھ مانگتا ہوں۔ وہ ایسے گھر میں بیاہ کرجائے گی جہاں اس کو کسی بھی چیز کی کمی نہیں ہوگی ۔ لڑکے والے تمہیں اگر اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟ تم اپنی پوری زندگی میں اسے جو نہیں دے پاؤگے وہ سب کچھ وہاں اسے ملے گا۔ اس سے کیا تمہیں سکون نہیں ملے گا؟ تمہاری بیٹی عیش کرے گی، عیش‘‘ اس نے آخری جملے پر کافی زور دیا۔
’’ جیسی تمہاری مرضی‘‘ اس نے نحیف سی آواز میں کہا۔
’’ ٹھیک ہے، تمہیں پچاس ہزار روپئے ملیں گے ، جس میں سے آدھے روپئے کل مل جائیں گے، باقی لڑکی کو وداع کرنے کے دن ، بو لو منظور ہے؟‘‘
’’ پچاس ہزار روپئے؟؟ ‘‘ اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔
’’ جی ہاں پورے پچاس ہزار‘‘ برکھو نے اپنی مونچھو پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ پان کی پچکاری جو کافی دیر سے پریشان کررہی تھی اس کو مناسب جگہ ٹھکانے لگانے کے بعد اس نے دین محمد کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
’’ بولو رخصتی کب کر رہے ہو، دین محمد؟‘‘
’’ جب آپ چاہیں‘‘
 دین محمد ابھی تک پچاس ہزار کے سحر سے آزاد نہیں ہوا تھا۔ وہ تشکر کے جذبہ سے جھکا جا رہا تھا۔ اتنی بڑی رقم اس نے خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے اسی وقت پلان بنانا شروع کردیا کہ اس رقم سے کیا کرے گا۔ سب سے پہلے ایک بھیںس لائے گا۔ اس کے بعد گھر کی مرمت کرائے گا۔ پوال کی چھپر کو بھی تین سال ہوگئے ، جگہ جگہ سے چھپر میں چھید ہوگیا جس سے وہ گھر کے اندر سوتے ہوئے آسمان دیکھا کرتا تھا۔ کئی بار نیا چھپر ڈالنے کو سوچا مگر اس کے لئے بھی بانس اور پوال تو خریدنا پڑتا ، جس کے لئے اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ اس بار ان پیسوں سے ایسا گھر بنوائے  گا کہ لوگ دور سے دیکھیں گے۔ برجو کی بیوی اس کے گھر آکر بہت شان سے اپنے گھر کی تعریف کیا کرتی تھی اس کے جانے کے بعد دیر تک اس کی بیوی اس سے بلاوجہ لڑا کرتی تھی ۔ اب وہ اس سے اونچا مکان بنوا کراسے بتائے گا کہ گھر کیا ہوتا ہے۔ اور ہاں اپنی دو بیٹیوں کی شادی اتنے دھوم دھام سے کرے گا کہ پورا گاؤں تماشہ دیکھے گا۔ لیکن نہیں، سب سے پہلے اپنا علاج کرائے گا۔ علاج کی طرف دھیان جاتے ہی اس پر کھانسی کا دورہ پڑگیا۔
برکھو نے آگے بڑھ کر اس کی بیٹھ سہلانا شروع کردیا اور ساتھ ہی منہ پر ایک رومال رکھ لیا کہ کہیں ٹی بی کے جراثیم اس کے اندر نہ چلے جائیں۔
کھانسی کی وجہ سے دین محمداپنے سپنوں کی دنیا سے باہر آیا۔ اس نے نئے سرے سے ایک بار آس پاس کا جائزہ لیا۔ برکھو کے چہرے پر اس نے نظر ڈالی۔ آج وہ اسے ایک مسیحا نظر آرہا تھا۔
’’ کیا سوچ رہے ہو دین محمد، نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ ‘‘ برکھو نے ہوشیاری سے بات آگے بڑھانا چاہا۔
’’ تم اپنی مرضی کے مطابق جو تاریخ رکھنی چاہو رکھ لو، ہم تیار ہیں‘‘ اس نے سارا کچھ برکھو کے اوپر چھوڑدیا۔
’’ آنے والے اتوار کو کیسا رہے گا‘‘
’’ ٹھیک ہے اسی اتوار کو ‘‘
برکھو چلا گیا، دوسرے دن وعدے کے مطابق پچیس ہزار کی رقم دین محمد کے گھر دے گیا۔ دین محمد نے اس پہلے اتنی بڑی رقم نہیں دیکھی تھی۔ وہ بار بار اس کو گنتا۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کی طبیعت صحیح ہوگئی۔ اس نے بیوی کو آواز دی،
’’ دیکھو ، برکھو ہمیں پچیس ہزار دے گیا ہے، وہ اسی اتوار کو وہ پچیس ہزار اور دے گا‘‘ اس نے خوشی اور جوش بھرے لہجے میں بیوی کومخاطب کیا۔
’’ یہ روپئے تمہیں ہی مبارک ہوں، بیٹی کو بیچ کر اس کی قیمت پر خوش ہورہے ہو، شرم نہیں آتی؟‘‘ سلمہ نے اپنی نفرت اور بے زاری کا برملا اظہار کردیا۔ ویسے وہ عام طور پر شوہر سے زبان لڑانے والی عورت نہیں تھی۔ مگر یہاں اس کی بیٹی کی زندگی کا سوال تھا، اگر دین محمد اس کا باپ تھا تو وہ بھی ایک ماں کی حیثیت سے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار نہ سہی تو کم ازکم فیصلے میں شریک ہونے کا حق تو رکھتی ہے۔
دین محمد بیوی کے تیور دیکھ کر سہم گیا۔ اس نے وہ ساری پٹی جو برکھو نے اسے پڑھائی تھی اسے پڑھادی۔ لیکن اس کے باوجود اس کے رویے میں کوئی فرق نہیں آیا۔
’’ جاؤ، قیامت کے دن میں تمہارا دامن پکڑوں گی، میری بیٹی تمہارا دامن پکڑے گی۔ ‘‘ وہ رونے لگی۔
’’ میرا دل صاف ہے، ﷲ جانتا ہے، میں کچھ غلط نہیں کررہا ہوں۔‘‘ دین محمد نے صفائی دی۔
جیسے جیسے دن قریب آرہا تھا ، گھر میں میاں بیوی میں تکرار بڑھتی جارہی تھی۔ ایک دن سلمہ نے زہر کھانے کی دھمکی دی ، اس دن دین محمد نے اسے بہت مارا۔ بچیاں سہم گئیں، پڑوس والے اکٹھا ہوگئے ، لوگوں نے دین محمد کو برا بھلا کہا۔ اور دنوں کو سمجھا بجھا کر چلے گئے۔ اس دن کے بعد سلمہ نے بات چیت کرنا چھوڑ دیا۔ دین محمد کی بیماری پچیس ہزار دیکھتے ہی ختم ہوگئی۔ اب وہ تندرست ہورہا تھا۔ کبھی کبھی کھانسی کے دورے پرتے مگر اس کی طرف دھیان دینے کا وقت ہی اس کے پاس نہیں تھا۔
اس بیچ کسی نے پنکی نے پوچھنے کی زحمت نہیں کی، امی اور ابو کے روز روز کے جھگڑے سے اسے معلوم ہوگیا تھا کہ اس کی شادی کی بات ہورہی ہے۔ دوسری لڑکیوں کی طرح اس کے بھی کچھ ارمان تھے ، مگر یہاں تو اس کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کے سپنوں کا شہزادہ کون ہے۔ اس کا نام کیا ہے؟ وہ کہاں کا رہنے والا ہے۔ اس کی ہمت ہی نہیں پڑتی کہ وہ امی یا ابو سے پوچھے۔ کیا کہیں گے ، کتنی بے حیا ہے، اپنی شادی کے بارے میں بات کرتی ہے۔
آخر وہ دن بھی آگیا جب ایک بڑی سی گاڑی میں کئی لوگ بیٹھ کر آئے ان کے ساتھ برکھو بھی تھا۔ وہ اپنے ساتھ نکاح پڑھوانے کے لئے مولوی بھی ساتھ لائے تھے۔
 برکھو نے آگے بڑھ کر دین محمد کو سلام کیا۔ مہمانوں کو بیٹھنے کے لئے چار پائیاں بچھادی گئیں۔ برکھو نے پورے مجمعے پر نظر ڈالی اور کہا :
’’ اب دیر نہیں کرنا چاہئے انہیں شہر واپس جانا ہے۔ نکاح کا انتظام کیا جائے۔‘‘
دین محمد کی نظریں دولہے کو تلاش کررہی تھیں، آخر اس نے پوچھ ہی لیا کہ دولہا کہاں ہے؟ دین محمد کے اس سوال پر برکھو نے کسی کو آنکھوں سے اشارہ کیا ۔ وہ دین محمد کے پاس آیا اور اسے گاڑی تک لے گیا۔
’’ دولہا یہاں ہے‘‘ اس نے گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’ اس نے گاڑی میں جھانک کر دیکھا،اس کے اندر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ ایسالگتا تھا کہ وہ سیٹ بیلٹ سے بندھا ہے، مگر قریب جانے پر معلوم ہوا کہ اس کو رسی سے باندھ کر رکھا ہے۔ وہ سر نیچے کئے معلوم نہیں کیا دیکھ رہا تھا۔ آہٹ پاتے ہی چلانا شروع کردیا۔
’’ میں ایک ایک کو دیکھ لوں گا ، حرام خورو‘‘
اس کی دہاڑ سن کر سارے لوگ گاڑی کے پاس جمع ہوگئے۔ وہ بھیڑ دیکھ کو اور بھی بد حواشی میں چلائے جارہا تھا۔
دولہا پاگل ہے یہ بات تیزی سے پورے گاؤں میں پھیل گئی، گھر میں بھی لوگوں کو معلوم ہوگیا۔سلمہ کی چیخ نکل گئی ، ’’ہائے ﷲ میری بیٹی کا کیا ہوگا؟‘‘
دولہے کی یہ حالت دیکھ کر دین محمد کے اوسان خطا ہوگئے۔ دین محمد نے قہر آلود نظروں سے دیکھا، آگے بڑھ کر اس نے برکھو کا گریبان پکڑنا چاہا مگر اس سے پہلے برکھو کا ایک زور گھونسہ اس کے منہ پر پڑا وہ چکرا کر زمین پر گر پڑا۔ کچھ لوگ اس کو سہارا دینے کے لئے آگے بڑھے ،اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ اس نے سب کو جھٹک دیا۔ اور چلایا:
’’ برکھو ، تونے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے، میں تجھے نہیں چھوڑوں گا‘‘
’’ میں نے کوئی دھوکہ نہیں دیا، تم نے لڑکے کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا تھا، میں نے کہا تھا کہ تمہاری لڑکی ایک بڑے گھر میں جائے گی جہاں روپیے پیسوں کی ریل پیل ہوگی، بتاؤ کیا میں نے غلط کہا تھا؟‘‘
دین محمد نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا، مگر اس کو احساس ہوا کہ غلطی اسی کی ہے اسے ساری بات پہلے سے واضح کرلینا چاہئے تھا۔ اسے خود پر غصہ آرہا تھا کہ اس نے برکھو پر اتنا بھروسہ کیوں کیا؟ لیکن بات واضح نہ کرنے کا مطلب یہ تو نہیں کہ برکھو اس کی پھول جیسی پنکی کو ایک پاگل سے بیاہ دے، غصہ سے اس کی سانس اوپر نیچے ہورہی تھی، اس کا جسم کانپ رہا تھا۔ مٹھیاں بندھی ہوئی تھی۔ وہ ایک بار پھر برکھو کی طرف بڑھا مگر معلوم نہیں اسے کیا ہوا کہ وہ خود اپنی چہرے پر تھپڑ مارنے لگا۔ وہ بالکل پاگل ہوا جارہا تھا۔ جب تک لوگ اسے پکڑتے اس نے اپنا چہرہ خود سے مار مار کر لال کرلیا۔
’’مجھے چھوڑ دو، غلطی میری تھی ، میں نے اپنی بیٹی کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے، مجھے اس کی سزا ملنی ہی چاہئے‘‘ وہ مسلسل چلا رہا تھا۔