کتابوں کی باتیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کتابوں کی باتیں لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 18 ستمبر، 2014

اردو ریسرچ جرنل کا تازہ شمارہ منظر عام پر

0 تبصرے
اردو ریسرچ جرنل کا تازہ شمارہ منظرعام پر آگیا ہے۔ اس شمارہ کو یونی کوڈ میں پیش کیا جارہا ہے۔ جو قارئین اس کو پی ڈی ایف میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں ان کے لیے ہر مضمون کے آخر میں متعلقہ مضمون اور مکمل شمارہ کا لنک دے دیا گیا ہے۔ اس شمارہ میں قارئین ہر مضمون پر اپنی رائے دے سکیں گے۔ اس شمارے میں شامل مضامین کی فہرست ملاحظہ فرمائیں:
حرف آغاز                                       عزیر اسرائیل(مدیر)       
خراج عقیدت:
محمد کاظم                                          محمد راشد شیخ                  
مولانا اسید الحق محمد عاصم قادریؒ کی مکتوب نگاری نورین علی حق    
تنقید وتحقیق
غالب کا تصورِ شہر اور دلی                                           
     (اردو شاعری کی روشنی میں)                     ڈاکٹر رضوان الحق           
     ڈاکٹر تنویر احمد علوی بہ حیثیت محقق                        ڈاکٹر محمد اکمل    
     اردو تحقیق میں جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال   عزیر اسرائیل     
     امداد امام اثر کی غزل گوئی: ایک مختصر جائزہ             محمد مقیم               
اسلامیہ یونی ورسٹی آف بہاول پور
     (فہرست مقالات ایم ۔فِل شعبہ اُردو و اقبالیات)ادارہ            کسوٹی (تبصرہ)
ابن کنول بحیثیت افسانہ نگار                سلمان فیصل       
     علامہ عبدالحمید رحمانی ایک عہد، ایک تاریخ محمد اشرف یاسین
     اردو میں نثری نظم                                   حسین ایاض       
     پرورش لوح وقلم                         ڈاکٹر محمد عبدالعزیز          
     وہ دن (افسانوی مجموعہ)                محمد علم اﷲ اصلاحی 
اس شمارہ کو   http://www.urdulinks.com/urj پر ملاحظہ فرمائیں۔
--
عزير اسرائیل
Uzair Israeel
+91-9210919540

پیر، 25 اگست، 2014

مولانا بدرالزماں نیپالی کی ایک نایاب کتاب علماء اہلحدیث بستی وگونڈہ

1 تبصرے
علماء  اہلحدیث بستی گونڈہ مولانا بدرالزماں کی ایک اہم کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے بستی اور گونڈہ (سدھارت نگر، بلرام پور اور سراوستی) کے علماء کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ صرف ان علماء کی تاریخ نہیں ہے بلکہ اس علاقے کی بھی تاریخ ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے ہی گاؤں کے ان علماء کے بارے میں نہیں جانتے جو آج سے بیس سال پہلے گزرگئے۔  مجھے یہ کتاب جامعہ اسلامیہ سنابل کی لائبریری میں ملی ۔ میں اپنے والد محترم مولانا محمد اسرائیل کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ اس کتاب میں میرے والد مولانا محمد اسرائیل کے علاوہ میرے نانا مولانا فرید رحمانی رحمہما اللہ کا بھی ذکر ہے۔ کتاب چونکہ نایاب ہے اس وجہ سے افادۂ عام کے لئے میں اس کو انٹرنیٹ پر شائع کررہا ہوں۔ اس امید کے ساتھ کہ مولانا بدرالرزماں اس سے ناراض نہیں ہونگے۔ مولانا بدرالرزماں نیپالی صاحب میرے والد کے دوستوں میں سے ہیں۔ انہوں نے اس کتاب کو پاکستان سے چھپوا کر مفت تقسیم کیا تھا۔ چونکہ کتاب ہی مفت تقسیم کے لئے تھی۔ اس سے ان کا مقصد روپیہ پیسہ کمانا نہیں تھا اس لئے ان سے اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ ایک اور معذرت کہ کتاب کے صفحات الٹ گئے ہیں۔ اس کو صحیح کرنے کی زحمت اس وجہ سے نہیں اٹھائی گئی کہ اس کو آخر سے بھی آسانی سے پڑھا جاسکتا ہے۔
عزیر اسرائیل


کتاب ڈاؤن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔



مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر اسحاق بھٹی کی ایک عمدہ تحریر

0 تبصرے
مولانا ابوالکلام آزاد برصغیر کی ایسی ہستی ہے جس کے ذکر کے بغیر کوئی بھی تاریخی، علمی اور ادبی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ مولانا اسحاق بھٹی دور حاضر کے ایک عظیم مورخ ہیں۔ ان کے قلم کی سلاست قاری کو آخر تک اپنے سحر میں گرفتار کرلیتی ہے۔ مولانا آزاد پر ان کی یہ تحریر میں نے بزم ارجمنداں سے لی ہے۔ یہ ایک طویل مضمون ہے اس وجہ سے اس کا پی ڈی ایف لنک یہاں دیا جارہا ہے۔
اس کو یہاں سے ڈاون لوڈ کیا جاسکتا ہے

اتوار، 18 مئی، 2014

اردو ریسرچ جرنل کا دوسرا شمارہ منظرعام پر

0 تبصرے
 'اردو ریسرچ جرنل ' مئی ۔ جولائی 2014
اردو ریسرچ جرنل



'اردو ریسرچ جرنل' (مئی تا جولائی 2014) کے دوسرے  شمارہ  کا اون لائن ورن منظر عام  پر آگیا ہے ۔ یہ اردو کا واحد اون لائن خالص تحقیقی وتنقیدی جرنل ہے جو پہلے شمارے سے ہی آئی ایس ایس این نمبر کے ساتھ  شائع ہورہا ہے۔اس تازہ شمارہ میں  'خراج  عقیدت' کے تحت  پروفیسر محمود الٰہی پر دو مضامین ' پروفیسر محمود الٰہی کے تحقیقی کارنامے'  از ڈاکٹر ایم عظیم اﷲ  اور 'پروفیسر محمود الٰہی: بحیثیت محقق و نقاد  از محمد شمس الدین اور معروف ناول نگار اور صحافی خسونت سنگھ پر راقم کا مضمون ' خشونت سنگھ ایک عظیم قلم کار ۔ ایک عظیم انسان' ملاحظہ فرمائیں۔ 
اس مرتبہ 'تحقیق وتنقید' کے تحت اقبال شناسی پر تین مضامین ٹیگور اور اقبال' از محمد علم اﷲ اصلاحی؛  'اقبال بحیثیت آفاقی شاعر' ازضیاء الحق محمد حسین اور راقم کا مضمون 'اقبال اور تصوف'  اور ڈاکٹر ہاجرہ بانو کا مضمون 'الفاظ و معنی اورزبان کا رشتہ' شامل ہیں۔
اردو ریسرچ جرنل کے اس دوسرے شمارے میں ہم عصر ادبی شخصیات پر ایک گوشہ 'رفتار ادب' کے نام سے شامل کیا گیا ہے۔  اس گوشہ میں شمیم اختر کا اردو کی موجودہ صورتحال  پر  ایک مضمون، اور احمد علی جوہر کا مضمون  'ہم عصر اردو افسانہ میں حاشیائی کرداروں کی عکاسی' اس کے علاوہ اس گوشہ میں  جن ادبی شخصیات پر مضامین ہیں وہ کچھ اس طرح ہے:  
تصوراور حقیقت کا افسانہ نگار :اصغر کمال از ڈاکٹر محمد ارشد
عزیز نبیل کی شاعری ازحسین عیاض
فریاد آزرؔ:تخلیقی اڑان کے نئے زاویے              از حقانی القاسمی              
ملک زادہ منظوراور' شہرِادب'از شاہنواز فیاض
صادقہ نواب سحر کا مونولاگ ناول'کہانی کوئی سناؤ متاشا'ازسلمان فیصل
 اردو ریسرچ جرنل کے اس دوسرے شمارے سے 'کسوٹی' کے تحت نو وارد اہم ادبی کتابوں پر تبصروں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اس  کالم کے تحت  ارشاد نیازی کی کتاب 'تفہیم شبلی' ؛ محمد مقیم کا ترتیب کردہ 'کلیات غزلیات ناسخ'،  محمد زکریا ازہری کی نووارد ڈکشنری القاموس الازہر ایڈوانس (اردو۔ عربی) اور 'ہندوستان کی یونی ورسٹیوں میں اردو تحقیق' کتابوں پر تبصرے شائع کئے گئے ہیں۔ پروفیسر ابن کنول کی سرپرستی  اور عزیر اسرائیل کی ادارت میں شائع ہونے والے اس ریفرڈ جرنل کو اس کی ویب سائٹ (www.urdulinks.com )پر پڑھا جاسکتا ہے۔
عزیر اسرائیل
مدیر اعلی


ISSN 2348-2687


-- 
عزير اسرائیل 
Uzair Israeel

جمعرات، 15 دسمبر، 2011

صلاح الدین مقبول احمد کی اردو شاعری مسدس شاہراہ دعوت کے حوالے سے

0 تبصرے


انسان اپنی محنت اور لگن کی بدولت انجینئر ڈاکٹر اور سائنسداں ہوسکتا ہے، مگر شاعر بننے کے لئے محنت اور لگن ہی کافی نہیں ہے، اس کے لئے وہبی صلاحیت درکار ہے۔ یہ اور بات ہے کہ انسان اپنے تجربات مشاہدات اورکثرت مطالعہ کی بدولت اپنی فکر کو وسیع اور بلند کرکے اپنی شاعری میں چار چاند لگا دے مگر بنیادی طور پر شاعری ایک وہبی چیز ہے جو قدرت کچھ ہی لوگوں کو دیتی ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کسی کو یہ صلاحیت دے اور وہ بجائے اس کے اظہار کرنے کے چھپانے کی کوشش کرے۔ مولانا صلاح الدین مقبول مقبول احمد کا معاملہ دوسرے شاعروں سے کئی معنوں میں الگ ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ اپنے شاعر ہونے کو پوشیدہ رکھے رہے بلکہ مدینہ منورہ میں تعلیم کے حصول کے لئے جاتے ہوئے انہوں نے ترک شاعری کے لئے دعابھی کی تھی ۔جس پر مولانا اسحاق بھٹی کا بہت ہی برمحل تبصرہ ہے کہ’’ اگر اس کا نام دعا ہے تو فرمائیے کہ بددعا کسے کہتے ہیں؟ یہ بددعاتھی جو عین نشانے پر لگی۔‘‘
مولانا صلاح الدین مقبول احمد ایک معروف عالم دین ہیں۔ ہم انہیں بچپن سے دیکھتے آئے ہیں۔ مگر وہ شاعر بھی ہیں اسکا ہمیں اندازہ نہ تھا ۔ چند دنوں قبل مولانا کے بھائی محترم مولانا عزیز الدین سنابلی سے ملاقات ہوئی دوران گفتگوانہوں نے بتایا کہ مولانا صلاح الدین صاحب کا کوئی شعری مجموعہ اردو میں شائع ہورہا ہے، تو مجھے یاد آیا کہ خلیجی جنگ کے دوران مولانا نے’’ کویت پر عراق کے مظالم ‘‘کے نام سے ایک کتاب اردو میں لکھی تھی اس کے مقدمہ میں جس طرح برمحل اشعار نقل کئے تھے وہ کوئی عمدہ شاعری کا ذوق رکھنے والا شخص ہی کرسکتا ہے۔ اس کتاب سے مجھے مولانا کے شاعرانہ مذاق کا علم ہوا۔ بہرحال مولانا صلاح الدین مقبول احمد کا شعری مجموعہ’’مسدس شاہراہ دعوت‘‘ سامنے آتے ہیں بڑی بے صبری سے میں نے پہلی ہی فرصت میں تقریبا پوری کتاب پڑھ ڈالی۔ مجھے سب سے زیادہ جس چیز نے متأثر کیا وہ ہے حسن ترتیب اور بے ساختگی۔ 
مولانا نے اپنی زندگی کے ایام تصنیف و تالیف میں گذارے جس کی جھلک ہمیں اس کتاب میں دکھتی ہے۔ اب تک شاعری کی کوئی ایسی کتاب میری نظروں کے سامنے سے نہیں گذری جس میں اسلام کے تمام بنیادی اصولوں اور تعلیمات کا اتنی خوب صورتی کے ساتھ شاعری کے پیرایہ میں بیان کیا گیا ہو۔ ہمارے وہ ناقدین ضرور اس پر چراغ پاہوں گے جن کی نظر میں شاعری صرف دل بہلانے کی چیز ہے دعوت وتبلیغ کی چیز نہیں۔ ایسا وہی شخص کرسکتا ہے جس کے سامنے کوئی خاص مقصد نہ ہو مولانا کا ایک خاص مشن ہے، ان کا چلنا پھرنا سب اسی مقصد پر قربان ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے شاعری بھی اپنی شرطوں پر کی ہے۔ مولانا اپنے مقدمہ میں رقم طراز ہیں:
’’میں نے اپنے اس مسدس میں ’’خدا ‘‘،’’عشق ‘‘،’’بادہ و ساغر ‘‘اور ’’میخانہ‘‘ جیسے غیر شرعی کلمات کے استعمال اور غیر ضروری تشبیب سے پرہیز کا ہے ، جس بندہ عاجز نے عقائد وعبادات اور تفسیر و حدیث دفاع کتاب وسنت اور اسلامی ثقافت جیسے موضوعات پر ہزاروں صفحات پر مشتمل تقریبا ۳۰ کتابوں کا ذخیرہ جمع کیا ہے ، اب اسے کے ذہن و قلم کے زیبا نہیں کہ وہ جام مے ، باددہ وساغر، اور حسیناؤں کے قدود و خدود کی تشبیب و تغزل سے ذہنی وفکری عیاشی میں مبتلا ہوں، اللہ تعالیٰ مجھے ’’ من ترک شیئاً للہ عوضہ اللہ خیراً منہ‘‘ کا مصداق بنائے۔ آمین‘‘
مولانا اسی کو شاعری کی زبان میں کچھ اس طرح کہتے ہیں:
یہ علامہ ہیں، مولانا ہیں، مفتی اور قاری ہیں
مفسر میں محدث ہیں فقیہ آہ وزاری ہیں
یہ ہیں قرآن وسنت دین ودنیا کے نمائندہ 
ہے ان کے دست میں ملت کا ماضی اور آئندہ
فرشتے ان کی راہوں میں ہمیشہ پر بچھاتے ہیں
پرندے ماہئی و حشرات ان کا گیت گاتے ہیں
جو یہ حضرات تشبیب و تغزل پہ اتر آئیں
تو پھر فرہاد و مجنوں ان سے بھی کمتر نظر آئیں
پہنچ جاتے ہیں وہ اک ہی جست میں مسجد سے میخانہ
چھلکتے ہیں پھر ان کے سامنے بھی جام و پیمانہ
انہیں اقرار ہے ان سارے ناکردہ گناہوں کا 
حسینہ کی نگاہوں اس کی راہوں اور باہوں کا
تباہی پیش خیمہ ہے اس عشق مجازی کا
کرشمہ ہے ہوائے نفس کی ذرہ نوازی کا
مولانا صلاح الدین مصلح نے ان اشعار میں واضح کردیا کہ وہ بھی اردو شاعری کے ان لوازمات سے واقف ہیں جن کے بغیر اردو شاعری کو نامکمل سمجھا جاتا رہاہے،وہ انہیں شاعری میں برتنا بھی جانتے ہیں مگر ان سے دامن بچاکر بھی اچھی اور عمدہ شاعری کی جاسکتی ہے۔ ان کا مسدس اس کا عملی نمونہ ہے۔
مولانا قوم کے نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں:
توقع ملت بیضا کے میروں اور جیالوں سے
بہی خواہوں، سپوتوں ، نوجوانوں ، نونہالوں سے
کہ پاکیزہ ادب شعروسخن کو عام فرمائیں 
بہت سوئے ذرا بیدار ہوں کچھ کام فرمائیں
زمانہ منتظر ہے آپ کی دینی سیادت کا
شریعت فکر وفن ہر باب میں ملی قیادت کا
ان اشعار میں جہاں ایک طرف جذبہ کی صداقت مقصد سے والہانہ لگاؤ اور تڑپ نظر آتی ہے وہیں ان اشعار میں دریا کی سی روانی بھی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے بغیر شور وشرابے کے ایک دریا خاموشی سے بہا چلاجارہا۔ آمد ہی آمد ہے کہیں بھی آورد کا گمان نہیں ہوتا ہے۔
اس مسدس کی وجہ تالیف مولانا فرماتے ہیں:
وجہ تالیف ہے حالی کے مسدس کا کمال
راس ہے شعر کو شکوہ کی زمین اقبال
جہد ناقص میں یہ مصلح کو رہا پوار خیال 
دین خالص کی وہ سرمدی دعوت ہو بحال
رب کی توفیق سے دعوت میں توانائی ہے
شاعری کی یہ نہیں روح کی رعنائی ہے
مسدس حالی سے فکری ہم آہنگی اور اقبال کی مشہور نظم شکوہ جواب شکوہ کی زمین پر مسدس کی بنیاد رکھتے ہوئے یہ مولانا کی انکساری ہے کہ انہوں نے شاعری سے زیادہ معانی و مطالب پر توجہ دینے کی بات کہی ہے۔ 
علامہ اقبال نے بھی ایک جگہ کہا ہے کہ اللہ اس کو کبھی معاف نہ کرے جو مجھے شاعر سمجھے۔ گویا کہ اقبال بھی اپنی شاعری کے فنی محاسن سے زیا دہ اپنی شاعری کے افکار پر توجہ دینے کے قائل تھے ۔ اقبال شاعری کو بذات خود مقصد نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس کے اندر موجود پیغام کو اہمت دیتے تھے ۔ یہی بات مولانا صلاح الدین مصلح بھی کہہ رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک ایسا عالم دین جس نے اپنی پوری زندگی اسلام کی تعبیر و تشریح میں لگا دی ہو وہ جب شاعری کرے گا تو اس کے اندر بھی وہی سب کچھ ہوگا جو پڑھتا لکھتا آیا ہے۔ ایک اور چیز جو ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ خطیبانہ لہجہ اور کڑک ہے ایسا موضوع کی وجہ سے ہے۔ قرآن کلام الٰہی ہے اس پر وہ کہتے ہیں:
حکم رب حق ، کوئی اقرار یا انکار کرے 
اپنی تحقیق کو رسوا سربازار کرے 
رب کے قرآن مقدس پہ کوئی وار کرے
ایک کیا دس نہیں ، کوئی اسے سو بار کرے
حق تو تائید کا محتاج نہیں ہوتا ہے
کفر کے سامنے تاراج نہیں ہوتا ہے
مولانا کا طرز استدلال عمدہ اور جچا ہوا ہوتا ہے، وہ شاعری میں اپنے مخالفین کامسکت جواب دیتے ہیں۔ جواب دیتے ہوئے مولانا کا انداز سوال وجواب کا ہوجاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دو لوگوں کے بیچ مناظرہ ہورہا ہو۔ 
مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا بھی وجود میں آگیا ہے جو صرف قرآن کو حجت مانتا ہے، رسول اکرم کے فرامین جو احادیث کی شکل میں ہیں ان کودلیل نہیں مانتا ۔ اس فرقہ کی تردید کرتے ہوئے مولانا کہتے ہیں:
کتنا کس جنس میں واجب ہے زکاتوں کا نصاب 
کیسے معلوم ہوئے صوم کے، حج کے آداب
ان نمازوں کا طریقہ ذرا بتلائیں جناب
پیش خدمت ہے یہ لو مصحف رب الارباب
نطق سامی ہے یہ، قرآن کی تفسیر ہے یہ 
وحی معصوم کی تشریح ہے،تعبیر ہے یہ
صحیح بات یہ ہے کہ احادیث نبوی کے بغیر ان امور کی نشاندہی ناممکن ہے۔ 
مولانا کے اندر ایک شاعر ہے جسے کبھی کھل کر سامنے آنے کا موقع نہیں ملا، اگر مولانا نے اس جانب تھوڑی بھی توجہ دی ہوتی تو عالم اسلام کے نامور شاعروں میں ہوتے۔ کیا یہ کسی کرامت سے کم ہے کہ شاعری ترک کرنے کے تیس سالوں بعد کوئی آمادۂ شعر ہو اور محض دس دنوں میں اکیاسی مسدس کہہ کر کتاب کی تکمیل کردے؟ اس کتاب کولکھتے وقت مولانا کا شاعرانہ مزاج ہر جگہ انہیں شاعری کی زبان ہی میں بات کرنے پر بر انگیختہ کرتا ہے۔ مقدمہ جو عام طور پر شاعر نثر کی زبان میں لکھتے ہیں اس کے اندر بھی مولانا نے جابجا اشعار کے موتی پروئے ہیں۔ مولانا کی شاعری میں بعض جگہوں پر عربی الفاظ کے استعمال کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ قاری کو سمجھنے میں کچھ دقت محسوس ہو، مگر ایسی تمام جگہوں پر مولانا نے حاشیہ میں اس کی تشریح کردی ہے۔ دراصل اردو کا دامن دوسری زبان کے الفاظ کو لینے اور قبول کرنے میں ہمیشہ سے کسادہ رہا ہے۔ایک زمانہ تھا جب فارسی الفاظ وتراکیب کا استعمال بکثرت ہوا کرتا تھا۔ مولانا آزاد نے عربی الفاظ تراکیب سے اردو کے دامن کو وسعت دی مگر کئی وجوہات سے یہ روایت بعد کے ادوار میں نہ قائم نہ رہ سکی ۔ اور اب اردو اور فارسی کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے۔ بہرحال مولانا کو بھی اس کا احساس تھا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حاشیہ میں اس کی تشریح بھی کردی ہے۔ 
یہ کتاب صرف اسلام کی تعبیر و تشریح ہی کے لئے معاون نہیں ہے بلکہ مستقبل میں مولانا پر تحقیق کرنے والوں کے لئے ان کی زندگی اور ان کی ذہنی اپج کو سمجھنے کا بھی کام دے گی۔انشاء اللہ

جمعرات، 1 ستمبر، 2011

عزیز سلفی کی شاعری

2 تبصرے

عزیز سلفی کی شاعری 
’پرواز‘کی اشاعت سے پہلے کم ہی لوگ مولانا عزیز الرحمان عزیز سلفی کو ایک شاعر کی حیثیت سے جانتے ہوں گے ۔ جامعہ سلفیہ بنارس کے سینئر استاد اور کئی عربی اردو دینی کتابوں کے مصنف کی حیثیت سے دنیا ان کو جانتی ہے۔ وہ ایک اچھے شاعر بھی ہیں یہ ہمارے لئے ایک خبر تھی ، ہمارے لئے ہی نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لئے جو عزیز سلفی کو ان کی کتابوں کے حوالے سے جانتے ہوں گے۔ 
 عزیرالرحمان عزیز سلفی نے عام شاعروں کی طرح اپنی شاعری کی ابتدا ء غزلوں سے کی عزیز سلفی کی پہلی غزل کا مطلع ہے
میں ہوکے در پہ ترے اشکبار آیا ہوں 
نگاہ لطف اٹھا سوگوار آیا ہوں
گویا کہ عزیز سلفی نے شاعری کی وادی میں قدم رکھتے ہی اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ ہم بھی ایک عاشق کا دل رکھتے ہیں، جس کے اندر کوئی محبوب بستا ہے اس کے التفات سے شہنائیاں بجتی ہیں اور منہ پھیرلینے پر زندگی خفاخفا سی لگنے لگتی ہے۔
اسی غزل کے چند اشعار اور ملاحظہ ہوں:
یہ پھول ہوکے دریدہ قبا ہیں کیوں خنداں
چمن میں، میں بھی اگر تار تار آیا ہوں
نسیم لا !ذرا تو ان کی زلف کی خوشبو
تڑپتا لوٹتا دیوانہ وار آیا ہوں
یہ میری کوشش اول ہے دیکھ اے ناصح 
کہ فکر نو کو لئے بے قرار آیا ہوں
علامہ اقبال کی اپنی شاعری کے ابتدائی ایام میں ایک مشاعرے ایک غزل پڑھی تھی جس میں ایک شعر تھا:
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے 
قطرے جو تھے مرے عرق انفعال کے
اس شعر پر انہیں زبردست داد ملی جس کی وجہ سے انہیں شعر گوئی کی طرف توجہ دینے کا حوصلہ ملا۔ معمولی فروگذاشتوں کو اگر نظر انداز کردیا جائے تو مولانا کی یہ پہلی غزل ایک عظیم شاعر کے آمد کی نوید تھی۔ مگر یہ اردو ادب کی بدقسمتی تھی اس آواز کو علامہ اقبال کی طرح کو ئی عزیز سلفی کو بتانے والا نہ تھا۔ ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم مولانا کو ایک عظیم شاعر کی حیثیت سے جانتے۔
عزیز سلفی کی غزلوں میں ہمیں اردو کی روایتی شاعری کے سبھی موضوعات مل جاتے ہیں۔ حسن وعشق کی سرمستیاں، محبوب سے رازونیاز، محبوب سے دور ہونے پر رنج وغم کا اظہار وغیرہ
عزیز سلفی سراپانگاری میں کمال کا ملکہ رکھتے ہیں۔ وہ اپنے محبوب کا سراپا کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
آنکھیں ہوں جیسے کوئی مے کا چھلکتا ساغر
بھول سے اوڑھنی کاندھے پہ سرک آئی ہو
زلف کی کالی گٹا تابش روئے انور 
جیسے کہ چاندنی بدلی میں نکل آئی ہو
اس کے ہر عضو سے پھوٹتا اس طرح شباب
اس کا ہر انگ ہی لیتا ہوا انگڑائی ہو
اس کے رخسار پہ پھیلی ہو حیا کی سرخی
کچھ مجھے دیکھ کے وہ اس طرح گھبرائی ہو
بڑھ کے میں چوم لوں اس کے حسیں یاقوت سے لب
اور باہوں میں مری وہ بھی سمٹ آئی ہو
کہتے ہیں کہ کسی کو اتنا نہ چاہو کہ وہ تمہاری محبتوں کا سوداگر بن جائے اور اپنی محبت کا تاوان وصولنے لگے۔عزیز سلفی نے کسی کو دل سے چاہا جس کی فرقت میں وہ آہ بھرتے رہے۔ ان کا محبوب ان پر جفائیں کرتا جاتا ہے اور عزیز سلفی اس کے لئے خیر کی دعائیں کرتے جاتے ہیں:
تم حسیں جتنے ہو اتنے ہی ستمگر ظالم
جو جفا کیش نہ ہو وہ کوئی گلفام نہیں
زخم ہر روز نیا دل پہ مرے لگتا ہے
آنکھ روئے نہ لہو ایسی کوئی شام نہیں
عزیز سلفی کومحبوب کی فرقت کا غم اس قدر ہے کہ باد صبا ان کے لئے راحت کا سامان نہیں بلکہ ان کے زخموں پرنمک پاشی کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے، چاندنی کی ٹھنڈی روشنی سے لو لگتی ہے:
یہ چاندنی کی دھوپ بھی برسارہی ہے لو
ڈستی ہے ناگ بن کے یہ خلوت ترے بغیر
موج صبا نے کی ہیں نمک پاشیاں بہت
آآ کے دل جلاتی ہے نکہت ترے بغیر
ہے خشک ہوا گھنگور گھٹا بادل کی گرج بجلی کی چمک
راتوں کو فراق یار مجھے بسمل کی طرح تڑپاتا ہے
دنیائے محبت کی ہر بات نرالی ہے
جو ظلم کا خوگر ہے وہ آکھ کا تارا ہے
اس میں عزیز سلفی کو اس بات کا احساس ہے کہ محبوب اگر بے التفاتی کرتا ہے تو اس کے یہاں بھی کچھ مجبوریاں ہوں گی۔ وہ اپنی بے وفائی پر نادم بھی ہے
ہیں جھکی جھکی نگاہیں کوئی سوگوار کیوں ہے
مرا دل مسل کے آخر کوئی شرمسار کیوں ہے
پس قتل یہ ہوئی کیوں انہیں قتل پہ ندامت
مری قبر کے سرہانے کوئی اشکبار کیوں ہے
عاشق اپنی معشوقہ سے ملنے کے لئے کیسی کیسی بچکانہ باتیں سوچتاہے ، کبھی سوچتا ہے کاش ایسا ہوجائے ویسا ہوجائے وغیرہ وغیرہ عزیزسلفی کیا سوچتے ہیں:
مجھ کو صحرائے محبت میں پھراتا ہے جنوں
اٹھتا جس سمت قدم ہو ترا گھر ہوجائے
واہ ، دعا بھی عاشقوں والی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عزیزسلفی کا محبوب کون ہے؟ ویسے ایک بات ہے کسی انسان کو عالم ڈاکٹر،انجینئر بنانے میں کسی عورت کا ہاتھ ہو یا نہ ہو مگر شاعر بنانے میں عورت کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے وہی اسے عشق کے اسرار ورموز سے واقف کراتی ہے۔ اس لئے میرا ماننا ہے کہ ایک اچھے شاعر کے لئے عاشق ہونا ضروری ہے۔عزیز سلفی نے یہ کہہ کر معاملہ صاف کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ان کی شریک حیات ہیں۔ عزیز سلفی ایک بڑے عالم دین ہیں اس وجہ سے ان سے یہی امید بھی کی جاتی ہے۔ مگر ان کی شاعری کچھ الگ ہی کہانی بیان کرتی نظر آتی ہے۔ اگر محبوب ان کی بیوی ہے تو اس کے یہ عشوہ ناز و ادا، اس کی جدائی میں آنسو بہانا اور کبھی ملے بھی تو اس کی جفائیں اس لئے یا تو مولانا حقیقت بتاتے ہوئے شرمارہے ہیںیا ان کی شاعری کا حقیقت سے تعلق نہیں ہے۔ ویسے بھی عشق ایک حقیقی اور فطری جذبہ ہے کسی کو بھی ہوسکتاہے اس میں نہ تو کچھ چھپانے کی ضرورت ہے نہ شرمانے کی کوئی حاجت ہے۔ 

عزیز سلفی کی شاعری ہمیں اپنی طرف ایک اور وجہ سے اپنی طرف کھینچتی ہے وہ ہے ان کے موضوعات کا تنوع ۔مولانا نے جہاں اسلامی تہواروں پر نظمیں کہی ہیں وہیں ہندؤں کے تہواروں پر بھی نظمیں کہی ہیں ۔ عزیز سلفی نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ بنارس میں گذاراہے سچ پوچھئے تو جوانی سے لے کر عمر کے اس مقام تک جہاں سے عہد جونی کو پیچھے مڑ کر دیکھنا پڑتا ہے عزیزسلفی نے بنارس میں گذارے۔ وہاں کا تہذیب اور کلچر ان کی رگوں میں بسا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں صبح بنارس کی جھلک نظر آتی ہے۔ عزیز سلفی نے ہندوں کے تہواروں پر جو نظمیں کہی ہیں ان کے اندر ان تہواروں کی اچھائیوں کا تذکرہ تو ہے ہی ساتھ ہی مذہب کے نام پر امن وامان کو غارت کرنے والوں کے عمل سے ان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔

آئی دیوالی گھر گھر چراغاں ہوا بام ودر دیکھو گلشن بداماں ہوا 
ہر محل میں ہے خوشیوں کا ساماں ہوا خوب اظہار شوق فراواں ہوا
جگمگا اٹھا ہے نور سے ہر محل
کتنی پریاں ہیں مصروف رقص وغزل
ہجر کے مارے کتنے گلے سے ملے وصل کی شب دیئے دیکھو کتنے جلے
مدتوں بعد ہیں آج دل سے ملے آج ساقی ملا دور مے بھی بھی چلے
آج خوشیوں کے ساون کی برسات ہے
جس کے تھے منتظر آج وہ رات ہے
عزیز سلفی ایک دردمند دل رکھتے ہیں دیوالی کی چکاچوند روشنی انہیں ایک بیوہ کے آنسو اور اس کے غم کو اوجھل نہ کرسکی۔ اس لئے ’تصویر کا دوسرا رخ‘ بھی دکھا یا ہے۔
کوئی بیوہ دل اپنا دبائے ہوئے اپنے پلکوں پہ آنسو سجائے ہوئے
بچھڑے پیتم کو دل میں بسائے ہوئے میلے آنچل میں چہرہ چھپائے ہوئے
رات بھر کروٹیں وہ بدلتی رہی
اور دیوالی ہنستی ہنساتی رہی
کچھ اسی طرح عزیز سلفی نے دیوالی پر بھی ایک نظم لکھی ہے جس میں دیوالی سے متعلق چھوٹی سی چھوٹی باتوں کا خوب صورت انداز میں ذکر کیا ہے۔لیکن ہولی کے نام پر بے ہودگی انہیں پسند نہیں اس لئے وہ کہتے ہیں:
سرتاپا ہیں رنگ میں ڈوبے مے میں دھت ہیں سارے
بیٹھے گھر میں منہ کو چھپائے دکھیارے بیچارے
اس کی دیکھو ناک ہے زخمی اس کا سر ہے پھوٹا
بدن ہے سارا خون میں ڈوبا پہر بھی شاید ٹوٹا
رنگ کی ہولی کے بدلے میں کھیلی خون کی ہولی 
کسی نے اس کا کرتا پھاڑا، اس نے پھاڑ دی چولی
’پرواز ‘کی اشاعت میں ایک بات کا خیا ل رکھا گیا ہے کہ ہر غزل یا نظم کب کہی گئی اس کی تاریخ بھی درج کردی گئی ہے، اس کے مطالعہ سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ جوانی کی عمر کی شاعری میں جو جوش ، ولولہ اور روانی تھی وہ دھیرے دھیرے کم ہوتی گئی، یہی نہیں بلکہ فکر کی وسعت بھی پھیلنے کے بجائے سمٹتی گئی، اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ درس وتدریس کی وجہ انہیں اس کی طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہ ملی ہو۔ دوسری وجہ یہ ہے شاعری ایک قسم کی آوارہ مزاجی چاہتی ہے جس کو عزیز سلفی بعد میں نبھا نہ سکے۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی ان پر سنجیدگی آتی گئی اور عمدہ قسم کی شاعری اسی سنجیدگی میں دفن ہوتی گئی۔
عزیز سلفی کے اندر ایک عظیم شاعر تھا جس کو کبھی کھل کر سامنے آنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ عزیز نے جو کچھ بھی شاعری کے نام پر کہا ہے وہ اگرچہ مقدار میں کم ہے مگر کسی بھی فنکار کی عظمت اس کلام کی تعداد سے نہیں بلکہ معیار سے جانچی جاتی ہے۔ اس معاملے میں عزیز سلفی کا کافی خوش قسمت ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پرواز کو وقتی اشعار جو کسی کی شادی یا اعزہ و اقربا کے موت کے وقت کہے گئے اس مجموعے میں شامل نہ کئے جاتے۔ 

عزیر اسرائیل
شعبہ اردو ،دہلی یونی ورسٹی