جمعرات، 1 ستمبر، 2011

مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھوتی بھوجپوری فلم صنعت

0 تبصرے

مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھوتی ,بھوجپوری فلم صنعت
آپ مانیں یا نہ مانیں آج بھوجپوری سنیما ہندی سنیما کے لئے ایک چیلنج بن کر ابھررہا ہے۔ یہ معاملہ صرف یوپی بہار کا نہیں ہے بلکہ دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں بھی جہاں اترپردیس اور بہار کے لوگ کثیر تعداد میں موجود ہیں ہندی نغموں کے ساتھ بھوجپوری موسیقی بھی اپنی موجودگی درج کرارہی ہے۔
بچے ہوں یا جوان یا پھر بوڑھے ہر طبقہ بھوجپوری موسیقی کا دلدادہ ہے۔ایسا ممکن نہیں کہ یہ تبدیلی یکبارگی آگئی ہو اور پوروانچل (مشرقی یوپی کا وہ علاقہ جہاں بھوجپوری بولی اور سمجھی جاتی ہے) یکبارگی ہندی سنیما کو چھوڑ کر بھوجپوری کا دامن تھام لیا ہو، ضروری سی بات ہے کہ اس تبدیلی میں کچھ عرصہ لگا ہوگامگر جس سرعت کے ساتھ یہ سب ہو اوہ چونکانے والا ضرور ہے ۔
اس تبدیلی کے پیچھے سب سے بڑا محرک علاقائیت کا بڑھتا رجحان ہے،علاقائیت اگر مثبت فکر لئے ہوئے ہو تو اس کو معیوب نہیں کہا جاسکتاہے ۔اس رجحان کو اپنے تہذیب اور کلچر سے پیار کی علامت کے طور پر دیکھنا چاہئے ۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی اجازت دستور ہند ہمیں فراہم کرتا ہے ۔
ہندی کے علاوہ دیگر زبانوں کی فلموں نے عرصہ سے اپنی پہچان بنالی ہے خاص طور پر کنڑاور بنگلہ فلمیں اپنے معیار کے اعتبار سے کافی ترقی کرچکی ہیں ، وہاں کی حکومتوں کا تعاون بھی انہیں حاصل رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں کی فلم انڈسٹری کے لئے یہ ممکن ہوسکا کہ وہ ہندی سنیما کا مقابلہ کرسکیں۔اس کے بالمقابل بھوجپوری کا معاملہ ذرا مختلف ہے ، ابھی تک بھوجپوری کو ایک مستقل زبان کادرجہ نہیں مل سکا ہے ، یہ زبان اب بھی جاہلوں کی زبان سمجھی جاتی ہے ، بھوجپوری بولنے والے جہاں کہیں بھی جاتے ہیں وہ اپنی زبان میں بات کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں،انہیں یہ خوف ہوتاہے کہ لوگ انہیں جاہل ان پڑھ اور گنوار نہ جانے کن کن القاب سے یاد کریں گے۔ اس سے خوف پیدا ہوگیا تھا کہ بھوجپوری زبان اور اس کے ذخیرۂ الفاظ کہیں ختم نہ ہوجائیں۔
یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ بھوجپوری والے بھی اپنی زبان کے لئے بیدار ہورہے ہیں۔ اس کی ایک واضح ثبوت بھوجپوری سنیما کی مقبولیت ہے۔ ایک زمانہ تک بھوجپوری میں اچھے فلم ایکٹروں کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو اس سے مایوسی ہوتی تھی مگر اب زمانہ بدل گیا ہے۔دنیش کماریادو عرف نرہوا،روی کشن جیسے اداکاروں نے جیسے بھوجپوری سنیما میں جان ڈال دی ہے۔پہلے جہاں بڑی کمپنیاں اپنا سرمایہ لگانے سے کتراتی تھیں وہیں اب بڑی بڑی کمپنیاں اپنا سرمایہ لگارہی ہیں۔اس سے یہ امید بنی ہے کہ ایک دن بنگلہ ،پنجابی اور کنڑ فلموں کی طرح یہ بھی اپنا مقام بنالے گی۔
بھوجپوری سنیما کے ترقی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندی سنیما گاؤں دیہات میں رہنے والوں کی آرزؤں اور امنگوں کی ترجمانی نہیں کرپارہا ہے۔’روٹی کپڑا اور مکان‘، ’مدرانڈیا ‘ اور اس زمانہ کی دیگر فلموں کو چھوڑ کر ہندی سنیما گاؤں کی زندگی سے دور ہوتاگیا،اب نہ اس کے اندر گاؤں ہے نہ گاؤں والے ہیں اور نہ ان کے مسائل۔ گاؤں والوں کے لئے اس کی کہانی اوراس کے کردار اجنبی ہوتے ہیں۔ ان کے لئے بھوجپوری فلمیں ایک بہتر متبادل کے طور پر سامنے آئیں۔اس میں گاؤں کی مٹی کی خوشبواور کھیت کھلیان اور ان کی دل چسپی اورمتوجہ کرنے والی سبھی چیزیں ہیں ۔اس میں محبت کرنے والے کارپوریٹ گھرانے کے نازونعم میں پلے بڑھے جوڑے نہیں ہیں۔بلکہ انہی جیسے بھولے بھالے انسان ہیں۔ ایسی بات نہیں کہ بھوجپوری سنیما کے مخاطب صرف گاؤں دیہات کے لوگ ہیں ،بھوجپوری بولنے والے شہروں میں بھی یہ اسی طرح مقبول ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھوجپوری سنیما اپنے ابتدائی دور سے گذر رہا ہے اس کے اندر ابھی کمیاں ہوں گی اور ہیں بھی۔ سب سے بڑی خرابی بھوجپوری میںیہ ہے کہ سہل پسندی اور عامیانہ پن کی وجہ سے اس میں ہنسی مذاق عام طور پر پھوہڑ پن کے دائرہ میں آجاتے ہیں۔ ایسالگتا ہے کہ بھوجپوری کلاکار اشارہ کنایہ میں بات کرنا جانتے ہی نہیں، بعض دفعہ اتنے پھوہڑ قسم کے ڈائلاگ بول جاتے ہیں کہ ان کو سن کرشرمندگی کا احساس ہوتاہے۔
ایک بڑی خامی یہ ہے کہ اب تک بھوجپوری فلم کے عاشق کو عشق کرنا نہیں آیا ہے۔ اس کی ہیروئن تو عموماً پہل کرتی نظر آتی ہے جو بھوجپوری تہذیب اور معاشرہ کی ترجمانی نہیں کرتا،اس کے علاوہ یہ فطرت کے بھی خلاف ہے ۔ لڑکی کی شرم وحیا ہمیشہ یہ کام مرد ہی کے لئے چھوڑ دیتی ہے۔بھوجپوری سنیما کی ہیروئن کی پہل بھی کچھ اس انداز کی ہوتی ہے کہ اسے دیکھ کر سر شرم سے جھک جائے۔شاید ہی کوئی بھوجپوری فلم ہو جس میں لڑکی کو چھیڑکر اس کے ساتھ گانا نہ فلمایا گیا ہو، دراصل بھوجپوری فلمکاروں کی ساری توجہ زیادہ سے زیادہ گانوں کو فلم میں سمونے کی ہوتی ہے اس کے لئے بے وجہ کسی نہ کسی بہانہ سے گانا اور ناچ کو جگہ دے دی جاتی ہے۔ اس کوشش میں ان کو یہ مہلت ہی نہیں ملتی کی وہ ہیرو اور ہیروئن کو اپنے عشق کو فطری انداز میں انجام تک پہنچانے کا موقع دیں۔ گویا کہ اگر ڈرامے کی زبان میں بات کریں تو بھوجپوری سنیما پر ’اندرپرست ‘ کی روایت حاوی ہے۔ جہاں تک بھوجپوری فلموں میں لباس کی بات ہے تو یہ بالی وڈسے زیادہ ہالی وڈ کی نقل کرتاہوا نظر آتا ہے۔صحیح بات یہ ہے کہ آپ کو کم ہی بھوجپوری فلمیں ملیں گی جن کو اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکیں۔یقینی طور پر کہاجاسکتا ہے کہ بھوجپوری سنیما میں گاؤں کھلیان اور کھیت تو اپنے ہیں مگر ان میں اگنے والی فصل اپنی نہیں ہے۔
اگرچہ آج کل بھوجپوری علاقوں میں ہندی گانوں کے مقابلہ میں بھوجپوری کا چلن بڑھا ہے لیکن اگر گانوں کا یہی معیار رہا تو کچھ ہی دنوں میں اس سے لوگ اوب جائیں گے، بھوجپوری گانے عموماً ضرورت سے زیادہ طویل ہوتے ہیں، یہ طوالت اس وجہ سے نہیں ہوتی کہ گانے کے بول زیادہ ہوتے ہیں اس کی وجہ عموماً یہ ہوتی ہے کہ ایک ہی مصرعہ کو گلوکار بار بار دہراتا ہے، اس طرح جو گانا چار منٹ میں گایا جاسکتا ہے اس کے لیے سات سے آٹھ منٹ لگ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندی گانوں کی بھونڈی نقالی بھی طبیعت پر گراں گزرتی ہے۔ابھی بھوجپوری موسیقی کو ہندی یا پنجابی موسیقی تک پہنچنے کے لیے ایک لمبا سفر طے کرنا ہے اس کے لیے بھوجپوری موسیقاروں کو ہندی گانوں کی نقالی چھوڑکر تخلیقی قوت کو بروئے کار لانا ہوگا ورنہ نقل سے کبھی پہچان نہیں بنتی۔
اس وقت عوام میں بھوجپوری فلموں کی بڑھتی مقبولیت بھوجپوری سنیما کے لیے ایک خوش آئند بات ہے ، اس دلچسپی کو برقرار رکھنے میں اگر بھوجپوری سنیما کامیاب رہا تو ٹھیک ورنہ پھر شاید یہ موقع پھر نہ مل سکے۔ 

اتوار، 17 جولائی، 2011

ممبئی سیریل بم دھماکوں کے بعد گرفتاریاں

0 تبصرے
ہندوستان میں دھماکے کہیں بھی ہوں شک کی سوئی بے چارے مسلمانوں کی طرف جاتی ہے گویا کہ ہماری ایجنسیوں نے ایک بات تسلیم کرلی ہے کہ اس دیش میں بم دھماکے صرف مسلمان ہی کرسکتاہے، ایک طرف سیکورٹی ایجنسیاں کہہ رہی ہیں کہ ان کے ہاتھ ابھی کسی قسم کے ثبوت ہاتھ نہیں لگے دوسری طرف انڈین مجاہدین اور دوسری تنظیموں کا نام لیا جانے لگا، مسلم ناموں کا نام لیا جانے لگا۔ ٹی وی چینل جتنی تیزی کے ساتھ اس کیس کی تحقیقات کررہی ہیں اس کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ حکومت کو یہ ذمہ داری انہیں چینلوں کو سونپ دینا چاہیے۔ اسی درمیان ایک الگ آواز بھی آئی جو دگ وجے سنگھ کی تھی انہوں نے صرف اتنا کہا کہ سنگھ پریوار کے رول سے ہم ان دھماکوں میں انکار نہیں کرسکتے۔ بات واجبی تھی، اس سے پہلے بھی کئی دھماکوں میں ان تنظیموں کے شامل ہونے کے ثبوت ملے ہیں، اس لیے جس طرح دوسری دہشت گرد تنظیموں کے رول کی جارہی ہے ان تنظیموں کے رول کی بھی جانچ ہونی چاہئے۔ ہندو دہشت گرد تنظیموں کے رول کی جانچ کی بات پر بی جے پی کے اندر تہلکہ کیوں مچ گیا ؟ کہیں دادا گیری کے ذریعہ جانچ کو ایک خاص سمت میں لے جانے کی کوشش تو نہیں ہے؟
       سیاسی حلقوں میں یہ آواز اٹھنی شروع ہوگئی تھی جب سے ہندو دہشت گرد چہرے سامنے آئے اسی وقت سے بم دھماکے بند ہوگئے، ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دھماکے صرف یہ ثابت کرنے کے لئے ہوں کہ ہندو دہشت گرد ہی تمام دھماکوں کے ذمہ دار نہیں ہیں۔     
میں دہشت گردی کو کسی بھی مذہب سے جوڑنے کا مخالف رہا ہوں۔ اس لئے میری درخواست ہے کہ ان دھماکوں کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جو پولیس ایک مسلم نوجوان کی اس رپورٹ پر کوئی کاروائی نہیں کرتی کہ اس نے چار لوگوں کو بم پلانٹ کرنے کی بات کرتے سنا، اس کو پولیس اسٹیشن سے واپس بھیج دیا گیا۔ اب وہی پولیس اتنی مستعد ہوگئی ہے کہ ایک شخص کو صرف اس لئے گرفتار کرلیتی ہے کہ مرشدآبار میں اس کے پاس مراٹھی لٹریچر ملا ہے۔ ابھی ڈاکٹر سین کے معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آچکا ہے کہ کسی بھی زبان کا لٹریچر کسی کے خلاف ثبوت نہیں بن سکتا ہے۔ آخر بار بار یہ غلطی کیوں دہرائی جاتی ہے؟
       دوسری بات یہ کہ اس معاملہ میں بھی آنکھ بند کرکے مسلم نوجوان گرفتاریاں ہورہیں ہیں، مجھے پورا یقین ہے کہ کچھ دنوں کے بعد ان کو چھوڑ دیا جائے گا اس لئے کہ ان کو عوام کا غصہ سرد کرنے کے لئے بغیر کسی ثبوت کے گرفتار کیا جارہاہے۔ لیکن ان نوجوانوں کے کیریر کا کیا ہوگا؟ وہ گرچہ چھوڑ دیے جائیں گے مگر عوام ان کو گنہگار ہی تصور کرے گی۔ ان سے نفرت کرے گی۔ عام جگہوں پر ان کا اٹھنا بیٹھنا مشکل ہوجائے گا۔ اس لئے خدا کے لیے نوجوانوں کے کیریر کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جائے اس لئے کہیں کوئی حقیقت میں اس قسم کی بے وقوفی نہ کر بیٹھے۔


پیر، 11 جولائی، 2011

اسکولی بچوں کو تقریر کی مشق کیسے کرائیں؟

0 تبصرے
بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے اور لوگوں کے سامنے اپنی بات کو بہتر ڈھنگ سے پیش کرنے کی مشق کرانے کے لیےتقریر کی مشق کرانی چاہئے۔ تقریر صرف اپنی بات پیش کرنے ہی کا نام نہیں ہے بلکہ دوسروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی ہے۔ جملوں کی ترتیب، الفاظ کا زیروبم، جملوں کے بیچ ٹھہراو یہ سبھی چیزیں تقریر میں اہمیت رکھتی ہیں۔ ان سب سے زیادہ اہم بات موضوع کا انتخاب اور مواد کی فراہمی ہے۔ موضوع کا انتخاب استاد کے مشورہ سے طالب علم خود اپنے طور پر کرسکتاہے، ابتدائی جماعتوں میں استاد بچوں کےذہن کو مدنظر رکھتے ہوئے موضوع کا انتخاب کردے تو کوئی حرج نہیں ہے مگر اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ بچوں کی تخلیقی اور اختراعی ذہنیت پر اس سے حرف نہ آئے۔ جہاں تک مواد کی فراہمی کی بات ہے تو طلبہ کو ہمیشہ آس پاس کی چیزوں کو خود غور سے دیکھنے اور ان سے سیکھنے کا مشورہ دینا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر موضوع '' صفائی ستھرائی کے فوائد'' ہو تو بچوں کو کہا جائے کہ وہ گندگی سے پھیلنے والی بیماریوں کے بارے میں جانکاری حاصل کریں، گھر اور محلہ کی صفائی کے سلسلے میں کس قسم کی لاپرواہیاں ہوتی ہیں ان کا جائزہ لیں۔ اس کے بعد طلبہ اپنی سوچ کے مطابق ان سب پریشانیوں کا حل پیش کریں۔ اور اس کے فوائد گنائیں۔ اس طرح ان کو تقریر کا مواد خود ان کے آس پاس سے مل جائے گا۔ اور ان کے اندر غور وفکر کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوگی۔ تقریر کی مشق ہم دو طرح کرسکتے ہیں:
۱۔ فی البدیہہ
۲۔ غیر فی البدیہہ یا فصیح تقریر
فی البدیہ تقریر کے اندر یہ جانچنا ہوتاہے کہ طالب علم فوری طور پر بغیر کسی پیشگی تیاری کے کس طرح اپنی بات سامعین کے سامنے رکھ پاتا ہے۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے مگر یہ بھی مشق وتمرین چاہتاہے۔ طلبہ کو اس کی مشق کرانی چاہئے۔ اس لئے کہ زندگی میں اکثر مواقع ایسے ہی آئیں گے جن میں طلبہ کو بغیر کسی پیشگی تیاری کے ہی بولنا ہوگا۔ ا س لئے انہیں اس کے لئے تیار ہونا چاہئے۔ اس میں چونکہ طلبہ کو تقریر کا موضوع اسٹیج پر ہی دیا جاتا ہے اس وجہ سے مناسب یہ ہے کہ موضوع کا انتخاب کچھ اس طرح کا ہو کہ جس سے طالب علم دلچسپی لے سکے۔ اس کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ طالب علم سے کہا جائے کہ وہ ایک لیڈر کی حیثیت سے تقریر کرے جس میں وہ اپنے پانچ سال کے کارناموں کو گناکر اپنے لئے ووٹ کی اپیل کرے۔ یا اس قسم کا کوئی بھی موضوع دیا جاسکتاہے۔ اس میں گھسے پٹے موضوعات دینے سے احتراز کیا جائے۔
فصیح تقریر کے بارے میں طالب علموں کو کہاجائے کہ وہ اس کے لئے مواد خود تلاش کریں۔ کسی مشہور مقرر کی لکھی ہوئی یا کہی ہوئی تقریر زبانی یاد کرکے سنادینے سے اچھا ہے کہ نامکمل جملوں کے ساتھ طالب علم خود کی تیار کی ہوئی تقریر کہے، یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب خود اپنی تقریر تیار کرنے میں ہونے والی غلطیوں پر ان کی سرزنش کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی ہو۔
مباحثہ
سیکھنے سکھانے کے جدید طریقوں میں سے ایک اہم طریقہ ہے بحث و مباحثہ۔مباحثہ دراصل عربی کا لفظ ہے جو مفاعلہ کے وزن سے ہے اس کے اندر دو طرفہ تال میل ہوناضروری ہے۔ مباحثہ استاد اپنی نگرانی میں کرئے تو بہتر ہے اس لئے کہ اسی صورت میں اس کے فوائد سامنے آسکتے ہیں۔ مباحثہ کے لیے تقریر کی طرح پہلے سے موضوع کا انتخاب ہونا چاہیے۔ طلبہ کو دو گروپ میں تقسیم کرنے کسی بھی موضوع کے مثبت یا منفی پہلو کے بارے میں مواد اکٹھا کرنے کو کہا جائے۔ اس کے بعد جب مباحثہ شروع ہو تو استاد دونوں طرف کی گفتگو کو بغور سنے اور بعد میں دونوں طرف کی کمزوریوں کا خلاصہ کرے۔ مباحثہ گروپ کی شکل میں بھی ہوسکتا ہے اور انفرادی طور پر بھی ہوسکتاہے۔ باری باری دونوں طریقے اپنانا طلبہ کے حق میں بہتر رہے گا۔



منگل، 14 جون، 2011

راقم کی یادگار تصویر خلیل اللہ کے ساتھ

2 تبصرے

Photo

0 تبصرے

My brother Khalillah & me at nirankari park delhi

Uzair photo

0 تبصرے

* Original message *
From:
uzairahmad3@gmail.com
Sent:
06:23:48pm
12-06-2011
To:
[Uzair New] uzairahmad3@gmail.com
Subject:
FW: Nel

اتوار، 13 مارچ، 2011

0 تبصرے

پیر، 4 اکتوبر، 2010

بابری مسجد کا فیصلہ۔ شر میں خیر کا پہلو

0 تبصرے
کہتے ہیں کہ ہر شر میں خیر کا پہلو چھپا ہوتا ہے ، بابری مسجد کے تعلق سے الہٰ باد ہائی کورٹ کا فیصلہ اس معنی میں تو مسلمانوں کو مایوس کرنے والا ہے کہ عدالت نے تمام ثبوتوں کے باوجود مسلمانوں کے دعوے کو خارج کردیا  اور رام مندر کے لئے اسی جگہ کی تعیین کردی جہاں پہلے بابری مسجد تھی۔ مگر کورٹ نے اس کے ساتھ کورٹ نے اپنے فیصلہ میں جو جچھ کہا ہے وہ بی جے پی اور دوسری فرقہ پرست جماعتوں کے بھی حلق سے نہیں اترے گا۔
کورٹ نے بابری مسجد کی زمین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کو کہا ہے اس میں سے ایک حصہ سنی وقف بورڈ کو بھی دیا ہے۔ اس طرح قانونا وہاں مسجد بنائی جاسکتی ہے۔
اس طرح جو لوگ ابھی اس فیصلہ پر جشن منارہے ہیں اور یہ دعوی کررہے ہیں ان کا امتحان ہوجائے گا کہ وہ عدالت کے فیصلہ پر کس طرح عمل کرتے ہیں۔
اگر چہ یہ کہا جارہا ہے کہ اس دفعہ سخت سیکورٹی کی وجہ نظم ونسق برقرار رہا مگر حقیقت یہ ہے کہ فسادات کرنے والا ٹولا چونکہ ہمیشہ وہی رہا ہے اور چونکہ اس کو بظاہر اپنی دلی مراد مل گئی اس وجہ سے فسادات کی نوبت ہی نہیں آئی۔ اگر کہیں ایساہوتا کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوتا تو پورے ہندوستان کے گجرات بننے کے پورے چانس تھے اس وجہ سے کہ بھگوا بریگیڈ نے کبھی بھی کھلے من سے عدالت کے فیصلہ کو ماننے کی بات نہیں کہی تھی۔
اللہ کا شکر ہے کہ اس دفعہ مسلمانوں کا خون نہیں بہا۔۔

منگل، 28 ستمبر، 2010

کیوں نہیں بجھ رہی ہے کشمیر کی آگ؟

0 تبصرے


کشمیر میں حالیہ دنوں میں تشدد کے سلسلہ میں جو کچھ میڈیا کے ذریعہ چھن کر آرہا ہے اس سے ایک بات تو ظاہر ہے کہ کچھ تو ہے جو حکومت چھپارہی ہے اور عوام کو اندھیرے میں رکھ رہی ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ۱۱جولائی سے لے کر اب تک سو سے زائد کشمیری نوجوان پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں ۔حکومت اور پولیس کے خلاف عوامی غصہ اس قدر ہے کہ عوام کرفیو کو توڑ کر جان کی پرواہ کیے بغیر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ کچھ تو وجہ ہوگی آخر ہمیں کیوں نہیں بتایا جارہا ہے؟ میڈیا میں ہلاکتوں اور عوامی مظاہروں کی بات تو ہوتی ہے مگر یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا کہ مظاہرے کیوں ہورہے ہیں وہاں کے عوام کی مانگ کیا ہے اس سے مکمل خاموشی برتی جارہی ہے ۔ آخر ایسی کون سی وجہ ہے کہ اپنے شہریوں کی آواز کو حکومت ملک کے دوسرے حصوں تک نہیں پہنچنے دینا چاہتی۔
کشمیر میں جو کچھ ہورہا اس سے ہر انسانیت پسند کے دل پر چوٹ پڑرہی ہے مگر جو لوگ مسلح نکسلیوں کے خلاف فوج کے استعمال کی کھلے عام مذت کرتے ہیں وہ کہاں ہیں؟ کشمیر مسئلہ پرتمام دیگر امکانات کو بالائے طاق رکھ کر صرف نہتے کشمیری نوجوانوں اور عورتوں کے خلاف فوج کے آپشن ہی کو حکومت نے منظوری دی ۔ کسی بھی سیاسی پارٹی نے اس کی مخالفت نہیں کی گویا کہ ہماری سیاسی پارٹیوں نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ کشمیری ’لاتوں کے بھوت ہیں ‘ ان کا علاج فوج ہی ہے۔ 
موجودہ حالات میں یہ بات تو طے ہے کہ کشمیر میں لا اینڈ آرڈر نام کی چیز رہ ہی نہیں گئی ہے وہاں کی عوام کشمیر کی حکومت سے بدظن ہیں ۔عمر عبداللہ کی بات سننے کو تیار نہیں ہے ایسے میں عمر عبداللہ کی بے جا حمایت سمجھ سے بالاتر ہے۔ مرکزی حکومت کی عمر عبداللہ کی بے جا حمایت سے کشمیریوں میں ایک غلط پیغام جانا لازمی ہے کہ حکومت ان کے معاملہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ حکومت کو سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ کسی طرح اس مسئلہ کو بین الاقوامی مسئلہ ہونے سے بچایا جائے مگر آج کے اس دور میں جہاں میڈیا اس قدر ترقی کرگیا ہے اس قسم کی بات حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ یہ مسئلہ جتنا جلدی سلجھ جائے اتناہی ہمارے حق میں بہتر ہوگا اس لئے کہ طول پکڑنے کی صورت میں یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ عوام کیوں سول نافرمانی پر اتری ہوئی ہے۔
اس دفعہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے وہ آج سے پہلے کی ملیٹنسی سے مختلف ہے۔ یہ وہ لوگ نہیں ہیں جوہاتھوں میں اے کے ۷۴ لے کر فوج پر اندھا دھند گولیاں چلاتے تھے۔ یہ وہیں کی نوجوان نسل ہے جس کی پرورش وپرداخت قتل وخوریزی کے سائے میں ہوئی ہے ۔ ان میں سے اکثر نے طویل مدت سے چل رہے ملیٹینسی میں اپنے ماں ،باپ ،بھائی اوربہن کو کھویاہے۔ وہ اس دکھ بھری زندگی سے عاجز آگئے ہیں انہیں لگتا ہے کہ اس زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں۔ حکومت کچھ تو ثابت کرے کہ آیا اس کے پاس کشمیریوں کے لئے زندگی کاکوئی پیغام ہے ؟